اف یہ نو دولتیے


دولت بھی کیا عجب شے ہے، انسان بچپن سے اسی کے خواب لے کر بڑا ہوتا ہے، اپنی تمام تر ناداریوں کو دارائی اور اپنی تمام تر محرومیوں کو پانے کی خواہش اس کے ساتھ ساتھ ہی پروان چڑھتی ہے، آرزوؤں کا یہ پہاڑ جتنا جتنا قریب آتا جاتا ہے اتنا ہی بڑا سے بڑا دکھائی دینے لگتا ہے، اور یوں کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جس کا راہی ایک تھکے ہارے مسافر جیسا ہے جو راستے سے بھٹک کر مارا مارا پھر رہا ہو، پیسے کے پیچھے انسان ادھ موا ہو جاتا ہے تب جا کے ظاہری طور پر زندگی کے کچھ وسائل پر پہنچ پاتا ہے۔

میں عام انسانوں کی کہانی سنا رہا ہوں جو زندگی کے فراز و نشیب سہ کر اپنا آپ سنوارتے ہیں۔ ورنہ اس ناموزوں دنیا میں کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جو ماں کی گود سے عالم برزخ تک کبھی ان مشکلات کو چکھتے بھی نہیں۔

لیکن عام آدمی کی کہانی یہی کچھ ہے۔ عام آدمی ضروریات زندگی اور اس کے بعد خواہشات زندگی پوری کرتے کرتے خود ہی پورا ہوجاتا ہے۔

بعض لوگوں کی محنت رنگ لاتی ہے اور متعدد قسم کی رکاوٹیں اور سماجی حصار توڑ کر دولت و ثروت تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔ لیکن اپنے ساتھ بڑی ہونے والے احساس محرومی، ناداری، افلاس، فقر اور بدقسمتی کو بھی بغل میں دبا لیتے ہیں، یوں انہیں لاشعوری طور پر اپنی دولت کے ہاتھ سے جانے کا کھٹکا سا لگا رہتا ہے۔ اس کھٹکے کی وجہ سے اگر کوئی دوست، رشتہ دار، ہمسایہ، یا پھر جاننے والا جب اپنی ضرورت لے کر اس کے پاس آتا ہے، تو پوری کوشش اور مکمل صفائی کے ساتھ اسے ٹال مٹول اور گول مول کر دیتا ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ اکثر اوقات اپنے ارد گرد کے لوگوں پر بد گمانی بھی ان لوگوں کا شیوہ بن جاتی ہے۔
چیزوں پر آنچ آنے سے خود کو ہلکان کر لیتے ہیں۔

آس پاس کے افراد کا اتنا خیال نہیں رہتا، جتنا کے اپنے پاس پڑی اشیاء جیسے لیپ ٹاپ، موبائل، آئی فون وغیرہ کا۔

گھر کا قیمتی برتن ٹوٹنے پر تو بہت افسوس کیا جاتا ہے، لیکن اپنے ارد گرد کے لوگوں کا دل توڑنے یا اسے ٹھیس پہنچانے پر نہیں۔

اس جیسی بہت سی علامات اور خصلتیں ہیں جو «تازہ بہ دوران »رسیدہ لوگوں میں کثرت سے پائی جاتی ہیں، اس کا سبب وہی لاشعوری فقر اور افلاس ہے جس نے ابھی تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑا، بظاہر تو وہ دولتمند اور امیر ہو گیا، دولت اس کے ہاتھ آ گئی، لیکن اس کا لاشعور ابھی تک فقر کے دردناک عذاب میں مبتلا ہے۔ بقول شاعر«تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے »۔ لہجہ ہی نہیں پورے کا پورا مزاج ہی ٹیڑھا ہوا چاہتا ہے۔

جبکہ دوسری طرف ابراہم مازلو کی درجہ بندی شدہ انسانی ضروریات کے مطابق، جب انسان اپنی بنیادی ضروریات یعنی جسمانی ضروریات پوری کر لیتا ہے تو اسے پھر اپنی آسودگی خاطر کے لیے نفسیاتی ضروریات پر توجہ دینی ہوتی ہے، جس میں دوسروں کے ساتھ دوستانہ روابط اور عشق و محبت کا حصول شامل ہے۔ اس کے بغیر انسان حقیقی خوشی اور سعادت تک نہیں پہنچ سکتا۔

اسلام بھی جسم کے ساتھ ساتھ روح کی پرورش کی بات کرتا ہے۔ روح وہ «امر ربی» ہے جسے اخلاقیات و معنویات سے سینچا جاتا ہے۔ روح کا بڑپن ہی درحقیقت انسانوں کو بڑا بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے انسان کو عزت کے حصول کے لیے بھی راستہ دکھلایا ہے اور یہی بتایا ہے کہ دینے والا ہاتھ ہمیشہ لینے والے پر فوقیت رکھتا ہے، اور اگر لوگوں کی محبت کے خواہاں ہو تو ان پر مال نچھاور کرو، اگر لوگوں سے بڑا بننا ہے تو ان پر خرچ کرو، یہ اندرونی فقر سے نجات دلانے کے مختلف طریقے ہیں۔

ساتھ میں نو دولتیوں کے پاس اپنی ضرورت لے جانے اور ان کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بھی سختی سے روکا گیا ہے، امام صادق ع سے روایت ہے کہ ؛ اپنا ہاتھ اژدہا کہ منہ میں دینا بہتر ہے اس سے کہ اپنی ضرورت کسی نو دولتیے کے سامنے بیان کی جائے۔

آج ان جیسے لوگوں کے لیے سیلف میڈ کی اصطلاح مستعمل ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ جو انسان کوشش کرتا ہے، کامیابی بھی اسی کے لیے ہے۔ بس اتنا خیال رہے کہ خود کو بلند کرتے کرتے اپنی انسانیت کو نہ گرا بیٹھے۔ یعنی اعتدال میں رہے اور اعتدال کی راہ یہی ہے کہ انسان اپنے ظاہر اور باطن کو ایک رکھے، اگر ظاہری طور پر دولتمند ہے تو دل چھوٹا نہ کرے، ایسے میں وہ نو دولتیا نہیں بلکہ واقعی طور پر سیلف میڈ یعنی سنوری ہوئی شخصیت بن کر سامنے آئے گا۔

Facebook Comments HS