آپریشن خلافت 1995۔ ایک خوفناک منصوبہ


وطن عزیز کی تاریخ میں بہت مرتبہ حکومتوں کا تختہ الٹنے کے کامیاب اور ناکام منصوبے بنائے گئے ہیں۔ ایک ایسا ہی منصوبہ 1995 میں بنایا گیا تھا۔ اس وقت بے نظیر بھٹو صاحبہ ملک کی وزیر اعظم تھیں۔ یہ منصوبہ تو ناکام ہو گیا لیکن اس کے متعلق آج تک بہت سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ بغاوت کا یہ منصوبہ کئی لحاظ سے منفرد تھا۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوجاتا تو کیا پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنایا جانا تھا؟ صرف یہ نہیں بلکہ اس کی کامیابی کے بعد پہلی تقریر میں ہی یہ اعلان کیا جانا تھا کہ آج سے پاکستان ایک سنی ریاست ہے۔

اور اب کلیدی عہدوں پر صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ سچے مسلمان مقرر ہوں گے۔ [یہ علم نہیں کہ سچے مسلمان کی شناخت کے لیے کون سا معیار استعمال کیا جانا تھا ]۔ یہ قانون بنایا جانا تھا کہ عورتوں کو لازمی طور پر پردہ کرنا ہو گا۔ ان پر یہ پابندی بھی لگائی جانی تھی کہ وہ پاسپورٹ کے علاوہ اپنی تصویر نہیں کھنچوا سکتیں۔ پہلے دن سے فلم انڈسٹری پر پابندی لگائی جانی تھی۔ خاندانی منصوبہ بندی خلاف قانون قرار دی جانی تھی۔ اور اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا تو اس بغاوت کے لیڈر نے ملک کے صدر، چیف ایگزیکٹو یا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے حلف نہیں اٹھانا تھا۔ ان کے لیڈر نے ایک خلیفہ کا منصب سنبھالنا تھا اور پاکستان میں نظام خلافت کے اجراء کے ساتھ جمہوریت کو ختم کرنے کا اعلان ہونا تھا۔

اس منصوبے کو خلافت آپریشن کا نام دیا گیا تھا۔ اور اس کے کامیاب ہونے کے بعد میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی صاحب نے فوج کے سربراہ اور خلیفہ بننے کا اعلان کرنا تھا۔ عباسی صاحب اس منصوبے میں شامل سب سے سینئر افسر تھے۔ اور ان کے علاوہ لگ بھگ تین سو افراد اس منصوبے میں شامل تھے۔ ان افراد نے ستمبر 1995 میں ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس پر حملہ کر کے پاک فوج کے سینئر جرنیلوں کو گرفتار یا ختم کردینے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس کے بعد ظہیرالدین عباسی صاحب نے پاکستان کے پہلے خلیفہ کی حیثیت سے تقریر کرنی تھی جو کہ ایک مولوی صاحب نے پہلے ہی تیار کی ہوئی تھی۔ اس بغاوت کے ایک اہم مجرم برگیڈیر مستنصر باللہ نے اس منصوبے کے بارے میں ایک کتاب ”آپریشن خلافت 1995“ لکھی تھی۔

اس منصوبہ کے بارے میں بعض حقائق پر بہت کم تبصرہ کیا جاتا ہے۔ اور ان حقائق سے کچھ سوالات جنم لیتے ہیں۔ اس کالم میں ان سوالات کو پیش کیا جائے گا۔ اس بغاوت کے سرغنہ ظہیر الاسلام عباسی صاحب تھے۔ اور 1991 یا 1990 میں جبکہ وہ فورس کمانڈر ناردرن ایریا تھے انہوں نے فوج کی قیادت اور اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے از خود کارگل میں ایک آپریشن کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل شروع کرا دیا۔

یہ منصوبہ ناکام ہوا۔ اور ایک برگیڈیر سمیت دس افسران اور چالیس جوانوں کی شہادت بھی ہوئی۔ لیکن اس کے ماسٹر مائنڈ ظہیر الاسلام عباسی صاحب نے خود کو شہادت سے محفوظ رکھا بلکہ اس آپریشن میں شامل جوانوں کو بھارتی حملے کے سامنے تنہا بھی چھوڑ دیا۔ اس وقت مرحوم جنرل آصف نواز صاحب پاک فوج کے سربراہ تھے۔ انہوں نے ظہیر الاسلام صاحب کو اس کمان سے ہٹا دیا اور کہا جاتا ہے کہ ریٹائر کرنے کا فیصلہ بھی ہوا تھا لیکن ایک جنرل جاوید ناصر صاحب کی سفارش پر انہیں ریٹائر نہ کیا گیا۔ جب ایک افسر ایک مرتبہ اس ہونق طریق پر حکم عدولی کر چکا تھا تو اس کی نگرانی کیوں نہیں کی گئی تاکہ وہ ایک مرتبہ پھر ایسا منصوبہ نہ بنا سکے۔

اس آپریشن پر ستمبر 1995 میں عمل درآمد شروع ہوا تھا۔ اور اس پر عمل درآمد شروع کرنے سے بالکل قبل اس گروہ نے ملک میں بغاوت کی ایک مختلف کوشش بھی کی تھی۔ اس مقدمہ کے اہم گواہ مولوی مفتی محمد سعید صاحب نے یہ گواہی دی کہ ستمبر 1995 میں پاک فوج کے چیف آف سٹاف وحید کاکڑ صاحب بیرون ملک کے دورہ پر گئے تھے۔ اس دوران جنرل جی ایم ملک صاحب فوج کے قائم مقام سربراہ تھے۔ ان دنوں میں اس سازش میں شریک برگیڈیر مستنصر باللہ صاحب نے جنرل جی ایم ملک صاحب سے ان کے گھر جا کر بات کی کہ یہی عمل کا وقت ہے کہ ملک کا کنٹرول سنبھال کر ملک میں اسلام نافذ کر دیا جائے۔

لیکن مفتی محمد سعید صاحب کا کہنا تھا کہ جنرل جی ایم ملک صاحب نے ان کی بات سنی ان سنی کر دی۔ اور موضوع بدل دیا۔ اگر یہ گواہی درست ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایک سینئر جنرل کے علم میں یہ بات آ چکی تھی کہ ملک میں بغاوت کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے لیکن انہوں نے اس پر کوئی عملی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی فوج کے سربراہ کو مطلع کرنے کی زحمت کی۔ اس کے باوجود وہ سروس میں رہے۔

عام طور پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ منصوبہ صرف فوج میں شامل افسران تک محدود تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سازش کے بانیوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ کور کمانڈرز کانفرنس پر حملہ کرنے کے لئے فوجیوں کو نہیں بلکہ مجاہدین کو استعمال کیا جائے گا۔ اور بزعم خود خلافت کے امیدوار ظہیر الاسلام عباسی صاحب نے اقتدار سنبھالنے کے بعد جو تقریر کرنی تھی وہ بھی کسی فوجی افسر کی نہیں بلکہ مولوی عبد القادر ڈیروی صاحب نے لکھی تھی۔

یہ سازش صرف پاکستان میں تیار نہیں ہوئی تھی بلکہ اس میں شامل کردار اس مقصد کے لئے سعودی عرب میں بھی ملاقاتیں کرتے رہے تھے۔ اس مقصد کے لئے بہت سے فوجی افسران ایک کردار صوفی محمد اقبال صاحب کے مرید بن کر ان سے پاکستان اور سعودی عرب میں ملتے رہے۔ مقدمہ کے سلطانی گواہ کرنل لیاقت علی راجہ صاحب نے یہ گواہی دی کہ اس گروہ کے لوگوں نے انہیں صوفی اقبال صاحب کا مرید بنایا۔ اور ان کے مریدوں میں کئی فوجی افسران شامل تھے۔

صوفی صاحب کا زیادہ تر قیام سعودی عرب میں رہتا تھا۔ اور کئی فوجی افسران گروپ کی صورت میں ان سے ملنے سعودی عرب جاتے تھے اور ان میں اس سازش کے سرغنہ ظہیر الاسلام عباسی صاحب بھی شامل تھے۔ اور صوفی اقبال صاحب انہیں بغاوت پر اکساتے تھے۔ اور یہ فیصلہ ہوا تھا کہ جب بغاوت کامیاب ہو جائے گی تو صوفی صاحب پاکستان آ جائیں گے۔

بغاوت شروع کرنے سے بالکل پہلے ظہیر الاسلام عباسی صاحب دورہ پر ایران اور پھر سعودی عرب گئے اور سعودی عرب میں انہوں نے اس بغاوت کے لیے صوفی صاحب سے ہدایات بھی حاصل کیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ سعودی عرب میں تو اس قسم کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ پاکستان سے کئی فوجی افسران گروپ بنا کر وہاں اپنے پیر صاحب کے ساتھ ایک گھر میں رہتے رہے اور وہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خبر تک نہ ہوئی اور اس کے بعد پاکستان حکومت نے ان صوفی صاحب کو سعودی عرب سے پاکستان لا کر ان سے تفتیش کیوں نہیں کی؟

اس منصوبہ میں جو ہتھیار استعمال ہونے تھے وہ 8 ستمبر 1995 کو پکڑے گئے تھے۔ اور یہ کارنامہ بھی پولیس کا تھا۔ لیکن افسران کو یہ یقین دلایا گیا کہ یہ ہتھیار تو کوٹلی میں کشمیر کے مجاہدین کو بھجوائے جا رہے تھے۔ اسلحہ پکڑے جانے کے بعد دس روز تک اس بارے میں کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ اور اس بغاوت کے کردار کس طرح آزاد پھرتے رہے اور مزید منصوبے بناتے رہے۔ یہاں تک 18 ستمبر کو امریکہ کی ایجنسیوں نے پاکستان کی ایجنسیوں کو اطلاع دی کہ یہ کشمیر میں جہاد کی نہیں بلکہ پاکستان میں فوجی قیادت کو ختم کرنے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی کی تیاری کی جا رہی تھی۔ اور اس اطلاع پر گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

Facebook Comments HS