لال قلعہ
لال قلعہ: جو کبھی قلعہ مبارک تھا، مغلوں کے سر کا تاج، جہاں بہادر شاہ ظفر بطور مجرم عدالت میں پیش ہوا۔
1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔
اردو بازار کے بعد میری اگلی منزل لال قلعہ تھا۔ لال قلعہ دیکھنے سے پہلے میں اس کے قریب سے گزرا تھا اور اس کی وسعت، بلند و بالا عمارت، بہترین ڈیزائن اور سرخ رنگ نے مجھے بے حد مرعوب کیا تھا۔ لال قلعے کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے، بادشاہی قلعہ لاہور کے متعلق تو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ بہت پرانا ہے۔
لال قلعہ جس کا پہلا نام، قلعہ مبارک تھا، کی تعمیر 1638 ء میں شاہجہاں نے اس وقت شروع کی تھی جب اس نے آگرہ سے دلی اپنا پایہ تخت منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کام کے لیے اس نے اپنے ایک نہایت ہی آزمودہ ماہر تعمیرات، استاد احمد لاہوری کو منتخب کیا۔ استاد احمد لاہوری وہی ہیں جنھوں نے تاج محل بھی ڈیزائن کیا تھا۔ ان کے نام کی وجہ سے ہی قلعے کے مین گیٹ کا نام لاہوری گیٹ ہے۔ تمام لوگ اسی دروازہ سے قلعے میں داخل ہوتے ہیں۔
یہ وہی گیٹ ہے جہاں 15 اگست 1947 ء کو ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے بھارت کی آزادی کا پرچم لہرایا تھا۔ میں اس قلعے میں دو دفعہ گیا ہوں، ایک مرتبہ دن میں اور دوسری بار مغرب کے بعد ۔ دن میں مجھے کسی نے یہ بتایا کہ شام کو یہاں پر ایک بہت ہی دلچسپ پروگرام ہوتا ہے۔ آپ کو اس پروگرام میں ضرور آنا چاہیے۔ میں نے اس پروگرام کی ٹکٹ لی اور پھر رات کو اس پروگرام میں شرکت کی۔ جس کی داستان اگلے صفحات میں بیان کی جائے گی۔
لال قلعہ کا کل رقبہ 255 ایکڑ جب کہ شاہی قلعہ لاہور کا رقبہ 50 ایکڑ ہے۔ اس قلعہ کی چار دیواری کی لمبائی اڑھائی کلو میٹر کے قریب ہے جبکہ اس کی دیوار کی اونچائی ساٹھ فٹ سے لے کر ایک سو فٹ کے لگ بھگ ہے اور اس کے آٹھ کونے ہیں۔ اس قلعہ کے قابل دید مقامات میں ؛ نوبت خانہ، دیوان عام، دیوان خاص، نہر بہشت، ممتاز محل، حمام، با ؤلی، موتی مسجد، ہیرا محل اور شہزادوں کی رہائش گاہیں شامل ہیں۔
قلعہ اپنی وسعت اور ڈیزائن کے اعتبار سے ایک قابل دید عمارت ہے۔ اس قلعے اور اس میں بنی ہوئی عمارات کی تفصیل بیان کرنے کے لیے الگ سے ایک کتاب درکار ہے۔ میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ یہ وہ جگہ ہے، جس نے بہت سے عروج و زوال دیکھے۔ میں اسی لاہوری دروازے سے گزرا اور آگے جاکر مختلف عمارتوں کے سامنے بے ٹوک پھرتا رہا، جس دروازے سے کبھی شاہجہاں گزرا تھا۔ شاہ جہان کے بعد اس کی اولاد بھی اسی جگہ سے گزرتی تھی۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں پر نادر شاہ نے تباہی مچائی اور اس کے بعد انگریزوں نے بھی اسے تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جنگ آزادی سے قبل ہی ایک وظیفہ خوار بادشاہ بہادر شاہ ظفر قلعے تک محدود ہو گیا تھا جبکہ قلعے کے باہر ہر جگہ انگریزوں کی حکومت تھی۔
1857 ء کی جنگ آزادی شروع ہونے کے بعد ، مجاہدین قلعے تک پہنچے اور انھوں نے بہادر شاہ ظفر کو اپنا سربراہ بنایا۔ پھر مجاہدین نے ان کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف جنگ شروع کی۔ اس جنگ میں بہادر شاہ کی اولاد بھی شریک ہوئی، بخت خان بھی اسی جنگ میں آیا اور انھوں نے کچھ وقت کے لیے انگریزوں کو شکست بھی دی اور ان کو دلی سے باہر بھی نکال دیا۔ اسی جگہ بیٹھ کر بہادر شاہ ظفر نے قریبی ریاستوں کو بھی شرکت اقتدار کے لیے کہا لیکن رب کائنات کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
ایک دن بادشاہ اپنی ہی جان بچانے کے لیے اپنے پردادا، ہمایوں کے مقبرہ پر چلا گیا۔ وہاں پر اس کے پاس دو ہی راستے تھے، یا تو وہ بخت خان کی تجویز پر دلی سے چلا جاتا اور دور بیٹھ کر اس جنگ کی قیادت کرتا، یا پھر وہ انگریزوں کی اس شرط کو منظور کرتا کہ اگر وہ اپنے آپ کو سرنڈر کردے تو اسے معاف کر دیا جائے گا۔ بادشاہ سلامت نے اپنے آپ کو انگریزوں کے حوالے کر دیا۔
پھر اسی قلعے میں جسے اس کے بزرگوں نے بنایا تھا، بادشاہ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ باغی کی سزا تو موت کی بنتی ہے۔ سزا دینا یا نہ دینا حکومت کا کام ہے۔ انگریز پہلے ہی ان کی جان بخشی کا وعدہ کر چکے تھے لیکن وہ ان کو دلی کے آس پاس بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ اس لیے انھیں وہاں سے پانچ ہزار میل دور برما کے ایک شہر رنگون بھیج دیا۔ جہاں انھوں نے ایک معمولی سے مکان میں اپنی زندگی کے آخری ایام بسر کیے۔ رنگون میں ہی ان کی وفات ہوئی۔
مجھے ان کے مقبرہ پر جانے کا موقع ملا ہے۔ رنگون کے مسلمانوں نے ان کی قبر پر ایک عالی شان مقبرہ تعمیر کیا ہے اور مقبرہ کے ساتھ ہی ایک مسجد بھی بنائی ہے۔ اس وقت ان کی قبر کو ایک درگاہ کا مقام حاصل ہے۔ اب لوگ ان کو ایک عظیم صوفی سمجھتے ہیں اور ان کے مزار پر سالانہ عرس کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔
میں قلعے کی دیواروں پر یہ سب کچھ پڑھ رہا تھا۔ میں بہت دیر تک قلعے کے مختلف حصوں میں گھومتا رہا۔
مجھے ہر جگہ عروج و زوال کی داستان کے سوا کچھ نظر نہ آیا، باقی عمارت تو عمارت ہے اس میں لال پتھر لگا ہوا ہے۔ یہ بہت وسیع ہے اس میں خوبصورت باغ ہیں، یہاں باغیچے ہیں اور تو سب کچھ ہے لیکن اس کی اصل پہچان تو مغلیہ حکومت کا پایہ تخت ہونا تھا۔
مجھے اس بات کا یقین ہو گیا کہ جو اقبال نے کہا تھا:
شمشیر و سناں اول طاؤس رباب آخر
لیکن جب طاؤس رباب اول اور شمشیر و سناں آخر ہو جائے تو پھر کوئی لال قلعہ کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔
قلعے کا کام پناہ دینا ہے، اس میں کون پناہ لیتا ہے اس کا انحصار صرف ہمت مرداں پر ہے۔ یہ عمارت تو کسی کو خود اپنے اندر آنے سے نہیں روک سکتی، اس میں تو وہی آئے گا جس میں اندر آنے کی ہمت اور حوصلہ ہو گا۔
مغلوں کے آخری پایہ تخت دلی کو انگریزوں نے فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا اور ہر چیز پر قبضہ کر لیا، بادشاہ کی خواب گاہ، بیگمات کے کمرے، باغ، زیورات الغرض ہر چیز ان کے قبضہ میں آ گئی اور بادشاہ سلامت، ان کی بیگم کو چند افراد کے ساتھ ایک بیل گاڑی پر بٹھا کر انھوں نے اسی لال قلعے سے پانچ ہزار میل دور بھجوا دیا تھا۔
پھر ایک دن آیا، جب ہندوستان کے لوگوں نے انگریز کو بھی چلتا کیا اور پھر اسی قلعے پر بھارت کا پرچم لہرایا گیا۔ آج اس قلعے کے لاہوری گیٹ پر بھارت کا پرچم لہرا رہا ہے اور ہر سال یوم آزادی کی تقریب اسی قلعے میں منائی جاتی ہے۔ انھی خیالات میں گم میں بہت دیر تک قلعے میں رہا اور پھر واپس آ گیا۔ دوسری مرتبہ میں مغرب کے بعد اس قلعے میں ہونے والے پروگرام میں شرکت کے لیے گیا جس کی کسی نے بہت تعریف کی تھی۔
اس پروگرام میں شرکت کے بعد مجھے سمجھ آ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس قلعے کے مالکوں کو کیوں بدلا اور کیوں نئے مالک آئے تھے اور کیسے یہ قلعہ مغل ہاتھ سے نکل کر انگریزوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ اس پروگرام کی مختصر روداد پیش خدمت ہے۔
