دہلی یا دلی: مغلوں سے انگریزوں تک، جس کا حسن ہی اس کا قاتل ٹھہرا


بھارت کے چار سفروں میں جو کچھ دیکھا، سمجھا، سنا اس کی ایک جھلک

دہلی ان شہروں میں سے ہے جس کے دو نام ہیں، دہلی اور دلی۔ انگلش میں لکھتے وقت اسے دہلی لکھا جاتا رہا ہے جبکہ پنجابی، ہندی، اردو میں اسے دلی لکھا جاتا رہا ہے۔ اب بھی عام بول چال میں لوگ اسے دلی ہی کہتے ہیں۔ اردو شاعری میں یہ بات بہت واضح ہے کہ اس شہر کو دلی ہی کہا جاتا رہا ہے۔ اب بھارت کی حکومت نے اسے باقاعدہ دہلی کے نام سے لکھنا شروع کیا ہے۔ دنیا کے نقشے پر اس شہر کو دہلی کے نام سے ہی لکھا جاتا ہے۔ اب بھارت میں شائع ہونے والے اردو اخبارات اور رسائل میں اسے دہلی ہی لکھا جاتا ہے۔

اس شہر کا نام دلی کیوں پڑا اس کے متعلق ہمیں تاریخ سے مختلف حوالے ملتے ہیں۔ ایک بات تو یہ پتا چلتی ہے کہ دلوں یا ڈھلوں نام کا ایک بادشاہ تھا، جس نے 50 قبل مسیح میں اس شہر کو آباد کیا اور اس کا نام اپنے نام پر رکھا۔ یاد رہے کہ جاٹ قوم کی ایک گوت، ڈھلوں مشرقی اور مغربی پنجاب میں اب بھی رہتی ہے۔ دوسری وجہ کچھ لوگ یہ بیان کرتے ہیں کہ دہلی اور پشاور کے درمیان موجود علاقہ کو پنجاب کہتے تھے اور پنجاب کے بعد جمنا کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔

دلی کو جمنا کے علاقہ کا دروازہ کہتے تھے۔ دروازے کا ایک دوسرا نام دہلیز بھی تھا۔ ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جس کی وجہ سے اس کا نام دلی پڑ گیا۔ کوئی حتمی بات کہنا ممکن نہیں ہے۔ بہرحال اب یہ دہلی ہے اور بھارت کا دارالحکومت ہے۔ کچھ لوگ اس شہر کے نئے بسائے جانے والے حصے کو نیو دہلی اور قدیم شہر کو اندرون دلی کہتے ہیں۔

اس بارے میں بخشی آر ایس کی کتاب Delhi Through Ages. Whispering Eye Bangdat ایک مفید کتاب ہے۔

The Chandni-Chouk, Delhi

ایک اندازے کے مطابق دہلی شہر کی تاریخ تقریباً ڈھائی ہزار سال پرانی ہے۔ ڈھائی ہزار سال کی تاریخ عجیب و غریب اور نہایت دلچسپ ہے۔ میں اس کی چند چیدہ چیدہ باتیں آپ کے سامنے رکھوں گا۔

یہاں مہاراجہ اشوکا کے دور کی باقیات بھی ملتی ہیں جو 300 قبل مسیح میں ہو گزرا ہے۔ اس کے بعد اس پر کئی اور حکمرانوں نے بھی حکومت کی۔ محمود غزنوی نے 1001ء میں پہلی مرتبہ ہندوستان پر حملہ کیا اور پشاور میں ہندو راجہ کو شکست دی اور اس کے بعد اس نے دلی کے علاقے فتح کیے۔ اس طرح سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ گیارہویں صدی کے آغاز میں پہلی مرتبہ مسلمان دلی آئے۔ اس بارے ایک تفصیل مضمون انسائکلوپیڈیا آف برٹانیکا میں موجود ہے۔

بارہویں صدی میں پرتھوی راج چوہان نے اس شہر کو فتح کیا۔ بارہویں صدی کے آخر تک اس علاقہ پر ہندوؤں کی حکومت تھی۔ محمد غوری نے پرتھوی راج کو شکست دی اور تیرہویں صدی کے آغاز میں دلی اور اس کے آس پاس کے علاقہ پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہو گئی جو انگریزوں کے آنے تک کسی نہ کسی حال میں موجود رہی۔

مسلمان ایک طویل عرصہ تک اس علاقہ پر حکمران رہے جن میں غزنوی، ایبک، مغل، امیر تیمور، احمد شاہ درانی اور نادر شاہ نمایاں نام ہیں۔ یاد رہے کہ مسلمان کبھی بھی ہندوستان میں اکثریت میں نہیں رہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ہندوستان کے مشرقی علاقوں یعنی موجودہ بنگلہ دیش اور مغربی علاقوں ( موجودہ پاکستان ) میں مسلمانوں کی اکثریت تھی لیکن مرکزی ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد دیگر قوموں کے مقابلہ میں واضح طور پر کم تھی۔

Delhi Street Scene – 1875

بھارت میں 2011ء میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں مسلمان آبادی کا پندرہ فیصد اور ہندوؤں کی تعداد اسی فیصد تھی تھے۔ جبکہ 1951ء میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق مسلمان آبادی کا دس فیصد اور ہندوؤں کی تعداد 84 فیصد تھی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی کی شرح میں اضافہ ہندوؤں سے زیادہ ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ 2021ء کی مردم شماری میں مسلمانوں کی شرح میں اضافہ کی امید کی جاتی ہے۔ اسد الدین اویسی کے مطابق اس وقت بھارت میں مسلمانوں کی تعداد پچیس کروڑ ہے جو کل آبادی یعنی ایک سو چالیس کروڑ کا اٹھارہ فیصد بنتے ہیں۔

دہلی اور انگریز

مغل حکومت کے آخری دور میں حکومتی معاملات میں انگریزوں کا عمل دخل خطر ناک حد تک بڑھ گیا تھا۔ 1803ء میں مراٹھوں کے ساتھ انگریزوں کی دوسری جنگ ہوئی جس میں انگریزوں نے مراٹھوں کو شکست دی۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے آہستہ آہستہ مغل حکمرانوں پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے دلی کا محاصرہ کیا اور بہادر شاہ ظفر کو ملک بدر کر کے دلی پر باقاعدہ قبضہ کر کے اسے پنجاب کا ایک ضلع بنا دیا۔

یاد رہے 1849ء میں انگریزوں نے سکھوں کے ساتھ چیلیانوالہ میں اپنی آخری لڑائی لڑی تھی جس میں انھوں نے سکھوں کو شکست دے کر پنجاب پر اپنا قبضہ مکمل کر لیا۔ اس وقت تک انگریز ہندوستان کے بیشتر حصے پر قبضہ کر چکے تھے۔ میرے خیال میں چیلیانوالہ کی لڑائی کے بعد انگریزوں کو کسی جگہ بھی کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ 1911ء تک انگریز سرکار کا مرکزی دفتر کلکتہ میں ہوتا تھا، بعد میں انگریزوں نے دلی کو اپنا دارالحکومت بنایا اور نئی دہلی کے نام سے ایک علاقہ آباد کیا۔ فروری 1931ء میں اس کا افتتاح کیا گیا اور اسے یونین آف انڈیا کا کیپٹل بنا دیا گیا۔ تقسیم ہند کے بعد بھارتی حکومت نے بھی نیو دہلی کو ہی اپنا کیپٹل بنایا۔ اب اس علاقے میں ایک نیو دہلی ہے اور ایک پرانی دلی ہے۔ دونوں کے درمیان چند کلو میٹر ہی کا فاصلہ ہے لیکن ان کی معاشی اور معاشرتی حالت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

دہلی کے اندر بے شمار تاریخی عمارات ہیں، اس شہر کی تاریخ بہت دلچسپ ہے، اگر آپ کو تاریخ سے دلچسپی ہے تو آپ دلی اور دہلی کی تاریخ ضرور پڑھیں۔

khoodsia baug musjeed delhi 1858

ایک دن جب شرما صاحب مجھے ہوٹل چھوڑنے جا رہے تھے تو جب ہم نئی دہلی کے پاس سے گزرے اس وقت ہماری ایک جانب بھارتی حکومت کے مرکزی دفاتر اور اسمبلی کی عمارت تھی۔ میں نے شرما صاحب سے پوچھا کہ جب آپ اندرون دلی کی تنگ گلیوں سے نکل کر اس وسیع و عریض علاقے میں آتے ہیں اور اتنی خوبصورت عمارات کو دیکھتے ہیں، جہاں بہت بڑے بڑے لان ہیں اور انتہائی صاف ستھرا علاقہ موجود ہے تو آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ سچ بات تو یہ ہے کہ ہمارے حکمران تو بدلے ہیں مگر انداز حکمرانی نہیں۔

آج بھی اس شہر کے مختلف علاقوں میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ایک طرف وہ رہتے ہیں جنھیں انسان کہلانے کا بھی حق نہیں ہے اور دوسری طرف وہ انسان رہتے ہیں جنھیں دنیا کی تمام تر آسائشیں میسر ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ پرانی دلی میں ابھی بھی سائیکل رکشہ چلتا ہے۔ کیا ہم اس قابل نہیں ہیں کہ اس سائیکل رکشہ کو ایک چھوٹا سا انجن لگوا دیں تاکہ اس آدمی کی مشقت میں کمی آ سکے۔ لیکن ایسا نہیں ہو رہا اور یہ کب ہو گا معلوم نہیں!

Lahore Gate Delhi 1858

میں ایک دن جب شرما صاحب کے ساتھ کہیں جا رہا تھا تو میں نے ایک بڑے گراؤنڈ میں ایک فیملی کو بیٹھے دیکھا جو میاں بیوی اور دو تین بچوں پر مشتمل تھی۔ اپنے لباس اور وضع قطع سے وہ عام سے لوگ لگ رہے تھے، ان کے قریب ہی ان کی ایک پرانی موٹر بائیک بھی کھڑی تھی۔ میں انھیں دیکھ کر شرما صاحب سے کہا کہ آپ ہی بتائیے کہ جب یہ لوگ شام کو اپنی گلی میں جائیں گے جہاں صفائی ستھرائی نام کی کوئی چیز نہیں ہوگی اور جہاں گلیوں میں گٹر کا پانی چل رہا ہو گا تو ان کے دل میں کیا خیال آئے گا؟ یقیناً اس سے ایک نفرت جنم لے گی۔

بد قسمتی سے حکمران بدلنے کا اختیار تو جمہوریت نے عوام کو دے دیا ہے مگر انداز حکمرانی بدلنے کا اختیار اب بھی عوام کے پاس نہیں ہے۔

یہ منظر میں روز دیکھتا تھا۔ مجھے یوں لگتا تھا جیسے میں لاہور میں ہوں جہاں پنجاب کے گورنر کے رہنے کے لیے ساٹھ ایکڑ سے زائد جگہ ہے اور اسی لاہور میں ایسی بستیاں بھی موجود ہیں، جہاں ایک ایکڑ میں پانچ سو سے زائد لوگ رہتے ہیں۔ میرے خیال میں بھارت اور پاکستان میں ایک مشترکہ بات یہ ہے کہ حکمران تو بدلتے رہتے ہیں اور وہ اپنی باری پر آتے ہیں۔ مگر یہ طے ہے کہ کوئی بھی انداز حکمرانی بدلنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

جب تک انداز حکمرانی نہ بدلا گیا تب تک عوام کے حالات بدلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments