ایک بے بس بیوی کا بستر


دیہاتوں میں آج بھی مزدور پیشہ لوگوں کو نیچ ذات کا سمجھا جاتا اور کمی کمین کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ ایسی ہی ذات کی ایک چھوٹی سی بچی رشیدہ بی بی بھی ایک گاؤں میں رہتی تھی۔ وہ روز اپنی ماں کو اپنے باپ کے ہاتھوں پٹتا دیکھتی تو ڈر کے مارے سہم جاتی۔ رات کو سوتے میں کبھی آنکھ کھل جاتی تو اسے اکثر ماں باپ کے کمرے سے عجیب عجیب آوازیں سنائی دیتیں۔ کبھی اسے ایسا لگتا کہ اس کا باپ اس کی ماں کو گالیاں دے رہا ہے اور کبھی گمان ہوتا کہ باپ، ماں کی منتیں کر رہا ہے۔

بات سمجھ نہ آنے کی وجہ سے اس پر ایک خوف کی سی کیفیت طاری ہو جاتی۔ اس کی ماں تو مار کھانے کے بعد پتھر گرم کر کے ٹکوریں کرتی اور پھر گھر کے کاموں میں لگ جاتی۔ اس کا باپ دوسرے دن کام پر جانے سے پہلے بیوی کو دو چار گالیاں دینا ضروری خیال کرتا۔ گالیاں دینے کے لئے اسے کسی خاص بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اور شام کو جب گھر واپس آتا تو بھی اس کا یہی معمول ہوتا۔ شام کو کھانا کھانے کے بعد وہ اپنے دوستوں سے ملنے ضرور جاتا۔ جہاں سے وہ اکثر نشے کی حالت میں واپس آتا۔ رشیدہ بی بی اس ماحول میں بڑی خوف زدہ رہتی تھی۔

پھر ایک دن اس کی پھوپھی جو قریبی قصبہ میں بیاہی ہوئی تھی ان لوگوں سے ملنے آئی۔ وہ اسی دیہات کے گرلز سکول سے پانچویں پاس تھی اور چونکہ گاہے گاہے بھائی کی مالی مدد بھی کرتی رہتی تھی اس لئے اس گھر میں اس کی کافی اہمیت تھی۔ اس نے رشیدہ بی بی کی حالت بھانپ کر اسے تنہائی میں لے جا کر اس کے خوف کی وجہ پوچھی۔ جس پر رشیدہ بی بی نے اپنی تمام بپتا کہہ سنائی، جس پر پھوپھی نے اسے سمجھایا کہ اگر وہ بڑی ہو کر اپنے باپ جیسے خاوند سے بچنا چاہتی ہے تو سکول جایا کرے۔ کیونکہ صرف تعلیم ہی اسے دنیا میں اچھا مقام اور اچھا شوہر دلوا سکتی ہے۔ اس نے اپنی مثال بھی دی کہ پڑھی لکھی ہونے کی وجہ سے اسے اچھا خاوند ملا۔

رشیدہ کی پھوپھی تو اسے راستہ دکھا کر چلی گئی مگر رشیدہ نے ٹھان لیا کہ اسے سب سے زیادہ دھیان اپنی پڑھائی پر ہی دینا ہے۔ یہی ایک طریقہ ہے کہ وہ اپنے باپ اور بھائیوں کے وحشیانہ ماحول سے نکل سکے۔ سکول تو وہ جا ہی رہی تھی مگر اب سکول اس کے لئے دوسرے بچوں کے برعکس ایک عبادت گاہ بن گئی تھی۔ یوں اس نے اس گھٹن زدہ ماحول میں رہتے ہوئے بھی پانچویں کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کر لیا۔

رشیدہ بی بی تو چاہتی تھی کہ وہ اب اور آگے پڑھے لیکن اس کے گاؤں میں لڑکیوں کا سکول صرف پرائمری تک ہی تھا۔ اس لئے اسے اپنی تعلیم جاری رکھنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ اس کے دو بڑے بھائی جو عمروں میں اس سے کافی بڑے تھے، دو دو تین تین جماعتیں پڑھ کر سکول سے بھاگے ہوئے تھے۔ وہ دونوں اب باپ کے ساتھ مل کر مزدوریاں کرتے اور اس کی پڑھائی کے پہلے ہی مخالف تھے۔ انہوں نے جب سنا کہ رشیدہ مزید پڑھنے کی خواہش رکھتی ہے تو وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گئے۔ اسے ایسی ایسی گالیاں دیں کہ خدا کی پناہ۔ اب گھر کے سب مرد اس کی پڑھائی کے دشمن اور ماں بیچاری، ہونا کیا اور نہ ہونا کیا؟ رشیدہ بی بی کو لگا جیسے اس کے سب خواب قتل ہو گئے۔ اب وہ تصور میں خود کو روز اپنی ماں کی طرح جوتیاں کھاتا دیکھنے لگی۔ اس کے باپ کی طرح کا جاہل خاوند اور غلیظ زندگی اسے بھوت بن کر ڈرانے لگے۔

اس کی خوش قسمتی سے اس کی پھوپھی کو خبر مل گئی اور وہ اس کی مدد کو آن پہنچی۔ پھوپھی کا اپنے بھائی اور بھتیجوں سے کافی جھگڑا ہوا مگر وہ رشیدہ کو ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو گئی۔ رشیدہ وہاں جا کر ہائی سکول میں داخل ہو گئی تو اتنی خوش تھی جیسے اس کے خوابوں کو پر لگ گئے ہوں۔ اسے پھوپھی کی پوری سپورٹ حاصل تھی اور وہ خوب جان توڑ کر محنت کر رہی تھی۔

لیکن ابھی اس نے سات جماعتیں ہی پاس کی تھیں کہ اس کا باپ اس کی پڑھائی چھڑانے آ دھمکا۔ پھوپھی نے بہتیرا سمجھایا

”بھائی چھیمے لڑکی پڑھ رہی ہے تو دسویں کر لینے دے اسے۔ میرے پاس آرام سے ہے۔ تجھے کوئی تکلیف تو نہیں دے رہی“ ۔

”تکلیف تو ہے بہن میری۔ تو خوش قسمت تھی کہ تجھے بہنوئی صاحب جیسے بندے نے پسند کر لیا اور اب تو عیش کر رہی ہے مگر اس وقت اپنی ذات برادری میں تو دور دور تک پانچویں پاس بھی نہیں ہے کوئی لڑکا۔ مزید پڑھے گی تو رشتہ کہاں سے ملے گا؟ کنواری رہ جائے گی“ ۔

”پڑھ لکھ جائے گی تو کوئی اچھا رشتہ بھی تو مل سکتا ہے“ ۔

”بھول جا بہن میری۔ ہم کمی کمین لوگ، ہماری بیٹی کتنا بھی پڑھ جائے کسی اونچی ذات سے رشتہ نہیں ملنے والا“ ۔

کئی گھنٹے کی بحث کے بعد بہن کو بھائی کی بات ماننی پڑی۔ رشیدہ بہت روئی پیٹی، چیخی چلائی مگر اس کی ایک نہ چلی، اور وہ ساتویں جماعت کی کتابوں سے ہی دل بہلاتی رہی۔ پھوپھی نے اسے دلاسا دیا اور گھر کے کام کاج سکھانے کے لئے ساتھ لگا لیا۔

پر ابھی ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ بھائی پھر آن وارد ہوا۔ رشیدہ کے لئے ایک رشتہ آیا تھا اور اس کا باپ اب جلد از جلد اس کی شادی کر دینا چاہتا تھا۔ بہن بضد تھی کہ لڑکی ابھی کم عمر ہے ابھی اس کی شادی نہیں کرنی چاہیے۔

بھائی بولا ”بہن میری غور سے دیکھ اسے۔ لڑکی جوان ہو گئی ہے اور ہے بھی بلا کی خوبصورت۔ اپنی دادی پر گئی ہے نا۔ حسن لاٹیں مار رہا ہے اس کا ۔ جوبن پھٹنے پر آیا ہوا ہے۔ اگر کسی طاقتور کے بیٹے کی نظر پڑ گئی اس پر تو چیر پھاڑ کے کھا جائے گا۔ پھر کیا کریں گے ہم؟ تھانہ کچہری تو پہلے ہی ان کے ہیں۔ ہماری بیٹی کا تو پھر بیاہ بھی نہیں ہو سکے گا۔ رنڈی بن کے رہ جائے گی۔ اور تو جانتی ہے نا رنڈیوں کا انجام کیا ہوتا ہے؟ میں اسے اس انجام سے بچانا چاہتا ہوں“ ۔

بہن بھی اس کی بات سن کر سہم گئی، مگر بولی ”تو کیوں مجھے ڈرانے پر تلا ہوا ہے؟ چار دن تو بے چاری کو سکھ کا سانس لے لینے دے۔ ابھی سے ساس نندوں کے جال میں نہ ڈال اسے“ ۔

وہ بولا ”تیری تو عقل ماری گئی ہے بہن میری، آزادی کے سانس لیتی لیتی کہیں سانس لینے سے ہی نہ جاتی رہے۔ اس لئے چاہتا ہوں کسی کھونٹے سے باندھ دوں اسے۔ کم از کم زندہ تو رہے گی وہاں۔ اس کے بھائی تو دونوں نکمے بھی ہیں اور لالچی بھی۔ مکان پر تو پہلے ہی قبضہ کر

چکے ہیں، کل کلاں کو میں نہ رہا تو شادی کا جوڑا بھی نہیں دیں گے اسے ”۔

بہن بھی بے بسی کی لپیٹ میں آ گئی۔ بولی ”مجبوریوں کے پہاڑ تو ہمارے سروں سے ہٹتے ہی نہیں کبھی۔ غریب آدمی خواہش بھی اپنی خواہش کے مطابق نہیں کر سکتا۔ میرا بیٹا کوئی اس سے سال دو سال بھی چھوٹا ہوتا تو میں گھر میں ہی رکھ لیتی اسے۔ پر کیا کروں؟ وہ تو شوہدے بہت چھوٹے ہیں ابھی۔ بیاہ تو کرنا ہی پڑے گا۔ رشتہ کہاں سے آیا ہے؟“ ۔

”یہیں تیرے قصبے میں رہتے ہیں۔ اپنی ذات برادری کے ہیں۔ ماجھو چکر کو جانتا ہوں میں۔ ہمارے گاؤں سے ہی آیا تھا یہاں بہت سال پہلے۔ اس کا بیٹا ہے بلا گولی۔ ڈیل ڈول کا بھی اچھا ہے اور پیسے اچھے کما لیتا ہے۔ شکل ذرا واجبی سی ہے پر تو جانتی ہے مردوں کی شکلوں پر کون جاتا ہے؟ سب اس کی کمائی دیکھتے ہیں“ ۔

”بلا تو سمجھ میں آتا ہے، پر یہ گولی کیا لگا ہوا ہے اس کے نام کے ساتھ؟“ ۔

”بچپن میں کسی کی پستول آ گئی تھی اس کے ہاتھ۔ بس دو چار گولیاں چلا دیں۔ تبھی سے اس کا نام پڑ گیا بلا گولی۔ لڑکا نڈر ہے بہت۔ بڑا رعب ہے آس پاس کے لوگوں میں اس کا “ ۔

بہن نے زور تو کافی لگایا لیکن وہ بھائی کو نہ منا سکی اور دو ڈھائی مہینے میں ہی بات چیت چل کر نوبت شادی تک پہنچی اور رشیدہ بی بی بیاہ کر بلے گولی کے گھر آ گئی۔

بلے کی ابھی دو چھوٹی بہنیں شادی کے لائق لیکن کنواری تھیں۔ دونوں نے اپنی ماں کے ساتھ مل کر بلے کو پہلے سے پٹی پڑھا دی تھی

”لڑکی پڑھی لکھی ہے۔ اوپر سے سوہنی بھی ہے بہت اور تو اس کے مقابلے میں کو جا ہے۔ اگر تو نے شروع سے ہی جوتا ہاتھ میں نہ پکڑ لیا تو وہ تیرے سر چڑھ کر جوتے مارے گی تجھے“ ۔

