الہڑ مٹیار ، ڈاکٹر اور جبری زیادتی کا سرٹیفیکیٹ

” کالی دھوتی سفید کرتہ پہنے آلتی پالتی مارے درخت کے سائے میں بیٹھی کوئی چودہ پندرہ برس کی“ یہاں پہنچتے ڈاکٹر کی آواز بھرا چکی تھی اور وہ چشمہ اتار آنسو پونچھنے لگ گیا تھا
ستاون اٹھاون برس قبل کی کہانی ہے۔ شادی وادی کے جھمیلے سے آزادی ہوتے چھٹی کے دن ہم چار پانچ دوست کسی ایک کے گھر اکٹھے ہو جاتے اور گپ شپ میں وقت گزرتا۔ جب میاں صاحب کے گھر ہوتے تو کبھی کبھی ڈاکٹر انعام بھی شامل ہو جاتا۔ ڈاکٹر انعام ان کا کزن تھا اور اس کی تعیناتی کچھ ماہ قبل فیصل آباد جھنگ روڈ پر جھنگ کے قریب ایک قصبہ کے چھوٹے ہسپتال میں ہوئی تھی۔ کبھی کبھار آ جاتا۔
آج شدید گرمی کی سہ پہر لان میں بیٹھے ڈاکٹر انعام کی آواز میں نہ وہ شگفتگی تھی نہ توجہ۔ ستا ہوا خوف زدہ چہرہ دیکھ آخر پوچھنا پڑا۔ جواب میں بتا رہا تھا کہ وہ فوری تبادلہ کی درخواست لکھ آیا ہے اور اگر تبادلہ میں دیر ہوئی تو دوسرے جہان تبادلہ ہو سکتا ہے۔ اور پھر درد کی داستان شروع ہو گئی۔
” دوپہر وقفہ کے دوران ہسپتال سے کچھ فاصلے پر ڈاکٹر کے رہائشی کوارٹر میں گہری نیند میں تھا کہ ڈسپنسر نے جگا فوری ساتھ چلنے کو کہا کہ علاقے کے معروف ڈیرے دار کے کارندے فوری ملنا چاہتے ہیں۔ باہر کڑکتی دھوپ میں ایک درخت کی چھاؤں میں کھڑے چند افراد میں سے ایک نے آگے بڑھ اپنا تعارف“ مہر صاحب ” ( علاقے کے پرانے آبادکار جنہیں جانگلی کہا جاتا تھا ) نے ایک خاص کام کے لئے بھیجا ہے جو کرنا لازم ہے۔ ہم بات کرتے دوسرے درخت کے قریب پہنچے تو دو تین خواتین کے سے آگے بیٹھی کنکروں کے ساتھ آلتی پالتی مارے اکیلی“ گیٹے ”کھیلتی کالی دھوتی سفید کرتے میں ملبوس ایک چودہ پندرہ سال کی لگتی معصوم سی الہڑ سی دکھائی دیتی لڑکی کی طرف اشارہ کرتے آنکھ مارتے پوچھا کہ کیسی لگی۔
میں ابھی کچھ سمجھ بھی نہ پایا تھا کہ کہنے لگا کہ ہم اسے آپ کے پاس چھوڑے جا رہے ہیں۔ آپ کا گھر الگ تھلگ ہے کسی کو پتہ بھی نہ چلے گا۔ تین چار دن رکھیں جس طرح چاہیں جتنا چاہیں استعمال کریں۔ بس ہمیں اس کے ساتھ جبری زنا کیے جانے کی رپورٹ ہمیں چاہیے۔ مہر صاحب نے اپنے مخالف کے بیٹے پہ ڈالنا ہے۔ میں سن ہو چکا تھا۔ ایک خاتون نے منہ دوسری طرف پھیر لیا تھا۔ درخت کے پچھلی طرف ایک کوئی غریب کمؔی کمار لگتا آدمی پگڑی زمین پہ پھینکے منہ دوسری طرف کیے کھڑا تھا۔
بجلی جیسی ایک لہر میرے جسم سے طاقت کھینچے جا رہی تھی۔ میں نے پھر اسے دیکھا اور وہ مجھے اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ صحن کے فرش پہ بیٹھی گیٹے کھیلتی اس کی سہیلی لگ رہی تھی۔ اور ایک معصوم کے ساتھ بد فعلی اور وہ بھی زنا بالجبر، میرا سر گھوم رہا تھا اور پھر اچانک ہمت کرتے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ نہ تو میں خود یہ گند کھیلوں گا نہ اگر کسی اور سے کسی کا بھی آپ کی طرف سے آئے کیس کا سرٹیفیکیٹ جاری کروں گا۔ کوئی اور گھر ڈھونڈیں۔
چند منٹ وہ مجھے بار بار اس لڑکی کی طرف دیکھنے، لذت کی ترغیب دینے اور ہر ممکن مرحلہ کے حل کا یقین دلاتا رہا اور خدا تعالی مجھے ہمت دیتا گیا۔ آخر یک دم اس کا منہ غصے سے لال ہو گیا بھنویں تن گئیں مونچھوں پہ بل دیتا دھیمی مگر سخت دھمکی آمیز آواز میں مجھے کہہ رہا تھا کہ آج تک اس علاقے میں کسی کو مہر صاحب کو نہ کرنے کی جراءت نہیں ہوئی افسر سارے جھک کے سلام کرتے ہیں آپ نے انکار کر کے چنگا نہیں کیا کام تو کہیں اور سے یا یہیں آیا کوئی اور کر دے گا مگر ڈاکٹرا توں اپنی خیر منا۔ یہاں تو بندے کی لاش بھی نہیں ملتی۔
میں لڑکھڑاتا واپس آ بستر پہ لیٹ تصور میں اس الہڑ مٹیار کی چیخیں سن رہا تھا۔ دو تین دن سے نہ سویا ہوں نہ کام پہ پورا دھیان ہے۔ بس کالی دھوتی سفید کرتے میں ملبوس الہڑ مٹیار کی چیخیں۔ ”ڈاکٹر دوبارہ روہانسا ہو چکا تھا۔ وہ فوری تبادلہ کی درخواست لکھ آیا تھا۔
ستاون اٹھاون برس گزر چکے۔ ڈاکٹر کا جلد ہی تبادلہ ہو گیا اور پھر اس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ مگر اس کے بعد جب بھی کسی اخبار میں بعد میں ٹی وی پر اور اب سوشل میڈیا پر بھی، زنا بالجبر کی کوئی خبر چھپتی ہے جس میں لڑ کے یا لڑکی کا کسی سیاسی یا خاندانی یا گروہی یا مقدمہ بازی قسم کی مخالفت وجۂ وقوعہ بتائی جاتی ہے، میرے ذہن میں اس گیٹے کھیلتی کالی دھوتی سفید کرتے والی الہڑ مٹیار کا ہیولا اور چیخیں گھوم جاتی ہیں۔
زمانہ بدل چکا ہر چیز کمپیوٹر پہ آ چکی۔ ڈی این اے ٹیسٹ شروع ہو چکے مگر نظر دیکھتی ہے کہ کمپیوٹر پہ لوڈ کرنے والی اور ڈی این اے ٹیسٹ کا رزلٹ درج کرنے والی انگلیاں تو پہلے سے بیسیوں گنا زیادہ بد عنوان ہو چکیں۔ ( چیف ) جسٹس ریٹائر ہو بیرون ملک بھاگ گیا، گھناؤنے ترین جرم میں سزا یافتہ ہٹا کٹا مجرم ہسپتال کے وی آئی پی کمرے میں ہے، شراب شہد ہو چکی اور۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ عزیر بلوچ عدم ثبوت کی بنا پر سترہویں مقدمے میں ( شاید با عزت ) بری ہو چکا۔

