چین سے تعلقات میں ذمہ دارانہ رویہ درکار ہے


وقت کی رفتار بجلی کی کڑک کی مانند ہوتی ہے کہ پل بھر میں احساس دلا کر اگلی منزل اختیار کر لیتی ہے ابھی کل ہی کی بات محسوس ہوتی ہے جب سینٹر مشاہد اللہ خان کے ساتھ قہقہوں بھری ملاقاتیں اسلام آباد ہویا لاہور میں ان کی آمد پر، زندگی کا ایک لازمی حصہ تصور ہوتی تھی مگر اب سال ہونے کو آ گیا، کیا رفتار ہے زمانے کی، ان کی صاحبزادی کی شادی کی تقریب میں محفل میں حاضر لیکن خیالوں میں گم، اپ نے اس بزرگ مرحوم دوست سے جڑی یادوں میں غرق رہا ان کے گھر خوشی کی تقریب نظریں ان کو ہی تلاش کر رہی تھی کہ جن کی تلاش اب صرف یادوں کے خزانے میں ہی ممکن ہے۔

ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ ان کی صاحبزادی کو رخصت کیا۔ اس شادی کی تقریب میں بھی موضوع سخن بہرحال سیاست ہی رہنا تھا۔ عمران خان چین سرمائی اولمپکس کی تقریبات کے سلسلے میں روانہ ہو رہے ہے اور اس بات پر دوست احباب بہت پریشان تھیں کہ اب چین سے بھی تعلقات اس نوعیت پر آ موجود ہوئے ہیں کہ وہاں پر جانے کے لیے بھی کوئی بہانہ اور بہانہ بھی ایسا کہ جس سے میزبان انکار نہ کر سکے درکار ہوتا ہے۔ ہاں سرمائی اولمپکس کی بدولت وہاں پر جانے کا موقع مل رہا ہے۔

سرمائی اولمپکس کے انعقاد کی امریکہ مخالفت کر رہا تھا جو چین کے لئے موجب پریشانی کا باعث تھا مگر اب امریکہ اس موقف سے پیچھے ہٹ گیا ہے ویسے بھی چین، بیجنگ کو یہ اعزاز حاصل ہونے جا رہا ہے کہ وہاں پہلے سمر اولمپکس ہوئے اور اب ونٹر ہو رہے ہیں مگر اس وقت وطن عزیز کے لیے سفارتی طور پر شدید بحران کی یہ کیفیت ہے کہ ہم تمام تر کوششوں اور عمران خان کے اپنے انٹرویو کے باوجود بھی جو بائیڈن سے ٹیلی فون کال کروانے میں ناکام رہے۔

چلو امریکہ سے بگاڑ اگر اس حد تک ہو چکا ہے تو معاملات کم از کم اپنے ہمسایہ چین سے تو مزید بہتری کی جانب گامزن ہونے چاہیے تھے کیونکہ 2015 کے سی پیک کے معاہدے کے بعد تو اس میں معاشی جہت بھی آ گئی ہے مگر اس معاشی جہت کو تعلقات کی مضبوطی کی بجائے باہمی عدم اعتماد کا ذریعہ 2018 میں تبدیلی کے وقوع پذیر ہونے کے بعد سے بنا دیا گیا ہے۔ پہلے بھی گزارش کر چکا ہوں اور دوبارہ دہراؤں گا کہ چینیوں کے لئے جہاں پر سی پیک کو نقطہ انجماد پر پہنچا دینا شدید باعث تشویش ہے وہیں ان کے لئے شدید حیرانی کا باعث ہے کہ چینی کمپنیوں کو ان کی واجب الادا رقم کیوں ادا نہیں کی جا رہی ہے؟ کاروبار بھلا آگے کیسے بڑھے گا؟

اگر یہ کسی اور کی خوشنودی کی غرض سے کیا جا رہا ہے تو ادھر سے بھی ٹھینگا ہی دکھایا جا رہا ہے دونوں کو ناراض کر کے کیا حاصل کیا جانا مقصود ہے یہ ایک ایسا معمہ ہے کہ جس کا جواب اس وقت کسی کے پاس موجود نہیں ہے۔ چین میں صرف تمام مہمانوں کے ہمراہ مشترکہ فوٹو سیشن کے حوالے سے رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔ ورنہ ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ ملاقات بھی ون ٹو ون کر سکے۔ اب اس ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کے لیے ان کی اعلی ترین شخصیت سے ون ٹو ون ملاقات ممکن ہو سکے اور اپائے سوچے جا رہے ہے۔

