دیوان غالب کا منظوم انگریزی ترجمہ


تقریباً پندرہ بیس برس پہلے مجھے اسیر عابد کا کیا ہوا ”دیوان غالب“ کا پنجابی ترجمہ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس ترجمے کے پیش لفظ میں احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں ”میں سوچتا تھا کہ اسیر عابد نے غالب کے مثلاً اس شعر کے ساتھ کیا سلوک کیا ہو گا۔“ دل نہیں ورنہ دکھاتا تجھ کو داغوں کی بہار/ اس چراغاں کا کروں کیا، کار فرما جل گیا۔ احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں۔ ”اگر غالب زندہ ہوتا تو یہ ترجمہ سن کر اسیر عابد کو سینے سے لگا لیتا۔ ترجمہ یہ تھا۔“ دل ہندا تے آپے تینوں بلدے داغ وکھاندا / میں ایہہ دیوے کھتے بالاں، بالن والا بلیا۔

بہرحال شاعری کا ترجمہ چاہے جس زبان میں بھی ہو، مشکل کام ہے لیکن اسیر عابد کے اس عمدہ ترجمے کو پڑھتے ہوئے، یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اردو اور پنجابی زبان کے قواعد میں خاصی یکسانیت ہے۔ اسی طرح دلی اور پنجاب میں تمدنی مماثلت بھی موجود ہے۔ یورپی زبانوں کی نسبت اردو تخلیقات کو پنجابی زبان میں منتقل کرنا قدرے آسان ہے۔ میری اس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ میں قارئین کو دیوان غالب کی غزلیات کے ایک حال ہی میں شائع شدہ انگریزی ترجمے سے متعارف کروا سکوں۔ یہ ترجمہ پروفیسر انور حسین سید نے کیا ہے۔ ’دیوان غالب ”کی غزلیات کے مذکورہ ترجمے کا پہلا والیم، ردیف ا سے ن تک کی غزلیات پر مشتمل ہے۔ اسے 2015 میں علمی کتاب خانہ اردو بازار لاہور نے شائع کیا۔ اسی طرح جنوری 2022 میں اشاعت پذیر ترجمے کی انگلی کڑی یعنی والیم ٹو میں ردیف و سے ے تک کی غزلیات شامل ہیں۔

انور حسین سید کے ”دیوان غالب“ کی غزلیات کے پہلے والیم کی ورق گردانی کرتے ہوئے میں نے سب سے پہلے اس شعر کو تلاش کیا، جس کی داد احمد ندیم قاسمی نے اسیر عابد کو پنجابی ترجمے پر دی۔ انور حسین سید نے انگریزی میں اس شعر کا ترجمہ یوں کیا ہے۔

I don ’t possess the heart to show
The bright seene of heart ’s scars.
Of what use this lighting is
When the pilot is burnt at last۔

اردو اور انگریزی کے صرفی و نحوی نظام میں تفاوت کے باوجود، انگریزی ترجمہ میں غالب کے شعر کے مختلف امیجز یعنی، دل کا جل جانا، داغوں کی بہار، چراغاں اور کار فرماں کی باہمی تشکیل سے بننے والا مرکب امیج، زبان کا پیرہن بدل کر بھی ترجمے کے فریم میں اپنا آپ دکھا رہا ہے۔ سورس ٹیکسٹ اور ٹارگٹ ٹیکسٹ کی شعری تصویر کے مجموعی رنگ میں کچھ فرق ضرور ہے، اور یہ فرق دونوں زبانوں کی الگ لسانیاتی ساخت کا ہے، جسے کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔

مجھے نہیں اندازہ کہ اگر اس زمانے میں مرزا غالب ہوتے تو وہ کس انداز میں انور حسین سید کو اس شعر کے ترجمے پر داد دیتے۔ لیکن ایک قیاس ہے کہ وہ گلوب پر انگریزی زبان کی اہمیت دیکھتے ہوئے، اپنی اردو شاعری کے اس انگریزی شعری ابلاغ پر، خوش ہوتے ہوئے یہ شعر ضرور پڑھتے : بزم شہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا / رکھیو یارب یہ در گنجینہ گوہر کھلا

بہرحال غالب کے مذکورہ شعر کے پنجابی اور انگریزی ترجمے کو دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ شاعری کے تراجم ممکن ہیں لیکن کسی مترجم کا یہ دعویٰ کہ وہ کسی شعری متن کو سو فی صدی سورس ٹیکسٹ کے مطابق ٹارگٹ ٹیکسٹ میں منتقل کر سکتا ہے، بالکل غلط ہے۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے انور حسین سید کے ترجمہ شدہ ایک شعر کا تقابل مائیکل آر برچ کے ترجمے سے کر کے دیکھتے ہیں۔ غالب کا شعر ہے : ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن / خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

پہلے مائیکل آر برچ کا ترجمہ دیکھیے اور پھر انور حسین کا۔
While you may not ignore me
I ’ll be ashes before you understand me.
I submit that slackness
You will not show;
But dust will be I
’ Fore you come to know.

