کیوں سے تو تک کا سفر
یہ بچپن کے دنوں کی بات ہے جب میں اور باقی لڑکے اسکول اور سارے دن کی لوازمات سے فارغ ہونے کے بعد شام میں کرکٹ کھیلنے کے لئے گراؤنڈ میں جاتے تھے راولپنڈی شہر میں مڈل کلاس بچوں کے کھیلنے کے لیے کوئی علیحدہ سے گراؤنڈ تو نہ تھا لہذا ہم نے اپنے محلے میں ہی ایک پلاٹ دیکھ رکھا تھا جو کافی وسیع تھا جہاں بہت سے لڑکے کھیلتے تھے اور ہم بھی وہاں پہنچ جاتے اور انہیں لڑکوں میں ایک پلاٹ کے مالک کا لڑکا ذیشان عرف شانی بھی تھا جسے کھیلنا تو نہیں آتا تھا لیکن پورے گراؤنڈ میں اس کا رعب چلتا تھا مجبوراً وہاں کھیلنے والے لڑکوں کو اسے کسی نہ کسی ٹیم میں کھلانا پڑتا اور اگر نہ کھلاتے تو وہ سیدھا دھمکیوں پر آ جاتا کہ میں دیکھتا ہوں مجھے کھلائے بغیر یہاں کون کھیلتا ہے اور کبھی وہ وکٹ کے درمیان بیٹھ جاتا اور کہتا کہ مجھے بال نہ لگے اور اسی کشمکش میں کے اسے کس ٹیم میں رکھنا ہے کبھی تو ہم کھیل لیتے اور کبھی مغرب کی اذان ہو جاتی اور ہم لوگوں کا سفر کھیل جو ساڑھے چار بجے اسٹارٹ ہوتا مغرب کی اذان کے ساتھ اختتام پذیر ہو جاتا۔
خیر یہ تو تھی ہمارے بچپن کی کہانی اب ذرا پاکستان کے سیاسی سفر نامے کی بات کرتے ہیں جہاں 74 سالوں سے جمہوریت کے کھیل میں کوئی نہ کوئی شانی ضرور موجود رہا ہے جس نے کسی نہ کسی طریقے سے ہمیشہ جمہوریت کو ڈی ریل ہی کیا۔ اگر ان کے متعلق تفصیل سے بات کریں تو ایک پوری کتاب لکھی جائے۔ لہذا ہم ایک لمبی ڈکٹیٹر شپ کے بعد دوسرے جمہوری دور کی بات کرتے ہیں جو پانچ جون 2013 کو شروع ہوا۔ یہ میاں صاحب کا تیسرا دور حکومت تھا۔
اس سے پہلے ایک جمہوری دور مکمل ہو چکا تھا لیکن مسائل جوں کہ توں تھے جیسا کہ بجلی کے مسائل اور دہشت گردی یہ دو اہم مسائل تھے خیر حکومت نے اپنا کام شروع کیا اور مختلف سیکٹرز پر اپنا سو فیصد دیا۔ لیکن اس حکومت کے شروع ہوتے ہی ایک سال بعد خان صاحب حکومت کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لئے 126 دن کا دھرنا لے کر اسلام آباد پہنچ گئے۔ بالکل ہمارے بچپن کے شانی کی طرح جو کھیل کے دوران درمیان میں بیٹھ جاتا کہ مجھے بھی کھلایا جائے نہی تو کوئی بھی نہ کھیلے خان صاحب بھی بالکل اسی طرح پاکستان کے دارالحکومت میں آ کر بیٹھ گئے کبھی سول نافرمانی کی تحریک، کبھی حوالہ ہنڈی سے پیسے بھیجنا، کبھی ججز کو دھمکیاں اور کبھی امپائر کی انگلی اٹھنے کی دھمکی اب بچپن کا شانی تو اپنے والد کی وجہ سے یہ سب کر رہا تھا کہ پلاٹ ان کا تھا لیکن سوال یہ ہے کہ خان صاحب یہ سب کچھ کس کے کہنے پر کر رہے تھے کیونکہ پاکستان تو کسی کی جاگیر نہیں تھا خیر یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ خان صاحب کو وہاں لانے والی اسٹیبلشمنٹ ہی تھی بیشک یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں لیکن اس کے والی وارث تو یہی لوگ ہیں۔ غرض اس سب کے باوجود پاکستان میں بہت ساری پوزیٹو ڈویلپمنٹ ہوئی جیسا کہ سی پیک، لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ، دہشت گردی کا خاتمہ وغیرہ وغیرہ اور خان صاحب کو منہ کی کھانی پڑی۔
آرمی پبلک اسکول کے دکھ بھرے واقعے کے بعد خان صاحب کو اپنا بوریا بستر اسلام آباد سے گول کرنا پڑا اور خان صاحب کو لانے والے بھی اپنی سازشوں میں کامیاب نہ ہو سکے لیکن وہ لوگ چپ بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھے انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھیں کبھی پانامہ کا شور، کبھی ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کا شور، کبھی میٹرو بس میں کرپشن کا شور اور آخرکار 28 جولائی 2017 کو وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب ہو گئے اور میاں صاحب کا دور اختتام پذیر ہوا۔
اس کے بعد میاں صاحب نے اسلام آباد سے لاہور براستہ جی ٹی روڈ جانے کا فیصلہ کیا اور جگہ جگہ پر لوگوں کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے ایک ہی سوال رکھا کہ ”مجھے کیوں نکالا“ بظاہر یہ سوال لوگوں کے سامنے کیا جا رہا تھا لیکن اس کا مرکز کوئی اور ہی لوگ تھے خیر میاں صاحب کا یہ سوال کرنا بنتا بھی تھا کیوں کہ انہوں نے پاکستان کی ترقی کے لئے ہر ممکن کوشش کی تھی تو اس طرح مجھے کیوں نکالا کا سفر شروع ہوا۔
8 اگست 2018 کو مسلسل تیسری دفعہ جمہوری دور کا آغاز ہوا بظاہر تو یہ تیسرا جمہوری دور تھا لیکن عوام نے پہلے دن سے ہی محسوس کیا کہ اس حکومت کی دوڑ کسی اور ہاتھوں میں ہے۔ 2014 کے دھرنے سے لے کر 2018 میں اقتدار میں آنے تک خان صاحب نے چور چور کا چورن بیچ کر کافی پاپولیریٹی تو لے لی تھی لیکن ملک کی معیشت اور ہر سیکٹر کو ریورس گیئر لگ گیا اگر ہم یہ بات کریں کہ خان صاحب اپنی 22 سالہ جدوجہد میں بائیس ایسے لوگ نہیں تیار کر سکے جو ملک چلا سکیں تو غلط نہ ہو گا۔
کیوں کہ خان صاحب نے اقتدار میں آنے کے باوجود کام کرنے کی بجائے صرف چور چور اور احتساب کا نعرہ ہی لگایا اور ملک کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے اور وقت نے ایسی پلٹی کھائی کے جو سفر 2017 میں مجھے کیوں نکالا سے شروع ہوا وہ آج ”مجھے نکالا تو“ تک پہنچ چکا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ لیڈر مختلف ہے۔ آخر ایسی کیا وجہ ہوگی کہ خان صاحب کو اپنے ہر خطاب میں صفائیاں پیش کرنی پڑ رہی ہے کبھی وہ کہتے ہیں کہ میری حکومت کہیں نہیں جانے والی کبھی کہتے ہیں میں این آر او نہیں دوں گا کبھی کیا اور کبھی کیا۔
ان کی بوکھلاہٹ سے تو صاف لگتا ہے کہہ انھیں لانے والے ان سے بدظن ہو چکے ہیں۔ گزشتہ شب اتوار کو ”آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ“ میں بات کرتے ہوئے پرائم منسٹر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا اگر میں حکومت سے نکلا تو زیادہ خطرناک ہوں گا ابھی چپ بیٹھ کر تماشا دیکھ رہا ہوں سڑکوں پر نکلا تو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی اور یہ بھی کہا کہ امریکہ جاپان اور یورپ میں بھی مہنگائی بڑھی ہے اور یہ بھی کہا کہ اگر حالات اتنے برے تھے تو ملک دیوالیہ ہو جانا چاہیے تھا اب یہاں پر بہت سے سوال جنم لیتے ہیں کہ یا تو وزیراعظم کو غلط گائیڈ کیا جا رہا ہے یا پھر وزیراعظم کی آبزرویشن صفر ہے لگتا ہے انہیں ملک کا دیوالیہ پن دکھانے کے لئے سری لنکا کی طرح معاشی ایمرجنسی لگنی چاہیے ہے۔
دوسرا سوال یہ کہ کیا پاکستان کا ہم امریکہ کینیڈا اور جاپان سے موازنہ کر سکتے ہیں اگر ہاں تو پھر تو ٹھیک ہے اگر نہ تو پھر ان ممالک کی مہنگائی کی مثال دینا بھی سمجھ سے بالاتر ہے ان ممالک کی مثال دینے سے پہلے وہاں کے لوگوں کی فی کس آمدن کا بھی موازنہ یہاں کے لوگوں سے کر لیں اور تیسرا یہ کہ وزیراعظم کی یہ دھمکی میں حکومت سے نکلا تو اور زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا کس کے لئے تھی کیوں کہ اپوزیشن نے نہ تو کوئی دھرنا دیا اور نہ ہی ان کا مستقبل میں کوئی دھرنا دینے کا ارادہ نظر آ رہا ہے سوائے تاریخوں کے تو پھر پرائم منسٹر صاحب چپ چاپ کس کا تماشا دیکھ رہے ہیں اور کسے دھمکا رہے ہیں کہ میں باہر نکلا تو زیادہ خطرناک ہوں گا اب لگتا ہے یا تو پرائم منسٹر صاحب اسٹیبلشمنٹ کو آنکھیں دکھا رہے ہیں یا عدلیہ کو یا انہیں ڈر ہے کہ ان کی پارٹی کے اندر کوئی سازش ہو رہی ہے انہیں خبردار کر رہے ہیں کیوں کہ اپوزیشن کے متعلق تو یہ پچھلے آٹھ سالوں سے ایک ہی قسم کا رویہ رکھے ہوئے ہیں جو عوام دیکھ رہی ہے تو پھر یہ عوام کو کیا دکھانا چاہ رہے ہیں۔
پچھلے ایک سال میں خان صاحب کی باڈی لینگویج اور ان کے بیانات کو دیکھ کر یہ اندازہ تو بہت سے لوگ لگا چکے ہیں کہ پنڈی والے ان سے ناراض ہیں اور یہ کہ کچھ ہونے والا ہے لیکن کیا اور کس طرح۔ کیا خان صاحب کو لانے والوں کے پاس ان کا متبادل کوئی ہے جس سے متعلق خان صاحب تحفظات کا شکار ہیں اور اپنے ہر بیان میں ایک ہی بات کرتے ہیں اگر میں نکلا تو چپ نہی بیٹھوں گا۔ خیر تحفظات جو بھی ہو ”مجھے کیوں نکالا“ سے شروع ہونے والا سفر چہرہ بدلتے ہوئے بڑی کامیابی سے ”مجھے نکالا تو“ تک پہنچ چکا ہے اب یہ سفر اختتام پذیر کہاں ہوتا ہے یہ بھی آنے والے دنوں میں پتہ چل ہی جائے گا۔


