برطانیہ میں تھانیداری نہیں چلتی
ہماری گاڑی برمنگھم ائر پورٹ کی طرف رواں دواں تھی۔ میرا دور پار کا ایک رشتہ دار امتیاز شاہ مجھے ائرپورٹ پر چھوڑنے جا رہا تھا۔ سڑک پر آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھ کر میں سوچ رہا تھا پتہ نہیں کون سی ائر لائن کی فلائٹ ملے گی، کب ملے گی۔ پاکستان میں ائرپورٹ سے گاؤں کیسے پہنچوں گا۔ پاکستان جا کر گاؤں میں تنہا کیسے رہوں گا۔ دوستوں رشتہ داروں کو کیا جواب دوں گا کہ میں اکیلا کیوں واپس آیا ہوں۔ لوگ کیا کہیں گے، بڑا تھانیدار بنا پھرتا تھا اپنے بیٹوں نے اپنے پاس نہیں رکھا۔ ایسی ہی ہزار سوچیں میرے دماغ کو ماؤف کیے جا رہی تھیں۔ میرے اندر بھی بہت ٹوٹ پھوٹ ہو رہی تھی۔ اپنے سخت اور جارحانہ رویہ کے بارے میں سوچ سوچ کر اپنے اندر ہی اندر میں خود ہی شرمندہ ہو رہا تھا۔ میں تین ماہ قبل ہی برطانیہ اپنے بیٹوں کے پاس مستقل رہنے کے لیے آیا تھا اور اب پاکستان جا رہا تھا۔
پاکستان واپس جانے کی وجہ بتانے سے پہلے میں اپنے بارے میں آپ کو کچھ بتاتا ہوں۔ میں ایک سینئر ریٹائرڈ پولیس افسر ہوں۔ میری ساری نوکری تھانوں میں گزر گئی۔ نو جوانی سے ہی میں بڑا سخت مزاج اور اکھڑ سا بندہ تھا جو پولیس میں رہ کر اور ہی زیادہ کرخت ہو گیا تھا۔ میرے مقابلے میں میری شریک حیات ایک بڑی سیدھی سادی اور نیک خاتون تھی۔ اب اس کی بدقسمتی کہہ لیں کہ اس کو میرے جیسا اکھڑ اور سخت مزاج خاوند ملا اور میری یہ خوش قسمتی کہ مجھے اس جیسی نیک سیرت اور سمجھ بوجھ والی نیک خاتون مل گئی۔
میری سخت مزاجی کی وجہ سے سب خاندان والے مجھ سے ڈرتے تھے لیکن میری خاتون خانہ نے اپنی حلیمی اور نیک طبع سے برادری میں سب کو راضی رکھا ہوا تھا۔ پتہ نہیں کیوں اتنا سخت مزاج ہونے کے باوجود مجھے بیٹی کی بڑی شدید خواہش تھی لیکن ہمارے پہلے دونوں بیٹے ہوئے۔ دوسرے بیٹے کی پیدائش کے وقت آپریشن کی وجہ سے کچھ پیچیدگی ہو گئی۔ ڈاکٹر نے جب اسے بتایا کہ وہ اب وہ دوبارہ کبھی ماں نہیں بن سکتی تو خاتون خانہ بہت روئی کیونکہ اسے بھی بیٹی کی بہت چاہت تھی اور میرا بھی اسے پتہ تھا کہ مجھے بھی بیٹی کی بڑی آرزو تھی۔ مجھے بھی بہت افسوس ہوا لیکن قدرت کے کاموں میں کون دخل دے سکتا ہے۔
پولیس کی نوکری میں تو میرا زیادہ وقت تھانوں میں ہی گزرتا تھا۔ دونوں بیٹوں کی پرورش کی ذمہ داری میری بیوی نے سنبھالی اور بڑے اچھے انداز میں دونوں کی پرورش کی۔ میرا چھوٹا بیٹا میری طرح بڑا اکھڑ اور سخت مزاج کا نوجوان تھا لیکن بڑا بیٹا بہت سیدھا سادہ اور ماں کی طرح بڑا حلیم طبع تھا۔ خاندان والے کہتے تھے کہ بڑا تو ماں پر گیا ہے اور چھوٹا اپنے باپ پر ۔
میری بیوی کے زیادہ تر رشتہ دار برطانیہ میں آباد تھے جن میں اس کی ایک بڑی بہن اور دو بھائی شامل تھے۔ جب بیٹے بڑے ہوئے تو بڑے بیٹے کے لئے میرے بڑے برادر نسبتی نے اپنی بیٹی کے لئے رشتہ مانگا تو میری بیوی نے فوراً ہی ہاں کر دی۔ جب کہ میرا خیال تھا کہ میں اسے پولیس میں ہی بھرتی کرواؤں گا اور اس کی شادی بھی میں پاکستان میں ہی کرنا چاہتا تھا لیکن بیوی کی رضا مندی کی وجہ سے میں چپ ہو گیا۔ بیٹے کی شادی ہم نے بڑی دھوم دھام سے کی اور کچھ ہی عرصہ بعد وہ برطانیہ چلا گیا۔
اس کی بیوی برطانوی ماحول میں پلی بڑھی بڑی تنک مزاج تھی جب کہ بیٹا بڑا دھیمے مزاج کا بڑا سنجیدہ سا لڑکا تھا۔ برطانیہ جا کر اس نے کام کرنے کے ساتھ ساتھ کالج میں بھی داخلہ لے لیا اور بعد میں یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری مکمل کر کے وہ ایک فرم میں اچھے عہدے پر فائز ہو گیا۔ چھوٹے بیٹے کو میں نے پولیس میں اے ایس آئی بھرتی کروا دیا۔ خاتون خانہ سے میں نے اس کے لئے پاکستان میں ہی کوئی رشتہ دیکھنے کو کہا۔ انہی دنوں میری خواہر نسبتی اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان آئی ہوئی تھی۔
اس کی بڑی بیٹی کو ہمارا بیٹا پسند آ گیا تو میری خواہر نسبتی نے ہم سے بیٹے کا رشتہ مانگا۔ میری یہ خواہش تھی کہ بیٹے کی شادی پاکستان میں ہی کریں تا کہ ہمیں بڑھاپے میں کوئی سنبھالنے والا تو ہو لیکن بیٹے کو بھی اپنی خالہ زاد پسند آ گئی۔ دونوں ماں بیٹے نے مل کر مجھے بھی اس شادی کے لئے راضی کر لیا۔ چھوٹا بیٹا میرے بہت قریب تھا اس نے مجھے بڑی تسلی دی کہ ابا جان آپ کو کچھ نہیں ہو گا ہم پاکستان میں آپ کے ساتھ ہی رہیں گے۔ چھوٹے بیٹے کی شادی بھی ہم نے بہت دھوم دھام سے کی۔ کچھ عرصہ تو بیٹا بیوی کے ساتھ پاکستان میں رہا۔ اس دوران بہو کا برطانیہ آنا جانا لگا رہا۔ لیکن پھر بیوی کی خواہش پر پولیس کی نوکری چھوڑ کر چھوٹا بیٹا بھی برطانیہ میں آباد ہو گیا۔
ہم دونوں میاں بیوی پاکستان میں اکیلے رہ گئے۔ میں تو دن بھر تھانہ میں مصروف رہتا لیکن بیوی بیچاری اکیلے گھر میں اکیلی رہتی۔ پھر اس نے عبادت میں اپنی مصروفیت ڈھونڈ لی۔ پولیس کی نوکری سے ریٹائرمنٹ کے بعد میں نے گاؤں میں ہی پرانا گھر گرا کر نیا گھر بنوایا۔ نئے گھر میں رہتے ہمیں تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا کہ سردیوں کی ایک رات بیوی کو سینے میں شدید درد اٹھا۔ رات کو گاؤں کے ڈسپنسر سے ہی دوائی وغیرہ لی لیکن آفاقہ نہ ہونے پر صبح سویرے میں اسے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے گیا۔
ڈاکٹر نے شدید نمونیا بتایا اور ہسپتال میں داخل کر لیا۔ وہ نیک بخت نمونیا سے جانبر نہ ہو سکی اور تین چار دن کے اندر ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔ دونوں بیٹے اس کی وفات پر پاکستان آئے۔ بڑا بیٹا اور بہو تو پندرہ دن رہ کر واپس چلے گئے کہ بچوں کے سکول کا ہرج ہوتا ہے۔ لیکن چھوٹا بیٹا اور اس کے بچے چھ ماہ میرے پاس رہے۔ اس کے دونوں بیٹے ہر وقت میرے ساتھ چمٹے رہتے۔ بڑا بیٹا احمد جب بھی مجھے حقہ پیتے ہوئے دیکھتا تو بڑا حیران ہوتا کہ بابا یہ کیا گڑ گڑ کر رہے ہیں۔
چھوٹی بہو ایک باپ کی طرح میرا بہت خیال رکھتی لیکن خاتون خانہ کی اچانک وفات کی وجہ سے مجھے بہت بڑا صدمہ ہوا جس سے میں ابھی تک سنبھل نہیں پایا تھا۔ تین چار ماہ گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ ایک دن بیٹے نے پوچھا کہ ابا جان میں کچھ عرصہ کے لیے برطانیہ جانا چاہتا ہوں کچھ معاملات نبٹانے ہیں۔ بچے یہاں ہی آپ کے پاس رہیں گے۔ اس کے جانے کے ایک ڈیڑھ ہفتے بعد میں نے دیکھا کہ بچے اپنے باپ کے بغیر اداس ہو گئے ہیں۔ میں نے ایک دن بہو سے پوچھا کہ بیٹی بچوں کی پڑھائی کا حرج ہو رہا ہے۔
اس نے کہا ابا جی کوئی بات نہیں دیکھ لیں گے۔ میں نے اسے کہا کہ بیٹا دیکھو! بچے بھی باپ کے بغیر اداس ہیں اور ان کی پڑھائی کا حرج بھی ہو رہا ہے تو آپ ان کو ان کے باپ کے پاس لے جاؤ لیکن وہ مجھے اکیلا چھوڑ کر جانے پر راضی نہیں ہوئی۔ تین ماہ بعد چھوٹا بیٹا پاکستان واپس آیا اور میرے لئے سپانسر بنوا کر لایا۔ میرا برطانیہ کا فیملی وزٹ ویزہ لگوایا اور مجھے بھی بچوں کے ساتھ برطانیہ لے آیا۔ میں برطانیہ میں پانچ ماہ ان کے پاس رہ کر پھر پاکستان واپس آ گیا۔ چھوٹا بیٹا تین ماہ بعد پاکستان آتا اور ایک ماہ رہ کر پھر واپس چلا جاتا لیکن اس دوران بڑا بیٹا اور بہو ایک دفعہ بھی پاکستان نہیں آئے۔ جب میں برطانیہ گیا تھا تو ایک ہفتہ بڑی مشکل سے ان کے پاس رہا تھا۔ بہو میرے حقہ پینے کی عادت سے بہت تنگ ہوتی تھی اور بچے اپنا کمرہ چھن جانے پر بہت تنگ ہوئے تھے۔
اس دفعہ مجھے اکیلے پاکستان رہتے ہوئے چھ ماہ ہو چلے تھے اس دوران چھوٹا بیٹا بھی نہیں آیا۔ ایک ملازم تھا جو گھر کو سنبھالنے کے علاوہ کھانا بھی پکاتا تھا۔ انہی دنوں میری بڑی بہو کی والدہ پاکستان آئیں۔ مجھے اس طرح اکیلے رہتے ہوئے دیکھ کر انہیں بہت رنج ہوا۔ میرے سامنے بیٹی کے بارے میں سخت سست کہا پھر برطانیہ واپس جا کر بھی اپنی بیٹی کو بہت ڈانٹا اور اسے پاکستان جانے کو کہا۔ بڑا بیٹا اور بہو پاکستان آئے، دو تین ہفتہ رہے۔
پھر بڑے بیٹے نے میرے لئے مستقل ویزے کا بندوبست کیا اور مجھے اپنے ساتھ برطانیہ لے گیا۔ اس کے بچے اب بڑے ہو گئے تھے۔ گو کہ اس کا چار بیڈ روم پر مشتمل گھر کافی بڑا تھا لیکن برطانیہ میں گھر چھوٹے ہی ہوتے ہیں۔ عموماً ہماری پاکستانی کمیونٹی دو یا تین کمروں کے چھوٹے چھوٹے گھروں میں قیام پذیر ہے۔ گھروں میں پرائیویسی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ بڑے گھروں کو سنبھالنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ بیٹے کے گھر میں بھی ایک کمرے میں دونوں میاں بیوی اور باقی تینوں میں تینوں بچے قیام پذیر تھے۔
ایک بیٹے سے اس کا کمرہ خالی کروا کر مجھے دیا گیا تو اس نے بہت شور مچایا۔ باپ نے اسے ڈانٹ کر چپ کروا دیا لیکن وہ دل سے مجھ سے ناراض ہو گیا کہ میری وجہ سے اس کا کمرہ اس سے چھن گیا ہے۔ میں حقہ پینے کا عادی تھا اور پاکستان سے اپنا حقہ اپنے ساتھ لے کر آیا تھا۔ میرا گھر باہر کہیں آنا جانا ہوتا نہیں تھا اور نہ ہی کسی سے کوئی واقفیت تھی سوائے ایک دور پار کے رشتہ دار امتیاز شاہ سے، جو ان کی گلی میں ہی رہتا تھا۔ میں سارا دن گھر کے فرنٹ روم میں بیٹھا رہتا یا کبھی کبھار اپنا حقہ اٹھا کر پیچھے باغ میں جا بیٹھتا۔ فرنٹ روم میں بیٹھ کر میرا حقہ گڑگڑانا بہو کو بہت برا لگتا تھا۔ وہ کہتی تو کچھ نہیں تھی لیکن آتے جاتے منہ ہی منہ میں کچھ بڑ بڑاتی ضرور رہتی تھی۔
ایک دن میں مکان کے پیچھے باغ میں حقہ کے لئے آگ سلگا رہا تھا تو میں نے بہو سے حقے میں پانی بھر کر لانے کو کہا۔ وہ پہلے ہی میرے حقہ پینے سے نالاں تھی، اس نے صاف انکار کر دیا اور کچھ سخت باتیں بھی سنا دیں جنھیں سن کر میرے اندر کا تھانیدار جاگ اٹھا۔ نتائج سے بے بہرہ میں نے اسے ایک تھپڑ جڑ دیا۔ وہ روتی ہوئی اندر چلی گئی اور میں بھی شرمندہ سا ہو کر باغ میں ہی بیٹھ گیا کہ یہ میں نے کیا کر دیا۔ شام کو بیٹا گھر آیا تو دونوں میاں بیوی کی اس بات پر خوب لڑائی ہوئی جو اس بات پر ختم ہوئی کہ میں اب ان کے ساتھ ان کے گھر میں نہیں رہوں گا۔ دونوں کے درمیان یہ طے ہوا کہ بیٹا دو دن بعد مجھے چھوٹے بیٹے کے پاس چھوڑ آئے گا جو دوسرے شہر میں رہتا تھا۔
اس کے بعد بیٹے نے مجھے بہت ڈانٹا کہ یہ برطانیہ ہے آپ نے بہو پر ہاتھ کیسے اٹھا لیا۔ اگر وہ پولیس کو بلا لیتی تو وہ آپ کو پکڑ کر تھانے لے جاتے۔ غصے میں اس نے بہت سی سخت باتیں بھی کہہ دیں۔ بہو پر ہاتھ اٹھانے پر دل میں پہلے ہی بہت ہی ندامت تھی لیکن بیٹے کے اس طرح سخت لہجے میں بات کرنے پر اپنے آپ پر اور زیادہ شرمندگی ہوئی اور میں نے رات کو ہی پاکستان واپس آنے کا پکا ارادہ کر لیا۔ صبح ہوئی تو بیٹا حسب معمول کام پر چلا گیا۔
میں نے ایک چھوٹے سے بیگ میں اپنے کپڑے رکھے۔ نیچے آ کر فرنٹ روم میں بیٹھی بہو سے اپنے کل کے رویہ کی معافی مانگی لیکن وہ کچھ نہیں بولی تو میں بیگ اٹھا کر باہر آ گیا۔ نہ اس نے مجھے روکا اور نہ ہی پوچھا کہ میں کہاں جا رہا ہوں۔ باہر آ کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ اب کیا کروں۔ امتیاز شاہ ہمارا ایک دور پار کا رشتہ دار اسی گلی میں چند مکان چھوڑ کر رہتا تھا۔ میں نے اس گھر کی گھنٹی بجائی وہ اتفاق سے گھر پر ہی مل گیا۔
اسے میں نے درخواست کی کہ مجھے ایک ایمرجنسی کی وجہ سے پاکستان جانا ہے وہ میرے لئے ائرپورٹ جانے کے لئے کسی ٹیکسی کا بندوبست کر دے۔ ان نے مجھے اپنے فرنٹ روم میں بٹھایا اور بیوی کو چائے بنانے کو کہا۔ مجھے پوچھنے لگا کہ کیا ایمرجنسی ہے۔ میں نے کہا یار مجھے ٹیکسی منگوا دو چھوڑو ان باتوں کو ۔ اس پر اس نے مجھ سے تیار ہونے کے لئے پندرہ منٹ مانگے اور کہا کہ وہ خود مجھے ائرپورٹ چھوڑ آتا ہے۔ اسے شاید میرے حالات کی کچھ سن گن تھی لیکن اس نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا اور نہ ہی اس کے بعد کچھ پوچھا۔ چائے پینے کے بعد وہ مجھے لے کر ائرپورٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔
ائرپورٹ پر پہنچ کر میں نے امتیاز سے کہا کہ وہ مجھے اتار کر چلا جائے لیکن اس نے گاڑی پارکنگ میں کھڑی کی اور میرے ساتھ ہی ائرپورٹ کے اندر آ گیا۔ وہ مجھے دو تین ایئرلائن کے کا ؤنٹر پر لے کر گیا لیکن ان کی کوئی بھی فلائٹ اس دن پاکستان نہیں جا رہی تھی۔ پھر وہ مجھے کہنے لگا کہ چلو کیفے ٹیریا میں چل کر چائے پیتے ہیں پھر دوبارہ کسی اور ایئرلائن سے فلائٹ کا پتہ کرتے ہیں۔ میں نے ایک بار پھر اسے کہا کہ وہ واپس چلا جائے میرا کوئی بندوبست ہو جائے گا لیکن وہ نہیں گیا بلکہ مجھے ساتھ لے کر اوپر کیفے ٹیریا میں چلا آیا۔ مجھے ایک میز پر بٹھا کر خود وہ چائے لے کر آیا اور میرے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ اس نے کسی کو سامنے دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔ میں نے پوچھا کہ کون ہے تو اس نے جواب نہیں دیا بلکہ مسکرا دیا۔ میں نے یوں ہی مڑ کر پیچھے دیکھا تو میرا چھوٹا بیٹا، بہو اور ان کے دونوں بچے میرے ساتھ لپٹ گئے۔ میں ان کو دیکھ کر ایک دم حیران ہو گیا۔
احمد تو میرے گلے میں باہیں ڈال کر جھول گیا اور روتے ہوئے بولا، بابا جان آپ کہاں جا رہے ہیں، ہم آپ کو کہیں نہیں جانے دیں گے۔ بیٹا اور بہو بھی میرے گلے لگ کر روتے ہوئے کہنے لگے۔ ابا جان آپ بغیر بتائے ہمیں کیسے جا سکتے ہیں۔ مجھے بھی رونا آ گیا۔ میں جو اتنا سخت جان تھا بچوں کے گلے لگ کر رو دیا۔ امتیاز شاہ نے ساری صورت حال کا جائزہ لگا کر گھر سے ائرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے مجھے بتائے بغیر چھوٹے بیٹے کو فون کر دیا تھا اسی لئے وہ ڈربی سے سیدھے برمنگھم ائرپورٹ پر پہنچ گئے تھے۔
بیٹے نے انکل امتیاز کا شکریہ ادا کیا اور مجھے ائرپورٹ سے اپنے گھر لے آئے۔ بڑا بیٹا اور بہو بھی اب شرمندہ ہیں اور کافی دفعہ معافی مانگ چکے ہیں۔ لیکن اب میں ان کے پاس جانا چاہوں بھی تو احمد مجھے کہیں جانے نہیں دیتا وہ اب میرے پاس ہی سوتا ہے اور سکول سے واپس آ کر سب سے پہلے تسلی کرتا ہے کہ بابا گھر میں ہی ہیں۔ میری ساری تھانیداری اب ختم ہو گئی ہے اور اب میں بھی عام سا بے ضرر انسان ہوں۔


