جب کھلا نہیں سکتے تو..
یوں تو پورے برصغیر میں ہی لڑکیوں کی پیدائش ماں باپ اور دیگر گھر والوں کے لیے بے حد خوشی کا باعث نہیں ہوتی مگر ہمارے دیہاتوں میں عجیب رواج قائم ہے یہاں ایک بیٹے، ایک وارث اور ایک بڑھاپے کے سہارے کے انتظار میں سات سات آٹھ آٹھ بیٹیاں پیدا کر لی جاتی ہیں اور وہ بیٹیاں جو نہ اپنی مرضی سے اس دنیا میں آئی ہوتی ہیں اور نہ ہی کسی کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں اس ناکردہ گناہ کی سزا بھگتنے کے لیے رہ جاتی ہیں جس میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہوتا۔
خدا بھی شاید ان لوگوں کا امتحان لینے کو بیٹیاں ان کے گھر بھیجتا رہتا ہے میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ لوگ اس بات سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود کہ اتنے بچوں کی بنیادی ضروریات خوراک، لباس اور صحت کو پورا کرنے کے قابل نہیں ہیں کس بنیاد پر انہیں دنیا میں لاتے ہیں یا جیسے پاکستانی معاشرہ شوہر اور بیوی کے معاملات میں ہر طرح کے حقوق فرائض اور آخرت میں جوابدہی کی ذمہ داری بیوی پر رکھ چھوڑتا ہے ایسے ہی یہ بھی سوچا جاتا ہے کہ والدین کے متعلق اولاد تو خدا کو جواب دہ ہے مگر والدین سے اولاد کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا
خوراک، لباس، صحت، رہائش اور تعلیم کی بنیادی ضروریات ہر انسان کا حق ہیں اور والدین چاہے وہ بیٹا ہو یا بیٹی ایک انسانی جان کو دنیا میں لانے کے ذمہ دار ہیں تو ان ضروریات کو پورا کرنا بھی ان کا فرض ہے اگر زندگی کے پہلے ہی پڑاؤ پہ یہ غربت اور بھوک کے ہاتھوں شکست کھائیں گی تو زندگی میں آگے کیسے بڑھ پائیں گی؟
روٹی، کپڑا اور مکان نہ دے سکنے والے ماں باپ مصائب سے لڑنے کے لیے حوصلہ، ہمت اور اعتماد کیسے دیں گے؟ خوراک کی کمی کی وجہ سے زرد اور مدقوق چہرے، کانپتے ہوئے کمزور ہاتھ پاؤں اور ذرا ذرا سی عمر میں خوفناک بیماریوں میں مبتلا ہو جانے والی یہ لڑکیاں بھی کیا ماں باپ سے سوال کر سکتی ہیں ”جب کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو؟“

