کرناٹک واقعہ اور بھارت کا بھیانک چہرہ!
گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے کرناٹک کے کئی کالجز میں حجاب پر طالبات اور انتظامیہ کے درمیان اختلاف چلا آ رہا ہے اور اب یہ معاملہ ہائی کورٹ میں ہے معاملہ عدالت میں ہونے کے باوجود جو چیز دیکھنے میں آ رہی ہے وہ حجاب کا مقابلہ زعفرانی شالوں سے کیا جا رہا ہے جو بھارتی معاشرہ کے مذہبی خطوط پر منقسم ہونے کی نشاندہی کر رہا ہے۔ گزشتہ منگل کے روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مسلمان طالبہ مسکان خان حجاب پہنے جب بنگلور کالج پہنچ کر عمارت کی جانب جا رہی ہوتی ہے تو انتہا پسند ہندو طلباء کا ایک جتھا زعفرانی شالیں لہراتے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگاتے اسے ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے جواب میں مسلمان طالبہ ’االلہ اکبر‘ کے نعرے بلند کرتی ہے اور مقامی زبان میں کہتی ہے کہ کیا ہمیں حجاب پہننے کا حق حاصل نہیں ہے؟
کرناٹک میں پیش آنے والے واقعہ نے سیکولر جمہوریت کے علمبردار بھارت کا نقاب کھینچ کر مودی کی ہٹلری سوچ اور متعصب ’سفاک چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں وہ دنیا سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں انڈیا میں حجاب تنازع پر کچھ سیاسی انتہا پسند جماعتوں نے طلباء میں زعفرانی شالیں تقسیم کی ہیں تاکہ وہ اس معاملے کو خوب ہوا دیں۔ انڈیا میں حجاب تنازع پر ہونے والے ہنگاموں کی کئی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں ان ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حجاب کے خلاف سینکڑوں کی تعداد میں زعفرانی شالیں اور ٹوپیاں پہنے طلباء اور طالبات‘ جے شیوا جی ’کے نعرے لگا رہے ہیں۔
نریندر مودی اپنی کمزوری اور ظلم کو چھپانے کے لئے مسلم دشمنی میں اندھا ہو کر زعفرانی شالوں کا ہتھیار استعمال کر کے بھٹکی ہوئی نسل کے ایک بڑے حصے کو نفرت کی بھینٹ چڑھا رہا ہے۔ انڈین میڈیا کے مطابق حجاب تنازع پر ہونے والے ہنگاموں کے بعد انڈین ریاست کرناٹک کے تمام سکولز اور کالجز تین دن کے لئے بند کر دیے گئے ہیں مودی کی جنونیت اور سفاکیت کے خلاف سر اٹھانے والا باہمت کردار مسکان خان نے طاغوتی بھیڑیوں کے بیچ تن تنہا‘ اللہ اکبر ’کا نعرہ لگا کر مودی سرکار کی آمریت کو زمین بوس کر دیا۔
اس صنف نازک کے نہ ہی لب کپکپائے‘ اور نہ ہی اس کے قدموں میں لغزش آئی اس نے ثابت کر دیا کہ جن کے دل میں ایمان اور اللہ کا خوف ہو وہ ناخداؤں سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور ان کے ناپاک ارادوں اور سوچ کو مٹی میں ملانے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ مسکان خان انڈین ریاست کا وہ باہمت کردار ہے جس نے بھارتی مسلمانوں کے لئے مودی کی بربریت اور سفاکیت کے خلاف متحد ہونے کے لئے سمت کا تعین کر دیا ہے۔ مسکان خان بنت محمد حسین مہاتما گاندھی کالج مانڈیا ’اڈوپی کی طالبہ ہیں کرناٹک واقعہ کی جب ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو دنیا نے دیکھا ایک تن تنہا برقعہ میں زیب تن طالبہ جب کالج پہنچی تو ہجومیوں کے‘ جے شری رام ’کے بلند ہوتے نعروں پر با حجاب مسلم شیرنی کا ‘ االلہ اکبر ’کا نعرہ بھاری ثابت ہوا جب مسکان خان کی جانب اسے ہراساں کرنے کے لئے انتہا پسند ہندو طلباء کا جتھا نعرے لگاتے اس کے قریب آئے تو مسکان خان ایک بے خوف شیرنی کی طرح پلٹی اور ان کے نعروں کا جواب‘ االلہ اکبر ’کے نعروں سے دیا کالج انتظامیہ نے صورتحال کی نوعیت بھانپتے ہوئے مسکان خان کو اپنے حصار میں لے لیا اور جنونی طلباء کے جتھا کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔
یہ ویڈیو آن واحد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے اس جواں ہمت مسلم طالبہ کو خراج تحسین پیش کیا چند ہی گھنٹوں میں بھارت کے جنونی فرقہ پرستوں کے خلاف مسکان خان جرات کی علامت بن گئی۔ انڈیا کی ریاست کرناٹک میں پیش آنے والے ایک واقعہ نے انڈیا میں بھونچال کھڑا کر دیا ہے بھارت میں اس واقعہ پر اٹھنے والی بلند آہنگ آوازوں نے مودی کی آمرانہ سوچ کو ریزہ ریزہ کر کے رکھ دیا ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ٰمحبوبہ مفتی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایک مسلمان لڑکی کو دن دیہاڑے بنا کسی خوف کے ہراساں کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ایسے غنڈوں کو حکومت میں موجود لوگوں کی سرپرستی حاصل ہے مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی یہ ویڈیو ان الفاظ کے ساتھ شیئر کی‘ آج کے انڈیا میں مسلمانوں سے نفرت ایک عام سی بات بنا دیا گیا ہے ہم اب وہ قوم نہیں رہے جو متنوع ہونے کا جشن مناتی ہے اب ہم لوگوں کو الگ کرنا اور انہیں سزا دینا چاہتے ہیں ’انڈین صحافی رعنا ایوب نے نریندرا مودی کو ٹیگ کر کے پوچھا میں سمجھتی تھی آپ خواتین کی آزادی کے حامی اور انہیں تعلیم دینا چاہتے ہیں مجھے امید ہے کہ دنیا اس نفرت کو دیکھ رہی ہے جو اس ملک (بھارت) نے مسلمان عورتوں کے خلاف بپا کر رکھی ہے۔
کرناٹک ہائی کورٹ ایک سرکاری سکول کی پانچ طالبات کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ انہیں حضاب پہننے سے روکا نہیں جا سکتا کیونکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے جو انڈیا کا آئین انہیں فراہم کرتا ہے۔ کرناٹک کے بارے میں بھارت کے اکثر ماہرین کا ماننا ہے کہ انڈین وزیراعظم نریندرا مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہ علاقہ ہندو قوم پرست پالیسیوں اور ہندو توا کے نظریے کو پروان چڑھانے والی لیبارٹری ہے۔
گزشتہ سال مسلم خواتین کے نام انٹرنیٹ پر آن لائن قابل فروخت خواتین کی لسٹ میں ڈال دیے گئے تھے‘ سولی ڈیلز ’ایپ اور ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے جس نے مسلم خواتین کی تصاویر اور ان کے پروفائلز یا نجی معلومات کو عام کیا ہے اور انہیں‘ ڈیلز آف دی ڈے ’بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ بھارت میں اس وقت مسلم دشمنی عروج پر ہے سیکولر جمہوریت کے دعویدار بھارت کا بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم و بربریت کی مودی سرکار ایک سفاک تاریخ رقم کر رہی ہے وہ کشمیری مسلمان اپنے لہو سے لکھ رہے ہیں۔
بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں‘ مذہبی آزادی پر قدغن ہے گجرات کے قاتل مودی کی انتہا پسندی آسمان کو چھو رہی ہے تلخ زمینی حقائق نے سیکولر جمہوری بھارت کو دنیا کے سامنے ننگا کر دیا ہے اقوام متحدہ کو چاہیے کہ بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر ہونے والے واقعات کو رپورٹ کرنے کے لئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے تاکہ کرناٹک واقعہ کے بعد انڈدیا میں اقلیتوں پر ہونے والے ظلم و بربریت کا پردہ چاک ہو اور بھارت کا مکروہ ’بھیانک چہرہ دنیا دیکھ سکے۔


