شخصی آمریت کے لئے عوامی ذہن سازی کا خطرناک کھیل


وزیراعظم کی تقریروں کو ان کے معاونین نے مضمون کی شکل دے کر ملک بھر کے اخبارات میں شائع کروایا ہے۔ اس طرح ایک بار پھر شخصی حکمرانی کے لئے عمران خان کا ’منشور ‘عام کیا گیا ہے۔ یہ منشور اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ ماضی کے سب حکمران اور اپوزیشن کے سب لیڈر برائیوں کی جڑ ہیں اور پاکستان کو کوئی اچھا لیڈر ملا ہے تو اس کا نام عمران خان ہے۔

خود ستائشی پر مبنی اس سیاسی بیانیہ کے ذریعے جذبات کی بنیاد پر کسی لیڈر کی اندھادھند تقلید کرنے والے حامیوں کا ایک طبقہ تو پیدا کیا جاسکتا ہے لیکن اس سے جدید دور میں کسی ملک کو درپیش گوناں گوں مسائل کو نہ تو سمجھا جاسکتا ہے اور نہ ہی انہیں حل کرنے کا کوئی راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اس طرز عمل کی ایک عمدہ مثال امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے حامیوں کا ایک جم غفیر اکٹھا کیا اور ماڈرن جمہوریت کے تمام بنیادی اداروں کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو نہ صرف سیاسی لحاظ سے مسترد کیا بلکہ ان میں ہر قسم کی اخلاقی کمزوریاں تلاش کرنے کی کوشش بھی کی۔ اور اپنی کمزوریوں اور اپنے ساتھیوں کی غیر قانونی حرکات کو جھوٹے میڈیا کی پھیلائی ہوئی ’فیک نیوز ‘ قرار دے کر انہیں درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔ متعدد معاملات میں صدارتی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے اپنے کئی ساتھیوں کو قانون کی گرفت سے بچایا۔

حتی کہ ایک مسلمہ جمہوری نظام میں انتخاب کے طریقہ کو جعل سازی قرار دیا گیا کیوں کہ اس نظام میں ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدر منتخب ہونے میں کامیاب نہیں ہؤا تھا۔ انہیں مجبوری کے عالم میں وہائٹ ہاؤس سے ضرور جانا پڑا لیکن گزشتہ سال چھے جنوری کو جس وقت امریکی کانگرس انتخابی نتائج کی تصدیق کے لئے ووٹ دینے والی تھی ، انہوں نے اپنے انتہاپسند حامیوں کو وہائٹ ہاؤس کےباہر جمع کیا اور کانگرس پر حملہ کے لئے اکسایا۔ اس سانحہ میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں اور امریکی جمہوریت کو شدید چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ٹھوس امریکی نظام ایک فاتر العقل اور خود پسند سابق امریکی صدر کے ہتھکنڈوں سے محفوظ رہا۔ کانگرس نے نہ صرف انتخابی نتائج کی تصدیق کی بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار جو بائیڈن کے حوالے کرنا پڑا ۔ لیکن ان کی کم ظرفی کا یہ عالم تھا کہ وہ نئے صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کئے بغیر فلوریڈا روانہ ہوگئے۔ گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حامیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے 6 جنوری 2021 کے حملہ میں ملوث جرائم پیشہ لوگوں کو ’سیاسی قیدی ‘ قرار دیا۔

عمران خان کا رویہ بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ وہ مسلسل اپنے مخالفین کو بدعنوان قرار دے کر اپنے لئے سیاسی سپیس حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اور اب ساڑھے تین سال تک ناکام حکمرانی کے بعد جب ایک بار پھر عوام کا اعتماد حاصل کرنے کا مرحلہ درپیش ہے اور اٹھارہ بیس ماہ میں نئے انتخاب ہونے والے ہیں تو وہ اپنی سیاست کو مذہب کا لبادہ اوڑھا کر ایک بار پھر ہیرو بننے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ عوام ان معاشی مصائب کو بھول جائیں جو موجودہ حکومت کی عاقبت نااندیشانہ پالیسیوں کی وجہ سے ان پر مسلط ہوئے ہیں اور عمران خان کو ہی مسیحا سمجھ کر ایک بار پھر تحریک انصاف کو منتخب کرلیں۔ حالانکہ اس قسم کا خواب دیکھنا بھی حقائق اور مسائل سے صریح روگردانی اور عدم واقفیت کا اظہار ہے لیکن عمران خان اس امید پر پرانے نعروں کو مذہب کی نئی اوڑھنی پہنا کر قابل فروخت بنانے کی کوشش کررہے ہیں کہ شاید چند ماہ میں معاشی حالات تبدیل ہوجائیں یا شاید وہ ان ہتھکنڈوں سے ’جاں نثاروں‘ کا ایسا گروہ تیار کرنے میں کامیاب ہوجائیں جس کے دباؤ میں ملکی اسٹبلشمنٹ نہ تو ان کی سرپرستی سے دست کش ہو اور نہ ہی غیر جانبدارانہ انتخابات کی ضمانت فراہم کرے۔

ملکی آئینی تقاضوں کے برعکس اقتدار سے چمٹے رہنے کی اس سنگدلانہ خواہش کا اظہار یا تو ڈونلڈٹرمپ جیسا خود پرست کرسکتا ہے یا عمران خان جیسا عاقبت نااندیش اس راستے پر گامزن ہوگا۔ ورنہ ملکی قانون و آئین کے برعکس عمران خان کی بیان کردہ خواہشات کو پرکھا جائے تو یہ رویہ اسی قانون شکنی کا مظہر ہے جسے وہ پاکستان کے موجودہ مسائل کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان محض اس وجہ سے ترقی کے سفر کا آغاز نہیں کرسکا کیوں کہ قانون کی عمل داری کو یقینی نہیں بنایا جاسکا اور ماضی کے حکمران خود کو قانون سے بالا سمجھتے رہے جس کی وجہ سے معاشرہ تباہی و زوال کی طرف گامزن رہا۔ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس صورت حال کو تبدیل کیا ہے لیکن وہ یہ فراموش کررہے ہیں کہ وہ انہی عناصر کی بدولت اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں جو ماضی میں ہر حکومت کو سہارا دینے کا سبب بنے تھے۔ اس حد تک تو عمران خان اور سابقہ حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کسی بھی قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہنا اورہر مخالفانہ آواز کو کچلنے کے لئے کوئی بھی ہتھکنڈا اختیار کرنے کا طریقہ قانون کی بالادستی کے بنیادی اصول سے متصادم ہے۔

تحریک انصاف کے بانی رکن اور فارن فنڈنگ کا معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس لے جانے والے اکبر ایس احمد نے عمران خان کے تازہ مضمون میں بیان کئے گئے مدینہ ریاست کے اصولوں کی روشنی میں ان کے اپنے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے حقیقت حال واضح کی ہے۔ اکبر ایس احمد کا کہنا ہے کہ ’(پاکستان میں) مدینہ ریاست کے قانون کی بالادستی کے اصول کی روح اس وقت مرگئی اور دفنا دی گئی جب 10 اکتوبر 2019 کو الیکشن کمیشن نے ایک تحریری حکم میں پی ٹی آئی کی طرف سے اس معاملہ میں تاخیری ہتھکنڈے اختیار کرنے کے رویہ کو’قانون کے غلط استعمال کا تاریخی بدترین طریقہ ‘ قرار دیا تھا‘۔ عمران خان کی نیک نیتی کو حقائق کے آئینے میں پرکھنے کے لئے فارن فنڈنگ کیس کا حوالہ ہی کافی ہے جو کہ تحریک انصاف کے عدم تعاون اور تاخیری ہتھکنڈوں کی وجہ سے گزشتہ 7 برس سے تعطل کا شکار ہے۔ چوری پر اپنی صاحبزادی کے ہاتھ کاٹنے کا حکم جاری کرنے والی حدیث سنانے کے والے عمران خان کیا مدینہ ریاست کے کسی ایک حکمران کی کوئی مثال پیش کرسکتے ہیں جس نے جواب دہی سے انکار کیا ہو اور خود کو قانون اور ریاستی نظام سے بالا سمجھا ہو؟

عمران خان نہ صرف خود کو قانون سے بالا سمجھتے ہیں بلکہ وہ بدعنوان ساتھیوں کے جرائم پر پردہ ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ماضی کے حکمرانوں کو تاحیات جیلوں میں بند کرنے کی خواہش پالنے والے عمران خان نے شوگر اور گندم اسکینڈل سے لے کر دیگر متعدد معاملات میں اپنے کسی ساتھی پر آنچ نہیں آنے دی۔ اسی طرح پنڈورا لیکس میں جن حکومتی ارکان کے نام سامنے آئے تھے انہیں بھی مکمل تحفظ فراہم کیا گیا۔ اس کے باوجود قانون کی عمل داری کا بھاشن دے کر عمران خان سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے حامیوں اور پاکستانی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہیں گے۔ سیاست دانوں کو چور اچکے قرار دینا ملکی اسٹبلشمنٹ کا دہائیوں پرانا ہتھکنڈا ہے۔ عمران خان نے اس نعرے کو نئی توانائی بخشی ہے۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ عمران خان ملک میں کوئی دیانتدارانہ نظام قائم کرنا چاہتے ہیں ورنہ وہ یہ بھی جان سکتے تھے کہ اس ملک میں کرپشن کے فروغ میں صرف سیاست دانوں نے حصہ نہیں ڈالا۔ کیا وجہ ہے کہ عمران خان کی زبان پر کسی ایسے طبقے کا نام نہیں آتا اور نہ ہی وہ کسی نگرانی کے بغیر اربوں ڈالر کی امریکی امداد کا حساب لینے کی بات زبان پر لاتے ہیں۔ عمران خان اپنے زیر نگرانی نام نہاد ’مدینہ ریاست‘ میں ایسا نظام اور قانون لانا چاہتے ہیں جس میں صرف اپنے سیاسی مخالفین کو مورد الزام ٹھہرایا جائے گا اور سزائیں دلوائی جائیں گی۔

عمران خان کا تازہ مضمون باآسانی پرائمری اسکول کے نصاب میں شامل کیا جاسکتا ہے ۔ یا کسی محلے کی مسجد کے نیم خواندہ اما م کی تقریر کا مواد ہوسکتا ہے۔قوم کو ذہنی طور سے اس قدر مفلوج کردیا گیا ہے کہ نعروں سے لبریز باتوں کو سچ اور تاریخی حقیقت کے طور پرپیش کیا جاتا ہے اور کوئی اسے چیلنج کرنے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ نئی ’مدینہ ریاست ‘ میں یوں بھی خبر اور رائے کی مواصلت پر پابندیاں عائد ہیں ۔ وزیر اعظم کا فرمان نشر اور شائع ہوتا ہے اور اس کے بعد کابینہ کے نقارچی اس پر تعریف و توصیف کے ڈونگرے برسانے لگتے ہیں۔ جمہوری معاشرہ میں مکالمہ اور اختلاف رائے برداشت کرنے کی صفات کو دیس نکالا دیا جاچکا ہے۔ تازہ مضمون میں عمران خان نے یہی مقصد حاصل کرنے کے لئے مدینہ ریاست کی روح پر عمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مدینہ ریاست کے خد و خال اور اصول بتاتے ہوئے عمران خان نہ تو متبادل رائے کی دعوت دیتے ہیں اور نہ ہی ڈیڑ ھ ہزار سال پہلے قبائیلی معاشرے کے ایک نظام کا موجودہ عہد سے موازنہ کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس وقت زندگی اور اس کے تقاضے کیسے اور کس حد تک تبدیل ہوچکے ہیں۔

پاکستان میں اسکول کے نصاب اور مولوی کے خطاب سے ذہن سازی کا کام لیا جاتا رہا ہے تاکہ لوگوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفقود ہوجائیں اور وہ ایک خاص ڈھب سے حالات کی تصویر دیکھنے لگیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان بھی ریاست کو’امر بالمعروف‘ کے نفاذ کا ذمہ دار قرار دے کر رحمت العالمین تھارٹی کے ذریعے ملک میں ایک خاص طرح کی سوچ عام کرنے کا قصد کررہے ہیں۔ یہ سوچ جمہوری طریقوں سے انکار کرے گی اور ایک خاص نعرے کو ہی مسائل کا حل قرار دے گی۔ اس سوچ کے تحت حکومت کا اختیار صرف اس شخص یاگروہ کو حاصل ہوگا جو عمران خان کے بیان کردہ ’اخلاقی اصولوں‘ پر پورا اترے گا اور جنہیں پرکھنے کے لئے کوئی معروف جمہوری یا قانونی طریقہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایسے معاشرے میں ’روحانیت ‘ معلومات عامہ کا متبادل ہی نہیں بلکہ برتر پہلو قرار پائے گی۔ تاکہ حکمرانوں کی بے اعتدالیوں پر سوال کرنے والے مصلوب کئے جاسکیں۔ فلاحی ریاست کے معروف اور معلوم ماڈلز کو ’اصراف کے مرکز‘ قرار دے کر مسترد کیاجائے گا اور لوگوں کو یقین دلایا جائے گا کہ سرکاری خیرات کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست سمجھ کر مطمئن ہوجائیں۔

’مدینہ ریاست‘ کے بارے میں عمران خان کا یہ نام نہاد تصور اگر روبہ عمل ہوگیا تو ملک میں ایسی بدترین آمریت قائم ہوگی جو کسی کو جواب دہ نہیں ہوگی۔ اور نہ کسی کو سوال کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ پاکستانی عوام کے ذہن آلودہ کرنے کی اس ناجائز اور افسوس ناک کوشش کو قبول کرنا ملک کے آئینی انتظام کو مسترد کرنے کے مترادف ہوگا جس میں ہر شہری کی رائے اہمیت رکھتی ہے اور ووٹروں کو ہی حکومت منتخب کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ عمران خان اپنے اقتدار کے لئے عوام کا یہ حق سلب کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے ذہن سازی کا خطرناک طریقہ اختیار کرنے کے کام کا آغاز کیا جارہاہے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2170 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments