مقدس ترین حوالے اور ہمارے ذاتی عزائم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ کے آخری نبی، ہادی بر حق، رحمت العلمین، جناب محمد الرسول ﷺ نے آج سے ساڑھے چودہ سو برس قبل تئیس برس کے قلیل عرصے میں، خداوند عالم کی نصرت و تائید کے ساتھ ایک لازوال تحریک، بیش بہا صبر، اعلی کردار، بے نظیر جد و جہد، بے مثل استقامت اور عظمت کردار کے ساتھ دنیا سے جہالت، کم علمی اور ضعف الاعتقادی کے عظیم ترین برج گرا دیے اور تا قیام قیا مت زوال اور پستی کی طرف دھکیل دیے۔ کمزور، محروم، محکوم اور درماندہ طبقات کی ایسی دست گیری فرمائی اور نصرت اور تائید کا ایسا اعلی و ارفع نظام دیا جو قیامت تک کے لیے زندہ و جاوید ہے اور رہنمائی کا استعارہ ہے۔ محسن نقوی نے کہا ہے نا کہ ”سورج کو ابھرنے نہیں دیتا تیرا حبشی (حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ ) ۔ بے زر کو ابو زر ( حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ) تیری نسبت نے کیا ہے“ اور دوسرا شعر کہ

”کہنے کو تو سر پر تیرے دستار یتیمی۔ لیکن تو جہاں بھر کے یتیموں کا سہارا“
” کہنے کو تو فاقوں پہ بھی گزری تیری راتیں۔ اسلام مگر اب بھی نمک خوار ہے تیرا“

کائنات کی معتبر ترین ہستی سے نسبت اور ان کا مقدس ترین حوالہ جہاں میرے لیے باعث سعادت اور سرمایہ افتخار ہے وہیں پر اپنے دامن کی تنگی، خالی اور کھوکھلے اعمال کی کچی قلی ( کچی جھونپڑی ) کو شاہ دوسرا کی ذات بے کراں کے حوالے کے شایان کرم نہ پا کر ہر دم نظر کرم اور نگاہ التفات کے لیے محتاج نظر اور پر امید پا تا ہوں۔ مقام ادب کا تقاضا بھی یہی ہے جیسا کہ فارسی کا شعر ہے ”ہزار بار بشویم دہن بمشک و گلاب۔ ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبیست“ مطلب ”میں اگر ہزار بار بھی اپنا دہن عرق گلاب سے دھونے کے بعد بھی اے پیغمبر خدا، آپ کا نام نامی اپنی زبان پہ لاؤں تو پھر بھی یہ عظیم جسارت اور کمال بے ادبی محسوس کرتا ہوں“

لیکن کیا کیا جائے کہ ہم اس قبیلہ وحشی کے وہ کم علم نمائندگان ہیں کہ جن کے رہنما اپنے حصول اقتدار اور بعد ازاں طول اقتدار کے خالص ذاتی لالچ کے لیے ان مقدس ترین حوالوں کو بطور سیڑھی استعمال کرنے سے بھی حجاب اور حیا محسوس نہیں کرتے۔ نسبت کا حوالہ تو سب کا ہے اور وہ سب کے لیے سرمایہ افتخار ہے لیکن ذاتی مقصد اور عزائم کی تکمیل کے لیے مقد سات کے حوالے سے، بصد احترام التماس ہے کہ گریز کیا جائے۔ اور کوئی دنیاوی لحاظ سے، موجودہ دنیا کے کامیاب لوگوں کو مشق سخن اور ستم کے لیے آزمایا جائے تو بہتر رہے گا۔ اپنے دنیاوی عزائم کی تکمیل کے لیے سادہ لوح لوگوں کی عقیدت اور مقدسات دونوں کی توہین نہ کی جائے اور عمل کی پوٹلی کو ایسے جرائم سے آلودہ نہ کیا جائے۔

دوسری اور اہم گزارش اسی ضمن میں یہ ہے کہ تاریخ میں از خود درستگی ( آٹو کریکٹ ) کا عمل ( موڈ ) قدرت نے ودیعت کر رکھا ہے، اس لیے لمحہ موجود میں طاقت وروں کی طاقت، دولت، دھونس، دھا ند ہلی، منافقت، دھوکہ دہی اور اقتدار کے زور پر کی گئی سازشوں کو بعد میں کوئی تکریم نہیں بلکہ ذلت اور رسوائی نصیب ہوتی ہے۔ اور تاریخ ان خیانتوں کو نکال باہر کرتی ہے، اور یہ مبنی بر دروغ، خود ساختہ عظمت زیادہ دیر نہیں چلتی۔ تیسری اور اس ضمن میں آخری گزارش یہ ہے کہ تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات واضع اور عیاں ہے کہ اقتدا ر کے حصول اور اس کے طول کے لیے کی گئی ساری سازشیں، دھوکہ دہی اور نفاق کے باوجود نصیب ہونے والا اقتدار بہت عارضی، قلیل مدتی، لیکن بدنامی اور روسیاہی دائمی اور ابدی ہوتی ہے یہ قانون قدرت ہے۔

مدینہ کی ریاست کے معتبر ترین حوالے کے تخلیق کاروں اور دعویداروں کی کارکردگی اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے کہ اس دعوے کی تخلیق کے پیچھے کارفرما عوامل بھی حصول اقتدار اور عوام کی مقدس ہستیوں سے عقیدت کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کے زیر اثر تھے۔ یہ گزارشات، ذاتی معروضات نہیں تاریخی حقائق ہیں اس لیے اقتدار کی غلام گردش میں پلنے والے طفیلیے اہل سیاست، طاقتور ترین ابلاغ کے پروردہ بالشتیے زرد صحافی اور دانشور، انصاف کو اہل حشم کی لونڈی بنانے والے منصفین کے ساتھ ساتھ مذہب کو بندوق کے سامنے سرنگوں کرنے والے مذہبی رہنما، جن سب کو اپنی اس نسبت پر بڑا زعم اور ناز ہے وہ بتائیں کہ طاقتور ترین سکندر کی قبر کہاں ہے اور اس کے نام لیوا کہاں ہیں۔

کھوپڑیوں کے مینار بنانے والے چنگیز خان اور ہلاکو خان کہاں ہیں، ان کی سلطنت کا کیا بنا اور ان کی غلامی کرنے والے ضمیر فروش آج کہاں ہیں۔ یوگنڈا کا جلاد اور سفاک آمر ایدی امین دادا آج کہاں ہے۔ جوزف سٹالن اور اڈولف ہٹلر جیسے ڈکٹیٹر آج کہاں ہیں ان کے پروردہ اور نمک خوار آج کہاں ہیں۔ ان کے تراشیدہ اقتدار اور استحصال کے فارمولہ فاشزم کو تاریخ آج کتنی تکریم سے نوازتی ہے؟

آج کی خبر ہے کہ ہرا پاسپورٹ دنیا کے بد ترین پاسپورٹ کی لسٹ میں چوتھی پوزیشن پر مسلسل تین سال سے برا جمان ہے۔ خان صاحب نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ میری تین سالہ حکومت، معاشی ترقی کی کہانی ہے۔ بالکل بجا فرمایا ہے آپ نے۔ صرف تین سال میں پاکستان کی معیشت کا حجم تین سو بارہ ارب ڈالر سے بڑھ کر دو سو ستر ارب ہو گیا ہے۔ پاکستانی کی معاشی ترقی کی شرح چھے فی صد سے بڑھ کر منفی صفر اعشاریہ چار فی صد پر پہنچ گئی ہے۔

ڈالر سو روپے سے بڑھ کر ایک سو اسی روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ادویات، چینی، گھی، آٹا، دودھ، سبزیاں، گیس، اور بجلی کے بل اتنی تیزی سے اوپر جا رہے ہیں کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ صرف تین سال میں تیس ہزار ارب کی بے ضابطگیاں اور بدعنوانیاں ہیں اور اکیس ہزار ارب کا اضافی قرض لیا گیا ہے۔ اس سے بہتر ترقی اور کیا ممکن ہے۔

تاریخ اس خود ساختہ انتظام کی حقیقت کو ایک نہ ایک دن اگلے گی اور سادہ لوح اور مخلص عوام کو معلوم ہو گا کہ مطلق اور دائمی اقتدار کے خواہشمندوں کا، حوص اقتدار اور نرگسیت میں مبتلا نابغے کو، غلام گردشوں میں پلنے والے طفیلیوں اور بالشتیوں کی فوج ظفر موج کے کندھوں پر بیٹھا کر ایک درماندہ اور کم نصیب قوم کے سر پر مسلط کرنے کے پیچھے، کوئی اخلاص نہیں بلکہ اپنی مسند کی مضبوطی اور دور اقتدار کو طول دینے اور دوام بخشنے کے عوامل کا ر فرما تھے۔ اس لیے اس سارے معاملے اور انتظام میں مقدس ترین حوالوں کی تکریم اور ادب کے تقاضوں کے پیش نظر، مستقبل میں ان کے حوالوں کی روش سے گریز کی التجا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments