قرآن کی اجمالی تصویر [تیسری قسط]
قرآن میں جتنے بھی واقعات آئے ہیں وہ سب حقیقی واقعات ہیں، تمثیلی اور علامتی نہیں ہیں۔ قرآن کے کردار بھی علامتی نہیں ہیں اور نہ ہی مقامات علامتی ہیں اور نہ ان اقوام اور افراد کے نام علامتی ہیں جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ اور یہ چیز قرآن کو ادب سے اور خاص کر افسانوی ادب سے الگ اور ممتاز کرتی ہے۔ قرآن میں تاریخی واقعات ہیں مگر ان کے تعلق سے زمانی اور مکانی تفصیلات نہیں ملتیں، یعنی وہ کس سن میں اور کس تاریخ میں واقع ہوئے اور ان کی جائے وقوع کیا ہے۔
اسی طرح قرآن میں مذکور افراد کی سوانحی تفصیلات بھی نہیں ملتیں، حتی کہ قرآن میں جن انبیاء کرام کا ذکر ہے ان کے تعلق سے بھی محض ان کے اخلاق و کردار، ایمان و عقائد اور عبادت و ریاضت کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔ اور یہ چیز قرآن کو تاریخ اور سوانح کی کتابوں سے ممتاز اور الگ کرتی ہے۔ قرآن اپنے اسلوب بیان کے اعتبار سے ادب کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے، بلکہ تمام مذہبی و غیر مذہبی مہا بیانیوں میں سب سے اعلیٰ و ارفع ادبی مہا بیانیہ ہے۔
قرآن کا اسلوب نظم و نثر کے مابین ہے۔ نہ وہ فنی اعتبار سے مکمل نظم ہے اور نہ ہی محض سادہ مگر دلنشیں نثر ہے۔ اس کے بعض حصوں پر آزاد نظم کا گمان ہوتا ہے۔ مگر وہ شاعرانہ اسلوب، استدلال اور شاعرانہ لب و لہجے سے الگ اور مختلف ہے۔ قرآن کے لیے ’مقامات‘ کا سا اسلوب کسی طور پر بھی موزوں نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہی فقہ اور قانون کی کتابوں جیسا اسلوب قرآن کے لیے مناسب ہو سکتا تھا باوجودیکہ قرآن کا ایک حصہ احکام و قوانین اور اخلاق و آداب پر مشتمل ہے۔
اسی طرح قرآن کا اسلوب عام تنقیدی اسلوب سے بھی مختلف ہے، پیچیدگی اور ابہام جس کی ایک بڑی صفت ہے۔ قرآن کا اسلوب صحافت سے متعلق بیشتر اصناف جیسے، نیوز، کالم اور دیگر صحافتی مضامین سے بھی مختلف ہے، اسی طرح مزاحیہ ادب کا اسلوب بھی قرآن کے اسلوب سے بہت مغائرت رکھتا ہے۔ دراصل قرآنی اسلوب پر تخلیقیت غالب ہے اور پوری طرح غالب ہے، اور اسی لیے ایسا ہے کہ قرآن کے اسلوب پر آزاد نظم کا گمان گزرتا ہے۔ خاص کر قرآن کے آخری حصے میں درج کی گئی سورتوں کے اسلوب پر ۔
قرآن کا متن صحت کے اعتبار سے دنیا کے کسی بھی متن سے زیادہ مستند اور آتھینٹک AUTHENTIC ہے۔ قرآن کے حاملین کا دعوی تو یہ ہے کہ قرآن میں آج تک ایک حرف بھی نہیں بدلا گیا اور وہ اپنے اس دعوے میں پوری طرح حق بجانب ہیں، اب یہ دعویداری جدید تحقیقات کے نتیجے میں مزید متحقق ہوئی ہے۔ قرآن جیسا کہ خود محمدﷺ کے زمانے میں موجود تھا آج بھی یعنی چودہ سو سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اسی طرح موجود ہے، من و عن اور ہو بہو۔
حالانکہ پرنٹنگ پریس اور الیکٹرانک آلات کی سہولت اور بہتات کے زمانے میں بھی جو کتابیں لکھی جاتی ہیں، وہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ بدل جاتی ہیں بلکہ چند سال بعد تقریباً ہر کتاب کا تصحیح اور اضافہ شدہ ایڈیشن مارکیٹ میں آ جاتا ہے، حتی کہ جدید دنیا کے مختلف ممالک میں جو دستور constitutionsبنے ہیں ان میں بھی آئے دن حذف و اضافے ہوتے رہتے ہیں۔ مگر اللہ کی کتاب قرآن میں نہ کوئی حذف ہے اور نہ کوئی اضافہ۔
دنیا کی کسی بھی کتاب نے یا اس کے مصنف نے اپنی کتاب کے اعلی، مستند اور مکمل ہونے کا اعلان نہیں کیا، نہ خود مصنف نے کیا اور نہ ہی قارئین کی طرف سے کسی کتاب کے تعلق سے ایسا کوئی دعویٰ کیا گیا، مگر قرآن نے بذات خود اپنے مستند اور مکمل ہونے کا دعوی کیا بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ قرآن نے ان لوگوں کو جو یہ سمجھتے اور کہتے تھے کہ قرآن کسی انسان کی تصنیف ہے، اللہ کی نہیں، براہ راست اور کھلا چیلنج دیا کہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی کتاب کوئی انسان بھی لکھ سکتا ہے تو وہ خود قرآن جیسی کوئی کتاب لکھ کر دکھائیں، اگر پوری کتاب نہیں لکھ سکتے تو ایک سورت (چیپٹر) ہی لکھ لائیں اور اگر ایک سورت بھی نہیں لکھ سکتے تو کم ازکم ایک آیت (Verse) ہی لکھ لائیں۔ مگر آج تک دنیا کے کسی بھی انسان کی طرف سے یہ چیلنج قبول نہیں کیا گیا، نہ کسی ادیب کی طرف سے اور نہ ہی کسی عبقری او ر جینیس ٹائپ کے انسان کی طرف سے۔
پھر قرآن نے یہ چیلنج جن لوگوں کے سامنے رکھا تھا وہ عربی زبان کے ماہر تھے، وہ ایک ہی نشست میں سو، دو سو اور ڈھائی تین سو اشعار پر مبنی قصیدے کہنے پر قدرت رکھتے تھے، وہ ہر طرح کے مضمون باندھ سکتے تھے، وہ خود بھی زبان پر مکمل گرفت اور مہارت رکھتے تھے اور اس وقت خود عربی زبان بھی اپنے وقت کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور زرخیز زبان تھی، انسانی زندگی سے لے کر انسانی نفسیات تک کوئی ایک گوشہ، خیال، جذبہ اور احساس ایسا نہیں تھا جسے یہ زبان بیان کرنے سے قاصر تھی۔
مستزاد برآں قرآن نے اپنے اس چیلینج کو بہت وسیع اور بے قید رکھا تھا، یہاں تک فرما دیا تھا کہ اگر ایک دو شخص ایسا نہیں کر سکتے تو پوری ایک جماعت یا گروہ بھی اگر اس چیلنج کو قبول کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ پھر بھی ان میں سے کسی فرد یا گروہ کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ قرآن کی آیتوں جیسی کوئی ایک آیت ہی لکھ کر دکھا دیتا۔ عربی زبان و ادب کے بعض ماہرین نے قرآن جیسی بعض آیات بنانے کی ناکام کوشش بھی کی مگر عاجزی اور نامرادی ہی ان کا مقدر ٹھہری۔ اور وہ تو ٹھہرنا ہی تھی۔ حالانکہ نمونے اور مثال کے طور پر خود قرآن اور دیگر آسمانی کتابیں موجود تھیں جنہیں سامنے رکھ کر یہ لوگ قرآن جیسی کوئی کتاب تیار کر سکتے تھے۔
سورہ ’مرسلات‘ کی درج ذیل ابتدائی آیات پر غور کریں۔ کیا کوئی انسان ایسی آیات بنا سکتا ہے؟ اور ایک انہی آیات پر کیا منحصر ہے قرآن کی سبھی آیات ایسی ہی ہیں۔
والمرسلات عرفاً ﴿1﴾ فالعاصفات عصفاً ﴿2﴾ والناشرات نشراً ﴿3﴾ فالفارقات فرقاً ﴿4﴾ فالملقیات ذکراً ﴿5﴾ عذراً او نذراً ﴿6﴾ انما تو عدون لواقعٌ ﴿7﴾ فاذا النجوم طمست ﴿8﴾ واذا السماء فرجت ﴿9﴾ واذا الجبال نسفت ﴿10﴾ واذا الرسل اقتت ﴿11﴾ لای یومٍ اجلت ﴿12﴾ لیوم الفصل ﴿13﴾ وما ادراک ما یوم الفصل ﴿14﴾ ویلٌ یومئذٍ للمکذبین ﴿15﴾
” قسم ہے ان (ہواؤں ) کی جو پے در پے بھیجی جاتی ہیں، پھر طوفانی رفتار سے چلتی ہیں، اور (بادلوں کو ) اٹھا کر پھیلاتی ہیں، پھر (ان کو ) پھاڑ کر جدا کرتی ہیں، پھر (دلوں میں خدا کی) یاد ڈالتی ہیں، عذر کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر ، جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے، پھر جب ستارے ماند پڑ جائیں گے، اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا، اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے، اور رسولوں کی حاضری کا وقت آ پہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہو جائے گی) ، کس روز کے لیے یہ کام اٹھا رکھا گیا ہے؟ ، فیصلے کے روز کے لیے، اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے؟ ، تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔“ (ترجمہ :مولانا مودودیؒ)
سورہ ٔمرسلات کی ابتدائی آیات میں جو الفاظ ہیں وہ اپنی لغوی عرفیت اور بول چال میں عمومیت کے لحاظ سے خواہ کتنے بھی سادہ قسم کے کیوں نہ ہوں مگر یہ الفاظ کسی بھی انسان کی زبان و قلم سے نہیں نکل سکتے تھے۔ کیونکہ کسی بھی انسان کو نہیں معلوم کہ ایک دن پہاڑوں، ہواؤں اور دریاؤں کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور اگر جدید سائنسی تھیوریز اور تجربات کی روشنی میں تھوڑا بہت معلوم بھی ہے تو یہ بھی بہت کم ہے۔ اور جب کسی انسان کو یہ معلوم ہی نہیں ہے تو وہ ایسا بیانیہ تخلیق بھی نہیں کر سکتا ہے، امیجری یعنی تخیلی طور پر بھی نہیں۔ یہ تو اسی اللہ وحدہ لاشریک کے الفاظ ہوسکتے ہیں جو کائنات کی ہر چیز کا خالق و مالک ہے اور اسے ہر چیز کے انجام اور اختتام اور پھر انجام و اختتام کی نوعیتوں کا بھی پوری طرح علم ہے۔ بلکہ اسی کے اپنے حکم اور اشارے سے یہ سب اعمال و وحوادث وقوع پذیر ہوں گے۔
زندگی ہے تو زندگی جینے کے دسیوں فلسفے بھی ہیں۔ اور زندگی جینے کا قرآن کا بھی ایک فلسفہ ہے، یہ فلسفہ کچھ اصول و ضوابط سے تشکیل پاتا ہے۔ اس میں سب سے بڑی چیز اللہ سے تعلق کی نوعیت ہے اور دوسری بڑی چیز انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کی نوعیتیں ہیں اور تیسری بڑی چیز اسلام کی اپنی اخلاقیات اور قدریں ہیں۔
موجودہ دنیا میں مسلمانوں کو دیگر اقوام کے خلاف متنفر اور متعصب باور کرایا جاتا ہے مگر قرآن جو فلسفہ ٔزندگی بتاتا اور دیتا ہے اس میں غیر مسلم اقوام کے لیے تعصبات نہیں ہیں۔ اسلام کو بلکہ کسی بھی مسلمان کو دنیا کے کسی بھی انسان سے کسی بھی طرح کی کوئی پریشانی نہیں ہے بشرطیکہ وہ امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزار رہا ہو، خواہ اس کا مذہب اور عقیدہ کچھ بھی ہو۔ ایک مسلمان دنیا کے ہر امن پسند انسان کا دوست ہو سکتا ہے اور اس کا خیرخواہ بھی۔
دنیا میں جو چیزیں بھی اپنی اچھی بری صفات اور نتائج کے ساتھ رونما ہو رہی ہیں، ایجادات ہو رہی ہیں اور تحقیقات ہو رہی ہیں، ان کے تعلق سے قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ ان میں جو کچھ بھی اچھا اور بہتر ہے وہ اسے لے لیں اور جو اچھا نہیں ہے اسے چھوڑ دیں۔ پھر اگر ایسا ہے کہ کوئی چیز یا عمل خود مسلمانوں کے لیے تو مضر اور برا ہے مگر عام انسانوں کے لیے اچھا اور مفید ہے تو وہ اسے لے سکتے ہیں اور اس پر عمل کر سکتے ہیں لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہے یعنی کوئی عمل یا چیز مسلمانوں کے اپنے لیے تو اچھی اور مفید ہے مگر دیگر انسانوں کے حق میں بری اور مضر ہے تو مسلمانوں کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ اسے چھوڑ دیں اور اس سے اجتناب برتیں۔
اس کی بہترین مثال سود ہے، ظاہر ہے کہ سود لینے والے کے لیے تو نفع کا ہی نفع ہے مگر سود دینے والوں کے لیے ہلاکت و بربادی ہے، اسی بات کو اقبال نے یوں کہا ہے ’سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجات‘ ۔ اور اس لیے مسلمان کو سود خوری سے منع کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس میں عام لوگوں کا اور بطور خاص غریبوں کا نقصان ہے۔
اگر کسی چیز یا عمل کو ساری دنیا درست مان رہی ہے لیکن اسلام میں وہ غلط ہے تو مسلمان کو اسے چھوڑ دینے کا حکم ہے، سود، رشوت، شراب اور جوا یہ سب چیزیں دنیا کی بیشتر آبادی کے نظر میں کچھ عیب نہیں ہیں۔ اور اب تو لوگ اور بھی کئی گھناؤنی چیزوں کو بھی اچھا سمجھنے لگے ہیں اور قانون میں ان کے لیے گنجائشیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ ہم جنس پرستی اس کی بڑی مثال ہے۔ تو دنیا ان چیزوں کو بھلے ہی اچھا اور بھلا سمجھے مگر اسلام اور مسلمانوں کی نظر میں ان میں کوئی بھی اچھائی اور کچھ بھی بھلائی نہیں ہے۔
یہی بات اس کے برخلاف اصول میں بھی اصل سمجھی جائے گی۔ یعنی اگر ساری دنیا کسی چیز کو برا سمجھے اور غلط کہے مگر وہ اپنی نہاد میں اچھی ہے اور انسانیت کے لیے بہتر ہے تو یہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے بھی اچھی اور بہتر ہے۔ دنیا خواہ کچھ بھی سمجھتی اور مانتی رہے۔
قرآن میں وہی ہے جو آپ تلاش کرنا چاہیں۔ قرآن سے آپ کو عزم و حوصلہ ملے گا اور پر پرواز ملیں گے، بشرطیکہ آپ قرآن میں یہ سب تلاش کرنا چاہیں۔ اگر قرآن کو کار ثواب سمجھ کر پڑھا جائے تو اس کا عوض ثواب ہے۔ قرآن کو اگر ہدایت پانے کے لیے پڑھا جائے تو اس میں ہدایت ہے اگر دنیا و آخرت کی زندگی کے حقائق جاننے کے لیے پڑھا جائے تو اس میں دنیا اور آخرت کی زندگی سے متعلق حقائق بھی موجود ہیں۔ اگر کائنات کے سربستہ اسرار و رموز سے پردہ ہٹانے کے لیے پڑھا جائے تو اس میں ایسا مواد موجود ہے جو کائنات کے سربستہ اسرار و رموز کو بے نقاب کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
غرض قرآن میں وہی ہے جو آپ اس میں تلاش کرنا چاہیں۔ قرآن ہشت پہلو کتاب ہے، اس میں جس پہلو سے بھی غور و فکر کیا جائے گا یہ اسی پہلو پر مبنی کتاب نظر آئے گی۔ اگر اسے فقہی نظر سے دیکھا جائے گا تو اس میں طہارت و نظافت اور عبادات کے تعلق سے مسئلے مسائل زیادہ نظر آئیں گے۔ لیکن اگر اسے سائنٹفک نظر سے دیکھا جائے گا تو اس میں جا بجا سائنسی اشارے بھی ملیں گے۔ اگر اس میں قوموں کے عروج و زوال کی کہانیاں تلاش کی جائیں گی تو پورا قرآن قوموں کے عروج و زوال کی داستان ہی نظر آئے گا۔
اگر اس میں اخلاق و آداب تلاش کیے جائیں گے یہ کتاب اخلاقیات کا سب سے اعلیٰ دستور نظر آئے گی اور اگر اس میں عبرت و موعظت کے واقعات کھوجے جائیں گے تو قرآن میں اس کی بھی کچھ کمی نہیں ہے۔ اگر دنیاوی اصول و مسائل کی جستجو ہوگی تو ان کی بھی بہتات ملے گی اور اگر اخروی نجات اور فلاح و کامرانی کے لیے رہنمائی طلب کی جائے گی تو قرآن کا دامن ایسے بے شمار عبرت و موعظت کے واقعات سے بھرا پڑا ہے۔
کچھ لوگ قرآن کو دوسری نظر سے بھی پڑھتے ہیں، یعنی ناقدانہ نظر سے اور قرآن میں خامیاں تلاش کرنے کی غرض سے، تو ایسے قارئین کے لیے قرآن میں نہ حوصلہ ہے نہ صبر ہے اور نہ ہی بلند عزائم ہیں۔ گرچہ ایسا بھی ہوا ہے کہ بعض لوگ قرآن کو اس لیے پڑھتے ہیں تاکہ اس میں غلطیاں نکالی جاسکیں، قرآن کے بیان کو سائنس کے خلاف بتایا جا سکے، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ بعض دفعہ ایسی قرات کا نتیجہ بھی ہدایت کی صورت میں نکلتا ہے۔
یعنی قرآن میں غلطیاں تلاش کرنے والے غلطیاں تو نہیں تلاش کر پاتے مگر ہدایت خود چل کر ان کے دل کے دروازوں تک پہنچ جاتی ہے اور کچھ اس انداز سے دستک دیتی ہے کہ پھر وہ اپنے دل کے دروازے چوپٹ کھولے بنا نہیں رہ سکتے۔ گرچہ قرآن کا صاف صاف اعلان ہے کہ قرآن سے صرف انہی لوگوں کو فائدہ پہنچے گا جو قرآن کو ہدایت پانے کے لیے پڑھیں گے۔ مگر ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں کہ قرآن میں خامیاں تلاش کرنے والے بھی راہ یاب ہو جاتے ہیں۔
قرآن سے بڑھ کر حوصلہ دینے والی اور امید جگانے والی کوئی دوسری کتاب نہیں ہو سکتی۔ قرآن کا سارا بیانیہ غیر طبعی (abnormal) حالات کے تانے بانے سے بنا ہوا ہے۔ اللہ مختصر سی مدت میں ضعف کو قوت میں اور قوت کو ضعف میں بدل دیتا ہے۔ حالات میں تبدیلی کی بات خواہ کتنی بھی مشکل اور ناممکن کیوں نہ نظر آتی ہو مگر اللہ کے اذن سے حالات بدل کر رہتے ہیں۔ زمانہ کبھی بھی یکساں نہیں رہا اور وقت کبھی بھی ایک ہی شخص یا قوم کے ہاتھ میں نہیں رہتا۔ قرآن اپنے ہر قاری کے اندر ایسا یقین پیدا کرتا ہے۔
قرآن ابتدائے آفرینش سے متعلق بھی بعض شواہد پیش کرتا ہے اور منتہائے کائنات پر بھی کلام کرتا ہے پھر اس کے بعد کیا کچھ ہے اور کیا کچھ ہونے والا ہے اس پر بھی بات کرتا ہے، اسی لیے ایسا ہے کہ قرآنی آیات کے درمیان صدیوں کا زمانی فاصلہ پایا جاتا ہے، مگر اسی زمانی فاصلے کا درست علم اور ادراک نہ ہونے کے باعث قرآن کے بیانات کی آفاقیت اور عالمگیریت کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا اور لفظوں کے مدلولات اور منتہائے مقصود تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے ۔
مثلاً قرآن میں آدم علیہ السلام کی تخلیق کا ذکر ہے، زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر ہے پھر ابلیس اور آدم و حوا کو زمین پر اتارے جانے کا ذکر ہے، اور انسان کو اس کا کچھ بھی حقیقی علم نہیں ہے کہ ان سب کے درمیان کتنا فاصلہ اور وقت ہے، پھر آدم علیہ السلام سے لے کر آخری نبیﷺ تک کتنا زمانی فاصلہ ہے، اس کا بھی حقیقی علم انسان کو نہیں ہے، البتہ قیاسات اور اندازے ہیں۔ اس لیے بھی قرآن کا بیانیہ انسان کی گرفت میں نہیں آتا۔
اسی طرح قرآن میں روح کا ذکر ہے اور انسان نہیں جانتا کہ روح کی حقیقت کیا ہے۔ نزول قرآن کے وقت یہ سوال انسانوں کے ذہن میں آیا تھا اور رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال پوچھا گیا تھا، مگر اللہ نے اپنی تکوینی و تخلیقی مصلحت کے سبب سے اس کا جو جواب دیا وہ بہت اجمالی جواب ہے۔ قرآن میں ہے :
ویسالونک عن الروح ۖ قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلاً ﴿الاسراء: 85 ﴾
” اے محمد! یہ لوگ آپ سے روح کی حقیقت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، تو انہیں بتا دو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت کم علم دیا گیا ہے۔“
جس طرح اللہ نے آدم و ابلیس کے تعلق سے بتایا کہ ان کی تخلیق کس اساسی عنصر سے ہوئی ہے خلقتنی من نارٍ وخلقتہ من طینٍ ﴿76﴾ اللہ نے روح کے تعلق سے ایسا کچھ نہیں بتایا، روح کے بارے میں بس اتنا ہی فرما یا کہ یہ اللہ کے اپنے اذن اور حکم سے ہے۔


