مختصر ڈرامہ: سانجھا دکھ
منظر 1
صبا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی بہت خوشی سے تیار ہو رہی ہے۔ بہت خوبصورت لباس پہنا ہوا ہے، چہرے پر گہری خوشی نمایاں ہے۔ کمرہ اچھی طرح سجا ہوا ہے
سونو بستر پر بیٹھا کھلونوں سے کھیلتے کھیلتے ماں کو غور سے دیکھتا ہے
سونو۔ ماما
سونو۔ ماما
صبا۔ ہممم
سونو۔ ماما۔ بات سنیں نا
ماما۔ بولو سن رہی ہوں
سونو۔ میری طرف دیکھیں نا
صبا۔ گہری سانس بھر کر مڑ کر دیکھتی ہے، بولو
سونو۔ ماما آپ اتنی خوش کیوں ہیں، اتنا تیار کیوں ہو رہی ہیں، ہم کہیں جاری ہیں کیا؟ آپ نے مجھے تو تیار ہی نہیں کیا۔
صبا۔ گہری مسکراہٹ کے ساتھ بولتی ہے، ہم کہیں نہیں جا رہے آپ کے پاپا گھر آ رہے ہیں۔
سونو۔ (دیوار پر لگی تصویر کی طرف اشارہ کر کے پوچھتا ہے، یہ تصویر والے پاپا؟
صبا۔ ہاں، اور اب یہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہی رہیں گے۔
مسکراتی اور گنگناتے ہوئے تیار ہونے لگتی ہے۔
بچہ غور سے تصویر کو دیکھتا ہے اور پھر ماں کو۔
منظر 2
صبا بہت خوشی سے میز پر کھانا لگا رہی ہے،
سونو کرسی پر بیٹھا ہے ہے
اختر گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کمرے سے نکلتا ہے۔
(کھانے کے ٹیبل پر بیوی پیار سے اسے دیکھتے ہوئے بولتی ہے مجھے یقین ہی نہیں آ رہا کہ آپ واپس آ گئے ہیں، پیار سے میاں کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے۔ اختر بھی محبت سے ہاتھ تھام لیتا ہے۔
سونو زور زور سے چلانے لگتا ہے مرچیں مرچیں پانی پانی
ماں جلدی سے پا نی دیتی ہے، باپ ناگواری سے گھورتا ہے۔
منظر 3
بچہ ماں باپ کے ساتھ بیچ میں سو رہا ہے۔ جگہ کم ہونے کی وجہ سے اختر الجھ رہا ہے۔
اختر۔ (ناگواری سے صبا کو کہتا ہے اب یہ بڑا ہو گیا ہے اسے الگ کمرے میں سلاؤ
سونو سونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ایک لات زور سے باپ کو مار دیتا ہے
اختر۔ غصے سے گھورتا ہے۔
سونو۔ کروٹ بدل کر ماں سے لپٹ جاتا ہے۔
منظر 4
صبا اور سونو لاؤنج میں ہیں۔ صبا گھر کے کاموں میں مصروف ہے اور بچہ شور مچاتے ہوئے جہاز اڑا رہا ہے۔ ماں ڈانٹتی شور مت مچاؤ۔ پاپا سو رہے ہیں۔
سونو ٹی وی آن کرتا ہے صبا اس پر بھی ڈانٹ دیتی ہے۔
صبا۔ بند کرو ٹی وی، پاپا سو رہے ہیں، شور مت کرو۔ خاموشی سے کھیلو۔
سونو ناراض ہو کر کمرے میں چلا جاتا ہے۔
منظر 5
صبا، سونو اور اختر لاؤنج میں بیٹھے ہیں۔
صبا اختر کے کپڑے استری کر رہی ہے، کرسی پر کافی سارے کپڑے جمع ہیں۔
اختر صوفے پر بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا ہے۔
سونو۔ ماما آج سنڈے ہے، آپ سنڈے کو مجھے پلے لینڈ لے کر جاتی ہیں۔ شام بھی ہو گئی ہے چلیں گے نا آج؟
صبا۔ آج نہیں بیٹا آج مجھے پاپا کے اتنے سارے کپڑے استری کرنے ہیں۔ اور ابھی ضروری کام ہیں۔
سونو غصے سے باپ کو گھورتا ہے، دل میں سوچتا ہے ساری مصیبت ان کی وجہ سے ہے، ضدی انداز میں چلانا شروع کر دیتا ہے مجھے جانا ہے، مجھے جانا ہے۔ آپ بہت گندی ہو گئی ہیں۔ مجھ سے پیار نہیں کرتیں، صرف پاپا سے پیار کرتی ہیں۔
اختر۔ ٹی وی سے نظریں ہٹا کر، غصے سے ڈانٹتا ہے، کیوں چلا رہے ہو، تمیز سے رہو۔
سونو اور بدتمیزی سے چلا تا ہے چپ ہوجائیں آپ، آپ سے بات نہیں کر رہا۔ چلے جائیں آپ، کیوں آئے ہمارے گھر میں۔
پاؤں پٹختے ہوئے دوسرے کمرے میں چلا جاتا ہے۔
ماں پیچھے سے آوازیں دیتی ہے۔ شرمندگی سے اختر کو دیکھتی ہے۔ اختر بھنویں چڑھا کر گھورتا ہے۔ صبا کے چہرے پر بیچارگی کے تاثرات چھا جاتے ہیں۔
منظر 6
بچہ دوسرے کمرے میں ناراض بیٹھا دعا مانگتا ہے۔
سونو۔ اللہ میاں مما صرف پاپا۔ سے پیار کرتی ہیں۔ آپ پاپا کو واپس دوسرے ملک بھیج دیں۔
–
منظر 7
سونو اپنے بستر پر سو رہا ہے لیکن چہرے پر آنسوؤں کے نشان ہیں۔ صبا کمرے میں آتی ہے۔ پیار کرتی ہے، بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرتی ہے۔
دوسرے کمرے سے اختر کی آوازیں آتی ہیں
صبا، صبا کہاں ہو؟
صبا تیزی سے باہر چلی جاتی ہے۔
منظر 8
صبا اختر اور سونو گھر میں داخل ہوتے ہیں، صبا بہت خوش ہے۔
صبا۔ (ہنستے ہوئے ) اف میں بہت خوش ہوں۔
اختر۔ مزاحیہ انداز میں بولتا ہے اتنا خوش تو تم میرے آنے سے بھی نہیں ہوئیں تھیں۔
صبا۔ ارے آپ تو ابھی سے جیلس ہونے لگے، ابھی تو وہ آیا بھی نہیں۔ ہنسنے لگتی ہے
اختر فریج کھول کر پانی پینے لگتا ہے۔
سونو۔ ماما۔ کون آ رہا ہے؟
ماما سونو کا گال چھو کر مسکراتی ہے۔ آپ کا بہن یا بھائی جو آپ کے ساتھ کھیلا کرے گا۔
سونو۔ سچ ماما۔ آپ بہت پیاری ہیں۔
سونو۔ زور زور سے گاتا ہے میرا بھائی آئے گا، بڑا مزا آئے گا، میرا بھائی آئے گا، بڑا مزا آئے گا
صبا اور اختر اسے دیکھ کر ہنستے ہیں۔
منظر 9
صبا اپنے کمرے میں نومولود بچے کے ساتھ مصروف ہے۔ کمرے میں اور بستر پر بچے کے کپڑے اور سامان بکھرا پڑا ہے۔
سونو۔ ماما میری کتابیں نہیں مل رہیں، ڈھونڈ دیں
صبا۔ میں بزی ہوں منے کے ساتھ، خود ڈھونڈو جاکر۔
اختر واش روم سے نکلتا ہے۔ یار میری گرین چیک والی شرٹ نکال دو
صبا ناراضگی سے بولتی ہے خود نکال لیں، دیکھ نہیں رہے میں بزی ہوں
اختر ہونٹ نکال کر کندھے اچکا کر الماری میں کپڑے دیکھنے لگتا ہے۔
مڑ کر سونو کو دیکھتا ہے، تم کیا کھڑے ہو یہاں جاؤ
سونو مسکراتا ہو باہر چلا جاتا ہے۔
منظر 10
صبا کمرے میں بچے کو سلا رہی ہے۔ اختر موبائل دیکھ رہا ہے۔
صبا ناراضگی سے اختر سے بولتی ہے یہ موبائل بند کریں لائیٹ آنکھوں میں جا رہی ہے اس کے۔
اختر کے چہرے پر ناگواری کے آثار آتے ہیں۔ چڑ کر بولتا ہے کیا ہے یار۔
بے بسی سے تکیہ پٹخ کر سونے لیٹ جاتا ہے۔
منظر 11
رات کا پچھلا پہر ہے بستر پر صبا، اختر اور ان کے بیچ میں بچہ سو رہا ہے۔
کمرے کا اے سی بند ہے اور پنکھا بھی ہلکی رفتار سے چل رہا ہے۔ گرمی اور حبس سے اختر کی آنکھ کھل جاتی ہے۔
اختر خود کلامی کرتے ہوئے کہتا ہے اف کس قدر گرمی ہے، اے سی کیوں بند ہے۔
اے سی آن کر کے دوبارہ آرام سے سو جاتا ہے۔
چند ہی منٹوں میں کمرے کا گرم ماحول، سرد ہوجاتا ہے۔
چند منٹ بعد ، صبا کی آنکھ کھلتی ہے۔ اے سی چلتا دیکھ کر سوتے ہوئے اختر کو غصے سے گھو رتی ہے۔
بڑبڑاتی ہے اف اللہ، منے کو ٹھنڈ لگ جائے گی۔
اے سی بند کرتی ہے منے کی چادر درست کرتی ہے۔ سو جاتی ہے۔
اختر کی آنکھ کھلتی ہے۔ بند اے سی کو دیکھتا ہے، صبا اور بچے کو دیکھتا ہے، بیچارگی سے بیٹھا رہتا ہے۔
منظر 12
سونو کھلونوں سے کھیل رہا ہے۔ اختر ٹی وی دیکھ رہا ہے۔ صبا کھانے کے برتن میز پر سے اٹھا رہی ہے۔
صبا تیز لہجے میں اختر سے پوچھتی ہے رات میں بار بار اے سی کیوں چلا رہے تھے آپ۔ منے کو سردی لگ گئی تو۔
اختر بیچارگی سے جواب دیتا ہے ارے یار اتنی گرمی ہے۔
صبا غصے میں آجاتی ہے، تیز اور حکمیہ لہجے میں بولتی ہے بس اب اے سی نہیں چلے گا، اور یہ ٹی کی آواز کم کریں۔ منا اٹھ جائے گا۔
سونو حیرانی سے سوچتا ہے، ماما پاپا سے بھی ناراض ہوتی ہیں۔
پھر کھلونوں میں مگن ہوجاتا ہے ، کھلونا گن اٹھا کر فائرنگ شروع کر دیتا ہے جس میں تیز میوزک بجنا شروع ہوجاتا ہے۔
صبا تیزی سے آ کر ہاتھ سے چھین لیتی ہے، بند کرو اسے منا اٹھ جائے گا۔
اختر ہلکی ناراضگی سے بولتا ہے نہیں کرو سونو۔
کمرے سے بچے کے رونے کی آواز آتی ہے۔
صبا تیزی سے کمرے میں جاتی ہے۔
اختر ترچھی نظروں سے اسے اندر جاتا دیکھتا ہے، ٹی وی کی آواز تیز کر دیتا ہے۔
کمرے سے صبا کی آوازیں آتی ہیں سوجا سوجا میرا بیٹا سوجا
دو منٹ بعد کمرے کا دروازہ کھول کر صبا جھانکتی ہے۔
کیا ہو گیا ہے آپ کو سمجھ نہیں آتی بات بند کریں یہ ٹی وی
اختر بوکھلا کر آواز کم کرتا ہے
صبا غصے سے آ کر ریموٹ چھینتی ہے اور ٹی وی بند کر کے زور سے صوفے پر رکھتی ہے۔
واپس کمرے میں چلی جاتی ہے۔
لاؤنج میں مکمل خاموشی چھا جاتی ہے۔
سونو اور اختر منہ لٹکائے بیٹھے ہیں۔
اچانک سونو کی آنکھوں میں چمک اور چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے۔
سونو۔ سرگوشی میں آوازیں دیتا ہے پاپا، پاپا۔ پاپا
اختر ہلکا سا چڑ کر جواب دیتا ہے، کیا؟
ہاتھ کے اشارے سے بلاتا ہے اور اپنے کمرے کی جانب جاتا ہے۔
منظر 13
سونو اور اختر بیٹھے لوڈو کھیل رہے ہیں۔ اختر چھکا پھینکتا ہے۔ چھ آتا ہے۔
اختر دونوں ہاتھ ہوا میں لہرا کر زور سے چیختا ہے۔ چھکا!
سونو۔ انگلی ہونٹوں پر رکھ کر شششش، ہاتھ سے اشارہ کر کے آہستہ۔
اختر اور سونو منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنستے لگتے ہے۔
باپ بیٹا ہنستے ہوئے لوڈو کھیلنے میں لگے جاتے ہیں
منظر 14
بستر پر لوڈو کھلا پڑا ہے، اختر گہری نیند میں ہے، سونو بھی اس کے سینے پر سر رکھے گہری نیند میں ہے۔ اختر کا ہاتھ سونو کے گرد لپٹا ہوا ہے۔
دوسرے کمرے سے صبا کی آوازیں آ رہی ہیں۔
سوجا سوجا، پیارا منا سوجا۔
دی اینڈ

