چلتی جائے


مثل مشہور ہے کہ مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم آخر میں نکلتا ہے۔ لیکن ہمارے ”پیارے صاحب“ میں یہ دونوں صلاحیتیں ایک ساتھ پوری توانائی لیے موجود ہیں کہ دل دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔ زبان ہے کہ قینچی کی طرح ”چلتی جائے چلتی جائے“ ۔ ان کے موضوع سخن کوئی خاص نہیں ہیں۔ راستے میں چلتے ہوئے اور کچھ کرنے کو جب نہ ہوتا تو دکانوں کے بورڈ بلند آواز میں پڑھنا شروع کر دیتے اور ان کو اس طرح ملاتے جلاتے کہ سننے والے اور دیکھنے والے حیران و پریشان رہ جاتے۔ ایک بار وہ اس عمل سے گزر رہے تھے کہ بچوں نے پاگل ہی اوئے پاگل ہی اوئے کہہ کر پیچھے بھاگنا شروع کر دیا اور انہوں نے پاگل کی اداکاری کرتے ہوئے دو چار پتھر بچوں پر دے مارے اور ثابت کر دیا کہ ’بچے من کے سچے‘ ۔

ان کو آوازیں نکالنے پر ملکہ حاصل ہے۔ ایسی ایسی آوازیں نکالتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ ایک بار منہ سے ایسی آواز نکالی کہ سننے والے نے سمجھا کہ اس میں ان کی کوئی چال ہے۔ آپ کبھی بکری، کبھی کتے، کبھی بندر اور ہاں کبھی کبھی انسان کی آواز بھی نکال لیتے ہیں۔ آپ کو ہزاروں لطائف یاد ہیں کہ ہر موقع پر بے جوڑ لطیفہ سنا کر داد وصول کرنا آپ کی عادت بن گئی ہے۔ آپ کوئی بات کریں وہ فوراً کوئی لطیفہ سنا کر داد طالب نظروں سے آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ جب کہ آپ سوچتے ’what the hell he is saying‘ یہ کیا بکواس ہے؟

پیارے صاحب اچھے خاوند ہیں یا نہیں مگر ایک پیارے اور جان نچھاور کرنے والے باپ ضرور ہیں۔ ان کی اپنی زوجہ محترمہ سے ہر وقت لڑائی رہتی ہے لیکن اپنے بچوں کے عاشق ہیں۔ ایک راوی کا بیان ہے کہ آپ اپنے بیٹے کو اتنا چومتے ہیں کہ دن میں سینچری مارنا تو معمول کی بات ہے اور اکثر چھٹی کے دن دو تین سینچری ضروری لگتی ہے۔ انہوں نے اپنی فنکاری کے جوہر اپنی وراثت میں اپنی بیٹی کو دیے ہیں اور آپ سے دو قدم آگے چل رہی ہے، پوری پٹاخہ ہے پٹاخہ۔

ایک بار کھیلتے ہوئے گر پڑی، اس نے ایسی فنکاری دکھائی کہ اپنے باپ فنکار کو مات دے گئی اور پیارے صاحب سمجھے کہ سر پر گہری چوٹ آئی ہے اس لیے بہکی بہکی باتیں کر رہی ہے۔ حالانکہ وہ معمول کے مطابق باتیں کر رہی تھی۔ اس فنکاری کے نتیجے میں وہ اس کو لے کر ہسپتال پہنچے اور کئی ٹیسٹ کرانے کے بعد خوش خوش واپس لوٹے شکر ہے کہ بیٹی محفوظ ہے، اللہ نے بلا ٹال دی۔

پیارے صاحب کو اپنے والدین سے شدید گلے شکوے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے والدین نے ان کو محبت نہیں دی حالانکہ بقول شخصے آج ان کی بگڑی حالت کے ذمہ دار والدین کا زیادہ پیار ہی ہے۔ خاص طور پر والد نے خوب پیار دیا لیکن وہ ماننے سے انکاری ہیں۔ اس لیے والدین سے دور علیحدہ مکان میں رہتے ہیں اور ان کو دور دور سے سلام پیش کرتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں ان کی اولاد ان کی فرمانبردار بنے۔

Facebook Comments HS