افسانہ: ایک بے بس بیوی کا بستر – دوسرا حصہ

بلے نے درد سے کراہتی ہوئی شیدو کی تکلیف کو مکمل طور پر نظرانداز کر کے بے دردی کے ساتھ اس کی شلوار اتار دی۔ شیدو اپنی چوٹوں کی دکھن سے بلبلا رہی تھی، مگر بلا اپنے جسم کی آگ بجھانے میں مصروف ہو گیا۔ ایک خاوند کی حیثیت سے وہ اسے اپنا حق سمجھتا تھا۔ شیدو کی کراہیں اتنی بلند تھیں کہ دیوار کی دوسری طرف آسانی سے سنائی دے رہی تھیں۔ دونوں کمروں کے درمیان آدھی اینٹ کی یہ دیوار تو اس کی لذت بھری سسکاریاں بھی نہیں روک پاتی تھی، جنہیں سننے کے لئے بلے کی دونوں بہنیں، بڑی رانی اور چھوٹی نجمہ رات کو دیر دیر تک جاگا کرتی تھیں۔ وہ آج بھی اسی انتظار میں ابھی تک بیدار تھیں۔ انہیں تو یہ احساس بھی نہیں تھا کہ آج شیدو کی کراہیں کسی وفور لذت کا شاخسانہ نہیں بلکہ جسمانی چوٹوں کے درد کی شدت کی وجہ سے تھیں۔ وہ درد جس کی بنیاد اسے دن کے وقت پڑنے والی مار تھی۔
گھر کے حالات ایسے تھے کہ رانی اور نجمہ دونوں کو چارپائی بھی ایک ہی ملی ہوئی تھی۔ وہ بھی بھائی اور بھابی کے کمرے کی اس اکہری دیوار کے بالکل ساتھ بچھی ہوئی۔ دونوں بہنیں بھرپور جوان ہو چکی تھیں۔ وہ بے شک بلے سے چھوٹی تھیں لیکن شیدو سے تو عمروں میں بھی بڑی تھیں۔ رات کو بھائی اور بھابی کے کمرے سے آتی آوازیں سن کر ان کے جسموں میں بھی چنگاریاں پھوٹتی تھیں۔ جذبات ان کے بدنوں میں طوفان اٹھاتے، تو وہ دونوں ایک دوسرے کے اعضاء کو بھینچ، کھینچ اور چوم چاٹ کر اپنی تسکین کا سامان کرنے کی کوشش کرتیں۔
ماجھو چکر اور اس کی بیوی کو یا تو بیٹیوں کی کوئی فکر ہی نہیں تھی یا پھر وہ دونوں اس معاملے میں بالکل بے بس تھے۔ ورنہ اب تک تو ان دونوں لڑکیوں کی بھی شادیاں ہو چکی ہوتیں۔ ایک زمانہ تھا جب ماجھو اپنی شامیں دوستوں کے ساتھ گزارتا اور رات کو دیر گئے گھر آیا کرتا تھا۔ واپسی پر وہ اکثر ہی شراب کے نشے میں دھت ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب وہ دن ہوا ہو چکے تھے۔ اس کی آمدنی کے ذرائع نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے، پرانے دوست اب منہ نہیں لگاتے تھے، اس لئے وہ زیادہ تر گھر میں ہی ہوتا تھا۔
دن کے وقت وہ گھنٹوں کے حساب سے صحن میں بچھی ہوئی پرانی چارپائی پر پڑا رہتا۔ نجانے کیسے، مگر بڑھاپے کے باوجود اس کی کمر اتنی بے حس ہو چکی تھی کہ اس پرانی چارپائی کا کھردرا، ناگوار اور ننگا بان بھی اسے چبھتا نہیں تھا۔ وہ عام طور پر خاموش رہتا اور عورتوں کے معاملے میں تو بالکل نہیں بولتا تھا۔ مگر جب کبھی کبھی اسے کسی بات پر غصہ آتا تو پھر بے شمار آتا تھا۔ ایسے میں اس کی گردن کی ر گیں پھول جاتیں اور اس کی آواز دوسری گلی تک سنائی دیتی۔ مگر یہ بالکل کبھی کبھار کی بات تھی۔
عام حالات میں، شام کو ، دونوں میاں بیوی گھر میں سب سے پہلے کھانا کھاتے اور حقہ لے کر بیٹھ جاتے۔ حقے کی چلم میں تمباکو کے علاوہ کوئی افیم جیسی چیز بھی ہوتی تھی۔ اس افیم جیسی چیز کی فراہمی بہرحال ماجھو کی ذمہ داری تھی۔ حقہ پینے کے کچھ ہی دیر بعد دونوں نشے میں ہو جاتے۔ نشہ میں ہونے کے بعد ، روز ہی اور ایک ہی انداز میں اپنے فوت ہو چکے بچوں کو یاد کرتے۔ وہ تینوں بچے بے چارے بچپن میں ہی مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر چل بسے تھے۔ ان کو یاد کر کے رونا بھی ان دونوں کا روزانہ کا معمول تھا۔ جاگتے میں یہ ان کا آخری سین ہوتا کیونکہ اس کے جلد بعد ہی وہ سو جاتے اور کمرے میں دونوں کے خراٹے گونجنے لگتے۔ بلا رات کو کہیں ان کے سونے کے بعد ہی گھر آتا۔ وہ ان کو سوئے ہوئے دیکھتا اور سیدھا اپنے کمرے میں گھس جاتا۔ گھر کے دوسرے افراد سے اس کی ملاقات پھر اگلی صبح ہی ہوتی۔ اسے بالکل خبر نہیں تھی کہ رانی اور نجمہ جو بظاہر چادر لئے سو رہی ہوتی تھیں، دراصل کب تک اور کیوں جاگتی رہتی تھیں؟
ان کے قصبے میں ایک جنرل سٹور تھا۔ ”یامین جنرل سٹور“ نام کا ۔ وہاں سے عورتوں کی ضرورت کی تقریباً ہر چیز مل جاتی تھی۔ جب مرد لوگ اپنی اپنی مزدوریوں پر روانہ ہو جاتے تو ”یامین جنرل سٹور“ پر عورتوں اور لڑکیوں کا تانتا بندھ جاتا۔ وہ اپنی ذاتی ضرورتوں کے سامان کے علاوہ دست کاری کے لئے استعمال ہونے والی سویاں، سلایاں، دھاگے اور کپڑے بھی وہیں سے خریدتی تھیں۔ اس قصبے کی زیادہ تر عورتیں ویسے تو ان پڑھ تھیں لیکن ان میں سے بہت سی گھروں میں رہ کر کشیدہ کاری، کڑھائی اور کروشیا وغیرہ کا کام کرتی رہتی تھیں۔
اسی کام کی کمائی سے انہیں اپنے اور گھر کے اخراجات چلانے میں مدد ملتی تھی۔ اس سٹور کا مالک پورے علاقے میں اکیلا ہی اس سب ہنرمندی کا گاہک تھا۔ وہ کام کی کوالٹی کے مطابق اچھی ادائیگی کرتا تھا اسی لئے وہ سب خواتین بھی اس کی عزت کرتی تھیں۔ وہ خود بھی ان دستکاریوں کو بڑے شہر میں بیچ کر اچھے پیسے کماتا تھا۔
”بگو“ نام کا ایک نوجوان اکثر اس سٹور کے تھڑے پر بیٹھا دیکھا جاتا تھا۔ اس کا اصل نام تو گلزار احمد تھا مگر اس علاقے میں وہ بگو کی عرفیت سے ہی پکارا جاتا تھا۔ صحت مندی اور وجاہت، دونوں لحاظ سے اچھا تھا۔ سٹور کے مالک سے اس کے ذاتی نوعیت کے تعلقات تھے اور وہاں آنے والی دو تین لڑکیوں سے اس کی ڈھکی چھپی سلام دعا تھی۔ اس نے یقیناً ہر لڑکی کو یہی بتایا ہو گا کہ وہ صرف اسی کا عاشق ہے، اسی پر مرتا ہے۔ وہ اپنی ان ”سہیلیوں“ کو یامین جنرل سٹور سے خریداری میں مالی مدد بھی فراہم کرتا تھا۔ البتہ اپنی ان جھوٹی سچی سہیلیوں کے علاوہ کسی اور لڑکی کو آنکھ بھر کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔
بگو کا اصل گھر کسی دور دراز گاؤں میں تھا جہاں اس کی بیوی اور دو بچے اس کے ماں باپ کے ساتھ رہتے تھے۔ یہاں وہ اسی قصبے میں ایک کرائے کے چھوٹے سے مکان میں رہائش پذیر اور مقامی ڈی ایس پی کا پرائیویٹ ڈرائیور تھا۔ ڈی ایس پی امان اللہ خان کو سرکار کی طرف سے ایک گاڑی مع ڈرائیور ملی ہوئی تھی، مگر وہ ان کے ذاتی استعمال میں رہتی تھی۔ گھر والوں کے لئے انہوں نے ایک علیحدہ کار خرید رکھی تھی اور بگو اسی کار کا ڈرائیور تھا۔
امان اللہ خان کا دفتر تو بڑے شہر میں تھا لیکن انہوں نے اپنی رہائش اسی قصبہ کے باہر اپنے بڑے سے آبائی گھر میں رکھی ہوئی تھی۔ جب تک بگو کو امان اللہ خان کے گھر سے موبائل کال نہیں آ جاتی تھی، وہ اسی قصبہ میں اور زیادہ تر یامین جنرل سٹور کے باہر بیٹھا ملنے جلنے والوں سے گپیں ہانکتا رہتا۔ ڈی ایس پی کا ڈرائیور ہونے کی وجہ سے قصبے میں اس کا رعب بھی تھا۔
بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح بگو کی بلے سے بھی اچھی سلام دعا تھی۔ بلا آتے جاتے کبھی کبھی بگو کے پاس تھوڑی دیر کے لئے رک جاتا اور کچھ گپ شپ بھی ہو جاتی۔ چند مہینوں سے بگو اسے کچھ زیادہ ہی پیار اور عزت سے بلانے لگا تھا۔ بلا اس کی وجہ جاننے کی بجائے اسے اپنا حق سمجھ رہا تھا۔ کبھی کبھی جب بلا دن کے وقت یامین سٹور کے پاس سے نہ گزرتا اور بگو فارغ ہوتا تو وہ بلے سے ملنے اس کے گھر بھی آ جاتا۔ پہلے تو ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا تھا، البتہ اب کچھ ماہ سے یہ جلدی جلدی ہونے لگا تھا۔ بگو جب بھی بلے سے ملنے آتا تو ایک خاص انداز سے دروازہ کھٹکھٹاتا اور پھر بلے کا نام لے کر آواز بھی دیتا۔
رانی اور نجمہ بھی قصبے کی بہت سی دوسری عورتوں کی طرح کروشیا اور کشیدہ کاری کا کام کرتی اور یامین سٹور پر ہی بیچتی تھیں۔ سوئی سلائی اور کپڑے دھاگے کے لئے انہیں بھی یہیں آنا پڑتا تھا۔ بلے کی شادی سے پہلے تو وہ اپنی دست کاری کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کاج میں بھی ماں کا ہاتھ بٹایا کرتی تھیں، مگر اب گھر کا سارا بکھیڑا صرف رشیدہ کی ذمہ داری بن چکا تھا۔ گھر میں موجود واحد ٹرانزسٹر سارا دن بجتا رہتا۔ رانی اور نجمہ زیادہ تر پھول بوٹے کاڑھنے میں مصروف رہتیں یا پھر ماں کے ساتھ بیٹھ کر گپیں ہانکا کرتیں۔ ماں بھی آرام سے کہہ دیتی کہ سسرال جا کر تو یہ سب جھنجٹ کرنے ہی ہیں تو چلو چار دن یہاں اچھا وقت گزار لو۔ پھر نجانے تمہاری قسمت میں کیا وبال لکھا ہو!
اس دن بھی دروازے پر مخصوص دستک ہوئی اور بلے کو نام لے کر پکارا گیا۔ رانی اٹھ کر دروازے پر گئی۔ ماں اندر کمرے میں لیٹی ہوئی تھی، مگر اس کے کان تو ادھر دروازے کی طرف ہی لگے ہوئے تھے۔ جب کئی منٹ گزرنے کے بعد بھی کوئی آواز نہ آئی تو اس نے کمرے میں لیٹے لیٹے ہی لڑکیوں کے نام لے کر پوچھا ”کون آیا ہے؟“ ۔
نجمہ باہر ایک چوکی پر بیٹھی اپنا کڑھائی کا کام کر رہی تھی۔ اس نے وہیں سے جواب دیا ”پتہ نہیں اماں! رانی گئی ہے دیکھنے“ ۔
”کب سے گئی ہے دیکھنے! ابھی تک آئی کیوں نہیں؟“ ۔
”ابھی تو گئی ہے اماں! تیرے تو کان بجتے ہیں۔ لے وہ آ بھی گئی“ ۔ پھر وہ رانی سے مخاطب ہو کر بولی ”جا بھئی اندر جا کر اماں کو بتا کون آیا تھا“ ۔
رانی اندر آئی تو ماں نے پھر پوچھا ”کون آیا تھا؟ کب سے کھڑی تھی تو دروازے میں؟“ ۔
”کب سے کیا مطلب اماں؟ ابھی ایک منٹ پہلے کی تو بات ہے“ ۔ اس نے ترنت جواب دیا
ماں جھگڑا ختم کرنے کے انداز میں بولی ”چل چھوڑ۔ آیا کون تھا؟ یہ بتا“ ۔
”گلزار صاحب آئے تھے اماں۔ بلے بھائی کا پوچھ رہے تھے“ ۔
”گلزار کون؟“ ۔
”وہی جو ڈی ایس پی صاحب کے ڈرائیور ہیں“ ۔
”بگو کی بات کر رہی ہے تو ؟“ ۔
”ہاں! وہی!“ ۔
”یہ بگو اب کچھ زیادہ ہی چکر نہیں لگانے لگ گیا ہمارے گھر کے؟“ ۔
”مجھے کیا پتہ؟ بلے بھائی سے پوچھ، جسے ملنے آتا ہے“ ۔
”جسے بھی ملنے آتا ہے، مگر تو کیوں جاتی ہے ہر بار دروازے پر ؟ شیدو کہاں مر گئی ہے، وہ کیوں نہیں دیکھتی؟“ ۔
”وہ کھانا پکا رہی تھی اماں۔ اس لئے میں چلی گئی۔ تو تو پتہ نہیں کیا کیا سوچتی رہتی ہے!“ ۔
”اچھا چل جا اپنا کام کر ۔ لیٹنے دے مجھے آرام سے“ ۔
حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اب وہ آرام سے نہیں رہ سکتی۔ اسے تو پہلے بھی کافی دنوں سے کھٹک رہا تھا کہ جونہی بگو کی دستک کی آواز آتی ہے تو رانی فوراً اٹھ کر دروازے پر پہنچ جاتی ہے۔ پانچ سات منٹ دروازے پر بھی ضرور کھڑی رہتی ہے۔ بگو آتا بھی تبھی ہے جب بلا گھر پر نہیں ہوتا۔ بلکہ ماجھو بھی گھر سے باہر ہوتا ہے۔ شاید وہ ماجھو کے گھر سے نکلنے تک کی خبر رکھتا ہے۔ پھر اکثر جب بگو آ کر چلا جاتا ہے تو دونوں بہنوں کو یامین کے سٹور سے کسی نہ کسی چیز کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ اور وہ دونوں اس خریداری کے بہانے کئی کئی گھنٹے غائب ہو جاتی ہیں۔
اس کے لئے بڑی مشکل یہ تھی کہ بہو کی موجودگی میں بیٹیوں سے اس موضوع پر بات کیسے کرے؟ اگر سوال جواب میں دونوں طرف سے غصے کا اظہار ہو گیا تو گھر کی بات باہر ہی نہ نکل جائے۔ چھوٹا سا دو کمروں کا گھر تھا۔ آواز ذرا سی بھی اونچی ہوتی تو سارے گھر میں سنائی دیتی تھی۔ اس لئے وہ ضبط کر رہی تھی، مگر سب کے سب جیسے اس کی برداشت کو آزما رہے تھے۔ اگلے دو ہفتوں میں بگو چار بار وہاں بلے کا پوچھنے آیا۔ اور ہر بار بعد میں دونوں بہنیں یامین سٹور کے بہانے سے باہر نکل گئیں۔ پھر ایک دن مائی کا صبر بھی جواب دے گیا۔
ہوا یوں کہ بلا کسی وجہ سے جلدی گھر آ گیا۔ ماجھو بھی گھر میں موجود تھا اور ابھی اس کا حقہ پینے کا وقت بھی نہیں ہوا تھا۔ رشیدہ اور لڑکیاں اپنے اپنے کمروں میں تھیں اور مائی اپنے ماجھو کے ساتھ صحن میں براجمان تھی۔ مائی نے بلے کو پاس بٹھایا اور ساری کہانی مرچ مسالا لگا کر سنا دی۔ بلے کو حیرت اس بات پر تھی کہ وہ تو روز جاتے ہوئے بگو سے مل کر جاتا ہے اور واپسی پر بھی اکثر سلام دعا ہو جاتی ہے۔ پھر وہ بعد میں کیوں پوچھنے آتا ہے؟
مائی نے صاف لفظوں میں سمجھا دیا کہ وہ شادی شدہ ہو کر بھی ان کی رانی پر ڈورے ڈال رہا ہے۔ بلا پہلے ہی کسی سے جھگڑ کر آیا تھا اور غصے میں بھی تھا۔ اس کا پارہ مزید چڑھ گیا۔ اصل بات جان کر ماجھو کی غیرت بھی یکایک جاگ اٹھی۔ دونوں نے فوراً فیصلہ کیا، اپنی اپنی لاٹھیاں اٹھائیں اور بگو کو سبق سکھانے چل پڑے۔
وہ بگو کے گھر پہنچے اور دستک دی۔ دونوں یہ سوچ کر آئے تھے کہ بگو عام طور پر اس وقت گھر میں اکیلا ہوتا ہے۔ اس کی تھوڑی ٹھکائی کر کے لوٹ جائیں گے۔ اور دو چار چوٹوں کا سبق ہی اس کے لئے کافی ہو گا۔ بگو نے بلے کی آواز سن کر دروازہ کھولا، دونوں باپ بیٹے کو خوش آمدید کہا اور اندر لے آیا۔ دونوں باپ بیٹے نے صحن میں ہی اس سے توں تڑاں شروع کر دی۔ بگو بھی اونچی آواز میں جواب دینے لگا۔ فوراً ہی بگو کے کمرے سے اس کے پانچ چھ لمبے تڑنگے دوست نکل آئے۔ وہ پولیس کی مدد سے چھوٹی موٹی وارداتیں کرنے والے لوگ تھے اور بگو سے قریبی تعلق کے دعویدار بھی۔ انہوں نے ماجھو اور بلے پر حملہ کر دیا۔ دونوں سے انہی کی لاٹھیاں چھین کر انہی پر برسانی شروع کر دیں۔ بگو سخت غصے میں تھا۔
اس نے بلے کو للکار کر کہا کہ وہ جن ٹانگوں سے اس کے گھر دشمن بن کر آیا ہے ان کو استعمال کرنے کے قابل نہیں چھوڑا جائے گا۔ سو اس نے دوستوں کے ساتھ مل کر ، لاٹھیوں کے مسلسل وار کر کے بلے کی ٹانگوں کی ہڈیاں توڑ دیں۔ دو چار سخت چوٹیں اس کی کمر پر بھی لگیں۔ ماجھو کے سر پر تو ایک لاٹھی ایسی پڑی کہ وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔
جونہی بگو کو احساس ہوا کہ ماجھو مر گیا ہے تو وہ اور اس کے دوست سیدھے تھانے پہنچ گئے۔ وہاں جا کے ماجھو اور بلے کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی کہ وہ دونوں اس کے گھر ڈاکا ڈالنے آئے تھے۔ بگو اور اس کے دوستوں نے اپنے بچاؤ کی خاطر انہیں پکڑنے کی کوشش کی تو ہاتھا پائی میں ماجھو کے سر پر چوٹ آ گئی۔ اپنے اور دوستوں کے زخم بھی دکھائے اور بلے کی گرفتاری کی درخواست بھی کردی۔ ایک تو بگو تھا ہی ڈی ایس پی کا ڈرائیور، اوپر سے جائے وقوعہ بھی اسی کا گھر، ایف آئی آر فوراً درج کر کے پولیس پارٹی بلے کو گرفتار کرنے روانہ ہو گئی۔
ادھر بلے کی چیخ و پکار سن کر محلے کے لوگوں نے دونوں باپ بیٹے کو ہسپتال پہنچایا تو ڈاکٹروں نے ماجھو کے مرنے کی تصدیق کر دی۔ ڈاکٹر حضرات ابھی بلے کی ٹانگوں کا معائنہ ہی کر رہے تھے کہ پولیس وہاں پہنچ گئی اور بلے کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی گرفتاری کے دوران میں اس کی ٹانگوں کا آپریشن ہوا، اس کی کمر پر بھی ٹانکے لگے اور اس کے باقی زخموں کی مرہم پٹی کی گئی۔
ماجھو کی لاش اس کے گھر پہنچی تو وہاں کہرام مچ گیا۔ رانی اور نجمہ اپنی ماں کو گالیاں دینے لگیں کہ یہ سب کچھ اس کی جہالت کی وجہ سے ہوا ہے۔ حالات کی حقیقت جان کر رشیدہ بھی رانی اور نجمہ کی ہم نوا بن گئی۔ بلا جو کچھ بھی تھا مگر اس کا خاوند تھا اور اب پٹیوں میں لپٹا، ہتھکڑیوں میں جکڑا ہسپتال میں پڑا تھا۔ پولیس اس پر پہرا دے رہی تھی۔ محلے والوں نے مل جل کر ماجھو کے کفن دفن کا بندوبست کیا۔ گاؤں سے ماجھو کے رشتہ دار تیسرے دن پہنچے۔
اسی دن بگو بھی وہاں آ گیا۔ اس نے ماجھو کے رشتہ داروں کو ساری کہانی اپنے انداز سے سنائی۔ پھر اس نے انہیں پیش کش کی کہ اگر وہ سب صلح پر راضی ہوں تو وہ بلے کے خلاف ڈاکے کا الزام واپس لے سکتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اس جھگڑے میں پڑنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ وہ بگو کی طاقت سے بھی واقف تھے، فوراً راضی ہو گئے۔ بگو نے ڈاکے کا الزام واپس لے لیا تو بلے کی ضمانت بھی ہو گئی۔
آٹھ دس دن تک مسلسل رونے دھونے کے بعد رانی اور نجمہ بالآخر خاموش ہو گئیں۔ رشیدہ نے بھی پہلے کئی دن ان کا ساتھ دیا تھا۔ البتہ مائی نے تو جیسے چپ ہی سادھ لی تھی۔ وہ دن رات آنسو بہاتی رہتی مگر منہ سے کچھ نہ کہتی۔ بیٹیاں اسے کہہ سن کر کھانا کھلا دیتیں تو کھا لیتی ورنہ خاموش بیٹھی اشک بار آنکھوں سے خلا میں گھورتی رہتی۔ ماجھو نے اسے ساری زندگی کوئی سکھ نہیں دیا تھا مگر پھر بھی وہ اس کی جدائی میں مری جا رہی تھی۔ دو ہفتے ہسپتال میں رہنے کے بعد بلا بھی گھر واپس آ گیا۔ لیکن ابھی اس کی ٹانگوں پر پلستر چڑھا ہوا تھا۔ وہ بڑی ہمت کر کے اور دیواروں کا سہارا لے کر بس واش روم تک ہی جا سکتا تھا۔ رشیدہ اس پر بھی خدا کی شکرگزار تھی کیونکہ اگر وہ یہ بھی نہ کر سکتا تو پھر وہ کیا کرتی؟
رانی اور نجمہ دن رات اپنی کڑھائی اور کشیدہ کاری میں مصروف رہتیں۔ مگر اب انہیں ہر روز یامین سٹور کا ایک چکر بھی لگانا پڑتا تھا۔ شنید تھی کہ وہاں ان کی بگو سے بھی ملاقات ہوتی تھی۔ رشیدہ کے جو تھوڑے بہت زیورات تھے وہ تو بلے کے علاج پرہی بک چکے تھے۔ گھر کے اخراجات اب رانی اور نجمہ نے اٹھائے ہوئے تھے۔ گھر کا سب کام تو پہلے بھی رشیدہ کے ہی ذمہ تھا اور اب بھی صبح سے شام تک وہ اسی میں جٹی رہتی۔ الٹا بلے کی دیکھ بھال کی جوابدہی بھی اب اسی پر آن پڑی تھی۔ لیکن ایک اچھی تبدیلی بھی آئی تھی کہ دونوں نندوں کا رویہ بڑی حد تک ہمدردانہ ہو گیا تھا۔

