غلط معلومات اور افواہوں کی وجہ سے خواتین کی ہراسانی کے واقعات میں اضافہ
پاکستان میں آج بھی خواتین جعلی اور غلط معلومات کی وجہ سے ہراسانی کا شکار ہیں، اس ضمن میں ہراسانی کے خلاف بنائے گئے قوانین اور اس کی روک تھام کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کے باوجود ہراسانی کے واقعات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایسے تمام واقعات کی روک تھام کے لئے سائبر کرائم کے مقدمات کے اندراج اور تفتیش کے لئے ایف آئی اے میں سائبر ونگ تشکیل دیا جا چکا ہے لیکن یہ تمام اقدامات بھی خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات میں کمی نہیں لا سکے۔
تاہم پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے ایک بڑے شہر ملتان میں ایف آئی اے کے سائبر ونگ میں جرم کی تفتیش اور خواتین کی معاونت کے لئے تاحال کوئی خاتون اہلکار تعینات نہیں کی جا سکی ہے جبکہ مرد افسران اور اہلکاروں کا اس برانچ پر غلبہ ہونے، صنفی طور پر ہراساں کیے جانے کی باریکیوں کو نا سمجھنے اور اس ضمن میں خاص ٹریننگ نا ہونے کی وجہ سے من مانے طریقوں سے تفتیش کرتے ہیں اور عدالت میں چالان پیش کرنے میں معین کردہ وقت سے تجاوز کر جاتے ہیں جس سے دوران کیس کئی ثبوت اور گواہان کے ضائع ہونے کا احتمال بھی رہتا ہے۔ جبکہ پاکستانی عدالتی سسٹم کی طوالت ؎بھی قانون پر سختی سے عملدرآمد ہونے میں رکاوٹ حائل کیے دیتی ہے۔
اس ضمن میں ملتان کی ایک قانون دان کو بھی آن لائن ہراسمنٹ کا سامنا ہے انھوں نے بتایا کہ سب سے پہلے انہیں ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مختلف پیغامات اور فرینڈ شپ ریکویسٹس موصول ہونا شروع ہوئیں جس سے انہیں ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا پھر کسی نامعلوم فرد کی جانب سے ان کے نام کا جعلی فیس بک اکاؤنٹ بنا کر انہیں بدنام کرنے کوشش کی گئی جس پر انھوں نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ سے رجوع کیا تاہم ایف آئی اے میں سائبر کرائم اور صنفی حوالوں سے افسران و اہلکاروں کی خاص تربیت نا ہونے کے باعث ایسے مقدمات میں پہلے ہی خواتین کو کئی مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے جو ان کی پریشانیوں کو کم کرنے کی بجائے زیادہ کرتی ہیں۔
خاتون قانون دان نے مزید بتا کہ ان کا فیس بک کا بوگس اکاؤنٹ چند ماہ پہلے سامنے آیا تھا جب مختلف حلقوں سے انہیں فیس بک پر غیر اخلاقی کمنٹس کرنے اور ناپسندیدہ حلقوں میں فرینڈ شپ لسٹ میں ہونے کا معلوم ہوا جس پر تصدیق کرنے پر انھیں اپنے نام کے جعلی اکاؤنٹ ہونے کا علم ہوا اس پر انھوں نے سب سے پہلے اپنے اکاؤنٹ پر اس اکاؤنٹ سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور ایف آئی اے کے سائبر ونگ سے رجوع کیا تاہم دوران تفتیش متعدد ایسے سوالات کا سامنا کرنا پڑا کے دوبارہ اپنے شوہر کے ساتھ بھی اس ونگ کے پاس جانے کی ہمت نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب عدالت کے ذریعے مقدمہ درج کروانے اور تفتیش مکمل کروانے کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ خاتون قانون دان کا کہنا تھا اگر یہ سب کچھ میرے ساتھ ہو رہا ہے تو ایک عام خاتون کے ساتھ کیا کیا کچھ ہوتا ہو گا کیا ایک عام پاکستانی خاتون سائبر کرائم ونگ سے انصاف پا سکے گی۔
پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیموں کی جانب سے جاری جدوجہد، عالمی دباؤ اور خواتین کو انٹر نیٹ پر ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ بلیک میل کرنے کے متعدد واقعات کے بعد خواتین کے عزت اور جان گنوانے کی واقعات منظرنامے پر ابھرنے کے بعد 2016 میں حکومت نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا ایکٹ پیکا منظور کیا جس میں آن لائن انتہا پسندانہ مواد کو محدود کرنے نفرت انگیز تقاریر اور انٹر نیٹ پر خواتین کو ہراساں کرنے کی روک تھام کے حوالے سے قانون سازی کی گئی اور یہ دعوی بھی کیا گیا کہ اب پاکستان میں خواتین کے لیے انٹرنیٹ زیادہ محفوظ بنا دیا گیا ہے۔
تاہم حقیقت میں ایسا نہیں ہے کیونکہ ہراسانی کا شکار خواتین کو آن لائن شکایت درج کرانے کے باوجود ایف آئی اے کا عملہ اپنے دفتر طلب کرتا ہے۔ تحریری شکایت بھی دوبارہ جمع کروانے کا کہتا ہے جبکہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے والد بھائی یا شوہر کا شناختی کارڈ فون نمبر اور اپنے خلاف استعمال شدہ مواد کی سکرین شارٹس کی تصاویر نازیبا ویڈیوز بھی جمع کروانے کا حکم صادر کرتا ہے۔ جس پر متاثرہ خاتون اپنے کیس کو یا تو واپس لے لیتی ہے اور اس کیس کی پیروی ہی نہیں کرتی۔
اس ضمن میں جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں پولیس کی جانب سے خواتین کے خلاف جرائم کے لیے بنائے گئے ڈیسک کی خاتون انچارج سب انسپکٹر کی جانب سے خواتین کے خلاف بلیک میلنگ اور جنسی زیادتیوں کی ویڈیوز کو اپنے مرد دوست کو دیے جانے کا مقدمہ بھی سامنے آ چکا ہے تاہم یہ بات ثابت ہو جانے کے بعد اس خاتون انسپکٹر کو ملازمت سے فارغ کیا جا چکا ہے۔
انسداد تشدد مرکز برائے خواتین میں لیگل ہیلپ ڈیسک کی انچارج معظمہ حسنین نے کہا ہے کہ ہمارے ہاں مردوں کی جانب سے خواتین کو ہراساں کرنے اور بلیک کرنے کے واقعات تواتر سے سامنے آ رہے ہیں جبکہ ان کے پاس تو سابق شوہروں کی جانب سے رشتہ ختم ہونے پر ازدواجی زندگی کے دوران بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرنے اور فیملی عدالتوں سے مقدمات واپس لینے یا بچوں کی حوالگی کرنے کے مطالبات کیے گئے اور مطالبات تسلیم نہیں کرنے پر مذکورہ تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی گئیں۔ ان مقدمات کی تفتیش اور قانونی موشگافیوں اور معاشرتی دباؤ کے باعث ملتان ریجن میں یہ مقدمات عدالتوں میں بھی نہیں چل پائے اور کچھ کو تفتیش کی سطح پر ہی واپس لے لیا گیا۔ یقیناً یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کے مطابق ان کی سائبر ہراسمنٹ ہیلپ لائن پر جنوری 2021 ء سے اکتوبر 2021 ء تک مختلف اقسام کی سائبر ہراسمنٹ کی 3837 شکایات موصول ہوئیں۔ ان شکایت کنندہ میں 2713 خواتین، 1148 مرد اور 11 ٹرانس جینڈر افراد شامل ہیں۔ ایف آئی اے کے پاس آن لائن ہراسمنٹ ختم کرنے کے لیے مطلوبہ وسائل بھی موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے اس قانون کو 6 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک آن لائن ہراسمنٹ کے خلاف سزاؤں میں تیزی نہیں لائی جا سکی ہے۔
ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ ملتان ریجن کے مطابق گزشتہ سال آن لائن ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کی 1280 شکایات درج کرائی گئیں تھیں جن میں سے 460 شکایات کے خلاف ثبوت موجود نہیں تھے یا درخواست گزاروں نے اپنی شکایات واپس لے لیں جبکہ 180 شکایات کے چالان مکمل کرنے کے بعد عدالتوں میں بھیجے جا چکے ہیں جبکہ 640 شکایات تحقیق و تفتیش کے مختلف مراحل میں ہیں ان میں 590 شکایات فیس بک ہراسمنٹ اور بوھس اکاؤنٹس کی صورت میں ہیں 120 وٹس اپ پر ہراساں کرنے 430 برہنہ تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے یا دھمکیاں دینے پر ہیں۔
سماجی تنظیم کی سربراہ طاہرہ نجم نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آن لائن ہراسمنٹ کی پاکستان میں صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ آن لائن کاروبار کرنے والی خواتین صرف اس وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں کہ انھیں بار بار تنگ کیا جاتا ہے جبکہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال میں اگر کوئی خاتون اپنے مرد کے ساتھ کام کرنا چاہے تو اسے آن لائن بنیادی تحفظ کا احساس رہنا چاہیے تاہم آن لائن ہراسمنٹ اور ہماری گھٹن زدہ روایات اور عورت کے خلاف نظریات کے باعث بہت سی خواتین اپنے کاروبار کو جاری نہیں رکھ پاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سائبر کرائم کے افسران کو جوابدہ بنانے کے لئے اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

