برطانوی وزیرِ اعظم کی اہلیہ پر تنقید کا معاملہ: ’آئیے اس عورتوں سے نفرت والی لیڈی میکبتھ کی بکواس سے آگے بڑھیں‘


Carrie and Boris Johnson
PA Media
کیری اور بورس جانس کی شادی سنہ 2021 ہوئی تھی اور اب ان دونوں کے دو بچے ہیں۔
برطانوی وزیر صحت ساجد جاوید نے وزیر اعظم بورس جانسن کی اہلیہ کے بارے میں ایک کتاب کے قسط وار شائع کیے جانے کے سلسلے کے بعد کہا ہے کہ کیری جانسن پر حملے 'جنس پرستی' اور 'عورتوں سے نفرت' (زن بیزاری) کا مظہر ہیں۔

اپنی نئی کتاب میں کنزرویٹو پارٹی کے دارالامرا کے رکن، لارڈ ایش کرافٹ کا دعویٰ ہے کہ مسز جانسن اپنے شوہر کی فیصلہ سازی کو متاثر کرتی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیرِ صحت ساجد جاوید نے دلیل دی کہ سیاست دانوں کے پارٹنرز کے متعلق ’ایک حد برقرار‘ رکھنی چاہیے کیونکہ دراصل یہ سیاستدان ہی ہے جس نے عوامی زندگی میں اپنے کیریئر کا انتخاب کیا ہے۔

اُدھر مسز جانسن نے کہا ہے کہ وہ پراپیگنڈا کی ایک ’سفاکانہ مہم‘ کا ہدف ہیں۔

اُن کے ترجمان نے کہا کہ سابق ٹوری چیئرمین لارڈ ایش کرافٹ کی طرف سے لگائے گئے الزامات کیری جانسن کو بدنام کرنے کی مہم ٹوری جماعت کے ’سابق عہدیداروں کی ایک تازہ ترین کوشش‘ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ‘(مسز جانسن) ایک نجی فرد ہیں جو حکومت میں کوئی کردار ادا نہیں کرتی ہیں۔’

33 برس کی کیری جانسن اس سے قبل کنزرویٹو پارٹی کے لیے بطور پریس افسر اور اس وقت کے کلچر سیکریٹری جان وِٹنگ ڈیل اور مسٹر جاوید کے مشیر کے طور پر کام کر چکی ہیں جب وہ کمیونٹی ڈیپارٹمنٹ کے وزیر تھے۔ وہ فی الحال ایک کنزرویشن گروپ کے لیے کام کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

برطانوی وزیرِ اعظم نے خفیہ طور پر شادی کر لی

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے فلیٹ کی تزئین و آرائش پر تنازع کیوں؟

لارڈ ایش کرافٹ، جن کی غیر مستند سوانح عمری ڈیلی میل اور اتوار کے روز میل میں قسط وار شائع کی جا رہی ہے، دلیل دیتے ہیں کہ مسز جانسن کا رویہ ’انھیں (بورس جانسن) کو برطانیہ کی اس طرح کی میعاری قیادت کرنے سے روک رہا ہے جس میعار کی برطانیہ کے ووٹرز مستحق ہیں۔‘

ان کی کتاب اُن چند متنازعہ معاملات کے درمیان سامنے آئی ہے جن میں ایک یہ الزام بھی ہے کہ مسز جانسن وزیر اعظم کے نمبر 11 ڈاؤننگ سٹریٹ کے فلیٹ کی پُر تعیش تزئینِ نو کے معاملے میں شامل تھیں اور یہ کہ وہ کابل، افغانستان میں ’نوزاد‘ نامی ایک چیریٹی ادارے کے ساتھ کابل سے جانوروں کو نکالنے میں کلیدی کردار ادا کرتی تھیں۔

وزیرِ اعظم ہاؤس، 10 ڈاؤننگ سٹریٹ، نے ان جانوروں کے کابل سے انخلا میں مسٹر یا مسز جانسن کے ملوث ہونے کی خبروں کی تردید نہیں کی ہے۔

مسز جانسن کا دفاع کرتے ہوئے ساجد جاوید نے کہا کہ وزیر اعظم کی اہلیہ کو ہدف بنانے والی رپورٹیں ’انتہائی غیر مہذب اور انتہائی غیر منصفانہ‘ ہیں۔

انھوں نے کہا، کہ ’آپ جیسے بھی چاہیں وزیر اعظم اور ان کے ارد گرد سیاستدانوں اور مشیروں کے بارے میں بات کریں، لیکن پارٹنرز کے متعلق ’ایک حد برقرار‘ رکھنی چاہیے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا یہ حملے ’جنس پرستی‘ اور ’زن بیزاری‘ کے زمرے میں آتے ہیں تو انھوں نے اس کا ’ہاں‘ کہہ کر جواب دیا۔

لیبر پارٹی کے شیڈو ورک اور پنشن کے سیکرٹری جوناتھن اشورتھ نے بھی تنقید کو غیر منصفانہ اور جنس پرست قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ مسز جانسن کو ’اکیلا چھوڑ دینا چاہیے‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ ان کے شوہر (بورس جانسن) ہیں جو ’محنت کرنے والے لوگوں کو مایوس کر رہے ہیں۔‘

Boris and Carrie Johnson

مسز جانسن جنھیں ایک صحافی خاتون سارا وائین کی حمایت حاصل ہے جو خود وزیرِ کابینہ مائیکل گوو کی سابقہ اہلیہ ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لیبر پارٹی کے رہنما جوناتھن اشورتھ نے کہا کہ جو اُن پر تنقید کی جارہی ہے وہ ’سیاسی نوعیت کی گندی گالیاں دینے کے مترادف ہے۔‘

’مشکل یہ ہے کہ عورت کو مورد الزام ٹھہرانا ہمیشہ سب سے آسان ہوتا ہے اور سچ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میں جانتا ہوں کہ کیری اینٹوئینٹ کا عرفی نام کچھ مضحکہ خیز اور ایک اچھا طنز ہے اور ہم سب کو ایک اچھا طنز پسند ہے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس طرح ان (مسز جانسن) کا نام اس طرح کے طنز میں اچھالا جائے۔‘

سابق وزیرِ خزانہ جارج اوسبورن نے ٹویٹ کرتے ہوئے اس بات سے اتفاق کیا کہ ’بورس جانسن کی حکومت کی جو بھی خامیاں اور نقائص ہوں، یا درحقیقت اس کی کامیابیاں، وہ بورس کی ذمہ داری ہیں، ان کی اہلیہ کیری کی نہیں۔ آئیے اس زن بیزاری والی عورتوں سے نفرت والی لیڈی میکبتھ کی بکواس سے آگے بڑھیں۔‘

حالیہ مہینوں میں مسز جانسن کو وزیر اعظم کے سابق معاون ڈومینک کمنگز نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انھوں نے اسے ایک ’پاگل گرل فرینڈ‘ کے طور پر بیان کیا ہے اور بی بی سی کے ایک انٹرویو میں تجویز کیا ہے کہ وہ نمبر 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں پس منظر میں بیٹھ کر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتی ہیں۔ اور انھوں نے ’کچھ اہم ملازمتوں پر مکمل مسخروں کا تقرر کرنے‘ کی کوشش کی تھی۔

لارڈ ایش کرافٹ اس سے قبل لیبر پارٹی کے لیڈر سر کیر اسٹارمر، چانسلر رشی سنک، دارالعوام میں حزب اقتدار کے لیڈر جیکب ریس موگ اور سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی سوانح حیات بھی لکھ چکے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ ان کی نئی کتاب، ’خاتونِ اول‘ سے حاصل ہونے والی رائیلٹی کا منافع نیشنل ہیلتھ سروس کے خیراتی اداروں کو عطیہ کے طور پر دیا جائے گا۔ کنزرویٹو پارٹی کے سابق خزانچی اور ڈپٹی چیئرمین، لارڈ ایش کرافٹ نے مخلتف اوقات میں حکمران جماعت ٹوریز کو لاکھوں پاؤنڈز کے عطیات بھی دیے ہیں۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp