ہم دیکھیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تب کی بات ہے جب علاقے میں امن تھا۔

امن اس حد تک کہ شکاری پرندوں نے بھی شکار چھوڑ دیا تھا، وہ گوشت خور جانور جو اپنے سے کمزور جانوروں کو چیر پھاڑ کر کھا لیتے تھے، اب وہ گھاس کھانے لگے تھے۔ جہاں کے پہاڑ امن کے گیت گایا کرتے تھے۔ ایک ایسی دنیا تھی جس کا اب صرف خیال ہی کیا جا سکتا ہے۔

جہاں قدیم یونان میں افلاطون کی اس وقت کے دانشوروں کے ساتھ سمپوزیم جیسی بیٹھک ہوا کرتی تھی۔ ویسے ہی ہمارے گاؤں کے عمر رسیدہ لوگ پرانے زمانے کی مشہور خیالی کہانیاں سنایا کرتے تھے اور اس کہانی کا کچھ نا کچھ مطلب نکال دیتے تھے۔ اگر چہ یہ گاؤں کی محفلیں ہو بہو یونانی طرز کی نہیں تھی جہاں کسی نقطے کو  لے کر مختلف تعریفیں کی جاتی تھی، اور ایک اور پوائنٹ پر اتفاق ہو جاتا تھا۔ لیکن ان محفلوں میں بھی سوال اٹھائے جاتے تھے۔ اور بابا لوگ ان کہانیوں کا کچھ مطلب نکال ہی لیتے تھے۔

یہ تب کی بات ہے جب پرانے قصے سنانے والی دادی ماں زندہ تھی۔ جس کے اردگرد جوان لڑکیوں کا جمگھٹا جمع رہتا تھا۔ یہ تب کی بات ہے جب چشموں پر نوجوان دوشیزاؤں کا رش تھا، جہاں پر پشتو فولک موسیقی اور ٹپہ گنگنائے جاتے تھے۔ یہ تب کی بات ہے جب یہ چشمے آباد تھے۔

یہ تب کی بات ہے جب جرگے کو ایک اعلیٰ مقام حاصل تھا، جہاں ملک صاحب کی حیثیت مضبوط تھی، پگڑی اور دستار غیرت مند لوگوں کے سر پر تھی۔ یہ تب کی بات ہے جب ہم نے مشرانوں کو لٹکا کر گولی نہیں ماری تھی۔ یہ تب کی بات ہے جب مشر حق اور سچ پر مبنی فیصلے کیا کرتے تھے۔

یہ تب کی بات ہے جب موسیقی کا راج تھا، جب قومی لشکروں کا راج تھا، جب ڈھول کی تھاپ پر اتن کی جاتی تھی، جب شادی بیاہ میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال جوابی گانے گایا کرتے تھے۔

یہ تب کی بات ہے جب پورے پشتون بیلٹ کی وادیاں امن کے گیت گاتے تھے، اور پتے پتے سے امن کی خوشبو آتی تھی۔

یہ تب کی بات ہے جب دنیا کے کونے کونے سے لوگ نہیں لائے گئے تھے، اس علاقے کو جنگ کا مرکز نہیں بنایا گیا تھا، یہ تب کی بات ہے جب یہ علاقہ کرائے کے قاتلوں سے پاک تھا۔

یہ تب کی بات ہے جب امن کے فاختاؤں نے ہجرت نہیں کی تھی۔

پھر وقت نے پلٹ کھائی، حالات بدل گئے، حالات اس نہج تک پہنچنے کہ شاید اب سنبھلے میں کئی زمانے بیت جائے۔

پھر سے شکاری پرندے اور جانوروں نے شکار شروع کر لیا، وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے۔ جانور تو دور کی بات انسان نے جانوروں والی عادات اپنا لی ہے۔ اب وہ کہانی سنانے والی دادی ماں نہیں رہی، وہ بابا جی نہیں رہے، اب وہ محفلیں ختم ہو گئی ہے، وہ آباد چشمے غیر آباد ہو گئے، اب ان چشموں پر نوجوان لڑکیوں کا ہجوم ختم ہو گیا ہے۔

اب روایتی موسیقی ماند پڑ گئی ہے، اب خوشی اور غمی میں شرکت کم ہو گئی ہے۔ اب وہ چرواہا بھی نہیں رہا جو ہاتھوں میں بانسری لے کر امن کے گیت گایا کرتا تھا۔
اب کا چرواہا بھیڑیا بن چکا ہے جو اپنے ہی ریوڑ کو کھا لیتا ہے۔ اب مشرانوں کے سروں سے دستار گرائے گئے، جرگوں کی بچھی کچی حیثیت بھی ختم ہو گئی، اور اب دستار ایسے سروں پر سجنے لگے جو بظاہر دستار کی بدنامی کا سبب ہے۔

اب تک علاقے سے ہجرت کرنے والے پرندے واپس نہیں آئے ہیں۔ اب تک ان کرائے کی جنگوں کے زخم تازہ ہیں۔

امید ہے وہ وقت آئے گا کہ جب ہم دیکھیں گے کہ گاؤں کے وہ چشمے پھر سے آباد ہوں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ امن راج کرے گا۔ ہم دیکھیں گے کہ موسیقی پھر سے بجے گی۔ وہ کہانی سنانے والی دادی ماں پھر سے آئے گی۔
ہم دیکھیں گے کہ امن کی فاختائیں پھر سے امن کے گیت گاتے ہوئے ان سنسان جنگلوں کو پھر سے آباد کریں گی۔ ہم دیکھیں گے پھر کوئی کسی کے کہنے پر پرائی جنگ نہیں لڑے گا۔ پھر کوئی ہمارے کندھے پر بندوق رکھ کر کسی اور پر نہیں چلائے گا۔ ہم دیکھیں گے کہ صرف امن راج کرے گا، صرف امن راج کرے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments