ہم نے ہنسنا بھی چھوڑ دیا ہے اور رونا بھی


یہ ٹورانٹو کینیڈا کا واقعہ ہے۔ میرے ایک دوست کو گاڑی چلانے کے دوران موبائل فون استعمال کرنے پر پولیس نے پکڑا اور ڈھائی سو ڈالر کا چالان جاری کر دیا۔ میرے دوست نے پولیس سے درخواست کی کہ وہ موبائل فون استعمال نہیں کر رہا تھا اور صرف سگنل پر رکے ہوئے، اس نے صرف فون کو پکڑا تھا جو کہ کپ ہولڈر میں پڑا ہوا تھا۔

پولیس افسر مطمئن نہ ہوا اور چالان جاری کر دیا گیا۔ میرے اس دوست کے پاس دو راستے تھے۔ یا تو چپ چاپ پیسے بھر دیتا یا اس چالان کو عدالت میں چیلنج کرتا جو کہ میرے دوست نے کیا۔ مقدمے کی سماعت کچھ دو مہینے بعد ہوئی۔

مقدمے کی تاریخ کے دن میرا دوست وقت مقررہ پر عدالت پہنچ گیا جہاں وہ پولیس افسر پہلے سے موجود تھا۔ اگر پولیس افسر نہ آتا تو چالان خارج ہو جاتا اور میرے دوست کو پیسے بھی نہیں دینے پڑتے اور اس کا ڈرائیونگ ریکارڈ بھی خراب نہیں ہوتا۔ باہر کے ملکوں میں اگر آپ کا ڈرائیونگ ریکارڈ خراب ہو جائے تو پھر آپ کی گاڑی کی انشورنس رقم میں کافی اضافہ ہو جاتا ہے۔

عدالت لگی۔ ایک عمر رسیدہ لیکن جاذب نظر خاتون جج تھیں۔ پولیس افسر نے اپنا مدعا بیان کیا پھر میرے دوست کی باری آئی۔ میرے دوست نے جج کو بتایا کہ وہ فون استعمال نہیں کر رہا تھا لیکن کیوں کہ وہ اگلے دو دنوں میں پاکستان کا سفر کر رہا پے اور واپس آنے میں اسے کم از کم پانچ چھ مہینے لگ جائیں گے اور پیچھے سے اگر آپ لوگ مجھے کوئی نوٹس بھیجتے ہیں اور میں یہاں نہیں ہوا تو میں اور مشکلات کا شکار ہو جاؤں گا لہذا وہ اس مقدمے کو ختم کرنا چاہتا ہے اور جرمانہ ادا کرنا چاہتا پے۔

خاتون جج نے مسکراتے ہوئے میرے دوست کو مخاطب کیا اور کہا کہ بالکل بھی نہیں۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے قانون نہیں توڑا تو پھر آپ کو جرمانہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر تم چھ مہینے بعد آؤ گے تو ہم اس کے بعد سماعت رکھ لیتے ہیں۔ میرے دوست نے حامی بھر لی۔ خاتون جج نے مسکراتے ہوئے کہا میں ستمبر کی 10 تاریخ رکھ رہی ہوں، کسی کی سالگرہ تو نہیں ہے اس دن؟ عدالت میں ایک قہقہہ سا لگا اور سب ہنسنے لگے۔

میرا دوست کہتا ہے میں عدالت کی بلڈنگ سے باہر نکلا۔ میرے سامنے کینیڈا کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ میں نے اس جھنڈے کو سیلوٹ کیا اور میری آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ میرے اس دوست نے اسی طرح ایک چھوٹے سے مقدمے کا سامنا پاکستان کی عدالتوں میں بھی کیا تھا لہذا اس کو فخر تھا کہ وہ کینیڈا کا شہری ہے اور اس کا پاسپورٹ رکھتا ہے۔

میں نے اپنے دوست سے پوچھا تمہیں اس پورے مرحلے میں کیا اچھا لگا؟ میرے دوست کا جواب میرے لئے خلاف توقع تھا۔ اس نے کہا اس جج کی مسکان اور آخر میں اس کا یہ لطیفہ کہ اگلی سماعت والے دن میری یا اس پولیس والے کی سالگرہ تو نہیں ہے۔

