کشمیر:اقوام متحدہ بھارتی مظالم پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے!


1947 ء اور 1949 ء کے درمیان بھارت نے کشمیر کے رجواڑے پر اپنا غیر قانونی تسلط قائم کرنا شروع کر دیا تھا 1950 ء کے بعد بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو آئینی طور پر بھارت کا حصہ بنانا شروع کیا۔ اور اس ضمن میں پانچ اقدامات اٹھائے گئے پہلا کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کے قیام کے ذریعے ایک نامزد حکومت کی تعیناتی ’دوسرا 1950 ء میں انڈین آئین میں شق 370 کی شمولیت‘ تیسرا 1952 ء میں نامزد حکومت اور انڈیا کے درمیان دلی معاہدے پر دستخط ’چوتھا 1957 ء میں کشمیر کے نئے آئین کا اطلاق اور 1939ئکے پرانے آئین کو ختم کرنا اور پانچواں 1975 ء میں اندرا شیخ معاہدے پر دستخط شامل تھے۔

1950 ء میں انڈین آئین عمل میں آنے کے بعد آرٹیکل 1 ( 3 ) اور 370 کے تحت کشمیر کو بھارت کا حصہ بنا دیا گیا آرٹیکل 370 میں اس بات کو دہرایا گیا کہ انڈین پارلیمان کے پاس صرف ان شعبوں میں قانون سازی کا حق ہو گا جو معاہدہ الحاق میں وضع کیے گئے ہیں انڈین پارلیمان کے پاس دفاع‘ مواصلات اور خارجہ امور کے متعلق قانون سازی کا محدود حق تھا۔ 370 آرٹیکل کے تحت 205 وفاقی قوانین کو کشمیر منتقل کیا گیا 1952 ء میں جموں کشمیر آئین ساز اسمبلی نے موروثی حکمرانی کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک منتخب سربراہ کو صدر ریاست کا خطاب دے دیا۔

1971 ء میں جب بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور شیخ عبد اللہ کے درمیان ملاقات ہوئی تو شیخ عبد اللہ نے 1953 ء سے پہلے کی صورتحال اور 1952 ء کے معاہدہ دلی پر عملدرآمد کے لئے زور دیا لیکن عبد اللہ جو اس وقت جیل میں تھے انڈین حکومت کے دباؤ ڈالنے پر 1975 ء کے کشمیر کارڈ پر راضی ہو گئی معاہدے پر شیخ عبد اللہ کی جگہ افضل بیگ نے دستخط کیے اس معاہدے میں صرف آرٹیکل 370 قائم رہا جس کے تحت جموں کشمیر کی ریاست کو آزادی کی ضمانت دی گئی۔

بہر حال یہ کشمیر کی آئینی آزادی سے لے کر کشمیریوں کی شخصی آزادی پر قدغن لگانے تک کی ایک ایسی جبر پر مبنی سفاک کہانی ہے جسے صرف کالم کی چند سطروں میں سمونا ممکن نہیں ہے پانچ اگست 2019 ء کا وہ سیاہ ترین دن تھا جب غاصب بھارت نے وادی کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر کشمیر کی ریاستی اسمبلی سے مشاورت کیے بغیر اس کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا۔ ان حالات میں ایک نیا آئینی آرڈر 2019 ء کیا گیا جس کے تحت ریاست جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا اور کشمیر میں مواصلاتی پابندی عائد کر دی گئی اور اپنے اس غاصبانہ قبضہ کو تقویت دیتے ہوئے کشمیر میں تعینات فوج میں اضافہ کرتے ہوئے اس کی تعداد ساڑھے سات لاکھ کر دی۔

کشمیر کی خصوصیٰ حیثیت ختم کرنے کا مطلب انڈین آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 A کے تحت کیے گئے وعدے اب نہیں رہے اور اب مقبوضہ کشمیر پر دلی کی براہ راست حکمرانی ہو گی۔ بھارت کی جانب سے ان یک طرفہ آئینی ترامیم کے اثرات خطے کی سیاست پر بھی مرتب ہوئے اور پاکستان اور چین بھی اس تنازع میں شریک ہیں اس وقت دونوں ممالک نے نیپال میں مقیم چینی سفارت خانے کے ذریعے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی طرف سے منظور شدہ حل کی پاسداری کی جانی چاہیے۔

اگر دیکھا جائے تو اقوام متحدہ میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے تحفظ کے لئے کئی قرار دادیں منظور کی گئی ہیں جن کا اطلاق انڈیا پر ہوتا ہے ان میں 20 جنوری 1957 ء کو منظور ہونے والی قرارداد 122 شامل ہے جو کشمیریوں کی حق خود ارادیت کو تسلیم کرتی ہے۔ کشمیر میں رائے شماری کا مطالبہ کرنے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں سے اس معاملے پر ایک ابتدائی اعلامیہ تشکیل دیا جا چکا ہے جس کے تحت ممالک پر ایک مخصوص رویہ اپنائے رکھنا لازمی ہے۔

بھارت کی جانب سے کشمیر میں ڈومیسائل لاء متعارف کروانے جیسے یک طرفہ اقدامات سے اخذ کرنا دشوار نہیں کہ کہ بھارت خود کو خطے میں ایک قابض طاقت کے طور پر اپنے آپ کو منوانے کا خواہاں ہے۔ شاید قابض بھارت یہ سمجھتا ہے کہ کشمیر سے متعلق نئے آئینی اقدامات متعارف کروانے سے اس حقیقت کو تبدیل کر پائے گا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت کشمیر ایک متنازع خطہ ہے بین الاقوامی برادری نے غیر قانونی قبضے کے حوالے سے ایک متواتر پالیسی تسلیم کی ہے جیسا کہ بالٹک ریاستوں فلسطین ’کرائیمیا اور کویت کی مثالوں سے واضح ہے۔

جنت نظیر کشمیر میں بسنے والے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو جہاں بھارت دہشت و وحشت کی فضاء قائم کر کے دبانے کی مذموم کوشش کر رہا ہے وہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی پس پشت ڈال کر خطے میں چوہدراہٹ کا خواب دیکھ رہا ہے۔ 2016 ء میں حریت پسند مجاہد برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیری نوجوانوں میں بھارت مخالف سرگرمیاں شدت کے ساتھ دیکھنے میں آ رہی ہیں جس کی وجہ سے کشمیر میں موجود بھارتی فوج کے لئے آزادی کی تحریک سوہان روح بنتی جا رہی ہے۔

دو سال قبل نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا تھا کہ کشمیر میں بھارتی فوج کا رویہ سفاکانہ اور بزدلانہ ہے بھارت کشمیر میں جو مسلمانوں کے خون سے ہولناک تاریخ رقم کر رہا ہے اس سے بھارتی چہرہ بری طرح بے نقاب ہو گیا ہے اب تو بھارتی میڈیا اور دانشور طبقہ بھی اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہے کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے۔ بھارتی دانشور سنتوش بھارتیہ کا مودی سرکار کو لکھا گیا کھلا خط ریکارڈ کا حصہ ہے جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ اگرچہ کشمیر کی زمین ہمارے ساتھ ہے لیکن کشمیری ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔

حکمران پارٹی کے راہنما سابق وزیر خارجہ یشونت سنگھ کی جانب سے کھلا تاریخی اعتراف کہ کشمیر کے متعلق نئی دہلی کی پالیسی کنفیوژن کا مجموعہ ہے اور کشمیری عوام جذباتی طور پر بھارت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ بھارت کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں نے کشمیر میں ہونے والے مظالم اور مودی سرکار کی غاصبانہ ہٹ دھرم پالیسیوں پر بہت بڑا سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے۔ پاکستان میں موجود میڈیا اور دانشور طبقہ کو چاہیے کہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کے خلاف بھر پور آواز بلند کرتے ہوئے بھارت کے غیر جمہوری چہرہ کی دنیا کے سامنے نقاب کشائی کرے تاکہ دنیا جان سکے کہ بھارت کا اصل چہرہ کتنا بھیانک ہے۔

موجودہ حکومت کو بھی چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کے حق میں بھر آواز بلند کرتے ہوئے عالمی رائے عامہ ہموار کرے تاکہ بھارت اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی پاسداری کرنے پر مجبور ہو۔ انسانی حقوق کے علم بردار عالمی ادارے اقوام متحدہ کو بھی چاہیے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ہونے والی پامالیوں کا نوٹس لے اور تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دے تاکہ جمہوری تقاضوں کے تحت کشمیری مسلمانوں کو استصواب رائے کا حق مل سکے اور کشمیری مسلمان آزاد اور خود مختار حیثیت میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔

Facebook Comments HS