کیا دہشت کا کاروبار جاری رہے گا

پاکستانی سمجھ رہے تھے کہ پریشانیاں ختم ہو گئی ہیں، افغانستان میں حکومت کی تبدیلی سے یہاں بھی سکھ کا سانس لیا جائے گا۔ لیکن عشق کے امتحان ابھی باقی ہیں۔
حال ہی میں کچھ واقعات ایسے تواتر سے ہوئے ہیں جس سے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے تصور کو بری طرح متاثر کیا، پاکستانی تصور کو خراب کیا، پہلا یہ کہ پاکستان کے دورے پر آئی نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے میچ شروع ہونے سے چند منٹ پہلے ہی کھیلنے سے انکار کر دیا، کیوی انتظامیہ نے اسے سکیورٹی تھریٹ کا بہانہ بنا یا، ان کی دیکھا دیکھی میں انگلینڈ نے اپنا شیڈول دورہ ختم کر دیا، تیسرا واقعہ وہ ہے جو ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے، یہ پاک افغان بارڈر پر پیش آیا، پاکستان سے امدادی سامان کا ٹرک جوں ہی افغان حدود میں داخل ہوا تو وہاں موجود سکیورٹی کے افراد نے پاکستان کے پرچم کو اتا ر کر بے حرمتی کی، سبز ہلالی پرچم کو جلانے کی بات بھی کی جاتی رہی۔ اس کے بعد 72 گھنٹوں میں اسلام آباد، لاہور سمیت ملک کے مختلف حصوں میں دہشتگردی کے سات واقعات ہوئے۔
ادھر طالبان کا افغانستان سسک سسک کے جی رہا ہے۔ معیشت، بینکاری کاروبار ٹھپ پڑے ہیں۔ افغانستان شدید معاشی بحران کے ساتھ انسانی المیے سے بھی دو چار ہے۔ اس وقت 9 میں سے 8 خاندان بھوک کا شکار ہیں۔ 90 لاکھ افراد قحط کی صورتحال میں رہ رہے ہیں۔ اس سال کے آخر تک 10 لاکھ بچوں کے مرنے کا خدشہ ہے۔ بیماریاں، بیروزگاری دن دگنی رات چوگنی بڑھ گئیں۔ مٹھی بھر ممالک کے سوا دنیا لاتعلق ہے، خواتین تعلیم روزگار کاروبار سے دور گھروں میں مقید ہیں۔ افغانستان کی مشکلات میں جوں جوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ہمسایہ ممالک کے لئے بھی خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔
طالبان عالمی خواہشات پوری نہیں کرپائے۔ آؤٹ کم بہت بڑا اور بہت برا ہو گا۔ اگر لوگ مرنا شروع ہو گئے تو دنیا کے لئے آفت بن جائیں گے، امریکا اور اقوام متحدہ نے پیسے دینے کی بات تو کی ہے لیکن افغانستان کا بینکاری نظام تباہ ہو چکا ہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں جو پیسے بھیج رہی ہیں اس کو عالمی نظام قبول نہیں کر رہا۔ ایک لمبی مصیبت ہے، لوگوں تک امداد نہیں پہنچ پائے گی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ امریکا نے اپنی شکست کو تسلیم نہیں کیا۔ افغانوں کی مدد کے لئے جو بائیڈن نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ یورپ بھی تب تک قدم نہیں اٹھائے گا جب تک امریکا نہیں کہے گا، عرب دنیا بھی خاموش ہے۔ ادھر افغانستان میں دہشتگردی کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں، ان واقعات کی ذمہ داری داعش قبول کر رہی ہے۔ داعش کا یہ پھیلتا ہوا نیٹ ورک خطے اور دنیا کے لئے خطرہ ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان سے منسلک افغانستان کا صوبہ ننگر ہار ہے جہاں دہشتگرد کالعدم تنظم داعش نے دنیا بھر سے اپنے جنگجو جمع کرلئے ہیں۔ ان کو پاک افغان سرحد کے قریب چھپایا گیا تھا، اپریل 2017 میں امریکا نے ننگر ہار میں اپنا طاقتور غیر جوہری بم گرایا، جس کی ہر طبقے نے مذمت کی، اس بم کے گرائے جانے کے بعد داعش کے دہشتگرد موجود ہیں لیکن یہاں کے عوام بہت متاثر ہوئے۔ یہاں کی زمین ابھی تک بنجر ہے، طرح طرح کی بیماریاں ہیں۔
امریکا نے عام لوگوں پر بم گرایا۔ طالبان کے کنٹرول سنبھالنے سے پہلے افغانستان کی جیلوں میں 2000 داعش کے قیدی موجود تھے، یہ قیدی کہاں گئے کسی کو کچھ پتا نہیں۔ طالبان کو درپیش ایک اور بہت بڑا سکیورٹی چیلنج ان کی صفوں میں موجود مجاہدین ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق داعش خراسان کا موجودہ سربراہ سابق طالبان کمانڈر ہے۔ یہ مالی طور پر مستحکم اور طالبان کمانڈروں سے رابطے میں ہے۔ طالبان حکومت کی فی الحال افغانستان پر گرفت مضبوط ہے، اگر ان کی حکومت کو تسلیم کرنے میں دیر کی گئی تو دنیا کے لئے بڑا چیلنج ہو گا۔
ڈرون یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق مغرب اور افغان طالبان کی جنگ 2 لاکھ 42 ہزار سے زائد انسانوں کی زندگیاں نگل گئی، اس جنگ نے 71 ہزار 344 افغان شہریوں کی جانیں لیں، جن میں 7792 بچے، 3219 خواتین بھی ماری گئیں، 78 ہزار 314 افغان فوجی، پولیس اہلکار جنگ کا ایندھن بنے، اتحادی افواج کے 3586 فوجی ہلاک ہوئے، 2442 امریکی فوجی، 1144 نیٹو فورسز کے اہلکار شامل تھے، 90 ہزار امریکی فوجی زخمی ہوئے، 20 ہزار مستقل معذور ہو گئے، جنگ میں 84 ہزار 191 طالبان، قبائلی جنگجو اور متحارب فریق مارے گئے، 3936 امریکی کنٹریکٹرز، 549 سماجی کارکن اور 136 صحافی ہلاک ہوئے، حامد کرزئی، اشرف غنی دو، دو بار صدر رہے۔ کاسٹ آف وار کی ریسرچ کے مطابق 2 ہزار 226 ارب ڈالرز میں سے 933 ارب ڈالرز جنگ پر خرچ ہوئے، معذور فوجیوں اور میڈیکل پر 2050 تک 1293 ارب ڈالر خرچ ہوں گے، ادھار پر لڑی جانے والی جنگی اخراجات پر 600 ارب ڈالرز سود بھی ادا کرنا ہو گا۔
یہ سن سن کر ہمارے کان پک گئے تھے کہ ”ٹی ٹی پی کچھ نہیں۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے ہندوستان کر رہا ہے“ ۔ ہماری کمزوریوں سے کوئی دشمن فائدہ لے گا تو اس پر ہمارا رونا بنتا نہیں ہے، اب تو افغانستان سے ہندوستان چلا گیا، ریاست پاکستان برابری کی سطح پر مذاکرات کر رہی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کھلے عام جنگ کی، ثالث کون ہے؟ پنچایت کا چیئرمین ان کا ہے جن کی اپنی حکومت نہیں سنبھل رہی۔ ہم ان کی برتری تسلیم کر رہے ہیں۔ ان کی ڈیمانڈ ہے کہ قبائلی علاقوں کی حیثیت واپس کی جائے تاکہ وہ پھر سے قدم جما سکیں۔ صرف معیشت ہی نہیں ہماری مجموعی صورتحال خراب ہے۔ ابھی تک سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا دہشت کا کاروبار جاری رہے گا؟