یہ بات طے شدہ ہے کہ پاکستان کے عوام اپنے اداروں سے محبت کرتے ہیں جس کے سبب سے دنیا میں ان اداروں کو پاکستان سے معاملات کرنے کے لئے اہمیت حاصل ہے۔ ان کو ساتھ لے جا کر ممکنہ ناکامی کا، بے قدری کا تنہا خود کو مورد الزام ٹھہرائے جانے سے بچنے کے لئے حربے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ یہ امر از حد تشویش ناک عمل ہے بہرحال اگر قومی سلامتی کے امور پر اتنی سمجھ بوجھ ہوتی تو حالات کو اس نہج پر صرف ایک شخصیت کی دشمنی میں کیوں پہنچایا جاتا حالاں کہ پاکستان نے داسو ڈیم سانحہ کے چینی متاثرین کے لئے رقم بھی اعلان کی ہے مگر اس سے بھی امید نہیں کہ وہاں سے اعتماد سازی میں مدد ملے گی کیوں کہ تاثر یہ ہے کہ یہ صرف دباؤ کے تحت ہو رہا ہے۔

عالمی برادری میں پاکستان کی اہمیت تسلیم شدہ ہے مگر اب یہ بھی طے شدہ ہے کہ وہ موجودہ حکومت سے بات کرنے میں دل چسپی نہیں رکھتے بلکہ حالات سدھارنے کے لئے پاکستان میں جلد انتخابات جو مسلمہ جمہوری طور پر منعقد ہو کہ منتظر ہیں تا کہ پاکستان کی منتخب حکومت سے گفتگو کی جا سکے جس کی ساکھ بھی ہو۔ ہم سے تو اس وقت افغانستان تک بات نہیں کر رہا ہے۔ دوست تو بھارت سے بھی سیاچن پر معاملات طے کروانا چاہتے ہیں کوشش میں بھی مصروف ہے مگر حکومت کی نمائندہ حیثیت کے سامنے لگا سوالیہ نشان اس کے بھی آڑے آ رہا ہے۔

ویسے اس وقت دنیا میں چین سے جڑے اور معاملات بھی زیر بحث ہیں جیسے کہ فرانس کی پارلیمنٹ نے چین میں ایغور مسلمانوں کے حوالے سے قرارداد پاس کی ہے۔ چینی دوستوں سے پاکستان میں یا چین میں جب کبھی ملاقات رہی ان سے ہمیشہ یہ گفتگو کی کے چین کو اپنی قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کی غرض سے درکار ہے کہ ایغور مسلمانوں کے علاقے کو دنیا کے لیے کھول دے تا کہ دنیا دیکھ سکیں کہ چین کیا اقدامات اٹھا رہا ہے اور شہریوں میں سے کسی بھی گروہ سے امتیازی سلوک کرنے کی پالیسی پر کاربند نہیں ہے۔ ورنہ انسانی حقوق کی بنیاد بنا کر اس مسئلہ پر پوائنٹ سکورنگ ہوتی رہے گی حالانکہ دنیا کے سامنے اس سے بڑے اور عالمی امن کے لیے باعث خطرات مسائل کشمیر اور فلسطین کی صورت میں موجود ہیں۔ مگر دنیا اس پر خاموش ہیں نا صرف اس پر خاموش ہے بلکہ یہ بھی خواہش ہے کہ سب کے سب دنیا میں ہونے والے واقعات کو صرف ان کے چشمے سے دیکھے جیسے ابھی حال ہی میں ہولوکاسٹ کے حوالے سے اقوام متحدہ میں قرارداد کا معاملہ درپیش رہا۔

ہولوکاسٹ کے حوالے سے جو کہانی، جو اعداد و شمار بیان کر دیے گئے ہیں ان کو حتمی تسلیم کیا جائے اور ان تصورات کے برعکس کسی بھی قسم کی تحقیق پر مکمل طور پر پابندی ہونی چاہیے تاکہ جو تاریخ، جو واقعات دنیا کو پڑھا دیے گئے ہیں ہر نسل وہی پڑھتی رہے اور کمال کی بات یہ ہے کہ ما سوائے ایران کے سب دنیا اس قرار داد کے ساتھ رہی۔ حالانکہ جس واقعے کو تسلیم کروانے کی غرض سے قانون سازیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے طاقت کا استعمال ہوتا ہے اس سے یہ امر طے شدہ ہوتا ہے کہ وہاں پر کچھ نہ کچھ گڑبڑ گھوٹالا ضرور موجود ہے۔ یہ معاملات کو مزید مشکوک بنا دیتا ہے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی ہے کہ یہودیوں یا کسی بھی قوم کی نسل کشی انتہائی قابل مذمت، قابل نفرین فعل ہے مگر یہ کس حد تک وقوع پذیر ہوا اس پر تحقیق کے دروازے بند کرنے کی کوشش بھی ناقابل قبول اور ناقابل فہم ہے خاص طور پر اس عہد میں جب دنیا میں میڈیا کی آزادی جمہوریت کا مسلمہ اصول ہو یہ علیحدہ بات ہے کہ ہمارے ملک میں بھی اس مسلمہ اصول کو بری طرح پامال کیا جا رہا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments