حبیب جالب کے ہم عصر ارباب علم و فن
”جالب بیتی“ پر مبنی اپنے پہلے مضمون میں میں نے کچھ ایسے واقعات کا ذکر کیا تھا جن کا تعلق حبیب جالب کی ذاتی زندگی سے تھا۔ اس آپ بیتی میں ایسے واقعات کے علاوہ بہت سی ہم عصر شخصیات کا ذکر ہے جن میں زیادہ تر کا تعلق ادب، فلم اور موسیقی سے تھا۔
ایسے احباب کا ذکر جن سے شباسائی عمر کے بڑے حصے پر محیط رہی ہو کچھ ایسا سہل نہیں کہ ذرا سی چوک سے آبگینوں کو ٹھیس لگنے کا احتمال رہتا ہے۔ جالب اگرچہ بیباک آدمی تھے اور وہ بھی ایسے کے صدر ایوب خان سے لے کر وزیراعظم بے نظیر بھٹو تک ہر ایک کے ناپسند یدہ اقدامات کو نشانے پہ رکھا، لیکن دوستوں اور ساتھیوں کے ذکر میں انہوں نے ہمیشہ ان کی خوبیاں اجاگر کرنے ہی کو ترجیح دی اور اگر چھوٹی موٹی کسی بشری کمزوری کا ذکر کیا بھی تو ایسے پر لطف انداز میں کہ بطرز غالب ایسی صورتحال درپیش نہ ہو۔
شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے، تم نے کیا مزا پایا
ذیل میں ان میں سے چند کا ذکر نقل کیا جا رہا ہے۔
1۔ آغا شورش کاشمیری۔
میں ”چٹان“ کے دفتر جایا کرتا تھا کیونکہ شورش کاشمیری کے منیجر ملک عبدالسلام میرے اچھے دوست تھے۔ ایک دن میں ادھر جا رہا تھا کہ لکشمی چوک کے قریب پولیس والوں نے میرا رکشہ روک لیا۔ رات کے ساڑھے آٹھ بجے ہوں گے۔ انہوں نے مجھے رکشہ سے اتار کر میری تلاشی بھی لی۔ چٹان کے دفتر پہنچ کر میں نے یہ واقعہ شورش کاشمیری کو سنایا۔ اس وقت وہ پرنٹنگ مشین کا کوئی پرزہ ٹھیک کر رہے تھے۔ کافی دیر بعد فارغ ہوئے اور پھر میرے ساتھ پولیس کے ناکے پر آ گئے۔
جاتے ہی ان پر گرجے کہ حبیب جالب کو جانتے ہوئے اس کی تلاشی کیوں لی۔ ساتھ ہی پولیس والوں کو خوب گالیاں دیں۔ لوگ جمع ہونے لگے تو پولیس والے ہمیں تانگے میں بٹھا کر تھانہ گوالمنڈی لے آئے۔ وہاں شورش نے ایس ایچ او پہ چڑھائی کر دی اور پھر ادھر ادھر فون کرنے لگے۔ مجید نظامی سے رابطہ ہو گیا۔ امروز کا فوٹو گرافر بھی آ گیا۔ تھانے والوں کو مصیبت پڑھ گئی۔ شورش نے ایس ایچ او سے کہا پولیس والوں پہ مقدمہ بناؤ۔ وہ منت سماجت کرنے لگا لیکن شورش نہ مانا۔ بات چیف سیکریٹری، گورنر پنجاب اور وزیر اعظم بھٹو صاحب تک پہنچ گئی۔ اب شورش نے مطالبہ کر دیا کہ ایس ایچ او کو معطل کیا جائے۔ آخر آئی جی پنجاب نے تھانے فون کر کے یقین دہانی کرائی کہ ان کا مطالبہ مان لیا گیا ہے۔ تب کہیں شورش تھانہ سے اٹھے۔
2۔ جگر مراد آبادی۔
