مہاتما گاندھی: ہندوستان کی جنگ آزادی کے رہنما کی باقیات امریکہ کیسے پہنچیں؟
امریکی ریاست کیلیفورنیا شاید انڈیا سے باہر واحد ایسی جگہ ہے جہاں واقع ایک مقدس مقام کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہاں مہاتما گاندھی کے جسد خاکی کی باقیات یعنی راکھ رکھی ہوئی ہے۔
سن سیٹ بولیوارڈ میں ایک روحانی مقام پر گاندھی ورلڈ پیس میموریل ہے اور یہ جگہ ہالی وڈ سے چند منٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسے سنہ 1950 میں پرمہنس یوگنند نے قائم کیا تھا۔ یہ سرسبز و شاداب باغات اور آبشاروں کے درمیان واقع ہے اور اس کے ایک جانب سمندر ہے۔
یہاں چین کے ایک قدیم پتھر کا تابوت ہے جس میں مبینہ طور پر مہاتما گاندھی کی راکھ پیتل اور چاندی کے ڈبے میں رکھی ہے۔
سنہ 1948 میں مہاتما گاندھی کی آخری رسومات کے بعد، ان کی راکھ کو 20 سے زائد حصوں میں تقسیم کر کے انڈیا کے مختلف حصوں میں بھیج دیا گیا تاکہ ملک بھر کے لوگ اُن کی موت پر سوگ منا سکیں۔ راکھ کے کچھ حصے ملک سے باہر بھی بھیجے گئے۔
’باپو کی راکھ کی بہت مانگ تھی‘
مہاتما گاندھی کے پڑپوتے تشار گاندھی کہتے ہیں کہ ’باپو کی راکھ کی بہت مانگ تھی۔‘ واضح رہے کہ مہاتما گاندھی کو عرف عام میں ’باپو‘ بھی کہتے ہیں۔
تشار گاندھی کا کہنا ہے کہ انھوں نے تقریباً 20 سال پہلے سُنا تھا کہ مہاتما گاندھی کی راکھ کو لیک شرائن پر رکھا گیا ہےلیکن جب تشار نے اس جگہ کی انتظامیہ ان سے رابطہ کیا تو انھیں اس بابت کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
تشار کہتے ہیں ’اسے (راکھ) رکھنا باپو کی خواہش کے خلاف ہے کیونکہ انھوں نے (مہاتما گاندھی) ایک بار کہا تھا کہ جب وہ اس دنیا میں نہیں رہیں گے تو اُن کی راکھ کو سنبھال کر نہ رکھا جائے بلکہ اسے ٹھکانے لگا دیا جائے۔‘
لیکن اب اس لیک شرائن کو چلانے والے سادھوؤں میں سے ایک ریتانند کہتے ہیں: ’ہم اپنے گرو کی قائم کردہ چیزوں کو ختم نہیں کر سکتے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ راکھ یوگنند کو تحفے میں ملی تھی اور جو لوگ اپنے وجود سے متعلق سوالات سے پریشان رہتے ہیں، انھیں اس سے سکون ملتا ہے۔
ریتانند کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے واقف ہیں کہ مہاتما گاندھی کے خاندان کے افراد نے ماضی میں راکھ کو واپس کرنے یا ٹھکانے لگانے کی درخواست کی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی راکھ والا ڈبہ نہیں دیکھا لیکن انھیں ایک ویڈیو یاد ہے جس میں یوگنند راکھ کو تابوت میں رکھتے ہیں اور پھر تابوت کو بند کر دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
گاندھی: ایک لاپروا نوجوان سے ’مہاتما‘ تک کا سفر
گاندھی کے سیکس کے بارے میں خیالات کیا تھے؟
گاندھی کا قاتل گوڈسے: جس کا ہندو قوم پرست آر ایس ایس سے تعلق آج بھی ایک راز ہے
اس کے علاوہ اس بات کا کوئی دوسرا ثبوت نہیں ہے کہ مہاتما گاندھی کی راکھ لیک شرائن کے ایک صندوق میں رکھی گئی ہے۔
یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ راکھ پونے میں مقیم پبلشر اور صحافی وی ایم نولے کے ذریعے وہاں پہنچی تھی جو کہ یوگنند کے دوست تھے۔
پرہنس یوگنند اور مہاتما گاندھی
پرہنس یوگنند کا اصل نام مکند لال گھوش تھا۔ وہ اُتر پردیش میں پیدا ہوئے، بعد میں وہ امریکہ چلے گئے اور یہاں لیک شرائن قائم کیا۔
ان کی سوانح عمری میں مہاتما گاندھی کے مغربی انڈین ریاست مہاراشٹر کے وردھا میں واقع آشرم کا ذکر ہے۔ انھوں نے اس آشرم کا مختصر دورہ سنہ 1935 میں کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی سے ملے اور انھیں اور آشرم کے دیگر لوگوں کے سامنے یوگا کے کچھ پوز کر کے دکھائے۔
انھوں نے مہاتما گاندھی کو ’ایک چھوٹے سے 100 پاؤنڈ کے سادھو‘ کے طور پر بیان کیا ہے جو ’جسمانی، ذہنی اور روحانی صحت سے مالا مال تھے۔‘
لیکن خود نوشت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وی ایم نولے کو گاندھی کی راکھ کہاں سے حاصل ہوئی۔ لیکن یوگنند کی سوانح عمری میں وی ایم نولے کے ایک خط سے یہ ظاہر ہوتا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ’گاندھی کی راکھ کے بارے میں، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ تمام اہم دریاؤں اور سمندروں میں بہا دی گئی۔ انڈیا سے باہر کچھ نہیں دیا گیا ہے ماسوائے اس راکھ کے جو میں نے بہت مشکل سے آپ کو بھیجی ہے۔‘
’یہ بات سچ نہیں ہو سکتی‘
تشار گاندھی کہتے ہیں کہ یہ بات سچ نہیں ہو سکتی۔ تشار نے ’لیٹس کِل گاندھی‘ نامی کتاب بھی لکھی ہے جس میں گاندھی کے قتل اور اس کے بعد کے حالات رقم ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’باپو کی راکھ کے کچھ حصوں کو سنہ 1948 میں صرف جنوبی افریقہ میں دریا برد کیا گیا تھا۔ آیا اسے سرکاری طور پر وہاں بھیجا گیا یا کوئی اسے اپنے ساتھ لے گیا، یہ ہمیں نہیں معلوم۔‘
تشار کہتے ہیں کہ ’میں نہیں جانتا کہ پرمہنس یوگنند کے لیے راکھ کس نے جمع کی اور بھیجی۔ کابینہ کے ارکان اور اس وقت کے نامور گاندھی وادیوں پر مشتمل ایک کمیٹی (راکھ تقسیم کرنے) کی ذمہ داری تھی۔‘
مہاتما گاندھی کی آخری رسومات کے بعد زیادہ تر راکھ کو الہ آباد میں دریا برد کیا گیا۔ الہ آباد میں مقدس دریائے گنگا ہے اور تریوینی سنگم ہے جہاں گنگا جمنا اور دیومالائی دریا سرسوتی ملتے ہیں۔ دریاؤں کے اس سنگم کو ہندو مقدس مانتے ہیں اور ہندو خاندان کے کئی افراد راکھ کو گنگا میں بہاتے ہیں، ایسا مانا جاتا ہے کہ راکھ کو مقدس دریا میں بہانے سے روح کو نجات ملتی ہے۔
مہاتما گاندھی ایک پرہیزگار ہندو تھے، وہ چاہتے تھے کہ ان کی راکھ اس طرح دریا میں بہا دی جائے۔
یہ بھی پڑھیے
گاندھی کو مذہب تبدیل کرنے سے کس نے روکا تھا؟
کیا گاندھی صرف کرنسی نوٹ یا سجاوٹی اشیا تک محدود ہو جائیں گے؟
لیکن ان کی راکھ کے تمام حصے کو دریا میں نہیں بہایا گيا۔ جسد خاکی کو نذر آتش کرنے کے بعد ان کے باقیات کو کئی جگہوں پر لے جایا گیا۔
سنہ 2019 میں انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے ایک شرائن سے مہاتما گاندھی کی راکھ کی چوری کی خبر سامنے آئی۔
تشار گاندھی کا کہنا ہے کہ راکھ کی باقیات کا کچھ حصہ تقریباً ایک دہائی قبل جنوبی افریقہ بھی لے جایا گیا تھا۔ ’میرے رشتہ داروں نے اسے خلیج ڈربن میں پانی کے سپرد کر دیا۔‘
اُن کا کہنا ہے کہ اس سے قبل گاندھی کے اہلخانہ کو راکھ کا کچھ حصہ ایک میوزیم میں ملا تھا۔ ایک انڈین تاجر جس کے والد مہاتما گاندھی کو جانتے تھے انھوں نے یہ دیا تھا۔ ان باقیات کو سنہ 2008 میں ممبئی میں سمندر میں بہا دیا گیا۔
تشار گاندھی کو ایک پریس رپورٹ کے ذریعے معلوم ہوا کہ مہاتما گاندھی کی راکھ سے بھرا ہوا کلش اوڈیشہ کے ایک بینک لاکر میں ایک سابق بیوروکریٹ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ ان باقیات کو سنہ 1997 میں تروینی سنگم میں بہا دیا گیا تھا۔
آغا خان محل میں مہاتما گاندھی کی راکھ موجود ہے
مہاتما گاندھی کی راکھ کا آخری حصہ پونے کے آغا خان پیلس میں ہے۔ یہ ان کی بیوی کستوربا کی قبر کے پاس سنگ مرمر کے ڈھانچے میں رکھا گیا ہے۔ کستوربا گاندھی کی آخری رسومات محل کے احاطے میں ہی ادا کی گئی تھیں۔
تشار گاندھی کا کہنا ہے کہ وہ ان وجوہات کو سمجھتے ہیں جن کی وجہ سے کچھ لوگ راکھ کی باقیات رکھنا چاہتے ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’جب میں نے تروینی سنگم (1997 میں) میں راکھ کو بہایا تھا، تو پیتل کے کلش (مرتبان) کو رکھنے کی خواہش پیدا ہوئی تھی۔ لیکن پھر میں نے سوچا، میں تو اسے ضرور احتیاط سے رکھوں گا، لیکن بعد میں اس کا کیا ہو گا؟ اگر اس کی مناسب دیکھ بھال نہیں ہوئی تو؟ اسی لیے میں نے اسے دہلی کے نیشنل گاندھی میوزیم کو عطیہ کر دیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ہر کسی کو مہاتما گاندھی کے ساتھ اظہار عقیدت کا حق ہے اور تشار گاندھی اس جذبے کا احترام کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ لیک شرائن راکھ کو محفوظ رکھے گی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگر اس کی کبھی بے حرمتی کی گئی تو گاندھی خاندان کو صدمہ پہنچے گا۔
وہ آخر میں کہتے ہیں کہ ’اس لیے میری درخواست ہے کہ ان کے جسد خاکی کے باقیات کو مناسب طور پر ٹھکانے لگا دیا جائے۔‘

