یوم یکجہتی کشمیر کا غوغا اور حقیقی تصویر


پانچ فروری 1989 سے ہر سال روایتی جوش و خروش مگر ہوش سے عاری رہ کر منایا جاتا ہے۔ یہ دن جماعت اسلامی کے سرخیل جناب قاضی حسین احمد کی تحریک پر سب سے پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت میں پہلے صوبہ پنجاب اور بعد میں سرکاری طور پر منایا جانے لگا۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد قاضی صاحب کشمیر کی مہم سر انجام دینے کے بعد لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کے خواہاں تھے۔ انہوں نے پاکستان بھر سے جذبۂ جہاد سے سرشار ”مجاہدین“ پہلے مظفر آباد اور پھر راولپنڈی میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں جمع کیے۔

بعد ازاں حالات و واقعات کے دھارے کا رخ مڑتا رہا اور 9 / 11 کے بعد تو پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا مگر ہم لکیر کے فقیر بنے ہر سال 5 فروری کو کوہالہ پل پر ہاتھوں کی زنجیر بناتے رہے اور ادھر اہل کشمیر غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہے۔ 5 فروری کے بعد 5 اگست 2019 بھی آ کر گزر گیا جب عملاً کشمیر کا سقوط ہو گیا اور ہمارے طاقت کے ایوانوں میں سکوت مرگ طاری رہا۔

ہم حد درجہ جذباتی قوم واقع ہوئے ہیں۔ مسئلۂ کشمیر کی آڑ میں وزارتوں کے مزے لوٹتے رہے اور پڑوسی ملک سے جھوٹی مبارزتیں طلب کر کے قوم کو طفل تسلیاں دیتے رہے۔ آج اگر مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب، چین اور ایران سمیت کوئی دوست ملک ہمارا ہم نوا و دم ساز نہیں ہے تو یہ دشمنوں کی ساز باز نہیں ہماری اپنی طاقت پرواز کی کوتاہی ہے۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان پر تو الزام ہے کہ وہ کشمیر کے جغرافیے سے ناآشنا تھے۔ جبھی تو انہوں نے بھارت کی پیشکش ٹھکرا دی تھی جس میں اس نے حیدر آباد اور جونا گڑھ کے بدلے کشمیر ہمیں دینے کی بات کی تھی۔ مگر بعد میں آنے والے مقدمۂ کشمیر کے ہمارے وکیل تو کشمیر کی تاریخ سے بھی نابلد نکلے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی موثر دلیل سے کشمیر کے مسئلے کی سبیل نہ نکال سکے۔

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ کشمیر کا مقدمہ ہم نے خود خراب کیا اور اب قدم قدم سراب کا سامنا ہے۔ ہندوستان کی آزادی کے وقت دو نہیں بلکہ تین ملک بنے تھے۔ بھارت، پاکستان کے علاوہ تیسرا ملک ریاست حیدر آباد تھا، جس کے سربراہ نے کسی ملک سے بھی الحاق کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ ریاست تیرہ ماہ تک خود مختار رہی مگر بعد میں 9 نومبر 1947 کو انڈیا اس پر قابض ہو گیا۔ ریاست جونا گڑھ میں اکثریت ہندووں کی تھی مگر راجہ مسلمان اور وہاں کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے والد سر شاہنواز بھٹو تھے، جنہوں نے پاکستان سے الحاق قبول کر لیا تھا مگر یہاں بھی انڈین فورسز نے 11 ستمبر 1948 کو حملہ کر کے اسے ہڑپ کر لیا تھا۔

ہندوستان کی سب سے بڑی اور فطری حسن سے مالا مال ریاست کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے 12 اگست 1947 کو معاہدۂ قامہ کے تحت پاکستان کے ساتھ الحاق کر کے 14 اگست 1947 کو آزادی کا جشن منایا، چراغاں کیا اور پاکستانی پرچم کو سلامی دی۔ معاہدے کے مطابق، ریلوے، خوراک اور مواصلات کا انتظام پاکستان کے پاس تھا مگر صرف ایک ماہ بعد ریل کی آمد و رفت اور خوراک کی ترسیل بند کر کے قبائلی حملہ کروا دیا گیا۔ مہاراجہ کے پاس انڈیا کے ساتھ الحاق کرنے کے سوا چارہ نہ تھا۔

اب سنیے کہ ہم نے اپنی حماقتوں سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے مسلمہ مسئلے کو دو طرفہ تنازعہ بنا کر کس طرح جگ ہنسائی اور رسوائی کا سامان کیا۔ بانیٔ پاکستان نے کشمیریوں کے لیے الحاق پاکستان و انڈیا کے علاوہ حق خودارادیت کا آپشن بھی تسلیم کیا تھا۔ 12 اگست 1948 کو یو این میں پیش کی گئی پہلی قرارداد بھی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتی ہے مگر جب 5 جنوری 1949 میں ہم نے نئی قرارداد پیش کی تو اس میں خود ارادیت کے بجائے کشمیر کے مسئلے کو دو ملکوں کے درمیان تنازعہ قرار دیا۔

اس کے بعد دسیوں قراردادوں میں ہم نے اسی موٴقف کا اعادہ کر کے کشمیر اور کشمیریوں پر ظلم کیا۔ رہی سہی کسر معاہدۂ تاشقند (1962) اور شملہ معاہدہ (1972) میں نکال دی۔ 62 میں چین بھارت جنگ کے دوران میں جنرل ایوب نے کشمیر کی آزادی کا نادر موقع ضائع کر کے الٹا انڈیا کو مشترکہ دفاعی معاہدے کی پیشکش کر دی۔

رہا یہ سوال کہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے تو اس غبارے سے یوں ہوا نکل گئی کہ خطبۂ الہٰ آباد سے قرارداد پاکستان تک کہیں بھی مسئلہ کشمیر کا ذکر نہیں کیا گیا۔ شاہ کے کچھ وفاداروں نے شہ رگ کا شوشہ چھوڑ کر رگ حمیت بیدار کرنے کی ضرور کوشش کی ہے مگر اس سے عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنا مشکل ہے۔ ہمارے مائی باپ پچھتر سال سے ہمیں کشمیر کی آزادی کا لولی پاپ دے رہے ہیں۔ جذباتی نعرے، ڈرامے، ڈائیلاگ، سیمینارز، سفارتی دوروں کا بھی خوب زور رہا ہے۔

ملی اور عسکری نغمے بھی ریلیز ہو رہے ہیں۔ اگلے مورچوں کے دورے اور مٹھائیوں کے تبادلے بھی ہوتے رہتے ہیں۔ آزادیٔ کشمیر کا سستا چورن اور جذبۂ جہاد کا منجن بھی بیچا جا رہا ہے۔ مگر کشمیر کی آزادی کی منزل ہر گام دور ہوتی جا رہی ہے۔ قومی ریاستوں کے دور میں کشمیر کی آزادی کے لیے عسکری مہم جوئی سراسر روسیاہی کا موجب بن سکتی ہے۔ رہا سفارتی حل تو وہ ہم یو این کے انسانی حقوق کمیشن میں پیش کی گئی قرارداد کے ضمن میں دیکھ چکے جس میں اپنے قریبی دوستوں کی حمایت سے بھی محروم رہے۔

ہم جب بھی کہیں کشمیر میں انسانی حقوق کی پائے مالی کا مسئلہ اٹھاتے ہیں انڈیا ہمیں بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کی بد ترین صورت حال اور لاپتہ افراد کے لواحقین کی گریہ و زاری کا آئینہ دکھا کر پسپا کر دیتا ہے۔ اس پر اصرار یہ کہ ہم کشمیریوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ بہت ہو گیا خدا کے لیے کشمیریوں کو اب اکیلا چھوڑ دیں، انہیں اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دیں۔ آپ ان کے لیے وکیل صفائی نہیں، وکیل صفایا کا کردار ادا کر رہے ہیں

Facebook Comments HS