لائلپور میں ہر سال کاٹن مل میں مشاعرہ ہوا کرتا تھا جس کا اہتمام میر عبدالقیوم کیا کرتے تھے۔ وہ پرانے نیشنلسٹ تھے۔ جگر ان کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے اور رات کو ان کے بھائیوں کے ساتھ رمی کھیلا کرتے تھے۔ ایک دن میر صاحب کے والد جن کی عمر نوے سال کے لگ بھگ تھی شور سنا تو جاگ پڑے اور وہاں آ گئے۔ جگر صاحب کو ڈانٹنا شروع کر دیا کہ بدمعاش میرے بچوں کو خراب کر رہے ہو۔ میر عبدالقیوم نے بیچ بچاؤ کیا۔ بعد میں انہوں نے جگر سے معذرت کی۔ جگر بولے کوئی بات نہیں، بزرگ تو ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں آؤ کھیل جاری رکھیں۔ جگر آخری ایام میں ترک شراب کے بعد تاش سے دل بہلایا کرتے تھے۔ بہت ملنگ صفت تھے، ان کے منہ سے کبھی کسی کی برائی نہیں سنی۔
3۔ حفیظ جالندھری۔
حفیظ اپنے پائے کا شاعر کسی کو نہ سمجھتے تھے۔ کہتے تھے میں فیض سے بڑا شاعر ہوں۔ یہ باتیں سن کر لوگ ہنس دیتے تھے۔ حفیظ غزل، نظم اور گیت کے بلا شبہ بڑے شاعر ہیں لیکن اپنے منہ اپنی تعریف کرنا اچھی بات نہیں۔ ایک دن مجھ سے کہا، میں تیری بڑی عزت کرتا ہوں۔ میں تجھے شاعر مانتا ہوں جبکہ دوسرے نہیں مانتے۔ میں نے کیا، بس آپ مجھے مانتے رہیں دوسروں کو میں خود منا لوں گا۔
4۔ عبدالحمید عدم۔
ہماری بڑی بے تکلفی تھی۔ ایک دن شام کو ملے تو کچھ ”انتظام“ کرنے کی فرمائش کی۔ میں نے کہا ہو جاتا ہے۔ آج آپ کو رئیس امروہی سے بس یہ کہنا ہے کہ آپ کا آج کا قطعہ بہت خوب تھا۔ بولے حضور کہہ دیں گے۔ رئیس صاحب کا دفتر بولٹن مارکیٹ میں اوپر کی منزل میں تھا۔ وہاں پینچ کر میں نے عدم کو نیچے کھڑا کیا اور اوپر جاکر رئیس صاحب کو بتایا کہ آپ نے آج جو قطعہ لکھا ہے عدم اس کی بہت تعریف کر رہے ہیں۔ وہ نیچے کھڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں رئیس صاحب کو خود جا کر داد دوں گا۔
کہنے لگے ان کو اپر لے آئیں، کچھ اہتمام بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے بوتل لانے کے لیے بندہ بھیج دیا۔ میں عدم کو اوپر لے آیا۔ عدم تیسرے پیگ پر ہی رئیس کا قطعہ بھول گئے اور ان سے کہا کہ تم کون ہو اور کیا ہو۔ میں نے کہا ارے حضور وہ قطعہ رئیس صاحب کا۔ آپ صبح سے پاگل ہوئے پھر رہے تھے کہ جا کر داد دینی ہے۔ مجھے کہا تم کون ہو؟
5۔ ریاض شاہد۔
ایک دفعہ ریاض شاہد نے کہا کہ زرقا اگر ہٹ ہو گئی تو میں تمہیں پاچ ہزار روپے انعام دوں گا۔ زرقا ہٹ ہو گئی تو وہ ٹال مٹول کرنے لگا۔ آسانی سے وہ کسی کو بھی پیسے نہیں دیتا تھا۔ دباؤ ڈالنا پڑتا تھا۔ لوگ سیٹ پر چلے جاتے اور اسے ایک طرف بلاتے۔ اب اگر نیلو سیٹ پہ ہوتی تو وہ گبھرا جاتا پوچھتا کہو کیا بات ہے۔ جواب ملتا تین سو روپے نکالو۔ وہ کہتا لو تین سو اور ایورنیو سٹوڈیو سے تین میل دور چلے جاؤ۔ اس کی آخری فلم امن کے لیے لکھا ہوا میرا گیت۔ ظلم رہے اور امن بھی ہو، اسے بہت پسند آیا اور بے حد داد دی۔
6۔ تنویر نقوی۔
اردو گیت کو حفیظ جالندھری نے رائج کیا اور شہرت دی۔ فلم کی گیت نگاری میں تنویر نقوی کا ابتداء سے ہی الگ مقام رہا۔ وہ پہلا گیت نگار تھا جس نے ہندوستان میں ڈی این مدھوک کے انداز سے ہٹ کر نئے انداز کے گیت لکھے۔ جیسے۔ آواز دے کہاں ہے۔ جو نصف صدی گزرنے کے بعد بھی تروتازہ اور مقبول ہے۔ وہ دوستوں کے ساتھ بہت مروت برتتے تھے اور ان سے معاوضے کا مطالبہ بھی نہیں کرتے تھے۔
7۔ فریدہ خانم۔
میری پچاسویں سالگرہ کہ تقریب کشور ناہید کے زیرانتظام منعقد ہوئی۔ وہاں بہت سے لوگوں نے تقاریر کیں اور مضامین پڑھے۔ اس موقع پر میری بیوی بھی موجود تھی اور بہت خوش تھی۔ برا ہو فریدہ خانم کا۔ اس نے غزل گائی اور اس کے بعد مجھ سے لپٹ گئی۔ یہ دیکھ کر میری بیوی ہال سی اٹھی اور چلی گئی۔ گھر پہنچا تو وہ بے حد غصے میں تھی۔ اسے سمجھایا کہ ایسی ویسی بات نہیں تھی۔ بعد میں میں نے ایک اور تقریب میں فریدہ خانم کو کہا کہ اب ایک جپھی میری بیوی کو بھی ڈالنا تا کہ بیلنس ہو جائے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔
8۔ حسن لطیف۔
شوکت حسین رضوی کے بیٹے اکبر حسین رضوی نے ایک فلم، ماں بہو اور بیٹا، بنائی تھی۔ اس کے گیت میں نے لکھے اور حسن لطیف نے دھنیں ترتیب دیں۔ وہ شعر کا بہت اچھا ذوق رکھتا تھا اسی لئے دھن بھی خوب بناتا تھا۔ میں نے اس فلم کے لیے یہ گیت لکھے۔
* نندیا روٹھ گئی اکھین سے ترس گیا میرا پیار
*لوگ دیکھیں نہ تماشا میری تنہائی کا
* اب اور پریشاں دل ناشاد نہ کرنا
اس کے علاوہ بھی میں نے حسن لطیف کے لیے کئی فلموں کے گیت لکھے۔ نامور موسیقاروں میں خواجہ خورشید انور، رشید عطرے اور ماسٹر عنایت حسین کے لیے بھی گیت لکھے۔ وہ کمال محنت کرتے تھے اور ہر کوئی اپنی مثال آپ تھا۔
دیگر شخصیات میں ملکہ ترنم نور جہاں، قتیل شفائی اور احمد راہی کا ذکر فلمی دنیا کے نامور لوگوں کے طور پر کیا۔ یہ سب لوگ جنہیں انہوں نے آفتاب و مہتاب کہا، ان کی زندگی ہی میں اس جہاں سے اٹھ گئے تھے اور اب ایسا سماں تھا کہ۔
رہا آباد عالم اہل ہمت کے نہ ہونے سے
بھرے ہیں جس قدر جام و سبو میخانہ خالی ہے۔


