دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے پاک فوج کی کارروائیاں


دنیا بھر میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جو اپنی افواج پر سالانہ کھربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں تاکہ ان کی افواج کی عسکری طاقت مزید مضبوط ہو اور ان کی افواج کا معیار اور صلاحیت بڑھ سکے، صدیوں پر محیط عسکری تاریخ رکھنے کے باوجود ان ممالک کی افواج اپنا وہ مقام اب بھی نہیں بنا سکیں جو افواج پاکستان نے مختصر سی تاریخ میں بنا لیا ہے۔ ترقی پذیر ملک پاکستان نے وسائل کی کمی کے باوجود ایسے کارنامے کیے ہیں کہ دنیا حیرت میں مبتلا ہے۔

اسی لئے جب بھی کسی ملک کی افواج کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے تو افواج پاکستان کا نام صف اول میں شمار ہوتا ہے جس کا واضح ثبوت گلوبل فائر پاور کی عالمی سطح پر افواج کی صلاحیت اور کارکردگی کے اعتبار سے جاری ہونے والی درجہ بندی پر مبنی رپورٹ ہے۔ سن 2021 کی جاری کردہ رینکنگ کے مطابق پاک فوج کا شمار دنیا کی طاقتور ٹاپ ٹین افواج میں کیا جاتا ہے۔ پاک فوج صرف جدید ترین جنگی جہازوں، میزائل، آبدوز اور ہتھیاروں سے ہی لیس نہیں بلکہ دنیا پاک فوج کی مہارت، شجاعت، دلیری کی بھی معترف ہے۔ ملک کے اندر قدرتی آفات، مصیبتوں، نازک حالات یا دہشت گردی کا سامنا ہو یا ملک کی سرحدوں پر دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا ہو، پاک فوج ہمیشہ اپنے فرائض میں سرخرو رہی ہے۔

امریکہ میں 9 / 11 حملوں کے بعد پاکستان کو جس طرح دہشت گردی کا سامنا تھا اس کا مقابلہ افواج پاکستان نے بڑی دانشمندی اور جراتمندانہ انداز میں کیا۔ دہشت گردوں کے خاتمہ کے لئے کامیاب آپریشنز شروع کیے گئے جن میں سر فہرست آپریشن ضرب عضب، آپریشن ردالفساد ہیں۔ آپریشن ضرب عضب سن 2014 میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے شروع کیا تھا جبکہ آپریشن رد الفساد موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سن 2017 میں شروع کیا تھا۔

آپریشن رد الفساد اپنی نوعیت کا پہلا ملک گیر آپریشن تھا جس میں پاکستان کی تینوں مسلح افواج باضابطہ طور پر حصہ لے رہی ہے جبکہ اس سے پہلے پاک فوج کے آپریشنز میں تینوں مسلح افواج غیر علانیہ طور پر حصہ لیتی رہی ہیں۔ آپریشن ردالفساد میں تینوں مسلح افواج کے ساتھ رینجرز، پولیس، دیگر سیکیورٹی ادارے اور پاکستانی شہریوں نے بھی حصہ لیا۔

پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف اس کے علاوہ بھی کئی کامیاب آپریشنز لانچ کیے ، سن 2007 میں وادی سوات اور شانگلہ ڈسٹرکٹ میں آپریشن راہ حق، سن 2008 میں وادی سوات اور شانگلہ میں آپریشن راہ حق دوئم، خیبر ایجنسی میں آپریشن صراط مستقیم اور باجوڑ ایجنسی میں آپریشن شیر دل جس میں فرنٹیئر کور نے بھی حصہ لیا۔ سن 2009 میں بھی بہت سے کامیاب آپریشن کیے گئے جن میں وادی سوات اور شانگلہ میں آپریشن راہ حق سوئم، بونیر، لوئر دیر اور شانگلہ میں آپریشن بلیک تھنڈر سٹروم، مہمند ایجنسی میں آپریشن بریخنا، سوات میں آپریشن راہ راست جسے سوات آپریشن بھی کہا جاتا ہے اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا جبکہ فروری 2017 میں ملک گیر آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا۔ افواج پاکستان کے دہشت گردوں کے خلاف ان کامیاب آپریشنز اور لازوال قربانیوں کے نتیجہ میں ملک میں امن اور استحکام پیدا ہوا اور ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔

پاکستان میں امن اور ترقی کا دور جاری تھا کہ دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر امن کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کردی ہیں۔ انارکلی بازار لاہور میں بم دھماکہ، بلوچستان میں دہشت گردوں کی کارروائی اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ دشمن عناصر کو پاکستان کی تیزی سے ہونے والی ترقی ہضم نہیں ہو رہی اسی لئے پرامن ماحول کو خراب کرنے کے لئے ایسی مذموم، شر پسندانہ حرکتیں کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے چین، ترکی، روس سمیت دیگر ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی، سفارتی تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہو رہے ہیں ایسے میں کبھی بھارتی آرمی چیف کی جانب سے مضحکہ خیز بیان سامنے آ جاتا ہے تو کبھی بم دھماکے اور دہشت گردوں کی کارروائیاں ہونے لگتی ہیں۔ دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لئے پاک فوج کے جوانوں نے ہمیشہ اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا اور ملک میں امن کی ایک نئی تاریخ لکھی جسے دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Facebook Comments HS