سوشل میڈیا کا استعمال اور راہنما قرآنی اصول
آج کل مسلمانوں کی اکثریت سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہے۔ رویوں کی بے باکی، اسلوب کی بے فکری، بے ہنگم پیغامات کی بہتات، اس بات کی عکاس ہے کہ بغیر کسی رہنما اصول کے سب آتش نمرود میں کود گئے ہیں۔
ایسے میں ضرورت محسوس ہوئی کہ کچھ قرآن کے آفاقی اصولوں سے رہنمائی لی جا سکے تاکہ وہ ہماری زندگی کو صحیح سمت عطا کرنے میں معاون و مددگار بنیں۔
پہلا اصول مقصدیت پسندی ہے۔
قرآن کہتا ہے (افحسبتم انما خلقناکم عبثا) کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں عبث و بے مقصد خلق کیا ہے۔
طرز تخاطب سے ایسا لگتا ہے کہ انسان، زندگی کے کسی بھی موڑ پر بھی بے مقصدیت کا شکار ہو سکتا ہے۔
اسے چاہیے کہ اپنی زندگی ایک مقصد کے تحت گزارے۔ تمام تر آلات کا استعمال طے شدہ مقاصد کے حصول کے لیے کرے۔ سوشل میڈیا بھی اس قاعدے سے مستثنی نہیں ہے۔
سوشل میڈیا کو وقت دینے کا ایک عقلائی مقصد، ایک مضبوط لاجیک و دلیل ہونی چاہیے۔ دوسری صورت میں یہ سوشل میڈیا افسار گسیختہ ہو کر زندگی کو بے معنی کر سکتا ہے اور انجانے میں ہماری باگ ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہوگی۔
دوسرا اصول عقلانیت یا عقل پسندی ہے۔
قرآن نے ہمیں تعقل و تدبر و تفکر کی دعوت دی ہے۔ سوشل میڈیا پر آنے والے پیغامات کو
شیئر کرنے سے پہلے ضرور سوچیں کہ یہ پوسٹ کس مقصد کے تحت لکھی گئی ہے؟ اس کے ذی نفع (بینیفشری) کون ہیں اور اسے میں آگے کیوں شیئر کروں۔
تیسرا اصول وقت کی قدر سے متعلق ہے۔
ناچیز نے عرصہ قبل وقت کے چوروں پر ایک مضمون میں اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ ہمارا قیمتی وقت بہت سی چیزیں چوری کر کے لے جاتی ہیں۔ ایک اہم چور یہی سوشل میڈیا ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ زمانے کی قسم انسان خسارے میں ہے۔ زمانہ یا عصر، یہی وقت ہی تو ہے جسے انسان لٹا کر خسارہ کما رہا ہے۔
اس لیے اپنے ہر منٹ کے استعمال پر توجہ دیجیے کہ وہ کس لیے سوشل میڈیا کی نذر ہو رہا ہے۔
مجھے سوچنا چاہیے کہ سوشل میڈیا پر اپنی زندگی اور وقت لٹانے کے بدلے مجھے کیا مل رہا ہے۔
اور یہ بھی سوچنا چاہیے کہ میں جس پوسٹ کو آگے فارورڈ کر رہا ہوں، ممکن ہے میری وجہ سے ہزاروں آدمیوں کا وقت برباد ہو، تو کیا یہ پوسٹ واقعی اتنی اہمیت رکھتی ہے کہ اس سے ہزاروں لوگوں کا وقت لیا جائے؟
چوتھا اصول انصاف و عدل ہے۔
قرآنی دستور ہے کہ اپنے مخالفین کے خلاف بات کرتے وقت بھی عدل و انصاف سے کام لو۔ (لا یجرمنکم شنآن قوم علی ان لا تعدلو، اعدلوا)
سوشل میڈیا فکری بحث اور گفتگو کا ذریعہ ہے۔
آپ کا مخالف چاہے سیاسی، مذہبی، فکری، قومیتی کسی بھی روپ میں ہو انسان کی نفسیات جلد اس کے خلاف بات کو قبول کرتی ہیں۔ اس لیے اپنے مخالفین کے خلاف پوسٹ کرتے وقت بہت زیادہ سوچیں۔
عمومی طور پر دوران گفتگو، کمنٹ کرتے وقت، کسی بھی پوسٹ کو پھیلاتے وقت، غرض کسی بھی مرحلے میں انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔
پانچواں اصول «آگاہی »ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ علم رکھنے والے اور نہ رکھنے والے برابر نہیں ہیں۔
ہمیں علم و آگہی کے ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال کرنا چاہیے۔ یہ کہ کون سی پوسٹ کے ڈانڈے کہاں مل رہے ہیں۔ کون سی پوسٹ کس ڈسکورس کو تقویت دے رہی ہے۔
کس کے حق میں اور کس غرض سے بنائی گئی ہے۔ ہر چیز کا بغور جائزہ لے کر، آگاہانہ انتخاب کے بعد ہی اسے پھیلانے کی سوچیں۔
چھٹا اصول پوسٹ کی حیثیت کا تعین ہے۔
قرآن کہتا ہے (لا تجعلنی مع القوم الظالمین) یعنی اے پروردگار مجھے ظالم قوم کے ساتھ قرار نہ دے۔
کسی بھی پوسٹ کو شیئر کرتے وقت دیکھنا چاہیے کہ اس سے کسی پر ظلم و ستم کا پہلو تو نہیں نکلتا۔
کسی ظلم کو تقویت تو نہیں مل رہی۔ کسی ظالم کا ساتھ تو نہیں دیا جا رہا۔
ہمیں ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ اور مظلوم کا ساتھ دینا چاہیے۔
ظلم البتہ فقط معیشت و اقتصاد میں خلاصہ نہیں ہوتا، کسی پر تہمت، الزام، جھوٹ، کسی کے خلاف نفرت پھیلانا، کسی کا امن و سکون اجاڑنا سب ظلم ہی کے زمرے میں آتا ہے۔
ساتواں اصول حقیقت پسندی ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ (لا تقف ما لیس لک بہ علم)
ایسی چیز کے پیچھے مت جاؤ جس کا تجھے علم و اطمینان نہیں ہے۔
آج ہم ہزاروں ایسی پوسٹیں دیکھتے ہیں جن کے پیچھے محض گمان اور خیال کارفرما ہیں۔ نہ آگے کی خبر نہ پیچھے کا پتہ۔
بس جہاں سے جو چیز ملی اسے دوسروں کے ساتھ شیئر کر دیا۔
یہ طریقہ اسلامی نہیں ہے۔ اسلام فقط علم و اطمینان کی ثقافت کا خواہاں ہے۔ اسے وہم و گمان، تخمین و اندازہ گیری، محض خیالات و اوہام کے پھیلانے سے شدید گریز ہے۔ اس بارے میں مذمتی الفاظ کافی زیادہ ہیں۔ قرآن نے فرمایا۔ گمان کسی حق و حقیقت کی جگہ نہیں لے سکتا۔
وہ (کافر ) فقط گمان ہی کرتے ہیں اور اندازے لگاتے رہتے ہیں۔
گمان پر ترتیب اثر دینے والے معاشرے پراکندگی، ذہنی تشویش، تذبذب، استقامت کی قلت اور ارادوں کی کمزوری سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں علم و آگہی ہے، جو مضبوط دلائل و شواہد سے حاصل ہوتی ہے۔
آٹھواں اصول، استقلال پسندی ہے۔
قرآن بن سوچے تقلید کا مخالف ہے۔ اپنے آباء و اجداد سے لیکر، دوستوں، ہم نشین ساتھیوں اور کلاس فیلوز، غرض تمام حلقہ احباب تک سب کی آراء سے متعلق مستقل سطح پر سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔
قرآن میں قیامت کے ایسے مناظر کی بھی عکاسی موجود ہے جہاں دوست ایک دوسرے کو ڈانٹیں گے کہ ہم نے تمہاری پیروی کی۔ کوئی کہے گا (یا لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا) اے کاش فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔
کوئی کہے گا (انا اطعنا سادتنا و کبرائنا فاضلونا السبیلا) ہم نے تو اپنے بڑے بڑوں کی مان لی تھی، جو ہمیں غلط راستے پر لے گئے۔
ہمیں سوشل میڈیا پر واقعی خیال رکھنا چاہیے کہ کس کے زیر اثر جا رہے ہیں۔ اپنی سوچ کے مستقل استعمال پر کبھی پابندی نہیں لگانی چاہیے۔ اپنی افسار فہم کسی کے ہاتھ نہیں دینی چاہیے۔
تقلید کے مقابلے میں اسوہ حسنہ یعنی رول ماڈل اپنانے کا درس ہے۔ آج ہمیں بہترین رول ماڈلز کی ضرورت ہے۔ جو اخلاقی، سماجی، معیشتی، سیاسی اور انتظامی میدانوں میں عملی سطح پر کارکردگی دکھا کر اپنا امتحان زندگی پاس کر چکے ہوں۔ اگر ایسے ماڈلز نہیں ہیں تو پھر خود ہمیں ماڈل بننا ہو گا۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایسا ممکن ہے۔
نواں اصول عفت و پاکدامنی
قرآن اخلاقی برائیوں سے دوری کا خواہاں ہے۔ انہیں پھیلانا تو دور کی بات۔ سوشل میڈیا کا ایک استعمال منافی عفت فحش مواد پھیلانا ہے۔ اس سے مکمل دوری اختیار کرنی چاہیے۔ (والذین یحبون ان تشیع الفاحشہ فی الذین آمنوا لہم عذاب الیم) ۔ جو لوگ اسلامی سماج میں فحشاء پھیلانے کے خواہاں ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ بھلا اس سے دردناک عذاب کیا ہو سکتا ہے کہ انسان معاشرے کا مفید فرد بننے کے بجائے ایک ناکارہ عضو بن کر رہ جاتا ہے۔ البتہ آخرت کا دردناک عذاب اپنی جگہ باقی ہے۔
دسواں اصول اتقان و استحکام اور مضبوطی سے متعلق ہے۔
قرآن نے فرمایا، قولوا قولا سدیدا۔ ایسی بات کرو جو چٹان کی طرح مضبوط ہو۔ دلائل سے سرشار مضبوط بات کو سوشل میڈیا کی زینت بنانا مسلمانی شیوہ ہے۔ آج ہمیں ہر قسم کی بے دلیل پروپیگنڈا مہم اور بے بنیاد پوسٹیں فراوان دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
ہمیں اس شیوے سے گریز اختیار کر کے صرف اور صرف مضبوط دلیل کے ساتھ مدعا پیش کرنا چاہیے۔
گیارہواں اصول چشم پوشی اور عفوو درگزر کا ہے۔
فاصفح الصفح الجمیل۔ اچھے طریقے سے چشم پوشی کر لو۔
اعرض عنہم و توکل علی اللہ۔ منہ پھیر کر اللہ پر بھروسا کرو۔
کسی اپنے پرائے کا سخت کامنٹ، کوئی ناگوار بات، کسی کی غلطی، تنگ نظری یا کج روی کا جواب اسی جیسے طریقے سے نہ دے کر اچھے طریقے سے منہ موڑ کر سکوت اختیار کرنا یہ سوشل میڈیا کی اہم ضرورت ہے۔
کیونکہ جواب در جواب اور بات پر بات، جملے پر جملہ کسنے کی وجہ سے طرفین اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یوں اگر ایک آدمی شعوری بالادستی کا مظاہر کر کے اس رویے پر سکوت اختیار کرے، تو یہ دونوں کے حق میں بہتر ہو گا۔
یہ رہنما اصول ناچیز اپنی کم دانستگی کے باوصف قرآن سے استخراج کر پایا ہے۔ یقیناً مسائل کو مزید گہرائی سے دیکھ کر اس سے بہتر انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے۔
امید ہے کہ ان پر عمل پیرا ہو کر ہم اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لا سکیں گے۔


