مسکان خان اور پاکستان میں اقلیتوں کی صورت حال


9  فروری کو بھارتی ریاست کرناٹک کے ایک کالج کی ویڈیو سامنے آئی جس میں ایک مسلمان طالبہ اپنے کالج کی پارکنگ میں داخل ہوتی ہے۔ لڑکی کے پیچھے نارنجی پٹکے لپیٹے لڑکوں کا ایک گروپ جے سری رام جے سری رام کے نعرے لگا کر اسے ڈرا رہا ہے۔ وہ لڑکی شرپسندوں سے ڈرنے کی بجائے ان کا سامنا کرتی ہے اور اللہ اکبر اللہ اکبر کے نعرے لگانے لگاتی ہے۔ ایک ہی لمحے میں یہ منظر یک طرفہ کی بجائے برابر ہو جاتا ہے۔ ایک نہتی لڑکی اپنے مذہب پر، لباس پر فخر کے ساتھ ہندو انتہا پسندوں کا مقابلہ کرتی ہے۔

مسکان خان نامی اس لڑکی کی ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان سمیت دنیا بھر میں وائرل ہو گئی۔ مسلمان ہی نہیں ہندو، مسیحی اور ہر مذہب کا معتدل پیروکار مسکان کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہوا کہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ کسی مسلمان لڑکی کو محض برقعہ پہننے پر ڈرایا جائے یا برقعہ اتارنے پر مجبور کیا جائے۔

اس ویڈیو نے انتہا پسندی کے اس رحجان کو اور بھی اجاگر کیا جو نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے مسلسل زور پکڑ رہا ہے۔ پاکستان میں موجود انتہا پسند طبقات اس ویڈیو کو ہندوستان میں اقلیتوں، خاص کر مسلمانوں کے برے حالات کا ثبوت قرار دے رہے ہیں کہ ان کے لئے ہندوستان کی زمین تنگ کی جا رہی ہے۔

ہندوستان پر تنقید درست لیکن پاکستان کے انتہا پسندوں کو بھارت دشمنی میں اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا چاہیے۔ اگرچہ نریندر مودی کو بھارت میں ہندو انتہاپسندی کے فروغ کی وجہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن ہم تو اس آگ میں کب سے جل رہے ہیں۔

2009  میں راولپنڈی کی ایک مسیحی آبادی کے درجنوں گھر جلا دئیے گئے جس میں 6 مسیحی ہلاک ہوئے۔ اکتوبر 2010 میں راولپنڈی میں ہی مسلمانوں کے ایک گروپ نے گورڈن کالج میں چرچ پر حملہ کیا۔ مارچ 2013 میں لاہور کے علاقے بادامی باغ میں مسیحی آبادی کے 125 مکانات جلا دئیے گئے۔ 2014 میں مسیحی جوڑے پر توہین رسالت کا الزام لگا کر اسے زندہ جلا دیا گیا۔ مارچ 2015 میں لاہور کے علاقے یوحنا آباد کے دو چرچوں پر خود کش حملوں میں 17 افراد ہلاک ہوئے۔ حملوں کے نتیجے میں ہونے احتجاج کے نتیجے میں 40 مسیحیوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ ان میں سے دو افراد دورانِ حراست ہی فوت ہو گئے جبکہ باقی افراد کو پانچ سال بعد انسداد دہشتگردی کی عدالت نے بے گناہ قرار دے کر 2020 میں رہا کیا۔ 2020 میں ہی سکھوں پر اہم ترین مقام ننکانہ صاحب پر مسلمانوں کے ایک گروہ نے حملہ کیا اور پتھر برسائے۔

یہ صرف حالیہ تاریخ کے واقعات ہیں جو یہ مضمون پڑھنے والے بیشتر لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہوں گے۔ ان کے علاوہ احمدیوں، سکھوں کے قتل اور سندھ میں ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کرنے کے واقعات آئے روز میڈیا میں آتے رہتے ہیں۔

پاکستان میں مسلمانوں کی آبادی 97 فیصد ہے لیکن اس کے باوجود ہمارا آئین ایک غیر مسلم کو صدر بننے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہم لگ بھگ پندرہ سال مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے لیے علیحدہ ووٹنگ کے قانون پر عمل کرتے رہے۔ یہ قانون ضیا الحق بنا کر گئے جس کے تحت غیر مسلمان الیکشن میں مسلمان امیدواروں کو ووٹ دینے کے اہل نہیں تھے۔ اس قانون کو 1999 میں ختم کیا گیا۔ 2018 میں پاکستان میں پہلی ایک غیر مسلم امیدوار جنرل سیٹ پر الیکشن جیت پایا۔ جبکہ پنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں دوہری ووٹنگ کا حق 2019 میں دیا گیا۔ ستر برسوں میں ہم نے صرف 7 غیر مسلم کرکٹر پیدا کیے۔

ہم آج بھی گٹروں اور نالیوں کی صفائی کرنے والوں کو عیسائی سمجھتے اور کہتے ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر ملک سے وفاداری کا فیصلہ کرنے والے ہم لوگ تو اپنے مذہب کے لوگوں کو ہی غدار کہنے سے نہیں گھبراتے تو بیچارے ہندو سکھ عیسائی کس کھیت کی مولی ہیں۔

دوسروں کو، چاہے وہ کوئی ایک شخص ہو یا ملک، الزام دینا بے حد آسان ہے لیکن اسی بنیاد پر اپنے کردار پر نظر ڈالنا مشکل ہوتا ہے۔ ہم اپنے سماجی رویوں پر نظر ڈالیں تو کوئی شک نہیں پاکستانی معاشرہ روز بروز زیادہ تنگ نظر اور انتہا پسند ہو رہا ہے۔ توہین رسالت کے نام پر ہم تو اپنے ہم مذہبوں کا لحاظ نہیں کرتے تو غیر مسلم کے زندہ بچ جانے کا تو کوئی چانس نہیں ہوتا۔ اگرچہ قومی سطح پر ہم ہرچرن سنگھ کو فوج میں کمیشن دینے کا جشن مناتے ہیں لیکن کے پی کے میں سکھوں کو قتل بھی کرتے رہتے ہیں۔

کہنے کی بات یہی ہے کہ مسکان خان نے ہندو انتہا پسندوں کا مقابلہ کر کے یقیناَ بہادری دکھائی لیکن یہی بہادری اگر کوئی سکھ یا ہندو یا عیسائی پاکستانی تحریک لبیک کے جتھے کے سامنے دکھاتا تو اس کا انجام کیا ہوتا؟ مسکان کے ٹیچرز کے پرنسپل نے تو اس کی حفاظت کی لیکن پاکستان میں ایسا کرنے والے کو کون بچاتا؟ کس میں اتنی ہمت ہوتی کہ اپنے بپھرے ہوئے ہم مذہبوں کو سمجھاتا۔ کیونکہ ہم تو 74 برس سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کے مذہبی طبقے کی سرکاری سطح پر سرپرستی کر رہے ہیں۔

جیسے افراد ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں، ویسے ہی قومیں بھی ایک دوسرے سے سیکھتی ہیں اور غالباَ پاکستان مذہبی انتہا پسندی کے جس راستے پر دہائیوں سے چل رہا ہے، اب ہندوستان نے بھی ناانصافی اور تباہی کے اس راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Facebook Comments HS