صادقین اور لاہور


(10 فروری کو حضرت صادقین کی برسی ہے )

سید صادقین احمد نقوی 30 جون 1930ء کو امروہہ (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق خطاطوں کے خاندان سے تھا۔ گو کہ ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں ملتیں۔ لیکن آپ کے سوانح نگار اس بات پر متفق ہیں کہ آپ بچپن سے ہی مصوری کی جانب راغب تھے۔ گھر و اسکول کی دیواروں پر مشق کیا کرتے۔ حتیٰ کہ آپ کے والدین کو کئی ایک شکایات بھی کی گئیں۔ سرزنش بھی ہوئی مگر صادقین باز نہیں آئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر سے حاصل کی۔

سنہ 1944ء میں میٹرک کی تکمیل پر دہلی آ گئے۔ یہاں جلد ہی آپ کو آل انڈیا ریڈیو میں نوکری مل گئی۔ یوں صادقین کو اپنے عہد کے سرکردہ ادیبوں کی صحبت میں رہنے کا نادر موقع ہاتھ آیا۔ صادقین رنگوں کے تو عاشق تھے ہی ان محافل کی بدولت ادب سے بھی لگاؤ ہو گیا۔ ادبی رسائل میں بھی لکھتے رہے جبکہ قریباً 16 برس کی عمر میں پہلا مجموعہ کلام ’جزو بوسیدہ‘ کے نام سے منظر عام پر آیا۔ غربت کے باعث صادقین کو تعلیم کی تکمیل میں خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

البتہ 1948ء میں آگرہ یونیورسٹی سے آرٹ کی تاریخ میں گریجویشن کی سند حاصل کی۔ تقسیم ہند پر پاکستان تشریف لے آئے اور اوائل میں بطور استاد خدمات سر انجام دیں۔ بعد ازاں ریڈیو میں ملازم ہو گئے۔ بطور مصور صادقین نے تب شہرت حاصل کی جب 1955ء میں ان کی پہلی تصویری نمائش حسین شہید سہروردی کے گھر پر منعقد ہوئی۔ صادقین کی اس نمائش کا عنوان تھا ”ایک گمنام مصور کی نمائش“ مگر اس کے بعد ان کو ایسی شہرت نصیب ہوئی کہ چہار جانب ہر اک کے لب پر انہی کا نام تھا۔

سنہ 1957ء میں صادقین کو کراچی ساحل کے قریب گڈانی کے مقام پر کچھ وقت گزارنے کا اتفاق ہوا۔ یہاں ان کو کیکٹس نے متوجہ کیا۔ دراصل صادقین نے مشاہدہ کیا کہ کیکٹس بغیر پانی، دھوپ کی شدت، سخت زمین یعنی کل ملا کر ناساز ماحول ہونے کے باوجود اوپر کی جناب بڑھتا چلا جاتا ہے۔ چنانچہ صادقین اس سے بے حد متاثر ہوئے۔ نیز کیکٹس کو صادقین نے اس دنیا میں انسان کی جد و جہد کی نمائندگی کے لیے ایک علامت کے طور پر منتخب کیا۔ صادقین یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ تمام تر مشکلات و رکاوٹوں کے باوجود انسان کو مثبت اور بڑھتے رہنا چاہیے۔

کیکٹس کے علاوہ صادقین کی مصوری میں استعمال ہونے والی نمائندہ علامتوں میں کوے، مکڑی کا جالا اور سانپ شامل ہیں۔ صادقین نے ان کے ذریعے نا صرف انسان کی صعوبتوں کی نشاندہی کی ہے، بلکہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ نفسانی خواہشات کی تکمیل کے جنون میں انسان کیسے خود اپنے لیے بیشتر مسائل پیدا کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صادقین کے ہاں ہمیں رنگوں کا تنوع کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ صادقین اس حوالے سے خود ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ لوگ اکثر ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ تتلیوں، فطری مناظر یا پھولوں کو پینٹ کیوں نہیں کرتے۔

صادقین اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں دلکش مناظر یا اس دنیا کی رنگینیوں کی بجائے انسان کی غربت، اس کا دکھ یا ایک بھوکے کی اپنی بقاء کے لیے جد و جہد متوجہ کرتی ہے۔ صادقین کی مصوری کا سب سے اہم موضوع عام انسان ہے اور وہ مخاطب بھی ہمیشہ عام لوگوں سے ہی ہوئے۔ صادقین کہا کرتے تھے کہ وہ ڈرائنگ روم آرٹسٹ نہیں بننا چاہتے۔ حتیٰ کہ وہ خود کو ڈسٹ بن آرٹسٹ کہا کرتے تھے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ صادقین اپنے فن پاروں کو فروخت کرنے کے حامی نہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوں امراء صاحب ثروت ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فن پر اثر انداز ہوتے ہیں اور فنکار کا ناتا عوام سے توڑ دیتے ہیں۔ اس لیے صادقین کے میورل ہوں یا مختلف اداروں میں موجود ان کے خطاطی کے نمونے یہ سب انہوں نے بلا معاوضہ عنایت کیے۔

پچھلے کچھ دنوں میں ایک امتحانی پرچے کے واسطے صادقین کے کلام و مصوری کو چکھنے کا موقع ملا۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ صادقین کا لاہور سے نہ صرف تعلق رہا بلکہ انہوں نے اس کا اپنی شاعری میں تفصیل سے اظہار بھی کیا۔ صادقین ستر کی دہائی میں لاہور آئے اور پھر دس برس تک یہیں مقیم رہے۔ صادقین کہتے ہیں :

جس کے لیے دنیا کا ہر اک شہر تھا وا
لاہور کا ہو کر رہ گیا ہے وہ شخص

صادقین کی جوانی کا ایک بڑا حصہ دہلی میں گزرا۔ تقسیم پر وہ پاکستان تو تشریف لے آئے، البتہ خسرو و غالب کی سر زمین کو وہ کبھی بھول نہ سکے۔ گو کہ ہند بھی جاتے رہتے تھے، بلکہ جاتے تو کئی سال وہیں قیام رہتا۔ خیر کہا جاتا ہے کہ لاہور و دہلی کی تہذیب و ثقافت میں کافی یکسانیت ہے۔ اگر قدیم شہر کی بناوٹ کو مدنظر رکھا جائے تو بھی ہمیں کئی ایک پہلوؤں میں مماثلت دیکھنے کو ملتی ہے۔ صادقین نے بھی دراصل لاہور میں اپنے جوانی کی دہلی کا عکس دیکھا تھا۔ اس حوالے سے لکھتے ہیں :

مجھ حسن پرست نے جو دلی چھوڑی
لاہور کی پھر آب و ہوا راس آئی
۔
دلی سے وہ جا رہا تھا جس دم قندھار
لاہور کی مہ وشوں پہ سن تو اے یار
میں نے ہی نہیں مجھ سے صدیوں پہلے
تھے طالبؔ آملی نے لکھے اشعار

لاہور میں صادقین نے خطاطی پر بہت کام کیا۔ آرٹ ہسٹورینز کا ماننا ہے کہ صادقین کیلیگرافی آرٹ کی نشاۃ ثانیہ کا سبب بنے۔ نیز صادقین نے خطاطی میں ایک نیا خط بھی ایجاد کیا۔ صادقین کو نہ صرف اپنے فن کی قدر و قیمت کا پورا ادراک تھا بلکہ وہ اس پر نازاں بھی تھے کہ اس شہر پر کمال کے حسن و شہرت میں ان کے فن پاروں نے بھی حصہ ڈالا ہے۔ اس کا اظہار صادقین نے کئی ایک رباعیات میں کیا ہے :

نقاشی کی اندور کا پانی پی کر
کی شاعری بجنور کا پانی پی کر
جب مرکز خطاطی میں آیا، میں نے
خطاطی کی لاہور کا پانی پی کر
۔
اس شہر کو کچھ اور سجایا میں نے
ابجد کا نیا طور بنایا میں نے
خطاطی میں، بغداد کے آئینے میں
لاہور کو، لاہور دکھایا میں نے

 

۔
بنی مقلہ کی تختی بھی پرکھ لی میں نے
یاقوت کی روشنائی چکھ لی میں نے
بغداد و دمشق کے مقابل، پھر یوں
لاہور کی کچھ تو لاج رکھ لی میں نے
۔
اک خط نیا ایجاد کیا ہے میں نے
یاقوت کا دل شاد کیا ہے میں نے
اس دور میں لاہور کو خطاطی میں
ہم پلہ بغداد کیا ہے میں نے
۔
جو خط کیا لاہور میں، میں نے ایجاد
اس کی ملی کچھ مشرق وسطیٰ ہی میں داد
اس بات پر لاہور کو کرتے ہیں سلام
شیراز و دمشق و قاہرہ و بغداد

صادقین نے لاہور میں فقط خطاطی ہی نہیں کی بلکہ شاعری پر بھی خاصا وقت صرف کیا۔ ایک مرتبہ تو اپنی تمام تر مصروفیات ترک کر کے صادقین نے ایک دن اور رات میں 250 رباعیات کہہ ڈالیں۔ رباعی حالانکہ شاعری کی مشکل اصناف میں سے ایک ہے۔ مگر اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صادقین کو رنگوں پر عبور ہونے کے ساتھ ساتھ الفاظ پر بھی مکمل گرفت تھی۔ صادقین لاہور میں کہی گئی رباعیات کی بابت لکھتے ہیں :

لاہور میں، میں نے شاعری کی یارو!
کچھ ایسے ہے میری ہر رباعی یارو!
ہائے مثنوی ’باد مخالف‘ جیسے
کلکتے میں غالب نے لکھی تھی یارو!

صادقین کو لاہور سے بہت محبت ملی۔ مگر ان کی ایک نمائش ایسی تھی، جس نے ادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا۔ اس نمائش کے انعقاد پر صادقین کے علاوہ حکومت پنجاب کو بھی طعن و تشنیع، سب و شتم حتیٰ کہ سنگ باری کا سامنا کرنا پڑا۔ نمائش میں دھماکہ بھی ہوا جس سے بیشتر تصاویر ضائع ہو گئیں۔ دراصل وقت کے ساتھ ساتھ ہر فنکار کی طرح صادقین کے خیالات میں بھی انقلاب آیا۔ خصوصاً جب صادقین کو نوبل انعام یافتہ ادیب البرٹ کامیو کی کتاب کے مصور ایڈیشن کے لیے منتخب کیا گیا تو انہیں مغرب کی جدید مصوری کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ وطن واپسی پر صادقین نے کئی ایک رنگین ڈرائنگز اور اسکیچز کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کی نمائش لاہور آرٹ گیلری میں بوسہ (Kiss) کے عنوان کے تحت منعقد ہوئی۔ صادقین نے نمائش کے داخلی دروازے پر درج ذیل رباعی درج کی :

لو کر چکا صادقین ترک اسلام
خطاطی نہیں۔ اب بناتا ہے اصنام
ماتھے پہ اب وہ کھینچ رہا ہے قشقہ
کل لوح پہ لکھتا تھا جو اللہ کے نام

اس نمائش کے انعقاد پر ”اہل خرد“ بہت سٹپٹائے بلکہ انہوں نے آخر ان تصاویر کو نذر آتش کر کے ہی دم لیا۔ یہ لوگ صادقین کو ایک مشرقی مصور کے طور پر جانتے تھے۔ اس لیے صادقین کے بدلتے تیور انہیں کسی طور نہ بھائے۔ اخبارات خصوصاً نوائے وقت کی جانب سے بہت تنقید ہوئی۔ صادقین کی تصاویر کو غیر اسلامی کہا گیا۔ اس سب میں فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد و دیگر ادیب صادقین کے بچاؤ کے لیے آگے بڑھے۔ احتجاج اس قدر شدید تھا کہ 32 ادیبوں کو صادقین کا مدعا سمجھانے کے واسطے مشترکہ بیان بھی جاری کرنا پڑا۔ جب کہ پنجاب اسمبلی میں اعتزاز احسن نے صادقین کا دفاع کیا۔ اس واقعہ کے حوالے سے صادقین نے کئی ایک رباعیاں کہی ہیں، جن میں صادقین نے ہمارے معاشرے کے دوغلے پن اور نام نہاد دانشوروں کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ صادقین فرماتے ہیں :

اس شہر کے سب زہرہ جبیں چاہتے ہیں
تا عمر میں رہ جاؤں یہی چاہتے ہیں
لیکن مرا اک دن بھی یہاں پر رہنا
اس شہر کے استاد نہیں چاہتے ہیں
۔
چھوڑوں کیوں کر میں گلستان لاہور؟
کانٹے اور پھول ہیں نشان لاہور
مجھ پر برہم ہیں واعظان لاہور
لیکن خوش ہیں مہ و شان لاہور
۔
شیخان خلیج تو دکھاتے رہے مال
دنیا کی حسینوں کا بلاتا تھا جمال
اور میں یہاں اس عمر کے، گالی کھا کر
لاہور کو دے چکا ہوں پورے دس سال
۔
پھولوں کی ملی بلخ میں تھالی مجھ کو
بغداد میں زیتون کی ڈالی مجھ کو
لاہور میں دی گئی ہے لیکن اے دوست!
خطاطی کے اعجاز پہ گالی مجھ کو
۔
حال آج تو ناساز کرے گا لاہور
گالی سے سرفراز کرے گا لاہور
لیکن میں یہاں آ کر رہا تھا کئی سال
اس بات پہ کل ناز کرے گا لاہور
۔
کہہ سکتا ہوں صاف صاف جیسے میں ہوں
اب منزل معرفت میں کیسے میں ہوں؟
جیسے کبھی دلی میں تھا سرمد بالکل
لاہور میں اس دور میں ایسے میں ہوں

اس سب کے باوجود صادقین لاہور و یہاں کہ ماہرین فن سے کبھی متنفر نہ ہوئے۔ اس ضمن میں اپنے نقطہ نظر کے حوالے سے صادقین نے اپنی رباعیات کے دیباچے میں یوں وضاحت کی ہے ”بندہ عاجز زاہدان باصفا، اہل اتقا اور عالمان آئینہ قلب کا انتہائی احترام کرتا ہے اور برصغیر پاک و ہند میں شہر لاہور کو خطاطی و کتابت کا عظیم ترین مرکز ہمیشہ سے مانتا چلا آ رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ رتبہ لاہور کو یہاں کے ماہرین فن کی بدولت ہی حاصل ہے۔

جو اس ضمن میں کمال فن کی چوٹیوں کو سر کرتے رہے ہیں۔ ان اہل کمال کے لیے اس کا دل عقیدت اور عزت کے جذبات سے لبریز ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ فقیر اس بات کا بھی اظہار کرتا ہے کہ روایت پرست ہونے کے ساتھ ساتھ زمانوں کے بدلتے ہوئے سماجی اور معاشی انداز کے ساتھ ہی ساتھ ان کے پس منظر میں جمالیاتی اقدار بھی متغیر ہوتی ہیں، لہذا روایت میں تخلیق و اختراع و ایجاد کا قائل ہے۔“ کتاب کے اختتامیہ میں صادقین لاہور سے اپنے تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں ”لاہور سے جو اس فقیر کو اپنے مزاج کی ایک خاص نوعیت کے باعث جو روحانی لگاؤ، عقیدت اور مابعد الطبیعیاتی انداز کا تعلق ہے، اس کا بندہ عاصی اکثر و بیشتر گفتار میں، اشعار میں اور تحریر میں اظہار کر چکا ہے۔

یہاں اسے محبت اور نفرت دونوں ہی چیزیں ملیں۔ محبت بے پناہ ملی اور چند مفاد پرستوں کی نفرت ہزاروں ٹن محبت کی شکر میں چند تولے نمک کی پڑیا سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ سرمایہ داروں کے سگان وفادار اس پر بھونکا کیے اور اس کا انسانی محبت کے جذبات سے لدا ہوا کاروان تخلیق و اختراع و ایجاد فنون مستقبل کی طرف پیش قدمی کرتا چلا گیا۔ اس شہر نگاراں میں اس حسن پرست فقیر نے نا جانے کتنے فنی اعتکافات کیے، خدا ہی جانے کہ کتنے خاکے بنائے، کتنی ہی روغنی تصویریں بنا دیں، خطاطیاں بے شمار کیں، رباعیات بے دریغ و بے حساب لکھیں۔ خدا کے فضل و کرم خاص سے ہمیشہ عاشقی ہی کی خدانخواستہ کبھی مزدوری نہیں کی۔“ جب کہ ایک رباعی میں لاہور سے اپنے تعلق کے متعلق کہتے ہیں :

جو مائیکل اینجلو کو رومہ سے تھی ہائے
لاہور سے مجھ کو وہی نسبت ہے حضور
ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
لیلائے ہنر ہے اگر بنت لاہور
پھر واقعی لاہور کا داماد ہوں میں

صادقین نے لاہور میں اپنے طویل قیام کے دوران بہت سے اداروں کے لیے فن پارے تخلیق کیے۔ ان میں لاہور عجائب گھر سب سے نمایاں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عجائب گھر میں صادقین نے ایک تہہ خانہ دریافت کیا جو کہ عرصہ دراز سے مقفل تھا۔ صادقین نے اپنا اسٹوڈیو اسی تہہ خانے میں قائم کیا۔ جب کہ میوزیم کی چھت پر نصب میوریل کے لیے صادقین لیٹ کر کام کیا کرتے تھے۔ اس کا آنکھوں دیکھا احوال زاہدہ حنا نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے ”لاہور کا میوزیم ہے۔

شام ڈھل رہی ہے۔ صادقین احمد 30 گھنٹوں بعد اس پاڑ سے یا یوں کہہ لیں کہ لکڑی کے تختوں سے بنی ہوئی مچان سے اترے ہیں۔ جس پر بیٹھ کر اور جس پر لیٹ کر وہ لاہور میوزیم کی چھت اور اس کے حاشیوں کو مصور کر رہے ہیں۔ اس شام میں نے دیکھا کہ برش اور مصور کے ہاتھ کا کیا رشتہ ہوتا ہے۔ اپنی تصویروں کی طرح کج مج، ٹیڑھے میڑھے صادقین کے ہاتھ سے برش کو علیحدہ کرنے کے لیے سفید تام چینی کے بڑے تسلے میں گرم پانی لایا جاتا ہے۔

صادقین اکڑی ہوئی انگلیوں میں پھنسے ہوئے برش سمیت اپنا ہاتھ اس میں ڈالتے ہیں۔ اور پھر گرم پانی سے ٹکور کے بعد ہی ان کی انگلیاں برش سے جدا ہوتی ہیں۔ میں ان کی خمیدہ انگلیوں کو دیکھتی رہتی ہوں جنہوں نے برش سے ایسا عشق کیا کہ پھر کبھی آپ کی، ہماری انگلیوں کی طرح سیدھی نہ ہو سکیں۔“ صادقین نے لاہور عجائب گھر کے علاوہ پنجاب پبلک لائبریری، اسٹاف کالج لاہور و جامعہ پنجاب کے لیے بھی میوریل بنائے۔ اس حوالے سے صادقین لکھتے ہیں کہ ”شہر کے عجائب گھر، کتب خانوں میں، ہسپتالوں میں اور درسگاہوں میں اور دیگر عوامی عمارات میں بڑی بڑی سقفی اور دیواری تصویریں اپنی جان ناتواں اور مال قلیل سے کیں اور تحفہ درویش کے طور پر ان مقامات پر آویزاں کر دیں۔“

صادقین نے اپنے سفرنامے میں ایک دلچسپ واقعہ قلمبند کیا ہے۔ جس سے ان کی اس شہر پرشکوہ سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔ صادقین لکھتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جب اتحادی افواج فرانس میں داخل ہو رہی تھیں تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ چونکہ پیرس فرانس کا شہر ناز ہے تو پیرس سے ہی داخل ہونا چاہیے۔ اس فوج میں ایک امریکی فوجی بھی شامل تھا جو کہ پیرس میں قدم رکھنے کا سوچ کر ہی جذباتی ہوا جا رہا تھا۔ یہ سپاہی جوش سے بار بار نعرہ لگاتا ”پیرس دیکھو اور مر جاؤ۔“ اس پر ایک اور سپاہی نے کہا کہ درست محاورہ یوں ہے کہ ”نیپلز دیکھو اور مر جاؤ۔“

صادقین کہتے ہیں کہ انہوں نے پیرس بھی دیکھ لیا اور نیپلز بھی اور ان دونوں جگہ میں سے کسی جگہ بھی مرنے کو دل نہیں چاہا۔ ان کے بقول اس محاورے کو یوں ہونا چاہیے ”لاہور دیکھو اور مر جاؤ۔“ صادقین یہ بھی کہا کرتے تھے کہ جیسے طالب آملی نے نگاران لاہور کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر اشعار کہے ہیں۔ انہوں نے بھی جب دنیا بھر کی سیر کے بعد لاہور میں پڑاؤ ڈالا تو ”یہاں کے حسینوں کے نہ صرف خد و خال کو آئینہ قرطاس میں نقش و نگار کی صورت میں منعکس کیا بلکہ پنجابی میں بھی سانولے مکھڑوں پر رباعیاں کہیں۔“ درج بالا واقعہ کے حوالے سے صادقین کی پنجابی رباعی درج ذیل ہے :

نیپلز کا چمن لئی در جاواں گا
ایہہ اکھاں گا پیرس میں جیکر جاواں گا
ایہہ سوچ کہ جو لاہور آیا میتھوں
دل آکھیا ہن اتھے ای مر جاؤں گا
انہی خیالات کا اظہار صادقین نے اپنی ایک اردو رباعی میں بھی کیا ہے :
شہروں سے مے عشق پئیے آیا ہوں
خود اپنے کفن کو سئیے آیا ہوں
یہ سوچ کہ اک اچھی جگہ مر جاؤں
لاہور میں مرنے کے لیے آیا ہوں

صادقین کے اعزاز میں لاہور عجائب گھر میں ان کے نام سے ایک گیلری موسوم ہے۔ جبکہ کچھ ماہ قبل جی سی یونیورسٹی لاہور میں استاد ذی وقار مادام شفاء ساحر کی کاوشوں سے آرٹ گیلری قائم کی گئی ہے، جہاں صادقین کی تصاویر آویزاں ہیں۔ یہ دونوں اقدام اپنی اپنی جگہ لائق تحسین ہیں۔ لیکن جس قدر صادقین نے لاہور کے لیے کام کیا ہے اس حوالے سے یہ کچھ ناکافی معلوم ہوتا ہے۔ صادقین نے خود تو کسی درس گاہ سے باقاعدہ آرٹ کی تعلیم حاصل نہیں لی تھی جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ :

شاگرد کسی کا ہوں نہ استاد ہوں میں
کرتا ہوا تخلیق اور ایجاد ہوں میں

لیکن راقم کے خیال میں حکومت کو صادقین کے نام پر یہاں ایک آرٹ اسکول ضرور بنوانا چاہیے۔ کچھ عرصہ قبل ہی صادقین کا لاہور عجائب گھر کے لیے بنایا گیا میورل طویل عرصہ بعد بحال ہو کر دوبارہ اپنے اصل مقام پر نصب کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے یہاں کچھ معلوماتی تختیاں بھی لگانی چاہیں تاکہ سیاح حضرات کو خصوصی طور پر اس کی جانب متوجہ کیا جا سکے۔ حال ہی میں مجلس ترقی اردو ادب کے دفتر میں ادبی چائے خانہ بنایا گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ صادقین و لاہور کے حوالے سے یہاں گوشہ صادقین بنایا جائے۔

ارباب اختیار کے ساتھ ساتھ این سی اے اور جامعہ پنجاب میں قائم آرٹ کالج کو بھی اس ضمن میں کام کرنا چاہیے۔ نیز جہاں لاہور سے متعلق دیگر ادیبوں و فنکاروں پر بات کی جاتی ہے وہیں صادقین و لاہور پر تحقیق کیے جانے کی ضرورت ہے۔ صادقین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے رومانہ حسین نے بچوں کے لیے صادقین کی تصویری سوانح بھی تحریر کی ہے۔ ایسی کتب بچوں کو نصاب کے ساتھ پڑھانی چاہیں تاکہ وہ اپنے مشاہیر سے واقف ہو سکیں۔ احباب سے گزارش ہے کہ وہ بھی بچوں کو اس مٹی کے ایسے باصلاحیت فنکاروں سے آگاہ کروائیں تا کہ ان میں مثبت شوق فروغ پائیں۔

Facebook Comments HS