محسن بیگ کیس۔ فساد کی بنیاد


سیاست اور حکومت کے کھیل بھی نرالے ہوتے ہیں لیکن اصلاً کھیل اصول و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر کھیلے جائیں تو وہ کھیل خطرناک ثابت ہوتے ہیں، ہمارے ہاں سیاست اور حکومت میں اصول و ضوابط کا خیال کم ہی رکھا جاتا ہے لہذا ان میدانوں میں ہمیشہ خطرے منڈلاتے رہتے ہیں، خطروں کے کھلاڑیوں کا کارزار اکثر میدان صحافت میں سجتا ہے اور اس میدان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

قارئین کرام گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، واقعہ کی تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر مواصلات جناب مراد سعید کی جانب سے ایف آئی اے کو ایک شکایت درج کروائی گئی جس میں مراد سعید کی جانب سے سابق سینیٹر اور معروف صحافی محسن بیگ کو ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں مراد سعید کے خلاف ہتک آمیز گفتگو کا مرتکب ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی۔

ایف آئی اے نے محسن بیگ کے خلاف اس شکایت پر مبنی ایف آئی آر درج کرلی اور بغیر کسی تفتیش کے فوری کارروائی کرتے ہوئے محسن بیگ کے گھر ان کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مار دیا لیکن محسن بیگ نے گرفتاری دینے کے بجائے چھاپہ مار ٹیم کو قابو کرتے ہوئے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور سنسنی خیز انداز میں اسلحہ بھی لہرایا بعد ازاں پولیس نے محسن بیگ اور ان کے بیٹے حمزہ بیگ کو گرفتار کر لیا، ایک فساد برپا ہو گیا۔

یہ سنسنی خیز واقعہ پلک جھپکتے ملک کے طول و عرض اور بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لئے مرکز نگاہ بن گیا، سوشل میڈیا پر اس سنسنی خیز واقعے کے حوالے سے حسب روایت حمایت اور مخالفت میں بحث چھڑ گئی، صحافت ایک بار پھر الزامات کی زد میں آ گئی۔

اس واقعہ میں قابل غور بات یہ ہے کہ ”اس سارے فساد کی جڑ ریحام خان ہیں، نہ وہ کتاب لکھتیں نہ محسن بیگ اس کا حوالہ دیتے نہ مراد سعید ان پر کیس کرتے اور نہ یہ فساد برپا ہوتا“ ۔

ثابت ہوا کہ فساد کی جڑ ریحام خان ہی ہیں لیکن اس جڑ کی بنیاد کتاب کی وہ مرکزی شخصیت ہے جس کا حوالہ ریحام کی کتاب میں دیا گیا اور وہ شخص ریحام کے سابق شوہر، قومی ہیرو، پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور موجودہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کتاب کا حوالہ دینے پر ایف آئی آر درج ہوتی ہے تو اس کتاب میں موجود اس حوالہ سے متعلقہ شخصیات پر قانون حرکت میں کیوں نہیں آیا؟ اور کتاب کی مصنفہ سے ان امور سے متعلق پوچھ گچھ کیوں نہیں کی گئی؟

لہذا قانون کی پاسداری ہونی چاہیے اور اس ضمن میں تمام متعلقہ شخصیات کو شامل کیا جانا چاہیے اور ریحام خان کی کتاب کو بنیاد بناتے ہوئے تحقیقات ہونی چاہئیں کہ ریحام نے کتاب میں جو لکھا وہ حقیقت ہے یا محض الزام تراشی۔

سیاست اور حکومت کا یہ کھیل مزید سنسنی خیز ہو چکا ہے اور خطرناک صورتحال اختیار کرچکا ہے، کھیل کے میدان میں موسم خراب ہو تو ایمپائر کھیل روک دیتا ہے اور اکثر میچ برابر ہو جاتا ہے، امید ہے سیاست اور حکومت کے کھیل کا ایمپائر بھی جلد ہی اس خراب صورتحال کے پیش نظر فیصلہ سنائے گا۔

Facebook Comments HS