بیٹیاں نوکری کریں


آپ بیٹی سے نوکری اس لئے کروا رہے ہیں کہ پیسہ کما کر لائے اور معاشی طور پر ہاتھ بٹائے؟

سوچ میں تبدیلی ہمیشہ موازنہ کرنے سے آتا ہے۔ مرد و عورت دونوں ہی کے پاس دماغ جیسی نعمت ہے۔ جو عورتیں گھروں میں رہتی ہیں ان کی ذہانت ایک خاص مقام تک ہی ہوتی ہے لیکن جو عورت گھرکی چار دیواری سے باہر نکلتی ہے اس کا دماغ گھر اور باہر کے ماحول کا موازنہ بہتر طریقے سے کرتے ہوئے اپنی ذہنی نشو و نما کو بہتر بنا لیتی ہے۔ قوت ارادہ بہتر ہوتا ہے قوت فیصلہ قوی ہوجاتا ہے باہر کے روئیے اسے جلد صحیح فیصلہ کرنے کا عادی بنا دیتے ہیں۔ لیکن ہم یہ نہیں سوچتے ہم صرف یہی سوچتے آئے ہیں کہ گھر کے خرچے پورے نہیں ہو رہے اس لئے لڑکی کو نوکری کروا رہے ہیں۔

بیٹیاں نوکری کریں کتنی معیوب بات ہے، سالوں سے چلتی یہ سوچ اب اپنا اثر کھوتی جا رہی ہے۔

اپنے بچپن میں اکثر اپنی والدہ اور آس پاس کی خواتین کو باتیں کرتے سنتے تھے تو اس ذکر پر تقریبا سب کے ماتھے پرشکن آجاتی تھی کہ فلاں کی لڑکی جاب پرجاتی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کا احساس ہوا کہ ہر گھر کی لڑکی کو گھر سے باہر نکل کر کچھ نا کچھ ضرور کرنا چاہیے۔

یہ رائے قائم کرنے سے پہلے میں نے کئی گھر کے اندر رہنے والی لڑکیوں اور گھر سے باہر کام کرنے والی لڑکیوں سے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرنے کے بعد قائم کی۔

عموماً عورت ذات کے حوالے سے کسی پہلو پر بات کی جائے تو معاشرے میں اس عورت سے جڑے رشتے اپنا حق لے کر حاضر ہو جاتے ہیں۔

بے شک ہمارا معاشرہ ایک مرد کا معاشرہ ہے، جہاں عورت کا گھر سے باہر نکلنا تو درکنار دروازے پہ کھڑے ہونا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ عورت کی زندگی میں سگے رشتوں کے علاوہ کچھ ہی اور مرد رابطے میں آتے ہیں جیسے سبزی والے سے سبزی لے لی، درزی سے کپڑے سلوا لئے، کبھی راشن لے آئیں تو دکان دار سے بات چیت ہو گئی۔ وغیرہ وغیرہ۔ بس پھر گھر اور گھر کے کام۔

شادی سے پہلے کھاؤ پیو سو جاؤ شادی کے بعد ساس نندوں کی سیاست بھگتاؤ۔
یہ ہے ہمارے گھر میں رہنے والی عورت کی زندگی کا خلاصہ۔

اب اگر ایک گھر سے باہر نکلنے والی عورت کی بات کی جائے تو ان کہے لفظوں کا بن کہے جواب دیتی یہ عورت ڈگمگاتی سنبھلتی آخرکار اپنا راستہ ہموار کر ہی لیتی ہے۔ جہاں کچھ مقامات پراس کا عورت ہونا کمزوری بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور وہ عورت سیسہ پلائی دیوار بن کر مقابلہ کرتی ہے۔ دنیا نے دیکھا ہے عورت کو جب جب کمزور سمجھا گیا اس نے اسے غلط ثابت کیا۔

ایک عام سی سوچ ہے شادی کے بعد اگر نوکری کرنا پڑ گئی تو ۔ کم از کم اتنی تعلیم ہو لڑکی کے پاس کہ وہ نوکری کرسکے!

بابائے آدم سے لے کر آج تک زمانے میں عورت مرد کی دوسراہٹ اور ساتھی ہے لیکن معاشرے کی تنگ نظری نے اسے صرف مرد کی ضرورت بنا کر رکھ دیا ہے۔

اللہ پاک کی بے شمار نعمتوں میں ایک نعمت انسانی دماغ بھی ہے۔ اس کی نشو و نما کے لئے ایک کھلا ماحول بے حد ضروری ہے۔ یہاں میری مراد مادر پدر آزاد ہونا قطعی نہیں ہے۔ اس کھلے ماحول سے مراد آپ کے آس پاس موجود لوگوں کا مثبت رویہ مثبت سوچ مثبت رائے شامل ہے۔ آپ کے اردگرد جتنے زیادہ لوگ ہوں گے اتنا زیادہ آپ رویوں سے روشناس ہوں گے ۔ اچھے برے ہر طرح کے لوگوں سے پالا پڑنے پر دماغ صحیح یا غلط فیصلے لینے کے قابل ہو گا۔

متوسط اور غریب گھرانے کی لڑکی سے آپ جذباتی گفتگو گھنٹوں کر سکتے ہیں جس میں گھریلو مسائل بھاوج ماں کے رویے میک اپ فلمیں فیشن جیسے موضوعات ہوسکتے ہیں۔ گھریلو سیاست غیبت کی عادت ایسی بچیوں میں اکثر پائی جاتی ہے۔ جو شاید ایک مخصوص ماحول میں ان کے اندر خود ہی پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسی بچیاں جب شادی شدہ زندگی گزارنا شروع کرتی ہے تو انہیں مخصوص باتوں کے گرد ان کا ذہن گامزن رہتا ہے۔ کچھ سمجھداری سے اپنے معاملات اپنے حق میں کر لیتی ہے جبکہ اکثر گھر پہلوان کے اکھاٹے بنے رہتے ہیں، جس کہ مرد گھر سے باہر سکون تلاشتے رہتے ہیں۔

گھر سے باہر نکلنے والی بچیاں وسیع الذہن ہوتی ہیں ان کے پاس نظرانداز کرنے کا مادہ زیادہ ہوتا ہے جس کی بدولت عام حالات میں ہونے والے چھوٹے موٹے معاملات بنا لڑے جھگڑے نمٹا لیتی ہیں بعض اوقات جن باتوں کو لے کر گھروں میں جھگڑے ہوتے ہیں اور ہفتوں بات چیت بند رہتی ہیں وہاں گھر سے باہر نکل کر کام کرنے والی عورت ان باتوں کو اہمیت ہی نہی دیتی۔

ہر عورت کو گھر سے باہر ضرور نکلنا چاہیے چاہے وہ کوئی نوکری ہویا کاروبار، یا پھر تعلیم کے حصول کے لئے۔ یہ عورت کا معاشرتی حق ہے۔

اسے حق ہے کہ وہ اپنے لئے تیار ہو اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزارے اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے اپنی ذات پربھی توجہ دے۔ اس کے پاس بھی ایک ذہن ہے اس کا کھل کر استعمال کرے ناکہ چار دیواری کی سیاست میں اسے جھونک دے۔ اپنے وجود میں موجود ذہن کی تراش پہ زیادہ توجہ دے ناکہ اپنے نقش و نگار پہ۔

Facebook Comments HS