مردوں کو بھی جنسی ہراسانی کا سامنا ہے


آفس میں داخل ہوا تو ٹیبل پہ دھری فائلیں میری توجہ کی منتظر تھیں۔ اتنے سالوں کی سروس میں کوئی بھی دن ایسا نہیں گزرا کہ کسی دن کام کم ہوا ہو۔

میں نے بیل دے کر پی۔ اے کو بلایا اور آج کے دن کے حوالے سے ضروری چیزوں کی ہدایات دیں۔ مجھے کام کے بیچ آفس میں ہی ایک کلاس بھی لینی تھی، اور اس سے پہلے چند ایمرجنسی سکین رپورٹس تیار کر کہ کاؤنٹر تک پہنچانی تھیں۔ کمپیوٹر سکرین اور پیشنٹس فائلز کو کھنگالتا میں اپنے کام میں مگن تھا جب موبائل کی سکرین پہ میسج چمکا۔ میں نے لاکڈ سکرین پہ میسج کا متن دیکھا اور فون واپس رکھ دیا۔ کوئی فی میل سٹوڈنٹ پوچھ رہی تھی کہ میرا پسندیدہ رنگ کون سا ہے۔

چند منٹ بعد پھر میسج چمکا۔ لکھا تھا کہ رنگ نہیں بتانا تو کلاس کی ٹائمنگ بتا دیں۔ میں نے پی۔ اے کو بلایا ”آپ نے ڈاکٹر صاحبہ کو کلاس کا ٹائم نہیں بتایا؟“ وہ سٹپٹایا وہ سر جی میں ابھی بتا دیتا ہوں۔ میں نے موبائل کی طرف ہاتھ کے اشارے سے کہا ”یہ مجھے ایک ایک کو میسج پہ کلاس کا ٹائم بتانے کی فرصت نہیں ہے۔ اسی لیے صبح آتے ہی آپ کو بلا کے ہا تھا کہ ایک کو بتا دیں تاکہ وہ خود ہی سب کو بتا دیں۔ اور یہ میرا نمبر کیوں دیا ہے ان کو؟

“ وہ پھر گڑبڑایا۔ سر وہ دو نے لیا تھا۔ مجھے تو نام بھی نہیں پتا۔ میں نے اسے چلتا کیا اور دوبارہ کام میں لگ گیا۔ سالوں سے میں اس ہسپتال میں کام کر رہا تھا۔ ہمارے پروفیشن میں پڑھنا اور پڑھانا روٹین کا لازمی جزو ہے۔ پڑھانا میرا شوق بھی ہے اس لیے ذمہ داری بھی خوب پڑتی ہے۔ وہ کہتے ہیں نا اسے چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد ہوا!

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میں بہت دل جمعی سے پڑھا رہا تھا لیکن فیمیل ڈاکٹرز سے مجھے اب کچھ جھجک ہونے لگی تھی۔ کچھ سالوں پہلے تک کی خواتین اور آج کی نوجوان نسل میں بہت فرق آ گیا ہے۔ پہلے ایسی بے باکی اور بلا وجہ بے تکلف ہونے والی خواتین نہیں تھیں۔ بس آج کل کی نسل ہی کچھ بے باک ہے۔ سوچ کے سر جھٹکا اور کام میں لگ گیا۔

شام ہوئی تو اپنے کلینک پہ بیٹھے اچانک میرے فون پہ پے در پے میسجز آنے لگے۔ بار بار بیل بجنے پہ میں نے دیکھا تو کسی پرانی فی میل سٹوڈنٹ کے کافی بے باک قسم کے میسج تھے۔ میں نے جان چھڑانے والے انداز میں اس کو فوری بلاک کیا اور کام میں لگ گیا۔

رات کو میں نے فون سائلنٹ کر دیا۔ اگلی صبح ناشتے کی ٹیبل پہ بیٹھے ایسے ہی فون کھولا تو میرا سر چکرا گیا۔ چند نا شناس نمبروں سے گنت واٹس ایپ میسجز تھے۔ میرے پاس پڑھنے یا ان کے بارے میں ٹینشن لینے کا وقت نہیں تھا۔ میں اپنے معمول کے مطابق ناشتا نہ کر پایا اور ہسپتال چل دیا۔ زیادہ وقت فون سائلنٹ بھی نہیں رکھ سکتا تھا تو رنگ ٹون آن کر دی۔ راستے میں اتنے میسجز کی بیپ بجی کہ مجھے الجھن ہونے لگی۔ اپنے آفس پہنچ کہ میں نے واٹس ایپ کھولا تو میرا حیرت اور پریشانی سے رنگ اڑ گیا۔ میرا واٹس ایپ انتہائی بے ہودہ میسجز، ویڈیوز اور تصاویر سے اٹا ہوا تھا۔ ایسے لگتا تھا سارے زمانے کی غلاظت میرے فون میں بھر آئی ہو۔ میں نے گھبرا کہ واٹس ایپ رنگ ٹون ہی بند کردی۔

سارا دن میں انتہائی بوکھلایا ہوا رہا۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے۔ شام کو بیوی بچوں نے بھی محسوس کیا کہ میں کچھ پریشان ہوں۔ ان کے پوچھنے پہ سر درد اور کام کی ٹینشن کا بہانہ بنا دیا۔ رات کو نیند نہ آ رہی تھی تو میں نے کچھ میسجز، جن میں تصویری مواد نہیں تھا، کھول کے پڑھے۔ میسجز میں صاف لکھا تھا کہ وہ کوئی لڑکی ہے جو مجھے اچھی طرح جانتی ہے۔ اس نے میری جاب، آفس، تدریسی سرگرمیاں بالکل ٹھیک ٹھیک بیان کی ہوئی تھیں۔ ان میں کھلی دھمکی تھی کہ اگر میں نے اس سے روابط نہ بڑھائے تو وہ میرے ہسپتال میں آفس آ کر مجھے جھوٹے الزام لگا کر بدنام کر دے گی۔

میں ایک درمیانی عمر کا، میڈیکل فیلڈ کا جانا مانا ڈاکٹر، جوان بچیوں اور بچوں کا باپ۔ جس نے سارے زندگی عزت ہی کمائی تھی، اس وقت حیرت، غم و غصے اور بے بسی کی تصویر نظر آ رہا تھا۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میرے ساتھ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ میرا دماغ بالکل ماؤف ہو چکا تھا۔

میں کس سے اس بارے میں ڈسکس کرتا؟ میری بیوی سے میری بہت اچھی دوستی تھی مگر آخر وہ بیوی تھی۔ اس کے دل میں شک نہ پڑ جاتا۔ کسی دوست سے بھی کیسے کرتا۔ میرے لیے یہ اتنی شرمناک بات تھی کہ منہ سے نکال نہیں سکتا تھا۔ میں بس نمبر پہ نمبر بلاک کرتا جا رہا تھا۔ اور سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اس کا حل کیا ہو گا۔

دو دن اسی ہیجانی کیفیت میں گزر گئے۔ میں فون آف رکھتا۔ ہر دو تین گھنٹوں بعد آن کر کہ ضروری میسجز وغیرہ دیکھتا اور پھر آف کر دیتا۔ لوگ مجھے میرے آفس کی لینڈ لائن پہ کال کرتے رہے کہ نمبر بند ہے۔ تیسرے روز میں آفس میں تھا کہ میری ایک پرانی دیرینہ سٹوڈنٹ مجھ سے ملنے آئی۔ وہ ہفتے دو ہفتے میں ایک بار ضرور مجھ سے ملنے آتی۔ وہ زندگی میں بہت سے مسائل سے گزری تھی اور اس نے اپنی محنت سے معاشرے میں بہت روشن اور عزت دار مقام حاصل کیا تھا۔ میرے ساتھ اس کا تعلق استاد اور طالبہ سے بڑھ کہ بڑے بھائی اور چھوٹی بہن کی طرح ہو چکا تھا۔ مجھ سے مشورہ کرنا اس کی عادت بھی تھی اور وہ میری بہت عزت کرنی تھی۔

اسے دیکھ کہ مجھے ایک امید جاگی کہ شاید وہ اس مسئلے پہ کچھ مدد کرسکے کیونکہ وہ خود اسی طرح کے حالات سے نکل کہ زندگی میں آگے بڑھی تھی۔ وہ مجھے جج نہ کرتی بلکہ victim سمجھتی۔ میں نے تمہید باندھی اور کچھ لگی لپٹی میں رکھ کہ اس سے ماجرا بیان کر دیا۔ میں اس وقت اتنا عاجز آیا ہوا تھا کہ مجھے فوری اس سب کا حل چاہیے تھا۔ اس نے کہا کہ آپ نمبرز دے دیں اور پریشان نہ ہوں۔ اس کا حل کرتے ہیں۔ اس کا کوئی جاننے والا FIA میں تھا شاید۔ میں نے اسے تمام نمبرز بھیج دیے اور امید باندھ کہ بیٹھ گیا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

اگلے ہی دن مجھے اس نے مجھے چند وائس میسجز بھیجے جو اس کے FIA میں جاننے والے بندے کے تھے۔ اس نے سب نمبرز پہ کالز کر کہ چیک کیا تھا اور آخر کار سراغ لگا لیا تھا کہ ماجرا کیا ہے۔ ایک تو کوئی بلیک میلر ریکٹ کے لوگ تھے۔ اور دوسرا ایک لڑکی تھی جو وہی میری پرانی طالبہ تھی جس کو میں نے چند دن پہلے نا زیبا میسجز پہ بلاک کیا تھا۔ اس سارے معاملے میں وہ میرے ذہن سے یکسر محو ہو چکی تھی۔ میں نے حیرانی سے وہ وائس نوٹ سنے۔

اس لڑکی نے گورنمنٹ لینڈ لائن ( 99 ) سے ایک افسر کی کال پہ ڈر کے سب بتا دیا تھا۔ کہ وہ مختلف نمبرز سے مجھے ہراساں کر رہی تھی اور اس نے اپنی کسی دوست کے توسط سے کسی بلیک میلر ریکٹ کو میرا نمبر دیا تھا جو فحش مواد بھیج کر بندے پہ جال ڈالتے ہیں اور جب وہ کوئی رپلائی یا کال وغیرہ کرے تو کچھ ثبوت بناتے ہیں۔ اور پھر ان کی بنا پہ اس کو بلیک میل کرتے اور پیسے اینٹھتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی اس لڑکی نے یہ بھی کہا کہ وہ بات ہی اتنے اچھے طریقے سے کرتے ہیں اور ہنس مکھ بھی ہیں تو لڑکی اشارہ ہی سمجھتی ہے۔

اس کے بعد اس شخص نے بھی یہی کہا ہوا تھا کہ ہو سکتا ہے تمہارے سر نے بھی تھوڑا بہت فلرٹ کیا اور بعد میں مکر گئے ہوں۔ بہر حال اس بندے نے ان سب کو ڈرا دھمکا دیا تھا کہ اب وہ کوئی بھی تنگ نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی مجھے اس سٹوڈنٹ کی کال بھی آ گئی جس نے یہ سب پتا کروایا تھا اور تسلی کرائی کہ سر آپ اس کی باتوں پہ نہ جائیں، میں آپ کو 10 سال سے جانتی ہوں اور آپ کی شرافت کی گواہ ہوں۔ اب کوئی آپ کو تنگ نہیں کرے گا۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور موبائل سے سب میسجز ڈیلیٹ کرنے لگا۔

میری جان تو چھوٹ گئی مگر میں یہ سوچنے پہ مجبور ہو گیا کہ ہراساں کیے جانا صرف عورت کے لیے ہی کیوں ممکن سمجھا جاتا ہے؟ میں اسی ڈر سے سائبر کرائم میں شکایت درج نہیں کروانا چاہتا تھا کہ آخری الفاظ سب کے یہی ہوں گے کہ میں نے اس لڑکی کو تھوڑا ہی سہی لیکن کچھ اشارہ یا کوئی غلط بات کہ ہوگی۔ عزت کمانا شاید اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اور ایک عزت دار شریف انسان کی عزت اچھالنا سب سے آسان!

جیسے خواتین ہراسانی سے پریشانی کا شکار ہوتی ہیں، ویسے مرد بھی ہوتے ہیں۔ جیسے انہیں خوف سے نیند نہیں آتی ویسے ہم بھی راتیں خوف سے آنکھوں میں گزار دیتے ہیں۔ جس طرح انہیں کسی سے ایسے معاملے کے بارے میں بات کرنے میں جھجک ہوتی ہے ویسے ہی ہم بھی گھبراتے ہیں۔ عزت اور شرافت تو سب کے لیے بہت قیمتی شے ہے، چاہے مرد ہو یا عورت۔ معاشرے میں مردوں کے لیے ہراساں ہونے کا تصور کیوں اچنبھے کا شکار ہے؟

اس taboo کا کوئی تو حل ہو گا کہ مرد بھی عورت کی طرح کھل کر اس بارے میں بات کر سکے۔ بغیر victim blaming کے اپنے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کا مداوا کر سکے۔ جو میرے ساتھ ہوا وہ اور بہت سوں کے ساتھ بھی ہوتا ہو گا۔ عورتوں کے لیے تو ایک me too موومنٹ چل نکلی ہے جس سے ان کو اس بارے میں آزادی سے بات کرنے کی ہمت ملی ہے۔ کاش کہ مردوں کے لیے بھی کوئی ایسی موومنٹ بنے جو انہیں ہراسانی کے بارے میں بات کرنے اور ہراساں کرنے والی عورت کو سزا دلوانے میں مددگار ہو!

Facebook Comments HS