علیزے شاہ کا سگریٹ


میں ایک سگریٹ ہوں۔

جی ہاں ! وہ سادہ  و عام سی سگریٹ جو ہر گلی ہر سڑک ہر موڑ پر بیچی خریدی اور پی جاتی ہوں۔

آپ،آپ کے والد،ان کے والد، ہر کوئی مجھے لبوں میں دابے، سانسوں میں بسائے زندگی گزار دیتا ہے۔

کوئی نہیں پوچھتا ،کیوں پیتے ہو؟

کوئی نہیں دیکھتا،کیا پیتے ہو بھائی؟

مگر علیزے شاہ  مجھے لبو ں سے لگائے تو ویڈیو تو بنتی ہے۔

کیوں؟

کیا وہ کسی کی بہن کسی کی بیٹی نہیں؟

کیا اس کی کوئی پرائیویسی نہیں؟

کیوں بھئی کیوں؟

کیا وہ پبلک پراپرٹی ہے؟

آپ پئیں تو بجا،علیزے پئیے تو گناہ،

پتھر اٹھانے کا حق صرف اسے حاصل ہے جو خود گناہ گار نہ ہو۔

آپ ہاتھ میں سگریٹ تھام کرکش لگاتے ہوئے کسی اور کی سگریٹ پر تنقید کرنے کا حق نہیں رکھتے۔

اپنی حدود پہچانیے۔

چادر اور چار دیواری کا تحفظ ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔

مگر موبائل اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال اس  تقدس کو پامال کر رہا ہے۔جو کا م کوئی اپنی ذاتی حدود میں کر رہا ہے وہ اس کا ذاتی فعل ہے اور کسی کو حق حاصل نہیں کہ دوسرے کے ذاتیات میں مخل ہو۔

روک لیجئے خود کو۔

آپ کا موبائل آج اس  لیک وڈیو کلچر کو فروغ دے  رہا کل کو اگر  آپ کی چادر  اور چار دیواری  اس کلچر کی زد میں آ گئی تو کیا کریں گے؟

یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے۔اس سے پہلے منال اور حسن کا ہنی مون ہم پاکستانیوں کے لئے تفریحِ طبع کا نشانہ بن چکا ہے۔

شادی ایک خوب صورت رشتہ اور ہنی مون اس کا یادگار ترین حصہ۔  ہر جوڑا ہنی مون پر جانے کے خواب  دیکھتا ہے۔

جس جگہ جاتا ہے وہاں کے ملبوسات پہن کر خوش ہوتا ہے۔ہر جگہ پیار بھری فوٹو گرافی کرتا ہے اور اپنے پیاروں سی شئیر بھی کرتا ہے۔دیکھنے والے سدا خوش رہیں کی دعا بھی دیتے ہیں۔

پھر منال اور احسن خان کا ہنی مون مذاق کیوں بن گیا؟

کیا یہ دوہرا معیار منا فقت نہیں؟

درحقیقت جو  ہم خود کرنا چاہتے ہیں وہ دوسرا کر لے تو قابل اعتراض کیوں؟

عزت تو سب کی ہے۔

کیا آپ  کے ہاتھ میں موبائل فون آپ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ آپ کسی کے بارے میں کچھ بھی عام کردیں۔

کبھی سوچا کہ جیسی میم آپ نے کسی اور کے لئے بنائی یا شیئر کی ویسی کبھی کسی نے آپ کے لئے بنا کر عام کر دی تو آپ پر کیا گزرے گی؟

خدارا  خود کو روکئے ۔دوسروں کی پردہ دری  نہ کیجئے۔

دوسروں کی تضحیک  مت کیجیئے۔مذاق کرنے اور مذاق اڑانے کے فرق کو پہچانیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عائشہ گوہر علی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments