گناہ کر شیطان پر ڈال، نیکی کر سوشل میڈیا پر ڈال
12 جنوری 2022 کی بات ہے، کراچی کی مشہور شاہراہ، شاہراہ فیصل پر واقع تحریر فروش ایجنسی میں ایک الفاظ فروش کی خالی جگہ پر کرنے کے لیے مجھے بلایا گیا تھا۔ انٹرویو کے بعد ایک دوست کو ناشتے کے لیے کال ملائی۔ ناشتہ میری طرف سے تھا۔ اس دوست سے یارانہ ایسا ہے جیسے کسی زمانے میں عمران خان اور جہانگیر ترین کا تھا۔ بڑے عرصے سے وہ ترین و علیم ایک ساتھ بنا ہوا تھا، اب میری باری تھی عمران بن کر احسان اتارنے کی۔ لیکن جب جیب سنبھالی تو کورونا کارڈ کے علاوہ اس میں کچھ نہیں پایا۔ مجھے لگا کہ راہ چلتے کسی شریف زادے نے ہاتھ صاف کر لیے۔ لیکن میں غلط تھا، گھر فون کر نے پر پتہ چلا کہ میں تو سب چیزیں وہیں بھول آیا ہوں۔
اب حل یہی تھا کہ موبائل والٹ کو استعمال کیا جائے۔ دکاندار کے پاس گیا، کچھ پیسے نکلوائے۔ کھانے کے بعد محسوس ہوا کہ پیسے کچھ زیادہ نکلوا لیے ہیں، سو، دوبارہ دکان والے کے پاس گیا۔ اب کی بار موبائل والٹ کے بجائے اسے پیسے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا کہا۔ اس جوان نے نمبر لکھ کر کہا کہ پانچ سے دس منٹ میں پیسے آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جائیں گے۔ بعد میں کام کی غرض سے آئی آئی چندریگر روڈ چلا گیا، دن بھر وہیں مصروف رہا۔
جب شام کو موبائل دیکھا تو، دکاندار کے نمبر سے میرے اکاؤنٹ میں 25 ہزار روپے زیادہ ٹرانسفر کیے گئے تھے۔ اور اس جوان نے مجھ سے کوئی رابطہ بھی نہیں کیا، کیوں کہ وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ وہ اپنے آپ کو 25 ہزار کا ٹیکہ لگوا چکا ہے۔ بہر حال شام کے وقت میں اس کے دکان پر گیا اور اس سے کہا کہ بھائی تم نے 25 کیوں بھیجے تم سے 50 ہزار بھیجنے کا کہا تھا۔
پہلے تو وہ پریشان ہوا، پریشانی کے عالم میں اس نے جیب سنبھالا، موبائل کھنگالا، اور پھر حیرت سے میری طرف دیکھ کر سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ بعد ازاں اسے پوری رام کہانی سنا کر اس پر احسان جتانے کے ساتھ اپنی عظمت کا رعب جمایا۔
دکان والے نے کہا کہ میں نے ایک عمر اس شہر میں گزاری ہے، یقین جانیں میں نے آج تک آپ جیسا صادق و امین نہیں دیکھا۔ پھر کہا کہ مرشد آپ بڑے خاندانی معلوم ہور رہے ہیں، اپنا دست مبارک آگے بڑھائیں میں بیعت ہونا چاہتا ہوں۔ دل تو بڑا کیا کہ اپنے شاہ جی کی طرح اس کا دیا نذرانہ اور بیعت قبول کی جائے، لیکن اس کا عثمان بزدار جیسا بھولا بھالا، نفع نقصان سے بے خبر چہرہ دیکھ کر اس پر رحم آ گیا۔
حالاں کہ پہلے ان پیسوں سے علیم و ترین جیسے دوست کو کھلا پلا نے کا سوچا تھا، اسے ایک دفعہ کھلا کر پورا سال اس سے کھانے کی اسکیم سوچ رکھی تھی۔
لیکن ضمیر صاحب نے میرے سب کیے دھرے پر پانی پھیر دیا۔ ضمیر جس کے بارے میں بچپن میں بتایا گیا تھا کہ وہ میرے اندر ہڈیوں سے بنے ایک پنجرے میں قید ہے۔ ظاہر و باطن کا مسکن ہڈیوں کے سانچے میں ڈھلا وجود جس کے مکین، دل، دماغ اور ضمیر صاحب آپس میں پڑوسی ہیں۔ لیکن کبھی ان کی جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی طرح آپس میں نہیں بنی۔
کبھی آنکھیں مشکلات پیدا کرتی ہیں، تو کبھی کان مسائل کھڑے کر دیتے ہیں، کبھی کبھی کبھار ایسی صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وجود کے تمام مکین مل کر ضمیر کو چھیڑتے ہیں، اور وہ اس کا بدلہ مجھ سے لیتا ہے۔
ضمیر بھائی کو لگتا ہے کہ میں (وجود) اس کے پڑوسیوں کی زیادہ سنتا ہوں اور ان کے ساتھ مل کر اسے کرپٹ بنانے کی کوشش کرر ہا ہوں۔ طعنہ زنی اس کا وتیرہ ہے۔ غصے میں وہ مجھے ضمیر فروش سیاستدانوں اور ایمان فروش بہروپیوں سے تشبیہ دیتا ہے۔ جب ضمیر کی سن لوں تو وہ میری شان میں نغمے گاتا ہے اور شعر لکھتا ہے۔
خیر یہ سب اس کے حربے ہیں۔ جیسے ہی اسے 25 ہزار کا پتہ چلا تو اس نے شور مچانا شروع کر دیا اور بار بار مجھ سے کہتا رہا کہ 25 ہزار ہڑپ کرنے سے پہلے یہ سوچ لے کہ یہ محض 25 ہزار نہیں، بلکہ کسی کے مہینے بھر کی کمائی اور چہرے پر خوشیاں بکھیرنے کا سبب ہیں۔ تمہیں کیا ملے گا کسی کو پریشان تڑپتا، بلکتا دیکھ کر؟
ضمیر کو اس کے پڑوسی، دل، دماغ (میں ) وجود اسے سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ، تمہیں ہمیشہ دوسروں کی فکر لاحق رہتی ہے۔ کبھی اس جسم کے بارے میں سوچا ہے جس نے تمہیں اپنے اندر سمویا ہوا ہے؟ ان 25 ہزار سے دوستوں کو کھلا پلا کر ان پر احسان بھی تو کیا جا سکتا تھا۔ مگر تم رہے مفتے کی لذت سے محروم ضمیر، تم سوچتے بھی کیسے، تمہارے لیے تو سوچنا بھی دماغ کو پڑتا ہے۔ شاید تم لکیر کے فقیر ضمیروں میں سے ہو جو ماضی کے طے کردہ اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جنہیں حال میں رہنے کے بجائے ان دیکھے مستقبل کی فکر لاحق رہتی ہے۔
غالباً تم وہی ضمیر ہو جسے بچپن میں بتایا گیا تھا کہ تمہاری عبادت ہی تمہاری غذا ہے، اسی سے تمہارا ان دیکھا چہرہ پر نور اور آنکھیں روشن ہوتی ہیں۔ دل اور دماغ بھائی نے تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے کہ تو میڈ ان پاکستان ہے۔ ہلکی پھلکی بے ایمانی، بدعنوانی، ایمان فروشی، سود اور منافع خوری تیرا پیدائشی حق ہے۔ لیکن تو ہے کہ ضدی اڑیل، جس کی وجہ سے مجھے ہمیشہ ”یو ٹرن“ لینا پڑتا ہے۔
کچھ باتیں، کچھ یادیں دل میں دفن کرنے کی ہوتی ہیں اور کچھ دنیا کو بتا نے کی ہوتی ہیں۔ اور اپنے پاس اسٹاک کی کمی نہیں۔ اور بھی ایسے کئی واقعات ہیں جنہیں یہاں لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا کریں اپنا ضمیر بھائی نہیں مانتا، وہ کہتا ہے کہ نیکی بتانے سے نیکی نہیں رہتی۔ اس بار اسے سمجھایا کہ بھئی یہ نیکی وہ نیکی نہیں کہ جسے چھپایا جائے، بلکہ یہ تو وہ ہے جسے سوشل میڈیا پر ڈال کر لوگوں کو بتایا جائے کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ اب صادق و امین ایک ساتھ ساشے پیک میں بھی دستیاب ہے۔