ان تراجم میں مترجمین اصل متن کے نزدیک ہیں لیکن کئی اعتبار سے انور حسین سید کا ترجمہ بہتر ہے۔ لیکن ایک آنچ کی کمی اس میں بھی موجود ہے۔ اسی طرح غالب کا یہ شعر : سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں /خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں۔ اس شعر کے تین مترجمین ؛ رالف رسل، فرانسس پریچٹ اور انور حسین کے تراجم (ناموں کی اسی ترتیب کے ساتھ) دیکھتے ہیں۔

Where are they all?
Some bloom again as tulips or as roses
There in the dust how many forms
Forever lie concealed!
Hardly all! Some emerged in tulip and rose.
In the dust , what hidden faces will there be ?
Not all but a few
ڈسپلے ed themselves in the rose and the tulip
What shapes the dust hide
One can not descry?

یہ تراجم مفہوم کے اعتبار سے سورس ٹیکسٹ کے قریب ہوتے ہوئے بھی، الفاظ کی ترتیب و تشکیل اور انتخاب میں ایک دوسرے سے دور ہیں۔ اصل کے قریب کون سا ترجمہ ہے؟ اس سوال کا جواب شاید ہمیں انور حسین سید کے دیباچے کی ان سطور سے مل سکے۔ ”غالب، قاری کے لیے بالعموم اور مترجم کے لیے بالخصوص ایک مشکل شاعر ہے۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اس کا اسٹائل اور ڈکشن ناہموار ہے۔ اس کی ذہانت، مزاج، اور ( لرننگ) کی عادت اسے مشکل بنا دیتی ہے۔ غالب کی امیجری کو انگریزی میں ترجمہ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ تاہم ہر مترجم اپنی مہارت کے مطابق کام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ترجمے میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ہر دور کو اپنے مترجم پیدا کرنے چاہیں۔ “

ترجمے کے ضمن میں انور حسین سید کی بیان کردہ مشکلات سے انکار نہیں، لیکن انھوں نے ”دیوان غالب“ کی بیشتر غزلیات اور اشعار کے تراجم ایسے کیے ہیں جو لسانی دقتوں کے باوجود خوبصورت ہیں، اور ”وفا داری بہ شرط استواری“ کے اصول کو نبھا رہے ہیں۔ مثلاً ان دو اشعار کے تراجم دیکھیے : ( 1 ) ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے / اک شمع ہے دلیل سحر سو خموش ہے ( 2 ) نے مژدۂ وصال نے نظارۂ جمال /مدت ہوئی کہ آشتی چشم و گوش ہے۔

In my dark and dreary house
Gloom and sorrow rule.
The only lamp which stands for morning
Is also dumb and mute.
No News of meeting,
No display of beauty .
Long since the ear and eye
Have been in peace and amity .

آخر میں بس اتنا کہنا ہے کہ تراجم کی ایسی دلکشی کے باوصف، جن کے خمیر میں اردو شاعری کا آہنگ ہے، وہ شاید، اصل متن کی نسبت، تراجم سے مکمل حظ نہیں اٹھا سکتے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اردو زبان اور شاعری سے نابلد، جن کے لیے یہ تراجم کیے جاتے ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں۔ لمبیتھ (lambeth) کالج آف لندن کی سابق پروفیسر جینٹ جونز جو اس ترجمے کے دوران انور حسین کی راہنما رہیں۔ وہ پہلے والیم کے پیش لفظ میں لکھتی ہیں۔ ”پروفیسر کا ترجمہ ہمیں غالب کی شاعری کی وسعت اور لیرس ازم کا ایک فہم فراہم کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ میرے معاملے میں مغربی پس منظر (رکھنے ) اور اردو سے عدم واقفیت کے باوجود۔ “

Facebook Comments HS