آج کے سندھ کی حقیقی تصویر


ہمارا شمار ان لوگوں میں سے ہوتا ہے جن کو اپنے سوا سب کی خبر ہوتی ہے، جہاں کے لیڈر ہر بات میں جھوٹ اور منافقت سے کام لیتے ہیں ( خاص طور پر جب وہ حکمران بھی ہوں) اور ہم واقعتاً کچھ بھی کر نہیں سکتے کیونکہ اصل اور حقیقی خبر کو بگاڑ کر، اس کا کچومر نکال کر، اس کی اصل شکل بگاڑ کر ”مکس آچار“ بنا کر کھانے کی عادت نشے کی طرح ہماری رگوں میں شامل ہو چکی ہے۔ تو ایسے میں ہمارے ملک کا حال کیا ہو گا؟

پورے پاکستان کو چھوڑ کر اگر ہم بات صرف اس علاقے کی کریں جس میں ہم رہتے ہیں اور سب کچھ آنکھوں سے دیکھتے ہیں یعنی چشم دید گواہ ہیں تو وہی خبر وہی بات دراصل حقیقت پر مبنی ہوتی ہے اور یقیناً ہو گی بھی، اس لئے آج دل کہہ رہا ہے کہ میں اپنے صوبے اور اپنے علاقے کی بات کروں، سندھ کی بات کروں، جس میں اگر دیکھا جائے تو کئی دہائیوں سے حکومت پی پی پی کی ہے (جس میں کراچی یا حیدرآباد جیسے بڑوں شہروں میں ایم کیو ایم کی حکومت رہی ہے ان کا طرز حکمرانی شہروں میں غنڈہ گردی اور دہشت گردی سے عبارت تھا) اور دیہاتوں میں پیروں وڈیروں کے بل بوتے پر پی پی پی کی حکومت قائم و دائم ہے جبکہ عوام کہیں بھی نہیں (اور عوام ہوں بھی کیوں؟) صرف حالیہ دنوں میں سندھ کے ”نؤں کوٹ، لاڑکانہ، اور نواب شاہ جیسے شہروں میں بربریت درندگی اور جنسی ہراسانی کے لگاتار واقعات جس طرح رپورٹ ہوئے ہیں اس پر کہیں بھی سندھ کے عوام پر جمہوریت کی دعوے دار اور عوام دوستی کا راگ الاپنے والی پی پی پی سائیں سرکار آپ کو نظر آئے، مجال نہیں۔

حد ہے بلاول سب کچھ چھوڑ کر پنجاب کی پچ پر کھیلنے نکلے ہیں، آصف زرداری کی بھی صحت مبارک مفاہمت اور جوڑ توڑ کے علاج سے بہتر ہو جاتی ہے۔ سندھ کے وزرا سب کے سب آئے روز سندھ کے عوام کے پیسے لوٹ کر اور صوبوں میں نکل پڑتے ہیں خرید و فروخت کی سیاسی منڈی میں۔ کشمیر گلگت، کے پی کے اور سینٹ کے الیکشن اس کی مثال ہیں، جبکہ سندھ کے عوام گٹر کا ابلتا ہوا، گندہ بدبودار پانی پینے پر مجبور ہیں جن سے لاتعداد بیماریاں جس میں ہیپاٹائیٹس ہر گھر کے کسی نا کسی فرد کو جکڑے ہوئے ہے مگر پرسان حال کوئی نہیں۔

