سیاسی مکالمہ ناگزیر ہے


سیاست، جمہوریت اور معاشرہ کے آگے بڑھنے میں محاذ آرائی اور بدامنی پیدا کرنے کے مقابلے میں ہمیشہ سے مکالمہ کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ کیونکہ سیاسی مکالمہ ہی مسائل کے حل کی طرف لے کر جاتا ہے اور جو مختلف امور میں الجھنیں یا بگاڑ پیدا ہوتا ہے اس سے باہر نکلنے کا بھی واحد راستہ مکالمہ کی سیاست کو مضبوط کرنے سے جڑا ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستانی سیاست اور معاشرہ سے مکالمہ کی روایت یا کلچر ختم ہوتا جا رہا ہے یا اس نے کمزوری اختیار کرلی ہے۔

کیونکہ مکالمہ نہ ہونے کی ایک بڑی بنیادی وجہ خود کو دوسروں سے برتر سمجھنا اور دوسروں کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنی برتری کا احساس ہوتا ہے۔ مکالمہ بنیادی طور پر ایسے ہی فریقین کے درمیان ہوتا ہے جو ایک ہی مسئلہ پر مختلف سوچ، فکر اور خیالات رکھتے ہیں۔ یہ عمل ہمیں باہمی مشاورت یا ایک دوسرے کے خیالات کو سمجھ کر آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرتا ہے تاکہ ہم خود کو مسائل کے حل میں پیش کرسکیں۔

پاکستان اس وقت مختلف نوعیت یا سطحوں پر بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔ کوئی ایک شعبہ ایسا نہیں جسے ہم بہتر سمجھ سکیں اور ہمیں لگتا ہے کہ اس ملک کو مجموعی طور پر مکالمہ یا مشاورت کی مدد کے ساتھ اصلاحات کے ایک بڑے سیاسی ایجنڈے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت میں سب سے بڑا حسن ہی اصلاحاتی عمل ہوتا ہے جو نہ صرف جمہوریت کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے بلکہ لوگوں کا سیاست اور جمہوریت پر بڑا اعتماد پیدا کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔

جمہوریت میں انقلاب کم اور اصلاحات کی مدد سے زیادہ تبدیلیوں کا عمل پیدا ہوتا ہے جو عملی طور پر اس ملک کے نظام کی ساکھ کو بھی شفاف بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ بگاڑ کسی ایک شعبہ یعنی سیاست تک محدود نہیں بلکہ مجموعی طور پر تمام شعبہ جات بالخصوص انفرادی یا اجتماعی سطح پر رائے عامہ بنانے والے افراد یا اداروں میں ہی مکالمہ کی جگہ انتہا پسندی اور شدت پسندی نے لے لی ہے۔ ہر فریق دوسرے فریق کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی بجائے اپنی سوچ اور فکر کو دوسروں پر مسلط کرنا اپنا حق سمجھتا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کے نتیجہ میں ایک دوسرے کے بارے میں سیاسی، سماجی، لسانی اور مذہبی تعصب نمایاں ہوجاتا ہے جو مزید فریقین میں سیاسی دوریوں کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے۔

پاکستان کا مسئلہ مختلف فریقین میں ایک دوسرے پر بالادستی کی جنگ نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارا مسئلہ جو بھی مسائل ہیں ان کا مختلف نوعیت سے مسائل کا حل تلاش کرنا ہونا چاہیے۔ لیکن لگتا ایسا ہے کہ ہماری سوچ اور فکر میں مسئلہ کا حل کم اور بگاڑ زیادہ پیدا کرنے ہو گیا ہے۔ اسی وجہ سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسائل کے حل میں کہیں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ سیاست، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی سمیت شفافیت پر مبنی نظام ہماری بڑی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔

جو بھی سیاسی، انتظامی، قانونی اور معاشی فورمز ہیں اور جن کا دائرہ کار ہمیں آئین پاکستان کی صورت میں نظر آتا ہے ان کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری اور مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ ہی وہ ادارے ہیں جہاں ہمیں عوامی مفادات کو بنیاد بنا کر مکالمہ درکار ہے۔ یہ ہی مکالمہ ہمیں راستہ فراہم کرے گا کہ ہمارے مسائل کیا ہیں اور ان کی وجوہات کو جانچنا، پرکھنا اور اسی بنیاد پر تجزیہ کر کے مسائل کا حل تلاش کر کے عملدرآمد کا شفاف نظام کا قائم ہونا بھی اسی مکالمہ سے جڑا عمل ہے۔

بدقسمتی سے جب بھی اس ملک میں اصلاحات کو لانے کی بات کی جاتی ہے یا کوئی فریق یا حکومت یا ادارہ آگے بڑھ کر اس مرض کی تشخیص کی بنیاد پر علاج کرنا چاہتا ہے تو نظام میں موجود طاقت ور طبقہ جن کو ہم ایک بڑے مافیا کے گٹھ جوڑ کی مزاحمت سامنے آتی ہے۔ یہ لوگ آئین اور قانون کی حکمرانی سے زیادہ اپنے ذاتی مفاد کو بنیاد بنا کر اصلاحات کے عمل کو بھی روکتے ہیں اور جہاں مکالمہ درکار ہوتا ہے وہیں یہ ہی طبقہ مکالمہ کا راستہ بند کر کے محاذ آرائی کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔

اس وقت ہمیں پانچ بنیادی باتوں پر مکالمہ یا مشاورت کی مدد سے ایک بڑے اصلاحاتی ایجنڈے کو اپنی سوچ اور فکر کا حصہ بنانا ہو گا۔ اول عدالتی یا انصاف کے نظام میں، دوئم بیوروکریسی میں ادارہ جاتی سطح پر ، سوئم ایف بی آر کی سطح پر ، چہارم شفاف معاشی پالیسیوں کی سطح پر ، پنجم حکمرانی یعنی گورننس کے نظام کی سطح پر ایک بڑے اتفاق رائے پر مبنی اصلاحاتی بنیاد پر ایجنڈا درکار ہے۔ مکالمہ کی بنیاد جماعتی، شخصی، مفاداتی اور پسند و ناپسند سے ہٹ کر اجتماعیت اور ملکی مفاد کو بنیاد بنا کر ہونی چاہیے۔ یہ ہی وہ بنیاد بنتی ہے جو ہمیں کسی ایک نقطہ پر یعنی ملک میں مثبت تبدیلیوں کی طرف لے کر جا سکتی ہے۔

سب سے بڑا المیہ اس سیاسی نظام میں پارلیمنٹ جیسے اہم ادارے کی بے توقیری اور عدم شفافیت کی ہے۔ یہ پارلیمنٹ لوگوں یا قومی سطح کے مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرنے کی بجائے ایک بڑی سیاسی تقسیم، ایک دوسرے کو قبول نہ کرنا، محاذ آرائی کا مرکز، الزام تراشیوں اور کردار کشی کا کھیل، منفی طرز عمل، غیر پارلیمانی زبان، ذاتیات پر حملے، سنجیدہ مباحث کے مقابلے میں غیر ضروری الجھاؤ، اپنی اپنی بات کرنا اور دوسروں کی باتوں پر بائیکاٹ، ہاتھا پائی، تشدد کا مرکز بن کر رہ گئی ہے۔

وزیر اعظم، قائد حزب اختلاف، وفاقی وزرا اور اہم راہنماؤں کی سطح پر پارلیمان میں عدم شرکت ظاہر کرتی ہے کہ ہمارا پارلیمانی نظام اپنی افادیت میں کہاں کھڑا ہے۔ جب مکالمہ پارلیمنٹ کی سطح پر ہی نہیں کیا جائے گا تو باقی اداروں کی سطح پر اور زیادہ بگاڑ دیکھنے کو ملے گا۔ اسی طرح پارلیمنٹ سے باہر جو لوگ سیاسی، سماجی، قانونی اور معاشی نظام میں اصلاحات پر کام کر رہے ہیں اور ان کے پاس متبادل پروگرام بھی ہے ان کا اور پارلیمان کے درمیان جو خلا یا بداعتمادی ہے وہ بھی فریقین میں مکالمہ کو روکنے کا سبب بنتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر وہ فریق جو مختلف محاذ پر طاقت رکھتا ہے مکالمہ کی اہمیت پر بات بھی کرتا ہے اور بڑی ڈھٹائی سے کہتا ہے کہ ہمیں مکالمہ کی طرف جانا ہو گا۔ لیکن سوال یہ ہی ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور دوسرا اگر مکالمہ نہیں کیا جا رہا تو اس کی بڑے ذمہ دار کون ہیں اور کیوں وہ اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اصل میں یہاں جو بڑے طاقت ور طبقات ہیں وہ عملی طور پر مکالمہ اور اس کی بنیاد پر کسی مثبت نتیجے پر پہنچے کو اپنے لیے یا اپنے مفادات کے لیے زیادہ بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔

اس لیے پہلے اس امر کی نشاندہی کی جائے کہ تمام فریقین کی سطح پر وہ کون لوگ ہیں جو مکالمہ میں ڈیڈ لاک کو پیدا کرنا اپنے مفاد میں سمجھتے ہیں۔ کیونکہ جو لوگ یا ادارے بھی ڈیڈ لاک پیدا کرنے کے حامی ہیں پہلے ان کالی بھیڑوں کو اپنی صفوں سے نکالنا ہو گا۔ یہ بات سمجھنی ہوگی کہ مکالمہ کے اس عدم کلچر نے ہمارے معاشرے سمیت لوگوں کو ایک مشکل زندگی میں ڈالا ہوا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ نظام عملی طور پر ہماری معاونت کے لیے نہیں بلکہ ہمارے استحصال کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مکالمہ اور مثبت تبدیلی کے اس عدم پالیسی نے لوگوں کا سیاست، جمہوریت اور تبدیلی سے اعتماد کمزور بھی ہو رہا ہے اور اٹھ بھی گیا ہے۔ اس کی بحالی ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔

طاقت کے مراکز سمیت سیاسی فریقین میں محاذ آرائی کے مقابلے میں مکالمہ اور اس کی بنیاد پر معاشرے کی اصلاحات کا عمل اسی صورت میں آگے بڑھ سکتا ہے جب معاشرے میں موجود رائے عامہ کی تشکیل سے جڑے افراد اور ادارے ریاست، حکومت اور سیاسی بالادست قوتوں سمیت دیگر اداروں پر ایک بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کریں۔ ہمارے سیاست دان، سیاسی کارکن، صحافی، دانشور، تجزیہ کار، استاد، شاعر، ادیب، مصنف، تاجر، وکلا، علمائے کرام، سول سوسائٹی سب ہی ایک پرامن سیاسی اور قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایسی مزاحمت پیدا کریں جو طاقت ور طبقات کو دباؤ میں لا سکے۔

اسی طرح ان طبقوں کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ سیاسی شخصیات کی بے جا پوجا پرستی اور اندھا دھند محبت کی پالیسی سے گریز کر کے اچھے اور برے کے پہلو کو خود بھی سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں کہ ان کا سیاسی، سماجی شعور میں تبدیلی کا مثبت عمل ہی معاشرے کو ایک مہذب، ذمہ دار، شفاف اور لوگوں کے مفادات کے ساتھ جوڑ سکتا ہے۔

Facebook Comments HS