یونیورسٹی سب کو راس نہیں آتی
مجھے بچپن سے یونیورسٹی میں ریگولر پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ گریجویشن کے بعد خراب گھریلو مالی حالات کی بدولت یونیورسٹی میں ریگولر پڑھنے کا شوق پورا نہ کر پائی۔ مزید مسئلہ یہ تھا کہ میرا تعلق چھوٹے شہر سے تھا جہاں یونیورسٹی موجود نہ تھی اور یونیورسٹی میں ریگولر پڑھنے کے لیے مجھے قریبی بڑے شہر میں جانا پڑتا تبھی یونیورسٹی جانا تب ممکن نہ ہو سکا۔ پرائیویٹ یکے بعد دیگرے کئی مضامین میں ماسٹرز کر لیے یہاں تک کہ دو ایم ایس سیز بھی کر لیں جن میں ایک ایم ایس سی میں مابدولت اپنی فاصلاتی یونیورسٹی کی ٹاپر بھی رہیں مگر یونیورسٹی میں ریگولر پڑھنے کا شوق کبھی دل سے نہ گیا۔ دل میں کہیں نہ کہیں ہمیشہ یونیورسٹی نہ جا پانے کی کسک موجود رہی جو ہمیشہ کچوکے لگاتی رہتی۔
یونیورسٹی کے ماحول، پڑھائی کے معیار اور طرز زندگی پر میڈیا پر جو دکھایا جاتا وہ دیکھ کر اور لوگوں کی زبانی سن کر تو اپنی بدقسمتی پر مزید رونا آتا اور یہ خیال بار بار آتا کہ کاش ہم بھی دولت مند ماں باپ کے گھر پیدا ہوئے ہوتے یا کسی بڑے شہر کے باسی ہوتے تو ہم بھی یونیورسٹی میں ریگولر پڑھنے کا شرف حاصل کر لیتے مگر ہماری ایسی قسمت کہاں تھی۔
خیر قسمت کا کرنا ایسا ہوا کہ ہمیں اچانک ایک چھوٹی سی سرکاری نوکری مل گئی۔ جس سے سیونگ کر کے دو تین سال میں ہم نے کچھ پیسے جوڑ لیے۔ تب تک ہم تیس سال کا ہندسہ کراس کر چکے تھے، شادی کا دور دور تک چانس نہ تھا اور کچھ ہم اپنے تئیں سابقہ ڈرپوکی ختم کر کے بولڈ بھی ہو چکے تھے۔ تبھی ہم نے ادھر ادھر سے ایم فل کروانے والی یونیورسٹیز کی معلومات اکٹھی کرنا شروع کیں اور پھر اپنے شہر سے قریبی بڑے شہر کی ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں ویک اینڈ کلاسز میں ایم فل میں داخلہ لے لیا۔
بس پھر جب ہم نے یونیورسٹی جانا شروع کیا تب ہم پر یہ منکشف ہوا کہ یہ ہو بہو ویسی نہیں جیسا ہم نے سنا یا سمجھا تھا۔ یہاں تو ٹیچرز پسند نا پسند اور چاپلوسی کی بنا پر سٹوڈنٹس کو اہمیت اور نمبر دیتے ہیں۔ سٹوڈنٹس کا فیملی بیک گراؤنڈ بھی ان کو ٹیچرز کی نظر میں اہم یا غیر اہم بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میں ٹھہری سادہ پینڈو ٹائپ بندی تو اس دوڑ دھوپ میں میں تو نری نکمی ثابت ہوئی۔ ہاں میں یونیورسٹی ریگولر جاتی، چھٹی ایک نہ کرتی، کلاس میں اپنے تئیں ایکٹو بھی بننے کی کوشش کرتی مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ خیر پہلا سمیسٹر خوش فہمیوں میں گزر گیا کہ نہیں یہاں بھی میرٹ پر نمبرز ملیں گے اور ہم نے پہلے سمیسٹر کے پیپر دے دیے۔
پہلے سمیسٹر کا رزلٹ آیا تو اپنے نمبرز دیگر سٹوڈنٹس کے مقابلے بہت کم دیکھ کر میرا تو دل ہی ٹوٹ گیا جب میرا سی جی پی اے بہت کم آیا۔ حالانکہ میں باقی کلاس فیلوز کے مقابلے میں ریگولر اور کلاس میں ایکٹو تھی اور میرے پیپر بھی اچھے ہوئے تھے مگر اتنے برے سی جی پی اے پر مجھے سخت شرمندگی ہوئی اور احساس ہوا کہ پہلے میں یونیورسٹی میں ریگولر نہ پڑھ سکنے کو جو اپنی بدقسمتی سمجھ رہی تھی دراصل وہی میری خوش قسمتی تھی پر میں یہ بات پہلے نہ سمجھ سکی۔ افسوس۔
بہرحال میں اتنی گئی گزری تو نہ تھی کہ کلاس کے نالائق ترین سٹوڈنٹس جو کلاس میں اپنی شکل بھی پیپر والے دن دکھائیں، جو اسائنمنٹس اور پریڈنٹیشن تک نہ دیں ان کے برابر یا ان سے کم نمبر لے لوں۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ مجھے یونیورسٹی راس نہیں آئی نہ مجھے ادھر ریگولر پڑھ کر انصاف سے نمبر ملے۔
اس واقعے نے مجھے یونیورسٹی سے سخت بد ظن کر دیا ہے بلکہ مجھے تو یونیورسٹی کے نام سے ہی نفرت ہو گئی ہے لہذا میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اب یا تو پہلے سمیسٹر کے بعد یونیورسٹی چھوڑ دوں گی یا جیسے تیسے کر کے اگر موقع ملا اور اگر ممکن ہوا تو بس صرف فیسیں جمع کروا کر بس پیپر دے کر ڈگری لینے کی کوشش کروں گی لیکن یہ ضرور کہوں گی کہ یونیورسٹیز میں ہر مضمون کے ٹیچر کے پاس جو تیس نمبر ہوتے ہیں جن کو وہ اپنی پسند نا پسند کے مطابق سٹوڈنٹس کو دیتا ہے یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے اور یونیورسٹی انتظامیہ کو پیپرز کی ری چیکنگ بھی کرنی چاہیے تاکہ پسند نا پسند کی بنیاد پر کم یا زیادہ مارکنگ کی روک تھام کی جا سکے تاکہ سٹوڈنٹس کسی ٹیچر کی پسند یا نا پسند کی بھینٹ نہ چڑھ سکیں اور میری طرح یونیورسٹی سے بدظن ہو کر یہ نہ کہہ سکیں کہ مجھے تو یونیورسٹی راس ہی نہ آئی یا یونیورسٹی مجھے تم سے نفرت ہے۔
اللہ تعالی سب کو اچھے، غیر جانبدار اور خوف خدا رکھنے والے اساتذہ عطا کرے۔ آمین۔