تعلیم کے نظام کا حال دیکھیں تو جاہلوں کی قطاریں آپ کو سیاسی بنیاد پر بھرتی کیے ہوئے ملیں گی، چور سے چوکیدار، چپڑاسی سے چرواہے تک، الٹا سسٹم ملے گا۔ گھر کے دروازے سے گلی تک کے نظارے گند ہی گند کی صورت میں اپ کا سواگت کریں گے، میونسپل کے سارے ملازمین آپ کو جھاڑو کے ساتھ اکا دکا کبھی کبھار اگر نظر آئیں تو سمجھ لیں کہ ’کوئی آپ کے شہر میں وزیر کی یا پھر زرداری خاندان میں سے کسی کی مقدس یاترا ہے ورنہ صفائی والے نظر آئیں یہ ہو نہیں سکتا۔ ادارے کے سب ملازمین تنخواہ تو سندھ کے عوام کی جیب کاٹ کر لیتے رہتے ہیں مگر عملہ سیاسی لوگوں کے گھروں میں کام کرتے پایا جاتا ہے۔ کہنے کو سرکاری اسپتال انسانوں کے لئے ہیں مگر ان کا حال جانوروں کے اسپتال سے بدتر ہے جہاں مفت کی سہولیات کے دعوے کرنے والے چھوٹی سی چھوٹی پرچی سے لے کر ٹیسٹ پر بھی ”کئی ہزار“ لیتے ہیں۔ یہ ڈاکٹرز سب کے سب اپنے اپنے پرائیویٹ اسپتالوں میں انہیں مریضوں کو ریفر کر کے کئی گنا کماتے جا رہے ہیں حال یہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں استعمال شدہ ڈرپس سرنج تک عملے والے بیچ کر یا وہی صاف کر کے مریضوں کو بیچتے ہیں اور سونے پر سہاگہ ڈاکٹر مریضوں کو اکثر اپنی پرائیویٹ کلینک پر مریضوں کو ریفر کرتے پائے جاتے ہیں اور حیرت یہ ہے کہ صفائی کا نظام کہیں بھی بہترین نہیں ہوتا (کئی بیماریاں مریضوں کو لانے والے صحت مند افراد خود یہاں سے گلی اور گھر میں لے آتے ہیں) مارکیٹ پر مارکیٹیں بن رہی ہیں عمارتوں پر عمارتیں بن رہی ہیں مگر مجال ہے کہ کسی بھی انسان کے بچے کو یہ خیال آئے کہ جو پروجیکٹ بن رہا ہے، اس میں نکاسی آب کا بندوبست نقشے میں تو ہے مگر زمین پر کہیں بھی نہیں ہوتا، الٹا گند راستوں پر ہر طرف سے دکھائی دے گا۔

بیروزگاری نے کینسر کی طرح نوجوانوں کو گھیر لیا ہے مگر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، جو اب احساس نامی پروگرام ہے، میں سوائے خیرات بھیک اور رسوائی کے کچھ نہیں۔ عورتیں چند پیسوں کے لئے کئی گھنٹے نہیں کئی دن تک صبح فجر سے رات تک دھکے کھاتی ہیں جب پیسے ملے تو چند نوٹ افسر کی جیب میں اور کچھ عورتوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں جبکہ اس غیر ملکی عالمی بینک کی امداد کو بھی حکومت احساس سے زیادہ احسان جتاتی ہے، ورنہ اس امداد سے دیہات میں چھوٹے چھوٹے کارخانے لگا کر وہاں کے لوگوں کو روزگار دیا جاتا تو نوجوان ہوٹلوں پر بیٹھ کر بیکار وقت ضائع نہیں کرتے یا ڈاکے نہ ڈالتے؟ امن وامان بالکل نہیں۔ گھر آتے جاتے لوگ غائب ہو رہے ہیں۔ پولیس اپنے کام چھوڑ کر غیرقانونی سرگرمی میں ملوث پائی جاتی ہے، چوری ڈکیتیاں آئے دن ہوتی رہتی ہیں ڈاکوؤں کا پھر سے راج قائم ہو رہا ہے مگر زرداری اینڈ کمپنی سے سوال کرو تو جواب میں بس ایک نعرہ ہے سندھ کے منتخب عوامی لوگوں کی حکومت کا ”بھٹو زندہ ہے“ اور اس کے بعد؟ طویل خاموشی اور ہو کا عالم۔

Facebook Comments HS