اردو شاعری میں غزل کی اہمیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا کے اکثر زبانوں میں نثر سے پہلے شاعری وجود میں آئی ہے۔ نثر بعد میں لکھی گئی ہے۔ بلکہ مدتوں تک شاعری کو ہی ادب سمجھا جاتا رہا ہے۔ شاعری جذبات کے اظہار کا بہترین اور موثر ترین ذریعہ ہے۔ لوگ نثر کی نسبت شاعری کو ترجیح دیتے ہیں۔ نثر لکھنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے جبکہ ایک شاعر بہت بڑے واقعے کو شعر میں اس طرح بیان کر دیتا کہ دریا کو کوزے میں بند کر دینے والی بات پوری طرح صادق آتی ہے۔

اردو میں غزل گوئی کی ابتدا کے متعلق محققین کی مختلف رائے سامنے آتی ہیں۔ مولانا محمد حسین آزاد کی بیس برس کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں منظر عام پر آنے والی تصنیف ”آب حیات“ میں ولی دکنی کو اردو غزل کا باوا آدم قرار دیا ہے۔ مولانا کی رائے کو دوسرے محققین نے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ولی دکنی سے قبل بھی غزل گوئی کے دو ادوار گزر چکے ہیں جن کے نمونے بھی ملتے ہیں۔ پہلے دور میں امیر خسرو اور ان کے سات معاصرین تھے جبکہ دوسرے میں قلی قطب شاہ کا دور ہے۔ جس میں چودہ شعراء شامل ہیں اور قلی قطب اپنا کلیات مرتب کر چکے تھے۔

غزل گوئی کی ابتدا عربی صنف قصیدہ میں موجود تشبیب سے ہوئی ہے۔ عربی سے فارسی میں اور فارسی سے اردو میں داخل ہوئی ہے۔ اسی لیے اردو غزل پر فارسی غزل کا زیادہ اثر ہے۔ فارسی شعرا نے غزل کی وسعتوں میں اضافہ کر کے اسے اوج کمال تک پہنچایا ہے۔ غزل عربی زبان کا لفظ ہے۔ بادی النظر میں اس کے معنی عورتوں سے باتیں کرنا یا عورتوں کے متعلق باتیں کرنے کے ہیں۔ دوسرے معنوں میں غزل ہرن کے اس دردناک چیخ کو کہتے ہیں جب اسے شکار کے حصار سے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب شاعر درد و الم کی کیفیت میں گرفتار ہوتا ہے تو اس کی زبان سے بے ساختہ اشعار ادا ہوتے ہیں تو اسی کیفیت کو غزل کا نام دیا گیا ہے۔ غزل دراصل شاعر کی داخلی کیفیت کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ اس کے لیے سوز و گداز لازمی ہے۔ غزل میں عموماً عورت کے حسن و جمال اور عشق و محبت کا اظہار کیا جاتا ہے۔

زمانے کی گردش کے ساتھ غزل کی وسعتوں میں اضافہ ہونے لگا اور اس میں فلسفہ، مذہبی، سیاسی، معاشی، معاشرتی، اخلاقی، بے ثباتی غرض ہر طرح کے مضامین شامل ہونے لگے۔ اس کے ہر شعر میں ایک الگ دنیا سمائی دکھائی دیتی ہے۔ غزل کے ہر شعر میں الگ موضوع بیان کرنے کی روایت کو اکثر لوگوں نے ناپسند کیا ہے لیکن یہ غزل کی عیب نہیں بلکہ حسن ہے۔ غزل میں اشعار کی تعداد معین نہیں۔ قدیم شعراء کے ہاں طویل غزلیں بھی ملتی ہیں ’مگر موجودہ زمانے میں لمبی غزل کو پسند نہیں کیا جاتا ہے۔ اسی لیے غزل پانچ سے سترہ اشعار کے مابین لکھی جاتی ہے۔ بعض دفعہ انیس اشعار تک بھی پہنچ جاتی ہے۔

غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے۔ جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں۔ جن شعروں میں یہ التزام نہ ہو وہ مطلع نہیں کہلاتا ہے۔ باقی اشعار کے ہر دوسرے مصرعے میں قافیہ اور ردیف موجود ہوتا ہے۔ غزل کا دوسرا شعر یعنی جو شعر مطلع کے بعد آتا ہے اسے حسن مطلع یا زیب مطلع کہتے ہیں۔ اسی طرح غزل کا آخری شعر مقطع کہلاتا ہے ’جس میں شاعر اپنا تخلص لازماً استعمال کرتا ہے۔ اگر شاعر اپنا تخلص استعمال نہ کرے تو وہ مقطع نہیں بلکہ غزل کا آخری شعر ہو گا۔

جو اشعار مطلع اور مقطع کے درمیان ہوتے ہیں انہیں شکمی اشعار کہتے ہیں۔ جس غزل میں ردیف نہ ہو صرف قافیے ہوں اسے غیر مردف غزل کہتے ہیں۔ غزل کے سب سے بہترین شعر کو بیت الغزل کہتے ہیں۔ غزل میں بحر، ردیف و قافیے کی پابندی کو غزل کی زمین کہتے ہیں۔ غزل کی ایک قسم مسلسل غزل ہے ’جس میں شاعر ایک ہی خیال کو تسلسل کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ نظم، قصیدہ، مثنوی، رباعی، مرثیہ اور غزل شاعری کی اہم اصناف ہیں۔ ہر صنف کا مختلف لب و لہجہ ہے‘ مگر ان تمام میں غزل کو انفرادی مقام حاصل ہے اور اردو شاعری میں غزل کی اہمیت برقرار رہی گی۔

تری زلفوں کی طولانی کو دیکھوں
مجھے لیل زمستاں یاد آئے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments