مسئلہ کشمیر اور اس کا حل!

فرمان رسول اللہ صلعم کے مطابق ہم اور اہل کشمیر ایک ہی جسم کا حصہ ہیں اور ان کو ملنے والے زخموں نے ہمیں بھی بے چین کیا ہوا ہے۔ آج کے کشمیر کو کیا عنوان دیا جائے؟ مقتل ہے کہ جہاں ہزاروں انسانوں کا قتل عام کیا گیا، اور خون کی ندیاں بہائی گئیں اور جو بدستور جاری ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑا جیل ہے کہ جہاں لاکھوں انسان قید ہیں، ان کی آزادی چھینی گئی ہے، انسانی حقوق صلب کیے گئے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی منڈی کہ جہاں انسانیت کے حقوق پہ نہ صرف ڈاکا ہی کیا ڈالا جاتا ہے بلکہ بزور طاقت عصمتیں، عفتیں اور عزتیں نیلام بھی کرائی جاتی ہیں۔
کربلا ہے کہ جہاں انسان کھانے اور پینے کے لئے ترس رہے ہیں اور ان پہ زمین تنگ کی گئی ہے اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ انسانیت سسک سسک مر رہی ہے اور وقت کا یزید قہقہے لگا کر مظلومیت کا مذاق اڑا رہا ہے۔ سب سے بڑا قبرستان کہ جہاں ہزاروں شہداء دفن ہی کیا زندہ انسان بھی زندہ درگور ہیں اور لاشیں بن کر موت کے منتظر ہیں۔
سب سے بڑا آئینہ ہے کہ جس میں کئی بے حس، مکروہ، عیار چہرے بالکل صاف نظر آرہے ہیں۔ یہ پوری تاریخ وعدوں و نعروں سے بھی عبارت ہے بے وفائیوں اور بے حسی سے بھی عبارت ہے۔ سنگ دلی اور بے ضمیری سے بھی عبارت ہے مگر اہل کشمیر کی جدوجہد اور کشمکش، ایثار، قربانی، استقامت، جرات اور جانثاری سے بھی عبارت ہے۔
آج کی تاریخ ہندوستان کی سفاکیت، بربریت اور درندگی پر احتجاج ہے۔ اقوام عالم کی ضمیر کا ماتم ہے عالم اسلام کی بے حسی کا نوحہ ہے پاکستان کی کمزوری اور نا اہلی کا شکوہ ہے جبکہ اہل کشمیر کی جرات، جسارت، قربانی، استقامت، جدوجہد اور لازوال قربانی اور پاکستان کے ساتھ غیر مشروط محبت کا اعتراف اور اسے خراج تحسین ہے۔
اور اہل پاکستان کی کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ محبت، ہمدردی اور ان کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کا عزم ہے۔ سات دہائیوں کے تجربے کا سبق یہ ہے کہ کشمیر نہ قراردادوں، تقاریر، بیانات، ٹویٹس اور کالی پٹیاں باندھنے سے اور نہ فلم ڈپلومیسی، کرکٹ ڈپلومیسی، ساڑھی ڈپلومیسی، پیاز ڈپلومیسی، ٹرین ڈپلومیسی اور نہ فلمیں، ڈرامے، گانے اور نغمے ریلیز کرنے سے آزاد ہو گا۔
بلاشبہ مذاکرات ہی تمام مسائل کا آخری حل ہوتا ہے مگر دشمن کو مذاکرات کی میز تک لانا اور اسے کسی حل پہ آمادہ اور مجبور کرانا بھی ناگزیر ہوتا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کی ایک پوری تاریخ ہے جو اس کی عیاری، وعدہ خلافی اور چالبازی سے عبارت ہے۔ اس ہی کی درخواست پر اقوام عالم نے مداخلت کی جبکہ حالیہ برسوں میں امریکہ کی ثالثی کی پیشکش اور کاوشیں مگر بے سود کہ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔
مسئلہ کشمیر دنیا کا پہلا کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ اس کی حل کے لئے کوئی نظیر نہیں ہے۔ بے شمار مسائل ہیں جو حل ہوچکے ہیں۔ مگر یہاں مسئلہ مدعی یعنی پاکستان کی سستی اور کمزوری اور ثالثین کی تعصب اور دشمن کی ہٹ دھرمی کا ہے۔
مشرقی تیمور کا قضیہ حل ہوا اور سوڈان کی تقسیم ترجیح ٹھہری، اس لئے کہ وہ مسلمان نہیں۔ اسی تناظر اور تاریخی حقائق کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا اول و آخر حل جہاد ہی ہے۔ جہاد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آنکھیں بند کر کے ہندوستان پر چڑھ دوڑا جائے۔ جہاد عبارت ہے، اپنے موقف پر استقامت کے ساتھ کھڑا ہونے سے۔ دشمن کی چالوں کے مقابلے میں چالیں چلانے سے۔ دشمن کے عزائم کو سمجھ کر اسے ناکام بنانے کی ہمت سے۔ دشمن کی تدبیروں کے مقابلے میں ہمہ جہت حکمت عملی طے کرنے سے۔
متعین اہداف کے لئے موثر منصوبہ بندی کرنے سے۔ موثر حکمت عملی اور استقامت کے ساتھ ہمہ پہلو جدوجہد سے۔ اور سب سے بڑھ کر وقت آنے پر جرات، بہادری اور جوانمردی کے ساتھ مزاحمت اور دشمن پر کاری ضرب لگانے کا نام ہے۔ ایک آزاد، خود مختار، ایٹمی اسلامی ملک کی حیثیت آزاد خارجہ پالیسی ترتیب دینا اس جدوجہد کا اولین تقاضا ہے۔ پوری تیاری اور گہرائی کے ساتھ سفارت کاری کر کے دنیا کے سامنے کشمیر کے مقدمے کو پیش کرنا لازمی ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی اہمیت مسلمہ ہے۔ اسی بناء امریکہ، چین اور روس کے ساتھ معاملات کو دیکھا جائے۔ آزادی کی جدوجہد اور ہندوستان کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کی مکمل پشت پناہی کی جائے۔ جنرل مشرف کی مدافعانہ اور کمزور پالیسی جس کی رو سے جہاد کو دہشتگردی کے ساتھ نتھی کرنے کی حماقت کی گئی اور مجاہدین کے لئے راستے مسدود کر کے ہندوستان کی جارحیت اور بربریت کو سند جواز فراہم کیا گیا اور مجاہدین کی حوصلہ شکنی کی گئی، کو یکسر تبدیل کیا جائے۔
مسئلہ کشمیر کے تمام سٹیک ہولڈرز اور خاص کر کشمیر کی سیاسی اور جہادی قیادت کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی کی جائے۔ ہر وہ حل جو کشمیریوں کو اعتماد میں لئے بغیر ہو وہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ آج کے تناظر میں کہ تمام تر جبر کے باوجود اہل کشمیر پہاڑ کی طرح ڈٹ کے کھڑے ہیں امید اور یقین مزید پختہ ہوتا ہے کہ کشمیر کی آزادی اور مسلمانوں کی سربلندی عین انکھوں کے سامنے ہے۔