ایک شام قلعہ میں بادشاہ سلامت کے ساتھ
اس پروگرام کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مغرب کے بعد قلعے کے ایک لان میں تقریباً دو سو کے قریب کرسیاں لگ جاتی ہیں اور لوگ ان کرسیوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ مکمل اندھیرا تو نہیں ہوتا لیکن روشنی بہت کم ہوتی ہے۔ اتنے میں کچھ آوازیں آنا شروع ہوتی ہیں۔ جن سے یہ پتا چلتاہے کہ یہ قلعہ مبارک کی خواتین کی آوازیں ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ خواتین قلعے کے قریب کسی مارکیٹ سے خریداری کر رہی ہیں ( صرف آواز سنائی دیتی ہے ) ۔
لیکن اتنی خوبصورت آواز اور اتنا خوبصورت تلفظ شاید ہی کبھی دوبارہ سننے کو ملے۔ کچھ دیر تک تو خواتین کی آوازیں آتی ہیں اور پھر آوازوں سے محسوس ہونے لگتا ہے کہ بہادر شاہ ظفر دربار میں تشریف لا رہے ہیں۔ زور دار اور بلند آواز کے ساتھ بہادر شاہ ظفر تشریف لا رہے ہیں کی صدا بلند ہوتی ہے۔ ان کے نام کے ساتھ بے شمار القابات لگائے جاتے ہیں۔ ان کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں اور پھر بادشاہ سلامت تخت شاہی پر تشریف فرما ہوتے ہیں۔
دربار سجتا ہے اور بادشاہ کے دربار میں شعرا حضرات اپنا کلام پیش کرتے ہیں، واہ واہ کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ شعرا ء میں مرزا غالب، استاد ذوق نمایاں ہوتے ہیں البتہ ان کے علاوہ بھی کئی اور شاعر موجود ہوتے ہیں۔ سب لوگ فرداً فرداً شعر پڑھتے ہیں اور واہ واہ کا شور مچتا ہے اور باتوں ہی باتوں میں ساری دنیا ادھر سے ادھر کر دی جاتی ہے۔
بڑی دیر تک محفل چلتی ہے اور اس کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سب کو کھانا کھلایا جا رہا ہے، انعام و اکرام دیے جاتے ہیں اور پھر کہیں جا کر یہ محفل برخواست ہوتی ہے۔ یہ قلعہ کے اندرونی حالات کی کہانی ہوتی ہے۔
یہ پروگرام ایک گھنٹہ سے زائد چلتا رہتا ہے۔ اس پروگرام نے مجھ پر سحر طاری کر دیا اور مجھے یوں لگا کہ جیسے میں اس دور میں جا کر یہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں۔ میں نے اس پروگرام کی ریکارڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کی جو مجھے نہ مل سکی۔ بہر حال وہ ایک دلچسپ تجربہ تھا جس کی گونج آج تک سنائی دیتی ہے۔
میرے دل میں یہ خیال ابھرا کہ ایک وقت تھا کہ جب جنگجو لوگ اس قلعہ میں بیٹھ کر پورے ہندوستان پر حکومت کرتے تھے اور وہ اس وقت بادشاہ کے درباری ہوتے تھے۔ لیکن جب بادشاہ سلامت کا وقت شاعروں کی محفل میں گزرے گا تو آپ خود اندازہ کریں کہ پھر کون ہے جو اس وسیع سلطنت کی حفاظت کرے گا؟
جب ایسی صورت حال ہو تو پھر اللہ تعالیٰ بھی حکمرانوں کو بدل دیتا ہے اور جو وہ کچھ کرنا جانتے ہیں ان کو اپنی زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ جو صرف شعر و شاعری پہ زندہ رہتے ہیں انھیں رنگوں جانا پڑتا ہے، ان کے بچوں کو ان کے سامنے قتل کیا جاتا ہے اور ذلت کی انتہا یہ کہ بچوں کے سر باپ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔
اس کی مزید تفصیل میں جانا میرے لیے ممکن نہیں لہذا اس کے لیے آپ کو تاریخ پڑھنی چاہیے یا کم از کم کبھی موقع ملے تو لال قلعہ تو دیکھنا ہی چاہیے۔ اس طرح سے میری آج کے دن کی سیر مکمل ہوئی اور میں واپس اپنے میزبان کی دکان پر پہنچ گیا اسی شام کو میرے ایک دوست مجھے ایک ریسٹورنٹ میں لے گئے۔ جس کا ذکر آئندہ صفحات میں آئے گا۔


