لتا جی اور پرائے جنازوں پر ریڑھیاں لگانے والے سستے فتوی فروش
لتا جی پرلوک پدھار گئیں یوں سمجھ رہا ہوں موسیقی کی کوئی ماں تھی جو آج مر گئی۔ موسیقی آج یتیم ہو گئی، لیکن پھر سوچتا ہوں نہیں فن تو مر نہیں سکتا اور دیویاں یا دیویوں کے اوتار بھی کبھی نہیں مرتے۔ اس موسیقی کی ماں نے موسیقی کو جلا دی جب سماعتیں ہوں گی یہ آوازیں ان میں گونجیں گی۔ موسیقی یتیم نہیں ہوئی البتہ افسردہ ضرور رہے۔ لیکن لتا کے جنازے کے باہر کچھ سستے عالم ریڑھیاں لگائے آوازیں لگا رہے ہیں فتویٰ لے لو فتویٰ
جب اپ ان کے قریب جائیں یہ سستے پان کی گلوری تھوک کر آستین سے اپنا منہ پونچھ کر آپ کو بتائیں گے کہ لتا ،منگیشکر کا کیا ہونا ہے۔ ان کے قریب جانے سے گریز کریں اگر اپ نے سفید کپڑے پہنے ہیں تو پان ان کا کباڑا کر سکتا ہے ضرور ان کی قربت سے گلوری کے چھینٹے اپ کے پانچوں پر لگیں گے جو بلیچ سے بھی صاف نہیں ہوں گے ۔ لتا جی کے لئے جہنم کی آگ کتنی اکٹھی ہوئی ہے اس کے پہنچنے سے کتنی بڑھ جائے گی۔ جنت کی خوشبو تک سونگھ نا پانے والی لتا منگیشکر کے لئے افسوس کے بجائے ہنسی کے امیوجی ڈال رہے ہیں۔ ان سستے فتوی فروشوں کے بقول کہ لتا جہنم میں جائے گی، ارے بھئی جہنم گی آگ اس آواز سے گلزار ہو سکتی ہے آپ لوگوں نے اپنی منجی کو آگ لگا رکھی ہے جو اب پچھواڑے تک پہنچ گئی ہے۔ لتا جی ہندو عقائد سے وابستہ تھیں آپ ان پر رحم کریں انہیں فیصلہ کرنے دیں۔
ہندو عقائد میں لتا منگیشکر دو اہم دیویوں لکشمی دیوی اور سرسوتی دیوی میں سے سرسوتی دیوی کا اوتار مانی جا رہی ہے۔
اوتار کے معنی خدا کی جانب سے اتارا ہوا ہے، مگر ہندو مت میں عموماً اوتاروں کو خدا (بھگوان) سے علاحدہ بشر نہیں بلکہ خود خدا ہی کا روپ قرار دیا جاتا ہے ، یعنی بھگوان خود کسی شکل میں وارد ہوتا ہے۔
ہندو ازم میں سرسوتی موسیقی کی دیوی مانی جاتی ہے اور لکشمی دولت کی دیوی۔
لکشمی دیوی کے بارے میں تو اکثر لوگ جانتے ہیں کہ یہ دولت کی دیوی ہے۔ البتہ سرسوتی دیوی کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں۔ سرسوتی دراصل شاعروں اور ادیبوں کی سر پرست دیوی ہے۔ کتب خانوں میں اس کی عبادت کے دوران پھول اور پھل پیش کیے جاتے ہیں اور لوبان سلگایا جاتا ہے۔ سرسوتی ہندو اساطیر میں سب سے پرانی ویدوں میں بھی مذکور ملتی ہے۔
لکشمی جو دولت اور طاقت کی دیوی ہے وہ دراصل سرسوتی کی چھوٹی بہن ہی ہے۔ لیکن آج کل اساطیر کی ڈرامائی تشکیل میں بھی لکشمی کو ہی شیاطین کے دانت کھٹے کرتے دکھایا جاتا ہے۔ جو عورت جہیز ساتھ لائے اسے لکشمی سے تشبیہ دینا آسان ہو جاتا ہے۔ ایسے میں پڑھی لکھی ادیبہ، شاعرہ یا رقاصہ کا سکوپ معاشرے میں بہت کم ہو چکا ہے۔ ہندو پروہت یہ بات پھیلانا چاہ رہے ہیں کہ لکشمی سرسوتی کی چھوٹی بہن ہے سو جہاں سرسوتی ہو گی وہاں لکشمی بھی آئے گی ہی آئے گی۔
ہندو عقائد کے مطابق ساٹھ سے زائد فنون سرسوتی دیوی سے منسوب ہیں۔ ان سب فنون میں ایک فن موسیقی ہے۔ ہندی عقائد کے مطابق جس پر سرسوتی مہربان ہو اسے سر سنگیت کی سمجھ عطا ہو جاتی ہے۔ جس انسان پر سرسوتی دیوی زیادہ مہربان ہوتی ہے اسے سریلی آواز عطا ہو جاتی ہے۔ جو شخص بہت سریلا ہو اور فن موسیقی میں بہت مہارت رکھتا ہو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے گلے میں سرسوتی دیوی خود بولتی ہیں۔
لتا جی وہ عظیم گلوکارہ تھیں جن کے بارے میں یہ کہنا بجا ہے کہ ان پر سرسوتی دیوی بہت زیادہ مہربان تھیں، اگر سرسوتی دیوی اپنے بھگتوں کے گلے میں بولتی ہیں۔
وکی اردو کے مطابق شمال مغربی بھارت کا ایک دریا جسے دیوی سرسوتی کی تجسیم مانا جاتا تھا۔ بیشتر اوقات ایسے جدید سروتی کے طور پر متشخص کر لیا جاتا ہے۔ ، جو پٹیالہ کے قریب ریت میں کھو جاتی ہے۔ علاقہ کی بے پناہ خشک بنجر اور جنوب مغربی مون سون ہواؤں کے زیر اثر کھسکتی ریت کے باعث ہمیں اس دریا کی خشک گزر گاہ کے علاوہ اور کوئی سوراخ نہیں ملتا ہے۔ لگتا ہے رگ وید میں مذکور دریاؤں میں سرسوتی معروف ترین تھا۔ اسے بہترین ماں، دریاؤں میں بہترین اور دیویوں میں بہترین کے القاب سے یاد کیا جاتا تھا۔
ویدوں کے عہد میں سرسوتی غالباً ستلج کے حجم کے برابر تھا اور رگ وید کے مطابق یہ سمندر میں بھی جا گرتا تھا۔ اسے سردار، واگیشور اور برہمی کے القابات سے بھی پکارا جاتا تھا۔ بری کی مناجات بھارتی اور الا کے ساتھ ساتھ اس دیوی سے بھی منسوب ہے۔ دریا دیوی ہونے کے باعث اس کا تعلق زرخیزی، پیدائش اور خصوصاً پاکیزگی سے ہے، اس کے پانیوں میں نہانے اور اس کے کنارے اشنان کرنے والا ہر قسم کی الائشوں سے پاک ہوجاتا تھا۔
لتا منگیشکر ایک عہد ساز شخصیت تھیں جو کہ اب اس جہاں سے رخصت ہو گئیں بھارت میں اسے سرکاری اعزازات سے رخصت کیا جا رہا ہے لیکن!
لیکن!
ہم ذرا سوشل میڈیا پر اس خبر کو رپورٹ کرنے والے اداروں کے آفیشل پیجز پر پوسٹ نیوز کے کومینٹ سیکشن میں کومینٹ پڑھیں اور خبروں پر امیوجی دیکھیں، ٹویٹر پر افسوس کا اظہار کرتے دکھائی دینے والی پاکستانی سیلیبرٹیز کے ٹویٹر پر ان ٹویٹ کے رپلائی سیکشنز میں جاکر دیکھیں کہ ہماری اس اداس نسل نے جو الٹیاں کی ہیں، میں ریاست کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ایسی واہیات نسل پیدا کرنے پر۔ سوشل میڈیا پر لتا منگیشکر کا حساب کتاب کر رہے ہیں کہ جنت میں جائے گی کہ جہنم میں۔ کچھ حضرات نے تو اس پر فتوے جھاڑ کر صدی کی دیوی کو جہنم میں دھکیل دیا ہے کچھ نے اسے جہنم کا ایندھن قرار دیا ہے۔
لتا منگیشکر کچھ ان لوگوں میں سے تھیں جو اس کائنات میں دیویوں اور دیوتاؤں کے اوتار کی صورت نازل ہوئے، یہ وہ لوگ تھے جو ماحول میں سر بکھیر کر اسے جنت بنا دیتے تھے یہ وہ لوگ تھے جن کا سر سن کر اس سستے فتوی فروشوں کی وجہ سے جہنم بنے وجودوں کو بھی جنت کی ہوا کا احساس ہوتا تھا۔ اے اداس نسل کے ناکام افراد اپنی فتویٰ کی ریڑھیاں دھکیل کر اپنی منجیوں میں لگائی آگ بجھاؤ یہ فتواؤں کا طوفان آپ کے حصے بکھرے کر چکا ہے یہ آگ آپ کو جلا کر بھسم کر دے گی۔



بہت بہترین کھری کھری تحریر۔ اس صدی کی آواز ۔۔۔ مولوی کو مار مولوی کو مار۔