پی ایس ایل 7 میں کراچی کنگز بمقابلہ پشاور زلمی: بابر اعظم کی ٹیم کو مسلسل چھٹی شکست کا سامنا


’سٹیڈیم بدل گیا، کنڈیشنز بدل گئیں، نہیں بدلی تو کراچی کنگز کی پرفارمنس نہیں بدلی۔۔۔‘ یہ کہنا تھا ایک سوشل میڈیا صارف کا جو پی ایس ایل 7 میں کراچی کنگز کی مسلسل چھٹی شکست کے بعد کراچی کے چاہنے والوں کے جذبات کی ترجمانی کر رہی تھیں۔

پشاور زلمی اور کراچی کنگز کے درمیان یہ میچ ختم تو آخری گیند پر ہوا لیکن اس کا نتیجہ بہت پہلے سے ہی نظر آ رہا تھا۔

کسی نے کراچی کنگز کی قسمت کو کوسا تو کسی نے بابر اعظم سمیت بلے بازوں کے سست رفتار رن ریٹ کو لیکن 55 رنز کی اس شکست کے بعد کراچی کنگز اور کپتان بابراعظم کو اب ٹورنامنٹ میں واپسی کے لیے کوئی معجزہ ہی درکار ہو گا۔

کراچی نے صرف ٹاس ہی جیتا

بابر اعظم نے میچ کا ٹاس جیت کر جب پشاور زلمی کو بیٹنگ کی دعوت دی تو غالباً ان کے ذہن میں گزشتہ روز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کا میچ ہو گا جس میں کوئٹہ کے کپتان سرفراز احمد نے 200 رنز کا ہدف باآسانی حاصل کیا۔

انھوں نے بھی ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کی تھی لیکن کراچی کی قسمت دیکھیے کہ پشاور زلمی کے ڈیبیو کرنے والے بلے باز محمد حارث نے دوسری ہی گیند پر عماد وسیم کو چھکا لگا کر اپنی آمد کا اعلان کر دیا۔

دوسرے اوور میں کراچی نے اس وقت ایک سنہری موقع ضائع کیا جب عامر یامین کی گیند پر جارحانہ اوپنر بلے باز حضرت اللہ ززئی کا کیچ فرحان نے گلی میں چھوڑ دیا۔

اس کے بعد پشاور زلمی کے بلے بازوں نے کراچی کو زیادہ موقع نہیں دیا۔ ڈیبیو کرنے والے حارث چار چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 27 گیندوں پر 49 رن بنانے کے بعد محمد نبی کی گیند پر بولڈ ہوئے تو 10 اوور ہو چکے تھے اور 97 سکور تھا۔

https://twitter.com/AbdullahSid892/status/1492804863276765185

ان کی اس جارحانہ اننگز پر ایک صارف عبداللہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیا کہ حارث کو محمد رضوان کا متبادل رکھ لینا چاہیے۔

حضرت اللہ ززئی ففٹی مکمل کرنے کے بعد پاکستان انڈر نائنٹین کھلاڑی قاسم اکرم کی گیند پر آوٹ ہوئے تو پشاور کی ٹیم ایک بہتر پوزیشن میں آ چکی تھی۔

ان کے بعد شعیب ملک نے 21 گیندوں پر 31 اور بین کٹنگ نے 15 گیندوں پر 26 رن بنائے۔ آخری گیند مکمل ہونے پر پشاور زلمی چھ وکٹوں کے نقصان پر 193 سکور کر چکی تھی۔

کراچی کی جانب سے کرس جارڈن سب سے کامیاب بولر رہے جنھوں نے چار اوورز میں چار وکٹیں حاصل کیں لیکن 41 رن بھی دیے۔

یہ گزشتہ روز کے میچ سے چھ رنز کم کا ہدف تھا لیکن کراچی کے فین پانچ شکستوں کے بعد اس ہدف کو پہاڑ جیسا دیکھ رہے تھے۔

کراچی کنگز، کچھ تو الگ کرو

کراچی کی بیٹنگ شروع ہوئی تو کپتان بابر اعظم نے شعیب ملک کے پہلے ہی اوور میں دو چوکے جڑ دیے۔ کچھ امیدیں بحال ہوئیں، کچھ نے سوچا آج بابر اعظم اس تنقید کا جواب دیں گے جو ان کی سست رفتار بیٹنگ پر ہوتی رہی ہے۔

لیکن تیز رنز کی امید کا مرکز اوپنر شرجیل خان، بولر محمد عمر کے اگلے اوور میں پانچ گیندوں پر صرف ایک رن بنا پائے تو خدشات نے پھر سر اٹھانا شروع کر دیا۔

https://twitter.com/Saqibca/status/1492831655882637312

تین اوورز ختم ہوئے تو نو گیندیں ایسی تھیں جن پر کوئی رن نہیں بنا تھا اور سکور 12 تھا یعنی 10 رن کی اوسط کے جواب میں چار رن کی اوسط کا آغاز۔

چوتھے اوور میں محمد عمر کو ایک چھکا مار کر شرجیل نے کچھ حوصلہ دلایا تو صحیح لیکن پانچویں اوور میں سلمان ارشاد کی گیند پر بین کٹنگ کو کیچ تھما کر پویلین کی جانب چل دیے اور کپتان بابر اعظم کو ایک بار پھر دباؤ میں چھوڑ گئے۔

یہ بھی پڑھیے

’کراچی ڈولفنز کراچی کنگز کے مقابلے میں کہیں بہتر ٹیم تھی‘

پی ایس ایل 7: کراچی کنگز کی ہارنے کی عادت برقرار، شاداب خان کی شاندار بولنگ

شرجیل کے بعد آنے والے جو کلارک بھی کچھ زیادہ پر اعتماد کھیل پیش نہیں کر سکے۔ اب کراچی کے شائقین کے لیے بہت ہو چکا تھا۔ ایک صارف ثاقب نے لکھا کہ کراچی کنگز آپ کے پاس گیارہ نمبر تک بلے باز ہیں، تیزی سے کھیلنا شروع کریں۔

لیکن 10 اوور ختم ہوئے تو سکور مشکل سے 60 پر ہی پہنچا تھا۔ یعنی اگلے 10 اوورز میں جیتنے کے لیے 134 رن کرنا تھے۔

ایسے میں ایک صارف نے سوال کیا کہ کیا اب کراچی کنگز اکیسویں اوور کا انتظار کر رہی ہے کہ تیز کھیلیں گے؟ کسی نے بابر کو یاد دلایا کہ یہ ٹیسٹ میچ نہیں، صرف 20 اوور کا میچ ہے۔

اس تمام تر تنقید کے جواب میں 13واں اوور مثبت ثابت ہوا جس میں کراچی کو 11 رن ملے لیکن اگے ہی اوور میں جو کلارک آوٹ ہوئے تو میچ کا نتیجہ بھی تقریبا واضح ہو چکا تھا۔

اس کے بعد کراچی کنگز کے لیے واحد خوش خبری بابر اعظم کی ففٹی تھی۔ ہدف بڑھتا جا رہا تھا اور کراچی کے بلے باز باونڈری تلاش کرتے کرتے پولین لوٹنا شروع ہو گئے۔

بابر 59 رن بنا کر ایل بی ڈبلیو ہوئے تو محمد نبی 15 رن پر کیچ آوٹ۔ این کاک بین نے 14 اور عامر یامین نے صرف چھ رن بنائے۔

وہاب ریاض اور سلمان ارشد نے دو دو وکٹیں حاصل کیں اور پشاور نے ایک مکمل فتح حاصل کی جس پر محمد حارث کو مین آف دی میچ کا ایوارڈ ملا۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp