اندازِ بیاں اور


یہ ایک حقیقت ہے کہ بیسویں صدی کے دوران کچھ ایسے غزل گو بھی گزرے ہیں جن کے کلام کے بعض نمونوں پر اساتذہ کے کلام کا گمان ہوتا ہے۔ اگر اسے بے اعتدالی نہ گردانا جائے تو میں تو یہ کہوں گا کہ بعض اوقات تو ایسے مضامین اور ایسا انداز سامنے آیا کہ شعراء نے زبان و بیان میں کئی متقدمین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اس ضمن نہ معلوم کتنے ہی نام ہوں جن کی کوئی وسیع المطالعہ شخص بہ آسانی نشاندہی کر سکتا ہو لیکن چونکہ میرا مطالعہ اس نہج کا نہیں لہٰذا میں بس دو شعراء ہی کا ذکر کر سکتا ہوں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان دو کو دنیائے سخن میں وہ داد اور مقام نہ ملا جس کے وہ حقدار تھے۔

اس سرزمین میں ناقدری کی رویت کم و بیش زندگی کے ہر شعبے میں پائی جاتی رہی لیکن دنیائے سخن میں ایک مثال ایسی ہے کہ یہ یقین کرنا مشکل بھی ہے اور تکلیف دہ بھی کہ نظم کی میدان میں ایک ایسا شاعر اپنی زندگی میں نظرانداز ہوا جس کے بارے میں آج یہ اقرار کیا جاتا ہے کہ۔ ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔ یہ شاعر تھے مجید امجد۔

اب ان دو شعراء کا ذکر جن کے لیے میں نے یہ تمہید باندھی ہے۔ یہ دو شعراء سراج الدین ظفر اور عزیز حامد مدنی ہیں۔

1۔ سراج الدین ظفر۔

آپ 1912 میں جہلم میں پیدا ہوئے۔ 1935 میں ایل ایل بی کے بعد ائر فورس میں ملازم ہو گئے۔ اردو اور انگریزی میں شعر کہے۔ زمزمہ حیات اور غزال و غزل آپ کے شعری مجموعے جبکہ آئینے، افسانوں کا مجموعہ ہے۔ کلام پہ 1968 میں آدم جی ایوارڈ کے مستحق ٹھہرے۔ آپ نے 1972 میں وفات پائی اور کراچی میں سپرد خاک ہوئے۔ نامور شاعر سیماب اکبر آبادی سے تلمذ کا رشتہ رہا۔

وہ اپنے تخیل لہجے اور انداز میں بالکل منفرد ہیں۔ ایک مجموعے کے دیباچے میں لکھا ”میرے نزدیک زندگی ایک طوفانی ندی ہے جو سرا پا شوق ہو کر چیختی گاتی چلی جا رہی ہے“ ۔

کلام ملاحظہ ہو۔
ہم اھوان شب کا بھرم کھولتے رہے
میزان دلبری پہ انہیں تولتے رہے
عکس جمال یار بھی کیا تھا کہ دیر تک
آئینے قمریوں کی طرح بولتے رہے
ہم متقی شہر خرابات رات کو
تسبیح زلف مہ و شاں رولتے رہے
تا صبح جبرائیل کو ازبر تھا حرف حرف
راتوں کو جو سرور میں ہم بولتے رہے
ساغر اٹھا کے زہد کو رد ہم نے کر دیا
پھر زندگی کے جذر کو مد ہم نے کر دیا
وقت اپنا زر خرید تھا ہنگام میکشی
لمحے کو طول دے کے ابد ہم نے کر دیا
دل پند واعظاں سے ہوا ہے اثر پذیر
اس کو خراب صحبت بد ہم نے کر دیا
تسبیح سے سبو کو بدل کر خدا کو آج
بالا تر از شمار و عدد ہم نے کر دیا
بادہ تھا یا عروس فراست تھی جام میں
جو کہہ دیا بہک کے سند ہم نے کر دیا
مصرعوں میں گیسوؤں کی فصاحت کا بھر کے رنگ
اپنی ہر اک غزل کو سند ہم نے کر دیا
تشبیہ دے کے قامت جاناں کو سرو سے
اونچا ہر ایک سرو کا قد ہم نے کر دیا
بغیر ساغر و یار جواں نہیں گزرے
ہماری عمر کے دن رائیگاں نہیں گزرے
ہجوم گل میں رہے ہم ہزار دست دراز
صبا نفس تھے کسی پر گراں نہیں گزرے
غلط ہے ہم نفسو ان کا زندگی میں شمار
جو دن بخدمت پیر مغاں نہیں گزرے
ظفر کا مشرب رندی ہے اک جہاں سے الگ
میری نگاہ سے ایسے جواں نہیں گزرے۔

2۔ عزیز حامد مدنی۔

1922 میں رائے پور انڈیا میں ولادت ہوئی۔ آپ کے والد محمد حامد ساقی سرکاری ملازم، شاعر اور شبلی نعمانی کے شاگرد تھے۔ 1948 میں آپ پاکستان آ گئے اور ریڈیو سے وابستہ ہوئے۔ جہاں سے آپ 1982 میں وظیفہ یاب ہوئے۔ چشم نگاراں، دشت امکاں اور نخل گماں آپ کے کلام کے مجموعے ہیں۔ آپ کی وفات کراچی میں 1991 میں ہوئی۔

ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے زیراہتمام شائع ہونے والے آپ کے انتخاب کلام کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ۔

” رائے پور نے چار ایسی شخصیات کو جنم دیا جن پہ اردو ادب کو ناز ہے۔ ان کی کاوشیں اور تخلیقات اردو ادب کا بے بہا خزانہ ہیں۔ ان میں ادیب رائے پوری، اختر حسین رائے پوری، حبیب تنویر اور عزیز حامد مدنی شامل ہیں“ ۔

نمونہ کلام۔
بیٹھو جی کا بوجھ اتاریں دونوں وقت یہیں ملتے ہیں
دور دور سے آنے والے رستے کہیں کہیں ملتے ہیں
فراق سے بھی گئے ہم وصال سے بھی گئے
سبک ہوئے تو عیش ملال سے بھی گئے
طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش
ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں
سب پیچ و تاب شوق کے طوفان تھم گئے
وہ زلف کھل گئی تو ہواؤں کے خم گئے

اب ان کی وہ غزل جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس کے علاوہ اور اشعار نہ بھی کہتے تو بزم سخن میں پھر بھی نامور مانے جاتے۔

تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی
پائے جنوں سے حلقہ گردش حال لے گئی
جرات شوق کے سوا خلوتیان شوق کو
اک تیرے غم کی آگہی تا بہ سوال لے گئی
شعلہ دل بجھا بجھا، خاک زباں اڑی اڑی
دشت ہزار دام سے موج خیال لے گئی
رات کی رات بوئے گل کوزہ گل میں بس گئی
رنگ ہزار میکدہ، روح سفال لے گئی
تیز ہوا کی چاپ سے تیرہ بنوں میں لو اٹھی
روح تغیر جہاں آگ سے فال لے گئی
نافہ آہوئے تتار زخم نمود کا شکار
دشت سے زندگی کی رو ایک مثال لے گئی
ہجر و وصال و نیک و بد گردش صد ہزار و صد
تجھ کو کہاں کہاں میرے سرو کمال لی گئی
نرم ہوا پہ یوں کھلے کچھ تیرے پیراہن کے راز
تیرے جسم ناز کے سارے وصال لے گئی
ماتم مرگ قیس کی کس سے بنے گی داستاں
نوحہ بے زباں کوئی چشم غزال لے گئی۔

Facebook Comments HS