مری سانحہ۔ ذمہ دار کون؟
ہمارا پیارا وطن پاکستان خوبصورت اور قدرتی مناظر سے مالامال ہے حتٰی کہ دوسرے کئی ممالک سے سیاح ہر سال پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی جانب رخ کرتے ہیں تاکہ اپنی آنکھوں کی پیاس کو ان خوبصورت مناظر سے بجھا سکیں اس کے ساتھ ساتھ دلفریب مناظر سے دلی اطمینان اور سکون حاصل کر سکیں۔
کرونا وبا کی آمد سے جہاں زندگی کے مختلف شعبہ حیات مفلوج ہو کر رہ گئے وہیں سیاحوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔ لیکن ایک سال کی بھرپور کوششوں کے بعد جب ویکسین کی آمد ہوئی اور بین الاقوامی پروازیں بحال ہوئیں تب لوگوں نے محتاط انداز میں دوسرے ممالک کے سفر کا آغاز کیا۔ زندگی کی رونقیں بحال ہونا شروع ہوئیں تو اندرونی اور بیرونی سیاحوں نے بھی شمالی علاقہ جات کا رخ کیا۔
صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے یوم سیاحت کے موقع پر اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ”کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن زمین اور اس کے لوگوں کی تعریف یہاں آ کر کی جا سکتی ہے۔ ایک بار جب آپ ہمیں آزمائیں گے تو آپ کو پیار ہو جائے گا“ ۔
لوگ چونکہ ایک طویل عرصے سے گھروں میں مقید تھے اور روزمرہ کے ایک ہی معمول پر چلتے چلتے اکتا گئے تھے لہذا اسی بنا پر انھوں نے اپنے گھروں سے باہر نکل کر کچھ قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہونے کا منصوبہ بنایا۔ دوسرا یہ کہ ہم جیسے میدانی علاقوں میں رہنے والوں کو پہاڑ ’وادیاں‘ برفباری اور وہاں کا ٹھنڈا موسم بلا کی کشش رکھنے کے باعث اپنی طرف کھینچتا ہے۔ لیکن شمالی علاقہ جات جانے کے لئے بھی موسمی حالات کا اندازہ لگانا پڑتا ہے اگر بارش کا موسم ہو تب بھی کہا جاتا ہے کہ ان علاقوں کا رخ نہ کیا جائے کیونکہ راستے پرخطر ’ڈھلوان والے ہیں اس کے علاوہ لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے اور سخت موسم چاہے گرمی کا ہو یا سردی کا کسی بھی مقام کا رخ نہ کیا جائے بلکہ اپنے گھروں میں محفوظ انداز میں وقت گزارنا ہی عقلمندی تصور کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ چونکہ پاکستان کے پاس جدید مشینیں نہیں ہیں جن کو بروئے کار لاکر فوراً راستے صاف کر دیے جائیں۔ ایسے علاقوں کی مشکلات کا ان مقامی لوگوں سے پوچھا جائے کہ کیسے زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔
لیکن چونکہ عوام کرونا کی وجہ سے گھروں میں رہ رہ کر گھبرائی ہوئی تھی پھر جلتی پر تیل کا کام محکمہ موسمیات نے یہ بتا کر کیا کہ مری اور گردونواح میں برفباری کا آغاز ہونے والا ہے۔ لوگوں نے سوچا کہ چلیں مری تک تو ہو کر آ ہی سکتے ہیں اب یہ کون جانتا تھا کہ وہ صرف برفباری نہیں بلکہ برف کا طوفان ثابت ہو گا اور کئی قیمتی جانیں نگل جائے گا۔
اس بات سے تقریباً ہم سب ہی واقف ہیں کہ ہمارے ملک میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرونا کے بعد ہی زیادہ ہوا۔ دنیا ٹیکنالوجی کی دوڑ میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے لیکن ہم اپنے تمام علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی اور تربیت کو اب تک ممکن نہیں بنا سکے ہیں اور نہ ہی لوگوں کو اس کا مثبت استعمال سکھا سکے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صرف مری نہیں بلکہ تمام شہروں اور علاقوں کے ہوٹلوں بے شک وہ چھوٹے ہوں یا بڑے فائیو اسٹار ہوں یا فور اسٹار سب کا ڈیٹا انٹرنیٹ پر موجود ہونا چاہیے کہ اتنے لوگوں کی بکنگ موجود ہے یا نہیں اور ان کے کرائے اور سہولیات کیا ہیں تاکہ لوگ پہلے سے ہی اپنی بکنگ کروا سکیں اور باآسانی اپنے ہوٹل میں پہنچ سکیں لیکن ہمارا عام تصور یہ ہے کہ وہاں جا کر دیکھیں گے کم کرائے میں جو مل جائے گا وہ کمرہ حاصل کر لیں گے۔ اس میں کون سا کوئی راکٹ سائنس ہے لہذا تمام چھوٹے بڑے ’بوڑھے نوجوان حتٰی کہ فیملی والے سیروتفریح کی غرض سے نکل پڑے۔
اب یہ پہلو کہ حکومت کو معلوم تھا کہ اتنی گاڑیاں مری کی حدود میں داخل ہو گئی ہیں یہی نہیں بلکہ حکام خوش تھے کہ ان کی عوام خوشحال ہے جو گھومنے نکل پڑی ہے مہنگائی کا جو رونا رویا جا رہا ہے وہ تو بس دکھاوا ہے۔ خیر حکومتی عہدیداروں نے یہ سوچنے کی کوشش نہیں کی کہ وہاں اتنے لوگوں کے لئے سہولیات موجود ہیں یا نہیں۔ ہوٹلوں کے کرائے اور استعمال کی ضروری اشیاء کے نرخ مقرر کیے گئے ہیں یا نہیں؟ برفباری کی پیشین گوئی جوکی گئی ہے تو کیا کوئی ایسے انتظامات موجود ہیں کہ اس برف کو راستے سے بروقت ہٹایا جا سکے اور سیاحوں کے لئے جو اپنا سرمایہ لگا کر آ رہے ہیں کچھ پل خوشی اور سکون حاصل کرنے اور اپنے اپنے خاندانوں اور بیوی بچوں کے ساتھ بہترین وقت گزارنے کے لئے ’ان کے لئے یہ وقت یادگار بنایا جا سکے اور وہ اچھی یادیں لے کر جاسکیں؟
مری کے مقامی لوگوں نے بھی یہی تصور کیا کہ بڑے مال دار لوگ ہیں جو خاندان کے خاندان اٹھ کر آ گئے ہیں ان کو اچھی طرح لوٹ لیا جائے تاکہ وہ دوبارہ یہاں کا رخ کرنے کا سوچ بھی نہ سکیں۔ یا کیا پتہ ان کے کمانے کا یہ آخری موقع ہو پھر زندگی رہے یا نہ رہے۔ ہوا تو یہی کہ بے حد خوبصورت اور پیارے لوگ اپنی جان کی بازی ہار گئے ان بے حسوں ’لالچی اور مردہ دل لوگوں کے ہاتھوں جنہوں نے انسانیت کو کچھ روپؤں کے منافع کی خاطر اپنے پیروں تلے روند ڈالا۔ کیا ان لوگوں کو اپنی موت بھول گئی؟ ہمیں اپنے اگلے لمحے کا معلوم نہیں کہ اگلی سانس ہے یا نہیں۔ پھر کیسے بھول گئے کہ اللہ تعالی کا کس منہ سے سامنا کریں گے۔
مصیبت کا وقت تھا اللہ تعالی کی آزمائش تھی کیا اس مشکل وقت کو ہم مل کر نہیں نکال سکتے تھے۔ سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے نہ ہی کسی خاص علاقے کے لوگ اچھے برے ہوتے ہیں جہاں لوگوں نے موت کے دھانے پر کھڑے لوگوں کو دھکا دیا وہاں بہت سارے ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے اور مفت میں لوگوں کی مدد کی کیونکہ ان لوگوں میں ابھی انسانیت زندہ تھی۔ ان کی تربیت میں یہ شامل تھا کہ انسان اچھے وقت میں کسی کا ساتھ دے یا نہ دے برے وقت میں ساتھ کھڑا ہو جائے۔
دراصل بات صرف ہماری سوچ کی ہے ہم اس قوم میں سے ہیں جو منافع خور ’حاسد‘ ماں بیٹیوں پر بری نظر رکھنے والی ہے دوسروں کی ٹانگ کھنچنے والی ہے۔ ہم ان لوگوں میں سے ہیں چاہے ہم پر مشکل وقت ہو یا کوئی تہوار حتٰی کہ رمضان ہو ہم روزمرہ زندگی کی استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ قصور کسی فرد واحد کا نہیں بلکہ ہماری مجموعی سوچ کا ہے۔ اگر ہم انفرادی طور پر خود کو بدل لیں تو اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ بات صرف سوچنے کی نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری قبول کرنے اور نبھانے کی ہے۔