واقعی، ہم نے ہنسنا چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے جج، اساتذہ، ڈاکٹر اور بڑے عہدے رکھنے والی شخصیات جان بوجھ کر سنجیدہ رہتی ہیں۔ وہ ایک فرضی رعب رکھنا چاہتی ہیں تاکہ لوگ ان کی بات مانیں اور ان کی عزت کریں۔ ڈاکٹر اپنا نسخہ بھی ایسے لکھتا ہے کہ جو کسی سے پڑھا نہ جا سکے تاکہ اس کی علمی قابلیت ظاہر ہو سکے۔

ایک باپ اپنے بچوں کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہے، ہنسی مذاق کرنا چاہتا ہے لیکن وہ یہ سب نہیں کرتا کیوں کہ وہ اپنا رعب رکھنا چاہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ بچے اس سے ڈریں گے تو اس کی عزت کریں گے۔ آپ پاکستان میں کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے عہدہ رکھنے والے کے پاس چلے جائیں، وہ آپ کو ایسا دکھائی دے گا کہ جیسے اس سا بڑا کوئی شخص ہے ہی نہیں۔

پہلے گھروں میں قہقہے گونجتے تھے۔ ہم بچپن میں اپنے گھر میں ہنستے تھے تو برابر والے پڑوسی آواز لگا کر ہنستے ہوئے پوچھتے تھے ہمیں بھی لطیفہ سناؤ۔ پہلے لوگ کم پیسوں میں امیر ہوا کرتے تھے اور اب بہت زیادہ پیسوں میں بھی غریب نظر آتے ہیں۔ پہلے مہمانوں کے لئے دسترخوان بچھ جاتے تھے لیکن اب لوگ گھڑی دیکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ کب جائیں گے

جینیفر ایکر، اسٹینفرڈ یونیورسٹی (Stanford) میں انسانی رویہ کی پروفیسر ہیں۔ یہ خاتون ایک دوسرے پروفیسر کے ساتھ مل کر طالب علموں کو ”مزاح“ کا کورس پڑھاتی ہیں۔ جینیفر کا ماننا ہے کہ مزاح اور ہنسی کی بغیر کسی بھی انفرادی شخص یا ادارے کا اچھی کارکردگی دکھانا مشکل ہے۔ گھر یا کسی بھی ادارے کا ماحول ہی سب سے قیمتی چیز ہوتی ہے۔

جینیفر کی تحقیق کے مطابق ایک چار سالہ بچہ اوسطاً ایک دن میں تین سو مرتبہ ہنستا ہے جب کہ ایک چالیس سالہ شخص کو اتنا ہی ہنسنے میں ڈھائی مہینے لگ جاتے ہیں۔ جینیفر نے مزید تحقیق کر کے بتایا کہ ہم 23 سال تک ہنستے ہیں لیکن اس کے بعد ہمارا ہنسنے کا پیمانہ اور گراف تنزلی کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔

ہم نے ہنسنا بھی چھوڑ دیا ہے اور رونا بھی۔ ہم اپنے لڑکوں کو یہ بتا کر بڑا کرتے ہیں کہ مرد روتا نہیں ہے۔ مرد کا رونا ہمارے معاشرے میں ایک معیوب اور حیران کن عمل ہے۔ کیا مرد اپنی ماں باپ کے دنیا سے چلے جانے پر بھی نہ روئے؟ کیا بڑا بھائی اپنی بہن کی رخصتی پر بھی نہ آنسو بہانے جس کو اس نے باپ کی طرح پالا تھا؟ کیا وہ اپنے بیوی بچوں کے غم پر بھی گریہ نہ کرے؟ مرد روتا ہے اور اس کو رونا چاہیے کیونکہ صرف پتھر نہیں روتے۔ غالب نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ

کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جانے دل
انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں

یہ غلط روایات ہمارے معاشرے کا حصہ بن گئی ہیں۔ ہم انسان ہیں، جذبات رکھتے ہیں اور جذبات کا اظہار کرنا ایک فطری عمل ہے۔ میرے نزدیک تو اشرف المخلوقات کا خاصہ ہی یہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے دکھ، درد اور خوشی کو محسوس کرے، ہنسے مسکرائے اور جب رونا ہو تو روئے کیوں کہ

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے!

Facebook Comments HS