پلاسٹک کا استعمال کم کی بجائے زیادہ کیوں؟


سرائیکی زبان کا ایک محاورہ ہے کہ ”درب مریندا مر گیا، درب اویں ساوی دی ساوی رہی“ ۔ اب اس محاورے کا سادہ سا ترجمہ تو یہ ہے کہ جنگلی گھاس کو ختم کرتے کرتے، ختم کرنے والا مر گیا لیکن گھاس ویسے کی ویسی سبز رہی۔ یہ محاورہ کسی ایسی شے کے لیے استعمال ہوتا ہے کہ جس سے آپ نجات پانے کی لاکھ کوشش کریں لیکن کامیاب نہیں ہو پاتے۔

پلاسٹک کا بھی کچھ یہی معاملہ ہے کہ آپ اس کا استعمال جتنا کم کرنے کی کوشش کریں، یہ اتنا بڑھ رہا ہے۔ بلکہ معاملہ کچھ یوں ہے کہ جیسے جیسے پلاسٹک کے زیادہ نقصانات سامنے آرہے ہیں، ویسے ہی اس کے استعمال کا رجہان بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ شاید آپ کو سنہ 1980 کی دہائی میں پی ٹی وی پر نشر ہونے والا ایک پیغام یاد ہو جس میں ایک لڑکی ساحل سمندر پر پلاسٹک کا لفافہ پھینکتے ہوئے یک دم رک کر کہتی ہے کہ نہ بھئی اگر میں نے یہ پلاسٹک سمندر میں پھینک دیا تو مچھلیاں اور کچھوے اس کو نگل لیں گے اور اس سے ان کی جان بھی جا سکتی ہے اور ان کی صحت خراب ہو سکتی ہے۔

یعنی آج سے کوئی چالیس سال پہلے اس زمانے میں بھی پلاسٹک کی آلودگی اور نقصانات کا علم تھا لیکن آج اگر آپ کسی ایسے شخص سے یہ سوال پوچھیں کہ جو سنہ اسی کی دہائی میں شعور رکھتا تھا کہ اس زمانے اور آج کے دور میں پلاسٹک کے استعمال کا تقابلہ کیجیے تو ان کا جواب یقیناً یہی ہو گا کہ اس دور میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کا آج کے دور سے موازنہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس دور میں جتنا پلاسٹک استعمال ہوتا تھا، آج اس سے کئی گنا زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔

پہلے پہل پلاسٹک کا جوتیوں اور کھلونوں وغیرہ کی شکل میں استعمال شروع ہوا۔ تو اس کا ایک عذر یہ تھا کہ پلاسٹک کے چپل، چمڑے کے چپلوں اور جوتیوں سے بہت سستے اور پائیدار ہوتے تھے جبکہ پلاسٹک کے کھلونوں کی یہ بات تھی کہ اس دور میں بچے پلاسٹک کے کھلونوں سے کھیلا کرتے تھے لیکن کھانا وغیرہ تو سٹیل، پیتل، تانبے یا المونیم کے برتن میں کھایا کرتے تھے لیکن پھر کھانا کھانے کے لیے بھی پلاسٹک کے برتن آنے لگے اور اس شدت سے آنے لگے کہ اب ایسے پلاسٹک کے برتن بھی ملتے ہیں کہ جو مائیکرو ویو اون میں کھانا گرم کرنے کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

حالانکہ جب برتن گرم ہوتا ہے تو کچھ نہ کچھ پلاسٹک نرم پڑ جاتا ہے۔ حتٰی کہ اب سٹائرو فوم سے بنے ایسے برتنوں کا رواج بڑھ رہا ہے جو ایک بار استعمال کے بعد کوڑے میں پھینک دیے جاتے ہیں حالانکہ سٹائرو فوم میں گرم کھانا ڈالنے سے وہ صحت کے لیے مضر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پہلے پہل پلاسٹک کے ایسے چپل ملتے تھے جو سال ڈیڑھ سال بہت آسانی سے چل جاتے تھے لیکن اب ایسے چپل زیادہ تعداد میں ملتے ہیں جو مہینہ ڈیڑھ مہینہ بھی نہیں چل پاتے۔

خود لوگوں کا یہ حال ہے کہ پرانی تاروں میں تانبا نکالنے کے لیے جگہ جگہ آپ کو ان تاروں کا پلاسٹک ہٹانے کے لیے لوگ آگ لگاتے نظر آتے ہیں حالانکہ اگر یہ تاریں ایسی ہی حالت میں کارخانے تک پہنچا دی جائیں اور وہاں کارخانے میں اس پلاسٹک کو ہٹانے کی مشین نصب ہو تو اس سے نہ صرف وہ پلاسٹک دوبارہ استعمال کے قابل بن جائے گا یعنی کارخانہ دار کے لیے فائدے کا باعث ہو گا بلکہ ماحول میں آلودگی بھی نہیں پھیلے گی۔

اب پلاسٹک سے ایسی بے کار چیزیں بننے لگی ہیں کہ جو ایک مہینہ نہیں چل پاتیں اور ان کا خریدنا سرا سر ماحولیات کی تباہی ہے لیکن کوئی اس بارے میں سوچتا ہی نہیں۔ مثلاً پلاسٹک کے برتن ہی دیکھ لیجیے۔ آج کل پلاسٹک کی ایسی بالٹیاں، تھالیاں، اور دیگر برتن وغیرہ آنے لگے ہیں جو ایک سال بھی نہی چل پاتے۔ بعض پلاسٹک کی بنی تھالیاں، پراتیں اتنی پتلی ہوتی ہیں کہ ایک دفعہ کے استعمال کے بعد ہی ٹوٹ جاتی ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں سٹیل، جست، سلور وغیرہ کے برتنوں کی یہ مثال ہے کہ جتنا عرصہ چاہیں استعمال کریں اور بعد میں پرانے کباڑ کی صورت میں بیچنے پر ان کی اچھی خاصی قیمت بھی مل جاتی ہے اور اسی جست کے دوبارہ استعمال کی صورت میں وہ نئے برتن بن جاتے ہیں۔

یوں ماحول کی آلودگی کم ہوتی ہے کیونکہ ایسے برتن سالوں بلکہ دہائیوں تک استعمال ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح آج کل پورسلین کے بنے ہوئے برتنوں کا بہت رواج ہو گیا ہے۔ ایسے برتن خاصے مضبوط اور دیکھنے میں زیادہ دلکش ہوتے ہیں لیکن ایک دفعہ گر کر تڑخ گئے تو پھر پھینکنا ہی پڑتے ہیں جبکہ سٹیل یا جست کے برتن کے گر جانے پر اول تو انہیں کچھ نہیں ہوتا اور اگر کوئی گڑھا وغیرہ پڑ جائے تو ہتھوڑی کی ایک آدھ مناسب طریقے سے ضرب لگانے سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

جست اور سٹیل کے برتنوں کے ڈینٹ ٹھیک کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایسے برتن کو ہموار جگہ پر رکھ کر گڑھے والی جگہ پر ایک موٹی لکڑی رکھ کراس لکڑی پر ہتھوڑی سے ضرب لگائی جائے تو ڈینٹ اس طرح سے ٹھیک ہوجاتا ہے کہ اس کا نشان بھی نظر نہیں آتا۔ آج کل کے کپڑے بالکل ریشمی پلاسٹک کے آنے لگے ہیں اور سوتی کپڑا ملتا نہیں ہے۔ آپ خود تجربہ کر سکتے ہیں، سوتی کپڑے کو آگ لگائیں تو وہ خود بخود آگے کی جانب بڑھتی جاتی تھی جیسے کاغذ کو آگ لگائی جاتی ہے جبکہ آج کل کے کپڑے کو آگ لگائیں تو وہ اس طرح سے چر مر ہو جاتا ہے اور اسی طرح کا برتاؤ کرتا ہے جیسے پلاسٹک کے لفافے کو آگ لگائی جائے تو وہ چر مر ہو جاتا ہے۔

ٹھنڈا پلاسٹک کا کپڑا سرد موسم میں جسم کو گرمی نہیں پہنچاتا اور اس کا معیار بھی خراب ہوتا ہے۔ گرمیوں میں ایسا کپڑا جلد سے چپک کر گرمی دیتا ہے اور الرجی کا باعث بنتا ہے، جبکہ سوتی کپڑے آرام دہ ہوتے ہیں۔ کوئی دس بیس سال پہلے مشروبات اور دوائیوں کی بوتلیں شیشے کی ہوتی تھیں۔ شیشے کی بوتلوں کا بار بار استعمال کیا جاتا تھا۔ اب دوائیں، مشروبات پلاسٹک کی بوتلوں میں ملتے ہیں جن کو ایک دفعہ کے استعمال کے بعد کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے اور ایسی بوتلوں کی بازیافتگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

آپ نے اکثر سڑک پر دودھ، دہی گرے ہوئے اور ان کے پھٹے ہوئے لفافے دیکھے ہوں گے۔ لوگوں کو اتنا سلیقہ اور عقل نہیں ہوتی کہ دودھ سٹیل یا جست کے برتن میں لیں۔ اس سے نہ صرف دودھ جیسی نعمت کا ضائع نہیں ہو گا بلکہ پلاسٹک کے لفافوں کا استعمال بھی کم پڑ جائے گا۔ لیکن خود کو جد ید دکھانے کے شوق میں نہ صرف دودھ کا ضائع ہوتا ہے بلکہ پلاسٹک کے لفافوں کی شکل میں آلودگی بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کھانے پینے کی اشیاء جیسے پھل، چینی، آٹا، دالیں وغیرہ سڑک پر گری ہوئی نظر آتی ہیں اور ان کے کے لفافے بھی پھٹے نظر آتے ہیں۔ حالانکہ یہ اشیا کاغذ کے لفافوں میں لپیٹ کر کپڑے کے تھیلوں میں بھی بازار سے لائی جا سکتی ہیں جن سے ایک تو ان اشیاء کا ضائع نہیں ہوتا اور آلودگی بھی نہیں پھیلتی۔

اسی طرح آج کل پلاسٹک کی چٹائیاں، قالین اور جاء نمازیں ملنے لگی ہیں لیکن ان کا بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ایک آدھ سال بعد ہی پلاسٹک چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی شکل میں الگ ہونے لگتا ہے جس سے وہ ٹکڑے آپ کے کپڑوں پر چپک جاتے ہیں۔ یوں آپ ایسی چٹائی پر نہ تو بیٹھ سکتے ہیں نہ کھانا کھا سکتے ہیں۔ جبکہ ایسی چٹائی پر بیٹھنے اور لیٹنے سے یہ خطرہ ہوتا ہے کہ پلاسٹک کے چھوٹے ذرے آپ کی سانس کے ذریعے اندر جا سکتے ہیں۔ یوں ایسی چٹائی پھینکنا ہی پڑتی ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں کھجور کے پتوں کی چٹائی سالہا سال تک چل جاتی ہے اور اس کے تھوڑے سے خراب ہونے کی صورت میں بھی اس کے ذرے آپ کے جسم سے نہیں چپکتے۔ یوں کھجور کی چٹائی اگر تھوڑی خراب ہو تو بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

آج کل پلاسٹک کی بنی ہوئی کرسیاں اور میزیں بہت عام ہو گئی ہیں۔ ان کا یہ نقصان ہوتا ہے کہ وزن میں تو شاید ہلکی ہوں لیکن ایک آدھ سال بعد ہی ٹوٹ جاتی ہیں اور ایلفی وغیرہ سے مرمت نہیں کی جا سکتی اور انہیں پھینکنا پڑتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں لوہے یا لکڑی کی کرسیوں اور میزوں کی باآسانی مرمت بھی ہو جاتی ہے اور وہ کئی سالوں بلکہ بہتر دیکھ بھال پر دہائیوں تک استعمال کے قابل رہتی ہیں۔

اسی طرح احتجاج کرنے کی صورت میں شامت ٹائروں کی آتی ہے۔ لوگ ان ٹائروں کو آگ لگا کر ان کا کالا دھواں نکال کر سمجھتے ہیں کہ بس اب احتجاج کا حق پورا ہو گیا حالانکہ اس سے حکام بالا کا کچھ نہیں بگڑتا، صرف ماحول کی آلودگی بڑھ جاتی ہے۔ کچھ یہی حال گاڑیوں اور دیگر املاک کو آگ لگانے کا ہے۔ آج کل کا دور کہ جس میں ذرا سی اضافی آلودگی بھی صحت کے لیے بہت مضر ثابت ہوتی ہے، وہاں ایسی ماحولیاتی عیاشی کے انسان کہاں متحمل ہو سکتے ہیں۔ کیا کسی شے کو آگ لگائے بغیر احتجاج نہیں کیا جا سکتا۔ اگر حکام کو مطالبات ماننا ہوتے ہیں تو وہ ویسے ہی مان لیتے ہیں ورنہ جلاؤ گھیراؤ سے کچھ نہیں ہوتا۔

اسی طرح پلاسٹک کا سب سے شرمناک، اذیت ناک، دردناک، افسوس ناک اور بھیانک استعمال پتنگ اڑانے کے لیے پلاسٹک کی ڈوری کا استعمال ہے۔ جو نہ صرف انسانوں کے گلے کاٹنے کا باعث بنی بلکہ اس نے بسنت جیسے قدیم تہوار کا بھی گلا کاٹ دیا۔ یہ ڈوری نہ صرف انسانی جانوں کے بلکہ پرندوں جیسے کہ کبوتر، چڑیا، مینا، اور کوے وغیرہ کے پر اور پیر وغیرہ کاٹ کر ان کے معذور کرنے کا سبب بنی ہے۔ حالانکہ اس کی جگہ دھاگے کا مانجھا صدیوں سے استعمال ہو رہا تھا اور کبھی ڈور سے کسی کی جان نہ گئی تھی۔ لیکن صرف کچھ لوگوں کی یہ اناء کہ ان کی پتنگ کبھی نہ کٹے کی ضد پر بے شمار انسانی اور پرندوں کی جانیں ضائع ہو گئیں بلکہ یہ قدیم تہوار بھی بدنام ہو کر ختم ہو گیا۔

Facebook Comments HS