انسان دوست ادیب اور صحافی: انور پیرزادو


( 7۔ جنوری ان کا یوم وفات اور 25۔ جنوری یوم ولادت ہے )

سائیں انور پیرزادو صاحب سے دوستی یا ان کی شاگردی کا دعویٰ نہ کرتے ہوئے ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمیں ان کے ساتھ اپنی زندگی کے کچھ لمحات پیشہ ورانہ طور ہی سہی گزارنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

1988 ع میں ہم کراچی کے دل لیاری اور لیاری کے دل چاکیواڑہ میں کمپیوٹر پر مطبوع پہلے سندھی اخبار عوامی آواز میں بطور پروف ریڈر کام کر رہے تھے، اور پروف ریڈنگ کے علاوہ اخبار میں بہ عنوان ”سٹن جا سٹکا‏“ (سطروں کے تازیانے ) خبروں پر یک سطری اپنی دانست ‏میں مزاحیہ طنزیہ تبصرے لکھا کرتے تھے۔ جن کے بارے میں کم ازکم ہمیں تو یہ خوش فہمی رہی کہ وہ سلسلہ اخبار کا مقبول سلسلہ ہی نہیں اخبار کی مقبولیت کا بھی ایک سبب تھا (واللہ اعلم بالصواب)

سہیل سانگی صاحب اس اخبار کے ایڈیٹر تھے۔ کہ انور پیرزادو صاحب اخبار میں چیف ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ یہ حسن اتفاق ٹھہرا کے انور پیرزادو صاحب کا اصلی نام خالص سندھی ”پریل“ اور سہیل سانگی کا اصلی نام سینہل (سینھن۔ شیر کی تصغیر) تھا لیکن یہ دونوں حضرات اپنے قلمی ناموں سے مشہور ہوئے۔

پیرزادو صاحب سندھی ہی کے نہیں انگریزی کے بھی اچھے ادیب و صحافی تھے اور سندھی کے کم سخن لیکن اعلیٰ درجے کے شاعر بھی تھے۔ سندھ یونیورسٹی میں انگریزی کی لیکچرر شپ کے دوران میں پاکستان ائرفورس مین اپلائی کیا لیکن شومئی قسمت کہ ششماہی تربیت کی تکمیل کے بعد بطور پائلٹ پرواز کے بجائے سیاسی اسباب کی بنا پر ”جیل جاترا“ کرنی پڑ گئی۔ اور آزادی کے بعد بھی ان پر سرکاری ملازمت کے در وا نہ ہو سکے۔ لیکن یہ عمل ان کے لیے خوش آئند ثابت ہوا کیوں کہ جب فرشی خداوندان ایک در بند کرتے ہیں تو خدائے عرش کئی دروازے کھول دیتا ہے۔ اور وہ آسمان میں پرواز کرنے والوں کی بہ نسبت زمین پر دھرتی واسیوں سے زیادہ قریب ہو گئے۔

ان کو اگرچہ پوری سندھ سے ہی محبت رہی، اور وہ بھٹائی اور ان کی عالمگیریت کے بھی قائل رہے، لیکن دریائے سندھ اور موہن جو دڑو ان کی محبت کے خاص مراکز رہے۔ ہمیں یاد ہے کہ ایک بار ڈان میں ایک اشتہار میں جب موہن جو دڑو کو موئن جو دڑو لکھا گیا تو انہوں فون کر کے ان کو اس غلطی سے آگاہ کیا۔

وہ زمین پر رہتے آسمان پر بھی نظر رکھتے تھے اسی انہوں نے چاند سے مخاطب ہو شاہ عبداللطیف کو پیغام بھیجا کہ:

”اے چاند بھٹائی سے کہنا
جس رات میں تونے بیت کہے
وہ رات ابھی تک طاری ہے
سورج ہے جہاں، جاں سوز ہنوز
میرا سفر مصائب سے پر ہے
اور میں کسی پر اپنا درد عیاں نہیں کر سکتا ”

ایک بار جب وہ عوامی آواز اور سندھ سجاگ کے بعد ایک تیسرے اخبار میں ایڈیٹر تھے تو اس وقت ہم نے ان سے ملازمت کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ملازمت کی گنجائش نہیں۔ تاہم اسی ملاقات میں انہوں نے ایک بات بھی کہی جس سے پتہ چلا کہ وہ پروفیشن یا مشن کے بجائے محض کمائی یا اثر رسوخ اور فیشن کے طور پر اخبارات کے اجرا پر خوش نہیں تھے۔ انہی باتوں کے دوران انہوں نے بتایا کہ کسی زمانے میں امریکا میں چینی ریستوران بھی اسی طرح سے کھلتے اور بند ہوتے رہے جس طرح کے ہمارے ہاں اخبارات جاری اور بند ہو رہے ہیں۔ اور خود ترقی یا پسند کمیونسٹ ہونے کے باوجود شاید چینیوں ہی کے ذکر پر یہ بھی بتایا کہ مذہب یا عبادت انسانی نفسیات کے اجزا ہیں حتی کہ کمیونسٹ چینی بھی مایوسی کی حالت میں (شاید روحانی (جذباتی یا نفسیاتی) تسکین) سکون کے لیے ماؤزے تنگ کی سرخ کتاب پڑھنے لگتے تھے۔

اتنا ہی نہیں، انہی کی بدولت ایک پورا گاؤں جدت کی راہ پر گامزن ہو گیا:لاڑکانہ سے 30 کلومیٹر دور، موہن جو دڑو کے عقب میں دو ہزار نفوس کا بلھڑیجی آباد ہے جہاں کی شرح خواندگی پورے صوبے سے زیادہ ہے۔ اس گاؤں نے بہت سارے پی ایچ ڈیز، میڈیکل ڈاکٹرز اور مصنف پیدا کیے ہیں۔ 1960 کی دہائی میں جب موہن جو دڑو کی کھدائی کے لیے غیر ملکی محققین پاکستان آئے، اس وقت انور پیرزادو ان کے ساتھ کام میں شامل ہو گئے۔ بلھڑیجی کے بہت سے لوگ کھدائی میں شامل تھے مگر تعلیم یافتہ بھی اور مصوری سے بھی شغف رکھتے تھے، لہٰذا محققین نے اسے دریافت ہونے والی اشیاء کے سکیچ بنانے کے کام پر مامور کر دیا۔

غیر ملکی سکالرز کے ساتھ کام کر کے ان کو مزید تعلیم حاصل کرنے اور اپنے گاؤں میں تعلیم عام کرنے کا خیال آیا۔ 1971 میں وہ شعبہ تعلیم و صحافت سے منسلک ہو گئے۔ وہ ملک کے معروف انگریزی اخبار ڈان کے ساتھ منسلک رہے اور متعدد کتابیں بھی تصنیف کیں۔

انور پیرزادو نے اپنی زندگی میں جو کچھ بھی کیا، اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے گاؤں میں تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں رہے۔

انور پیرزادو کی کوششوں کی وجہ سے ان کے چھوٹے سے گاؤں سے 1980 کی دہائی میں ایک خاتون ڈاکٹر بن گئیں بعد ازاں لوگوں میں تعلیم کا اتنا شعور پیدا کر دیا کہ یہاں سے لاتعداد مصنف اور پی ایچ ڈی سکالرز نکلے۔

آج انور پیرزادو کو یہاں کے لوگ اپنا پیشوا مانتے ہیں۔

بلھڑیجی میں چار ہائی سکول اور چھ پرائمری سکول، ہیلتھ کیئر سینٹر، لائبریری، کمپیوٹر سینٹر اور میڈیکل لیبارٹری بھی ہے جو یہاں کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بیرون ملک مقیم افراد کے مالی تعاون سے قائم کی ہیں۔ اس گاؤں کے لوگوں کے کمیونسٹ نظریات کی وجہ سے اس کو ”لٹل ماسکو“ بھی کہا جاتا ہے۔ ”

انور پیرزادو صاحب سے آخری ملاقات ایک عرصے کے بعد شاید 2007 میں ہلال پاکستان کے دفتر سے گھر لوٹتے اتفاقا کوچ میں سوار ہوتے اور ان کے اترتے ہوئی تھی، عوامی آواز میں ہم کلین شیو تھے اور اب باریش، انہوں نے پہلی نظر میں ہمیں پہچانا نہیں۔ تعارف کرانے پر مسکرا کر کہا، ”اس جاگرافی میں بھلا کیسے پہچانتا؟“

پیرزادو صاحب کو جہاں سندھ، سندھی ثقافت اور زبان کی فکر تھی، وہیں ان کو پہلی کمپیوٹرائزڈ سندھی اخبار کی ترقی اور ترویج کا بھی خیال اتنا خیال تھا کہ کہ سکتے ہیں کہ اخبار کی لوح سے پرنٹ لائن تک پر نظر رکھتے تھے۔ اور تو اور ہم جیسے نوآموز کارکن کو جو اردو میڈیم تھا، کے یک سطری اخباری تبصروں کو بھی باقاعدہ دیکھتے اور اک ایک سطر پر تبصرہ و تنقید کرتے اور ضرورت سمجھتے تو اس میں کوئی چھوٹی موٹی تبدیلی بھی کرا یا کرتے۔ یہاں تک انہوں میرے کالم کا نام تبدیل کر کے سچل سرمست کے ایک مصرعے مرد تو سچ ہی کہتے ہیں کر دیا۔

یہ تبصرے اس قسم کے ہوتے تھے :
٭سانحوں پر سیاست کی جا رہی ہے (ایک سیاسی پارٹی کا بیان)
٭٭سیاست کو سانحہ بنا دیا گیا ہے!

وہ خود کو عقل کل سمجھنے والوں میں سے نہ تھے۔ کسی کی تحریر سے زیادہ چھیڑ چھاڑ نہیں کرتے تھے۔ کم ازکم ہمارے ساتھ تو ایسے نہیں کیا کہ ہمارا لب و لہجہ اور رخ و رجحان کو ہی تبدیل کر دیتے۔ البتہ ان کی معمولی سی توجہ اور تبدیلی بات کو کہیں زیادہ موثر اور موزوں بنا دیتی تھی۔ مثال کے طور پر ہم نے ایک بار کسی ”قبرستان کے زمین پر قبضے“ کے حوالے سے تبصرہ لکھا ”قبرستان کے آسپاس بھی“ مڑسن ” (سورماؤں۔ شوہروں ) کی بستی ہوگی۔ پیرزادو صاحب نے اس کو پڑھا مسکرائے اور“ مڑسن ”کو“ مردن (مردوں ) میں تبدیل کر دیا۔

اب اس ذومعنی جملہ کا مطلب کوئی مردوں (مرد کی جمع) کی بستی بھی نکال سکتا تھا اور مردوں (مردہ کی جمع) کی بستی بھی

جب وہ عوامی آواز کے بعد ایک اور سندھی اخبار سندھ سجاگ (بیداری سندھ) کی ایڈیٹر ہوئے تو ہم نے یونہی ایک مختصر مزاحیہ تحریر لکھ بھیجی۔ وہ تحریر ان کو اتنی بھائی مجھے فون کر کے کہا، ”۔ اب تمھیں ہر ہفتے اس قسم کی ایک تحریر لکھنی ہے۔“

”پر سائیں یہ تو بڑا مشکل ہو گا۔“ ہم ان کے اس طرح فون کرنے پر بہت خوش ہوئے لیکن اعتماد اور مستقل مزاجی کے فقدان کے باعث گھبرا کر کہا۔

لیکن انہوں محبت بھرا اصرار کیا، ان کی بات کا مفہوم یاد ہے کہ انہوں نے کوئی تیس بتیس برس قبل کہا تھا کہ ”بھئی لکھو، تم تو بالکل گھاگ لکھاریوں سا لکھتے ہو۔“ تو ہم نے کوشش کا وعدہ کر لیا اور تب سے ہم یک سطری تبصروں کے علاوہ بے قاعدہ قسم کے کالم اور مضامین باقاعدگی سے لکھ رہے ہیں۔