کرونا ویکسین اور حاملہ خواتین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

( غلط معلومات اور گمراہ کن اطلاعات کے تناظر میں )

رحیم یار خان کے فضیلت ٹاؤن کی رہائشی 32 سالہ فریال افضل تیسرے بچے کی ماں بننے کی امید سے ہے اور اس کے حمل کو پانچواں ماہ ہے۔ حکومت پاکستان نے کرونا ویکسین لگوانے کے لیے شہریوں کو بارہا تاکید کی اور بھرپور تشہیری مہم چلائی۔ فریال نے بھی حکومتی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے جب اپنی معالجہ ماہر امراض نسواں و سینئر گائناکالوجسٹ ڈاکٹر نعیمہ خان سے ویکسین لگوانے کے بارے میں پوچھا تو ڈاکٹر نعیمہ نے اسے ویکسین لگوانے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک حاملہ خواتین کے کو ویکسین لگانے کے حوالے سے کوئی بھی تسلی بخش محکمہ صحت کا ڈیٹا ( 15 لاکھ سے زائد افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے تاہم ان میں حاملہ خواتین کتنی تھیں یہ محکمہ ہیلتھ نہیں بتا رہا ) موجود نہیں اس لیے فی الحال وہ انتظار کرے اور اگر کوئی تسلی بخش معلومات اور ویکسین کی افادیت حاملہ خواتین کے ویکسین لگوانے سے ملیں گی تو وہ بھی اسے اجازت دیں گی۔ فریال نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک ماہ سے انتظار میں ہے کہ اسے ویکسین کی اجازت ملے اور اس کو صرف اپنی معالجہ کی ہدایات پر ہی تسلی اور یقین ہے۔

پاکستان میں 26 فروری 2020 کو پہلا کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا تب سے غلط معلومات اور گمراہ کن اطلاعات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔ سوشل میڈیا ہو یا کوئی اور معلوماتی ذریعہ ہر جگہ سے غلط معلومات کے ساتھ ساتھ گمراہ کن اطلاعات پھیلائی گئیں۔ جس طرح کورونا کے آغاز میں اس وائرس کو عام شہریوں نے ایک سازش قرار دیتے ہوئے انکار کیا اسی طرح کورونا ویکسین کو بھی ایک مضر صحت اور جاں لیوا ویکسین قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مختلف گمراہ کن پیغامات پھیلائے گئے جن میں سے سب سے زیادہ وائرل ہونے والا پیغام یہ تھا کہ کرونا ویکسین لگوانے والے دو سال کے اندر مر جائیں گے۔ اس میسیج نے ہر پاکستانی شہری کی سوچ کو متاثر کیا۔ اس میسیج کے بارے میں بارہا تردید آئی لیکن تاحال یہ آج بھی لوگوں کے سر پر سوار ہے۔

ترجمان شیخ زید میڈیکل کالج ہسپتال ڈاکٹر الیاس سے جب حاملہ خواتین کی ویکسینیشن کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کرونا ویکسین حاملہ خواتین لگوا سکتی ہیں اور یہ ویکسین مضر صحت نہیں ہے۔

شیخ زید میڈیکل کالج ہسپتال کی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ گائنی یونٹ 2، پروفیسر ڈاکٹر نزہت رشید سے جب حاملہ خواتین کی کرونا ویکسینیشن کے حوالے سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ابتداء میں حاملہ خواتین کو کرونا ویکسین لگوانے کا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا ڈیٹا موجود نہ تھا جس کی وجہ سے بعض معالج اس کو لگوانے سے منع کرتے تھے تاہم اب کرونا ویکسین حاملہ خواتین کو لگائی جا رہی ہے جس کے کوئی مضر اثرات سامنے نہیں آئے۔

اسی سلسلہ میں جب شیخ زید میڈیکل کالج ہسپتال کی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ گائنی یونٹ 1 کی پروفیسر ڈاکٹر شازیہ ماجد سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ حمل کے دوران ویکسین لگوائی جا سکتی ہے تاہم کینسنو اور پاک وک نامی ویکسین کو حمل کے دوران نہیں لگوایا جا سکتا۔ ڈاکٹر شازیہ ماجد کے مطابق سائنو فارم، سائنو وک، آکسفورڈ اسٹریکا زینکا، اسپوتنک اور فائزر نامی ویکسین دوران حمل لگوائی جا سکتی ہیں۔ مذکورہ ویکسین دودھ پلانے والی ماؤں کو بھی لگائی جا سکتی ہے۔

حکومت پاکستان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ابھی تک دس کروڑ سے زائد افراد کو کرونا ویکسین کی پہلی ڈوز لگائی جا چکی ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ کرونا ویکسین کے بارے میں غلط معلومات اور گمراہ کن اطلاعات اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ویکسین لگنے کے بعد دم توڑتی نظر آتی ہیں تاہم ابھی بھی عام لوگوں میں اس کی افادیت کے بارے میں آگاہی دینا ضروری ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی تیاری اور تجربات کے دوران حاملہ خواتین کو ابتداء میں شامل نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے بھی ابھی تک موثر اعداد و شمار کی کمی تھی جو کہ اب پوری ہو گئی ہے۔

اس وقت حاملہ خواتین کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ ترجمان ضلعی انتظامیہ عتیق احمد کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول کی اجازت کے بعد اب حاملہ خواتین کو روزانہ کی بنیاد پر ویکسین لگائی جا رہی ہے اور اس وقت تک کسی قسم کے کوئی مضر اثرات سامنے نہیں آئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت ہزاروں حاملہ خواتین کو ویکسین لگوائی جا چکی ہے۔ حکومت پاکستان اس وقت تمام حاملہ خواتین کو کہہ رہی ہے کہ بلا خوف و خطر ویکسین لگوائیں اور کسی بھی قسم کے منفی پراپیگنڈہ کو نظر انداز کر دیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments