رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا
میں جیل میں تھا کہ مجھے سزا کے طور پر قصوری چکی میں ڈال دیا گیا۔ مجھ پر یہ الزام تھا کہ میں یہاں شعر سناتا ہوں۔ جیل کے جو قیدی پہلے سے موجود تھے وہ مجھ سے پوچھتے کہ آپ یہاں کیسے آئے، کون سا جرم کیا۔ میں انہیں کہتا شاعری کی وجہ سے آیا ہوں۔ وہ پوچھتے کون سی شاعری، ہمیں بھی سنائیں۔ جب میں نے انہیں اپنی شاعری سنائی تو وہ بولے، پھر تو آپ ٹھیک ہی یہاں پہ آئے ہیں، ایسی شاعری پہ ظاہر یہ جیل ہی ہو سکتی ہے ”۔
یہ اقتباس اس شاعر کی سوانح سے ہے جس نے نہ کبھی اوروں کے بارے میں لگی لپٹی بات کہی اور نہ اپنے بارے میں۔
یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا
جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے
جی ہاں، حبیب جالب۔ آپ کی سوانح ”جالب بیتی“ کے نام سے 2013 میں شائع ہوئی جبکہ آپ کو لاہور کی خاک اوڑھ کر ابدی نیند سوئے 20 سال ہو چکے تھے۔ یہ کتاب آپ کے اس مقصد کے لیے ریکارڈ کیے گئے بہت سے انٹرویوز کے نتیجہ میں سامنے آئی۔ کتاب 23 ابواب پر مشتمل ہے جن کے عنوانات بڑے دلکش ہیں، جیسے اڑتے ہوئے پتے، شب عہد کم نگاہی، فضا میں اپنا لہو، کئی مہتاب کئی آفتاب وغیرہ۔ کتاب میں ان کے بچپن سے لے کر عمر کے آخری سالوں تک کے واقعات ملتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ذیل میں بیان کر رہا ہوں۔
آپ کا آبائی تعلق گاؤں میانی افغاناں ضلع ہشیار پور، مشرقی پنجاب سے تھا۔ خاندان غریب تھا اور حالات ایسے کہ بعض اوقات کھانے کا انتظام تک نہ ہو پاتا۔ ہجرت کے بعد آپ کا خاندان کراچی میں آباد ہوا۔ آپ کا مشاعروں میں شرکت کا آغاز بھی اسی دور میں ہو گیا۔ لاہور آنے سے قبل کچھ عرصہ حیدر آباد اور بہاولپور میں گزارا۔ لاہور میں ابتدائی زمانے ہی میں ایک غزل کو بڑی شہرت ملی جو بعد میں کئی فنکاروں نے گائی اور خوب مشہور ہوئی۔
دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں
ابتدائی دور میں ہی اداکار علا الدین آپ کو فلمی دنیا میں لے گئے۔ تواتر سے تو نہیں لیکن یہ تعلق بہت بعد تک جاری رہا۔ سیاست سے وابستگی ہوئی اور اہل اقتدار کی کڑی تنقید آپ کا نصب العین رہا جس کے نتیجے میں جعلی پولیس مقدمے اور قید و بند زندگی کا معمول بن گیا۔ اس بارے میں کئی واقعات بیان کیے۔
کہتے ہیں الطاف گوہر سے اپنی پرانی شناسائی تھی۔ وہ میرا بہت خیال بھی رکھتے تھے، اگرچہ صدر ایوب خان کی حکومت کے اہم عہدیدار تھے لیکن مجھ سے وہ نظمیں بھی سن لیا کرتے تھے جو میں نے ایوب خان کے خلاف لکھی تھیں۔
ایسے موقع پر کوئی غصہ میں آ جاتا تو وہ بیچ بچاؤ کرا دیتے۔ کہتے شعر کے سامنے شعر لاؤ اور نظم کے مقابل نظم، یہ کوئی بات نہیں کہ ایک شاعر کے ساتھ ہاتھا پائی کرو۔ مجھے انہوں نے بعد میں میرے ایک مقدمہ کے حوالے سے قصہ سنایا۔ بولے ایک دن میں نے گورنر امیر محمد خان سے کہا کہ آپ نے خواہ مخواہ ایک شاعر کو پکڑوا دیا ہے، بڑی لے دے ہو رہی ہے۔ اس پہ چاقو کا مقدمہ بنایا گیا ہے اور ساتھ ہی اس کے تھیلے سے دو بوتل شراب برآمد کرائی گئی ہے۔ اتنی اس بیچارے کی اوقات کہاں، وہ تو بس آدھے پوے کا آدمی ہے۔
اسی دور میں بھٹو صاحب ایک دفعہ کہیں جا رہے تھے۔ ان کے پاس ایک بیگ تھا جو کسی نے احتراماً کہا کہ لائیے مجھے پکڑا دیجئے۔ وہ بولے میں کیا بے وقوف ہوں کہ اپنے اوپر دو بوتلیں ڈلوا لوں۔
میرے معمولات کچھ اس طرح کے تھے کہ میرے ابا مجھ سے کہا کرتے تھے، تم کن بدمعاشوں کے ساتھ آوارہ گھومتے رہتے ہو کہ رات دیر سے گھر آتے ہو۔ میرا یارانہ اور لوگوں کے علاوہ مولانا عبدالستار نیازی سے بھی تھا۔ ایک دن میں انہیں گھر لے گیا اور ابا سے کہا، یہ ہیں وہ ”بدمعاش“ ۔ وہ بولے بھئی یہ تو پاکیزہ آدمی ہیں تم کیا کہہ رہے ہو۔ اس طرح گھر میں ہمارے بارے میں غلط فہمی دور ہو گئی۔ مولانا صاحب کو ایک دفعہ جب گورنر نواب کالا باغ نے غنڈوں سے پٹوایا تو میں نے یہ اشعار موزوں کیے۔
عام ہوئی غنڈہ گردی چپ ہیں سپاہی باوردی
شمع نوائے اہل سخن کالے باغ نے گل کر دی
اہل قفس کی قید بڑھا کر کم کر لی اپنی میعاد
صدر ایوب زندہ باد
بھٹو کے دور حکومت میں لیاقت باغ راولپنڈی فائرنگ کے واقعہ میں ولی خان 25 آدمیوں کی نعشیں پشاور لے کر گئے۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے سیاست نہیں کی بلکہ دانائی کی بات کی۔ کہا انہیں پنجابیوں نے نہیں مارا بلکہ غنڈوں نے مارا ہے اور غنڈے تو کراچی، پنڈی، پشاور ہر جگہ ہوتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے سیاست نہیں کی بلکہ دانائی کی بات کی۔
1964 کے صدارتی انتخاب میں اپوزیشن کا یہ متفقہ فیصلہ تھا کہ ہماری امیدوار محترمہ فاطمہ جناح ہوں گی لیکن وہ اس کے لیے آمادہ نہیں تھیں۔ جب انہوں نے ہر ایک راہنما سے معذرت کر لی تو مولانا بھاشانی ان سے ملے اور بولے تمہارے بھائی نے ہم کو مسجد سے اٹھایا اور سیاست میں لایا۔ ہم نے تمہارے بھائی کے ساتھ مل کر پاکستان بنایا۔ اب پاکستان خطرے میں ہے اور تم الیکشن میں حصہ نہیں لینا چاہتی۔ ٹھیک ہے میں بھی واپس مسجد میں چلا جاتا ہوں۔ اس پر انہوں نے رضامندی دے دی۔ انتخابات میں مولانا بھاشانی کے نامزد امیدواروں کو اچھی خاصی کامیابی ملی لیکن دنیا دار آدمی تھے۔ مال و دولت دنیا کو بتان وہم و گمان نہیں سمجھتے تھے چنانچہ حکومت نے پلٹا دیا۔
اس سے قبل صدر ایوب نے ایبڈو کے ذریعے تمام بڑے سیاست دانوں کو سیاست کو خیرباد کہنے کا موقع دیا جسے ماسوائے حسین شہید سہروردی کے کسی نے چیلنج نہ کیا۔ اس موقع پر میں نے جو نظم لکھی اس کے کچھ اشعار یہ تھے۔
تو ہے مہر صبح نو تیرے بعد رات ہے
بولتے جو چند ہیں سب شر پسند ہیں
ان کی کھینچ لے زباں ان کا گلا گھونٹ دے
میں نے اس سے یہ کہا۔
صدر ضیاء کے دور میں مجھ پہ نشے میں پائے جانے کی وجہ سے حدود کا کیس بھی بنا۔ اگرچہ میں جلد ہی رہا ہو گیا لیکن آل انڈیا ریڈیو سے خبر نشر ہوئی کہ حبیب جالب کو کوڑے لگائے گئے۔ اس پہ وہاں کے کسی شاعر نے یہ قطعہ ایک اخبار میں چھپوایا۔
گھر سے پی کر شراب نکلا تھا
یہ خطا تھی حبیب جالب کی
پاک سر زمین پر ناداں
نقل کرتا ہے مرزا غالب کی