بلا ان پڑھ تو تھا ہی، دماغ سے بھی پیدل تھا۔ اس نے پہلی رات ہی رشیدہ کو بتا دیا کہ وہ بہت خر دماغ ہے، اس لئے اس کے سامنے دماغ دکھانے کی کوشش نہ کی جائے۔ چودہ سال کی رشیدہ جو پہلے ہی ڈری ہوئی تھی مزید سہم گئی۔ ماں باپ اور بھائیوں کی طرف سے تو اسے خود ہی کوئی امید نہیں تھی اور پھوپھی سے ملنے کی اسے اجازت نہ تھی۔

ساس اور نندیں اسے بات بات پر ٹوکتیں اور خاوند جوتا اٹھانے کے لئے کسی بہانے کا انتظار بھی نہ کرتا۔ سکول میں تو نام رشیدہ بی بی لکھا گیا تھا لیکن اب وہ اتنی با ر ’شیدو‘ کے نام سے پکاری جا چکی تھی کہ خود بھی اپنا اصلی نام بھول چکی تھی۔

خاوند دن میں اس کی پٹائی کرنا جتنا ضروری خیال کرتا تھا اتنا ہی اسے رات کو بستر میں استعمال کرنا بھی۔ یوں گالیاں اور جوتے کھاتے رشیدہ کو چھ ماہ ہو چکے تھے۔ وجہ کچھ بھی ہو، لیکن وہ ابھی حاملہ نہیں ہوئی تھی۔ بس اسی بات کو لے کر گھر میں تو تکار شروع ہوئی اور پھر بلے کا غصہ انتہا کو پہنچ گیا۔ اس نے رشیدہ کو فرش پر الٹا لٹا کر جوتوں سے اس کی کمر اور پیٹھ ادھیڑ ڈالی۔ پھر اسی غصے میں باہر نکل گیا۔ ساس اور

نندیں اپنے کمرے میں جا گھسیں او ر رشیدہ روتی دھوتی اور کراہتی وہاں پڑی رہی۔ پھر جب ذرا ہمت ہوئی تو گرتی پڑتی اپنے کمرے میں پہنچی۔ شام کو سردی بڑھی تو اس کی چوٹیں پھوڑے کی طرح دکھنے لگیں۔ تب کہیں اس کی ساس اس کے پاس آئی، اسے دو روٹیوں کے

ساتھ ڈھیر سارے طعنے بھی دیے اور بڑبڑاتی ہوئی واپس چلی گئی۔ رشیدہ میں اتنی ہمت نہ ہوئی کہ اٹھ کر کھانا ہی کھا لے۔ وہ اسی حالت میں وہاں پڑی رہی۔

رات کو دوستوں کے ساتھ دریائی مچھلی کی دعوت اڑا کر بلا واپس آیا تو اس کا غصہ اتر چکا تھا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی رشیدہ کی کراہیں اس کی سماعت سے ٹکرائیں تو پل بھر کو اسے گمان گزرا کہ آج شاید رشیدہ کے ساتھ کچھ زیادہ ہی کر ڈالی ہے اس نے۔

دروازہ کھلنے کی آواز پر ہی رشیدہ جان گئی تھی کہ بلا کمرے میں آ گیا ہے پر وہ بے حسی کی چادر اپنے وجود پر ڈالے دیوار کی طرف کروٹ لئے لیٹی رہی۔ ما ر تو اس کو آئے روز ہی پڑتی تھی پر آج اس کی حالت کچھ زیادہ ہی خراب تھی۔ بدن کی پور پور دکھ رہی تھی اور درد کی ظالم ٹیسوں نے اس کے وجود میں طوفان مچا رکھا تھا۔

وہ اپنی پھوپھی کی طرح خوش نصیب نہیں تھی۔ اس کا بیاہ بلے جیسے جاہل اور وحشی مرد سے ہوا تھا۔ شادی کے بعد وہ اکثر سوچنے لگی تھی کہ کیا ہے اس کی زندگی؟ پر آج وہ مسلسل سوچ رہی تھی کہ کیوں ہے اس کی زندگی؟ ساری عمر صرف مرد کے جوتے کھانے کے لئے؟

اس جاہل اور وحشی آدمی سے بیاہنے کے بعد اس کے ماں باپ یا بھائیوں میں سے کبھی کسی نے اس کی خبر نہیں لی تھی۔

بلے نے حسب معمول آج بھی اندر آتے ہی کمرے کی کنڈی اندر سے چڑھائی، کرتا اتار کر کونے میں پڑے ٹین کے ٹرنکوں پر اچھال دیا اور رشیدہ کے برابر آ کر لیٹ گیا۔ طلب کی چنگاری بدن میں پھوٹے تو رگوں میں دوڑنے والا لہو آگ بن جاتا ہے۔ بلے کو اس وقت رشیدہ کے جسم کی سخت ضرورت تھی۔ وہ جسم جو اس وقت مزید تکلیف کے خوف سے کروٹ لینے سے بھی ڈر رہا تھا۔ بلے نے اپنی طلب میں رشیدہ کی کمر کو چھوا تو وہ زور سے ’ہائے‘ کہتی ہوئی کراہ اٹھی۔ رشیدہ کے جسم پردن کی اندھی پٹائی کی وجہ سے نجانے کتنے چھپے ہوئے زخم بن گئے تھے۔ بلے کا ہاتھ بھی اس کے کسی ایسے ہی زخم پر پڑا تھا، جس نے رشیدہ کو تڑپا کر رکھ دیا تھا۔

”شیدو! سیدھی ہو“ ۔ بلے کی سرسراتی ہوئی سرگوشی نما آواز سے رشیدہ جان گئی تھی کہ اب وہ کیا چاہتا ہے۔ جسم کے ساتھ اس کا دل بھی تڑپ اٹھا تھا، کیسا انسان ہے یہ؟ اسے ذرا احساس نہیں کہ کتنی اذیت میں ہوں میں؟ دن میں اس نے خود اپنے ہاتھوں میرے جسم کی یہ حالت بنائی ہے اور اب اسی جسم سے خراج وصول کرنا چاہتا ہے؟

اس کی خاموشی پر بلے کو تاؤ آنے لگا تو وہ ذرا سخت آواز میں بولا ”چل چل زیادہ ڈرامے نہ کر اب اور سیدھی ہو“ ۔

اس کی بے حسی پر رشیدہ کی آنکھیں جو پہلے ہی رو رو کر سوجی ہوئی تھیں ایک بار پھر چھلک اٹھیں ”تو میری حالت دیکھ رہا ہے بلے! جوتیاں مار مار کر حشر کر دیا ہے تونے میرا۔ ایک انچ نہیں ہے بدن کا جو دکھ نہ رہا ہو۔ کروٹ تک بدلنے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں۔ اور تو کہتا ہے تیرے لئے سیدھی ہو جاؤں۔ اپنے بدن کی بھوک کا احساس ہے تجھ کو اور میرے بدن پر کیے گئے ظلم کو بھول گیا ہے؟ کم از کم ایک رات تو رحم کر مجھ پر “ ۔

”تو انوکھی عورت نہیں ہے شیدو! جس نے مرد کی مار کھائی ہے۔ یہاں کتنی عورتیں ہیں جو روز پٹتی ہیں، لیکن پھر بھی اپنے مرد کو خوش کرتی ہیں۔ چل اب میری رات کالی نہ کر اور چپ چاپ سیدھی ہو جا ”۔ دریائی مچھلی کی گرمی اسے چین نہیں لینے دے رہی تھی، جذبات کی گرمی سے بھرا اس کا ہاتھ رشیدہ کے بدن کے نشیب و فراز ناپ رہا تھا اور رشیدہ کی کراہیں بڑھتی جا رہی تھیں۔

وہ پھر بولا ”میری اماں روز ابے سے پٹتی تھی اس کے باوجود اس نے چھ بچے پیدا کیے اور ایک سے بڑھ کر ایک مچھندر“ ۔

ساس کا ذکر سن کر دردوں کے باوجود وہ تڑپ کر تھوڑا سا مڑی

”اس کی مثال نہ دے مجھے، اس کے مقابلے کی کوئی عورت تو سارے علاقے میں نہیں۔ پھر اسی کی پٹیاں پڑھ کر تو مارتا ہے تو مجھے“ ۔

”اچھا چل نا اب مان جا، آئندہ اس طرح نہیں ماروں گا“ ۔
رشیدہ نے آنسوؤں سے ڈبڈباتی آنکھوں سے اسے دیکھا ”پر مارے گا ضرور، ہیں نا؟“ ۔
رشیدہ کی آواز میں نرمی پا کر بلے کے اندر کا شکاری اب جھپٹنے کو تیار ہو گیا
”اری میری سوہنی، وہ تو اماں کو دکھانے کے لئے ہو گا، پر وعدہ کرتا ہوں خیال رکھوں گا تیرا“ ۔

رشیدہ کے ساتھ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ دن کے وقت اس کی پٹائی کرنے والا رات کو اسے منانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایسا تو اس کے ساتھ بہت بار ہو چکا تھا۔ رات کو کئی دفعہ منت سماجت تک کی تھی اس نے اپنا کام نکالنے کے لئے۔ مگر دن کو وہ پھر وہی وحشی جانور بن جاتا تھا۔ یہی سوچ کر وہ بولی ”تو دن میں چاہے پھر سے مار لینا مجھے اپنی ماں کا کلیجہ ٹھنڈا کرنے کو لیکن اب مجھے مت چھیڑ۔ اس وقت مجھ میں ہمت نہیں ہے تیری خواہش پوری کرنے کی“ ۔

یہ سنتے ہی بلے کا دماغ کھول اٹھا۔ اس کی آواز اونچی ہو گئی ”کتی، حرام زادی! تجھے میری بات سمجھ نہیں آ رہی؟ میرے دوست سچ کہتے ہیں۔ یہ جو تیرے جیسی لڑکیاں دو چار جماعتیں پڑھ جاتی ہیں یہ صرف جوتیوں کی زبان سمجھتی ہیں۔ میرے جیسے سیدھے سادے لوگوں کی بات تمہاری ناک پر ہی نہیں بیٹھتی۔ میں تجھے صرف پانچ منٹ دیتا ہوں۔ سوچ سمجھ لے۔ پھر یا تو سیدھی ہو جا یا پھر طلاق لینے کے لئے تیار ہو جا۔ اور یہ بھی اچھی طرح سوچ لے کہ اگر میں نے طلاق دے دی تو پوری دنیا میں تجھے سنبھالنے والا کوئی نہیں ہو گا۔

بھائی تیرے تیری شکل نہیں دیکھنا چاہتے۔ ماں باپ تیرے اس قابل نہیں ہیں کہ تجھے گھر بٹھا کر کھلا سکیں۔ ہو سکتا ہے پھوپھی تیری چار دن رکھ لے تجھے۔ مگر چار دن سے زیادہ نہیں۔ ہماری برادری میں طلاق یافتہ عورت سے کوئی شادی نہیں کرتا۔ وہ پھر زندہ رہنے کے لئے ٹکے ٹکے پر اپنا جسم بیچتی ہے اور بوڑھی ہو کر در در بھیک مانگتے ہوئے مر جاتی ہے۔ اب تو سوچ لے۔ پانچ منٹ ہیں تیرے پاس“ ۔

بلے کی دھمکی پر رشیدہ بھی سوچ میں پڑ گئی۔ اگر میں یہاں سے نکال دی جاؤں تو ٹھکانہ تو کہیں نہیں ہے میرا۔ کوئی والی وارث نہیں۔ نہ کوئی طریقہ ہے میرے پاس زندگی گزارنے کا ۔ دور دور تک اسے کہیں کوئی امید نظر نہیں آ رہی تھی۔ اس نے دانتوں کو بھینچا تا کہ اگلی تکلیف برداشت کرسکے۔ اور جسم پر جیسے جبر کرتے ہوئے سیدھی ہو کر لیٹ گئی اور بس اتنا ہی بول پائی ”اب شلوار اتارنے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں“ ۔

ایک بے بس بیوی کا بستر – دوسرا حصہ


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments