آسیب زدہ سیڑھیاں


اسکی عادت دن بھر خوب سونے، شام میں جی بھر کھیلنے اور رات میں دوبارہ سے سیر ہو کر سونے کی تھی مگر اس روز اسے کچھ تھکاوٹ تھی، شاید پانچ گھنٹے کا طویل سفر طے کیا تھا۔ گھر کا احساس کتنا ہی دلکش ہوتا تھا، جس کی راحت کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ انسان جتنا تھکا ہارا ٹوٹا پھوٹا ہوا ہو، گھر کے آنگن کے نرم بستر اور گرم لحاف میں سر دبا کر سونے کا سکون کہیں اور میسر نہیں آ سکتا۔ اس کا گھر بھی اس کے لئے اتنا ہی آرام دہ تھا جیسے چڑیا کے نحیف اور گرم پروں میں ننھے ننھے بچے سموئے بیٹھے ہوں۔ چڑیا کا گھونسلا اس کا محل ہوتا ہے چاہے کسی جھونپڑی کے تنکوں سے ہی کیوں نہ بنا ہو۔ یہ محل اور جھونپڑی بھی انسان کی حرص کی تخلیقات ہیں، ورنہ گھر تو تحفظ اور سکوں کا نام ہے، جو کسی غار میں بھی میسر آ سکتا تھا۔

چونکہ چھٹیاں ختم ہو چکی تھیں سو اب وہی پرانے دستور کے مطابق کام کاج اور زندگی کے امور پلٹ آئے تھے۔ اس روز جب وہ چھٹیاں گزار کر گھر آئی تھی، اس کو وقت کے بیت جانے کا احساس نہ ہوا، کیسے دن نے رات میں ڈبکی لگائی اور تاروں کی دور آسماں پر روشنیاں دمکتی دکھائی بھی دینا شروع ہو گئیں۔ اس کو ٹھیک سے یاد تو نہیں مگر ہاں باہر رات ہو چکی تھی اور شام کو غروب ہوئے زیادہ وقت بھی نہیں ہوا تھا۔ شام ڈھلے ہی سب کھانا کھا چکے تھے جبھی حسب معمول انہوں نے باہر چہل قدمی کا ارادہ باندھا۔

وہ جہاں رہتی تھی وہاں گھر ایک خاص نظم سے تعمیر ہوئے تھے۔ گھروں کی عمارتوں کے ساتھ دیو قامت سیڑھیاں ہوا کرتی تھیں جن کے اندر بہت جگہ خالی رہتی، یہاں تک کہ مکانوں کے رہائشی موٹر کاریں تک کھڑی کر سکتے تھے۔ ہاں وہاں بتی کا کوئی انتظام نہ ہوتا، کوئی ہی سخی وہاں اپنی آسانی کے لئے ایک آدھ بتی لگواتا تھا۔ سو عام طور پر زینوں میں بے حد اندھیرا رہتا جبکہ گھروں کے سامنے زرد رنگ کی روشنیاں رات کے اندھیرے میں ہمسفری کرنے کو جلتی رہتی تھیں۔

اس شام بھی اس کے گھر کے ساتھ زینوں اور ان کے روبرو گھپ اندھیرا تھا۔ جب گھر کے تمام افراد چہل قدمی کو نکل چکے تھے، اس نے بھی مجبوراً ارادہ کیا ورنہ اس کا باغ جانے کو ذرا دل نہیں تھا اسی لئے وہ سب سے آخر میں نکلی اور کافی پیچھے رہ گئی تھی۔ کھیل کود کی دل دادہ چھلانگیں لگاتی سیڑھیوں کے پاس سے تیزی سے گزری، وہاں بارے مشہور تھا کہ وہاں کوئی بسیرا ہے جبھی رات کے اندھیرے میں لوگ گزرنے سے اجتناب کرتے تھے۔

اسی شب ان سیڑھیوں کے اندر سے اس کو کسی نے آواز دی۔ وہ ابھی وہاں سے گزری ہی تھی کہ اس آواز نے اس کی سماعتوں کا تعاقب کر لیا۔ اس کے قدم کچھ جھجک گئے اور بجلی کی سی رفتار سے اس نے آگے بڑھنا چاہا مگر کسی نے اس کو بازو سے پکڑ لیا۔ ’ادھر کو آؤ ذرا‘ ۔ کسی بھاری اور جانی پہچانی آواز نے اس کو روک دیا۔

جی؟ اس نے جواب دیا۔

مجھے تم سے ایک کام ہے، ادھر آؤ۔ اس نے بازو چھڑواتے ہوئے انکار کیا کہ ابھی اسے جانا تھا۔ اس شخص نے غصے سے کہا ”بڑا ہوں تمہارا، میری بات نہیں مانو گی؟“

وہ ڈر گئی اور اس نے وہاں سے بھاگنا چاہا۔ کیونکہ احترام تو وہ بڑے بڑوں کا نہ کرتی تھی مگر کسی تکلیف سے لیس بے چینی اور ناگواری نے اس کو گھیر لیا تھا۔

خطرہ بھانپ چکی تھی مگر کیسا خطرہ؟ اس کے دماغ نے چند لمحات میں موقع کی سنگینی کو بھانپ لیا، مگر اس بات سے عاری تھی کہ ہو کیا سکتا تھا، بس وہ بے حد بے چین ضرور ہو گئی تھی۔

وہ اس ناگواری کے احساس کو ناپ ہی رہی تھی کہ اس شخص نے اس کو اندھیرے میں ان سیڑھیوں کے اندر کھینچ کر دبوچ لیا۔

” چھوڑو مجھے، مجھے بھائی کے پاس جانا ہے، وہ آرہے ہیں“ ۔

مگر اس شخص نے تو جیسے اس لڑکی کے جھوٹ کو اہمیت ہی نہ دی۔ ”میں بڑا ہوں، تمہیں شرم نہیں آتی، ایسے بات کرتے ہیں بڑوں سے؟“ اب وہ اس کے بھاری ہاتھوں کے شکنجے میں پھنس گئی جیسے کانٹے میں مچھلی یا مچھلی کا منہ۔ اس کی تمام تر قوت اور چستی اس آدمی کی طاقت کے آگے کسی قابل نہیں تھی، نہ ہی رہی۔ طاقت کا جس قدر بھی استعمال وہ کر سکتی بے معنی تھا، اس کی سکت معدوم ہو چکی تھی۔

’چھوڑو مجھے‘ ۔
یہ کہتے ہوئے اس کا جسم کانپ رہا تھا۔ ”پلیز! چھوڑ دو ، تمھیں اللہ کا واسطہ ہے۔“

کمزور کو جس ذات پہ بھروسا ہوتا ہے اسی کا واسطہ ظالموں کو دیتا ہے۔ سو اس نے بھی دے کر آزما لیا کہ جو خدا اس کا تھا، شاید سامنے والے کا بھی ہوتا۔ مگر اس کی امیدوں کے برعکس ہوا جو ہوا۔ ظلم کرتے وقت ظالم کو خدا وہ خود ہی ہوتا ہے۔ بس اسکو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ایسا کیوں ہو رہا تھا۔

”دیکھو لڑکی! چپ رہو“ ۔ یہ کہہ کر اس کے کندھوں کو زور سے دبوچ لیا گیا۔ اس کو اس عمل سے بہت تکلیف محسوس ہوئی جیسے کسی ڈبے میں قید کر دی گئی ہو۔ ایک ہی لمحے میں اس شخص نے لڑکی کے گالوں کو اپنے بد صورت منہ میں بھینچ لیا، زینوں میں قبر کا سا اندھیرا تھا اور وہاں اس کی قبر تھی۔

اس نے ہاتھ سے حرکت کرنے کی کوشش کی تو سامنے والے نے اس کے ہاتھ پکڑ لئے، جن سے وہ خود کو چھڑوا نہ پائی۔ اب اس کے گھن آلود اور پلپلے تھوک میں لپٹے ہونٹ لڑکی کے ہونٹوں میں دفن ہو رہے تھے۔ وہ بار بار اپنی پلیت زبان اس کے نچلے ہونٹ پر پھیرے جاتا اور آہ بھرتا۔ کبھی رخساروں کو زور سے اپنے سخت پپوٹوں سے دبوچ کر اندر کی جانب کھسکاتا کہ اس کی زباں باہر آجاتی، جس کو اپنی آلودہ زبان سے جوڑ دیتا۔

اس نے بہت آوازیں دینا چاہی مگر اس کے لب تو غلاظت میں غرق تھے، اس سارے ماجرے کو دس منٹ سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اس کا چہرہ کسی کھلے گٹر میں غرق تھا جس میں بو اور بدفعلی کا فضلہ اس پر لاد دیا گیا تھا۔

” کوئی دیکھ لے تو کیا کہو گی؟“

” تم کہو گی کہ ہم پیار کر رہے ہیں مگر کسی کو نہیں بتاؤ گی کہ میں نے تم سے ایسے پیار کیا ہے، ہمارا تو رشتہ بھی ایسا ہے، کوئی دیکھ بھی لے تو کیا۔ ہاں اگر بتایا تو میں کہوں گا کہ مجھے تم نے ہی کہا تھا، اچھا؟

ڈر کے مارے اس کی جان کب کی نکل چکی تھی، وہ تو بس اس گندگی اور پلیتی کے جوہڑ سے کسی مینڈک کی طرح باہر چھلانگ لگانا چاہتی تھی۔ ایک چھ سال کی لڑکی مرتی کیا نہ کرتی، جس کے لبوں اور رخساروں کی معصومیت ریاضی کے پہاڑوں کو حفظ کرنے سے پہلے ہی آلودہ کر دی گئی تھی۔

وہ سیڑھیاں واقعی آسیب زدہ تھیں، اس کو اب معلوم ہو رہا تھا کہ وہاں کی ظلمتوں میں کیسے آسیب بستے تھے۔ اردو کا سبق سمجھنے سے پہلے وہ یہ حقیقت جان چکی تھی کہ حقیقی شیطان کون اور بسیرے کیا ہوا کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS